الیکٹرونکس ڈائجسٹ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

یہ صفحات الیکٹرونکس کے لیے وقف کیے گئے ہیں۔ تاہم چند تکنیکی دشواریوں کی بنا پر ان صفحات کو “کتاب“  کی ذیل میں پیش کیا جا رہا ہے۔ اس میں الیکٹرونکس سے متعلق تمام تدریسی مواد شامل ہے۔ مسلسل افادے اور قارئین کی ضروریات کے پیش نظر مندرجات میں ترمیم و اضافے کا سلسلہ جاری رہے گا۔

انٹر نیٹ پر الیکٹرونکس سے متعلق لا محدود مواد دستیاب ہے لیکن بد قسمتی سے یہ انگریزی اور دوسری زبانوں میں ہے۔ اردو جاننے والے دوست جو انگریزی کو پوری طرح نہیں سمجھتے، ہمیشہ تشنگی محسوس کرتے ہیں۔ویسے بھی آپ بخوبی جانتے ہیں کہ اپنی زبان میں تعلیم حاصل کرنا، کسی بھی دوسری، غیر ملکی زبان کی نسبت آسان اور کم وقت میں ممکن ہوتا ہے۔ دنیا میں کسی بھی ترقی یافتہ قوم کا جائزہ لے لیجئے، آپ اسی نتیجے پر پہنچیں گے کہ ترقی اسی وقت ممکن ہوتی ہے جب ذریعہ تعلیم اپنی زبان ہواور دیگر علوم کے ساتھ ساتھ سائنس و ٹیکنالوجی کے علوم کو بھی اپنی زبان ہی میں منتقل کر کے پڑھایا جائے۔ اس ویب سائٹ کا مقصد بھی یہی ہے کہ اپنی قومی زبان میں الیکٹرونکس سکھائی جائے اور دوسرا متعلقہ مواد پیش کیا جائے۔

اس وقت آپ کے سامنے جو کچھ بھی موجود ہے وہ صرف ابتدا ہے۔ انشاءاللہ اس ویب سائٹ میں دن بہ دن اضافہ ہی ہوتا جائے گا اور آپ کے ذوق کی تکمیل کے لئے الیکٹرونکس سے متعلقہ تمام معلومات، عملی سرکٹس، پروجیکٹس، آپ کے تکنیکی مسائل کا حل، ابتدائی تدریسی اسباق، مائیکرو کنٹرولر پروجیکٹس اور ان کے سورس کوڈ، الیکٹرونک فارمولے اور دیگر تمام معلومات پیش کی جاتی رہیں گی۔

الیکٹرونکس کے وہ شائقین جو انگریزی میں لکھی گئی تحاریر کو پوری طرح نہیں سمجھ سکتے یا انگریزی کو بالکل نہیں جانتے لیکن الیکٹرونکس کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں، وہ ان صفحات سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ خاص طور پر انگریزی سے نابلد اصحاب کے لئے اور عام طور پر اردو زبان کی ترویج کے لئے، جہاں تک ممکن ہو سکا ہے انگریزی سے اجتناب کیا گیا ہے تاہم وہ انگریزی اصطلاحات جو الیکٹرونکس میں عام مستعمل ہیں نیز عام فہم بھی ہیں، اردو رسم الخط میں لکھی گئی ہیں تاکہ سمجھنے میں آسانی ہو۔

الیکٹرونک سرکٹس

درمیانی قوت کا ایف ایم ٹرانسمٹر

اس ایف ایم ٹرانسمٹر کا حیطہء عمل (رینج) 9V بیٹری کے ساتھ 100 میٹر ہے۔ یہ سادہ سا سرکٹ تین درجوں (اسٹیجز) پر مشتمل ہے۔ ان میں سے پہلا درجہ الیکٹریٹ (کنڈنسر) مائیکروفون ایمپلی فائر کا ہے جو ٹرانزسٹر BC548 پر مشتمل ہے۔ اس کے بعد (ویری ہائی فریکوئنسی) آسی لیٹر ہے۔ یہ درجہ بھی BC548 پر مشتمل ہے۔ یہاں پر ایک بات کی وضاحت مناسب رہے گی۔ اگرچہ BC سیریز کے ٹرانزسٹر عام طور پر لو فریکوئنسی اطلاقات کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں تاہم یہ آر ایف اسٹیج میں بطور آسی لیٹر بھی عمدہ کام کر سکتے ہیں۔


ایف ایم ٹرانسمٹر کا سرکٹ ڈایا گرام

تیسرا درجہ کلاس اے ٹیوننڈ ایمپلی فائر کا جو آسی لیٹر سے آنے والے سگنلز کی قوت میں اضافہ کرتا ہے۔ اگر اضافی آر آیف ایمپلی فائر استعمال کیا جائے تو اس سے ٹرانسمٹر کے حیطء عمل (رینج) میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

سرکٹ میں دو کوائلز استعمال کی گئی ہیں۔ ان کا بنانا آسان ہے۔ کوائل L1 کو بنانے کے لئے 20SWG انیملڈ کاپر وائر استعمال کی جائے گی۔ اس تار کو 4 ملی میٹر قطر پر اس طرح لپیٹیں کہ اس کی لمبائی 15 ملی میٹر ہو جائے۔ کوائل L2 کو بنانے کے لئے بھی 20SWG انیملڈ کاپر وائر استعمال کی جائے گی۔ اس تار کے 4 ملی میٹر قطر پر صرف چھ چکر لپیٹیں۔ اینٹینا کے طور پر 75 سینٹی میٹر لمبی تانبے کی تار استعمال کریں- یہاں بھی 20SWG انیملڈ کاپر وائر استعمال کی جاسکتی ہے۔

سرکٹ کو نصب کرنے کے بعد اچھی طرح جانچ لیں اور یقین کر لیں کہ سارے ٹانکے درست لگے ہوئے ہیں نیز سارے پرزے سرکٹ ڈایا گرام کے مطابق درست جڑے ہیں۔ اس کے بعد سرکٹ کو نو وولٹ بیٹری سے منسلک کریں اور اس کا سوئچ آن کر دیں۔ حساس ایف ایم رسیور استعمال کرتے ہوئے سگنل وصول کریں۔ ٹرمر کپیسیٹر VC1 کی مدد سے فریکوئنسی متعین کی جائے گی جبکہ VC2 کی مدد سے زیادہ سے زیادہ حیطء عمل (رینج) متعین کیا جائے گا۔

فہرست اجزاء

(درمیانی قوت کا ایف ایم ٹرانسمٹر)
رزسٹرز      
R1 = 10K رزسٹر ¼ واٹ
R2 = 1M0 رزسٹر ¼ واٹ
R3 = 4K7 رزسٹر ¼ واٹ
R4,5 = 10K رزسٹر ¼ واٹ
R6 = 82R رزسٹر ¼ واٹ
R7 = 56K رزسٹر ¼ واٹ
کپیسیٹرز      
C1,2 = 0µ1F, 25V سرامک ڈسک
C3,4 = 470P, 25Vسرامک ڈسک
C5,6 = 10p, 25V سرامک ڈسک
C7 = 0µ01F, 25V سرامک ڈسک
C8 = 0µ1F, 25V سرامک ڈسک
VC1-3 = 22p ٹرمر
سیمی کنڈکٹرز
T1,2 = BC548 ٹرانزسٹر
T3 = C2570 ٹرانزسٹر
متفرق
L1,2 = تفصیل مضمون میں
MIC = الیکٹریٹ (کنڈنسر) مائیکرو فون
S1 = آن آف سوئچ

زینر ڈائیوڈ ٹیسٹر



(امیر سیف اللہ سیف)

ہائی وولٹیج پیدا کرنے کے لئے ایک چھوٹا سا ٹرانسفارمر اور ایک 555 ٹائمر آئی سی استعمال کرتے ہوئے ہم 50VDC تک کی ریٹنگ کا زینر ڈائیوڈ ٹیسٹ کر سکتے ہیں۔ ٹائمر آئی سی 555 کو ایسٹیبل حالت میں استعمال کیا گیا ہے۔ اس حالت میں اس کی آؤٹ پٹ پن کو ایک چھوٹے سے آڈیو ٹرانسفارمر کو چلانے کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔یہاں پر کوئی بھی ایسا ٹرانسفارمر استعمال کیا جا سکتا ہے جس کی پرائمری امپیڈینس 1K اوہم اور سیکنڈری امپیڈینس 8 اوہم ہو۔ یہ ٹرانسفارمر الٹا کر استعمال کیا جائے گا یعنی اس کی پرائمری کو بطور سیکنڈری اور سیکنڈری کو بطور پرائمری استعمال کیا جائے گا۔

ٹرانسفارمر سے 120 وولٹ اے سی حاصل ہوں گے۔ حاصل شدہ آؤٹ پٹ کو ڈی سی میں تبدیل کرنے کے لئے ریکٹی فائر ڈائیوڈ 1N4004 استعمال کیا گیا ہے۔ الیکٹرولائیٹک کپیسیٹر، جس کی قدر 2µ2 ہے، ڈی سی وولٹیج کو ہموار کرنے کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ یہاں پر استعمال کردہ کپیسیٹر کی وولٹیج ریٹنگ 150VDC سے کم ہرگز نہ ہو۔ زیر جانچ زینر ڈائیوڈ کے گرد وولٹیج کی پیمائش کے لئے ڈیجیٹل ملٹی میٹر استعمال کیا جائے گا جسے ڈی سی وولٹیج رینج پر سیٹ کرکے استعمال کریں۔ عمدہ زینر ڈائیوڈ اپنی مقررہ وولٹیج رینج میں ملٹی میٹر پر وولٹیج ظاہر کرے گا۔

سوئچ SW1 لوڈ کرنٹ کی دو حدود میں سے ایک کو منتخب کرنے کے لئے ہے۔ زینر ڈائیوڈ کی واٹیج کے اعتبار سے ہائی کرنٹ یا لو کرنٹ منتخب کی جا سکتی ہے۔ ہائی وولٹیج پیدا کرنے کے لئے ایک چھوٹا سا ٹرانسفارمر اور ایک 555 ٹائمر آئی سی استعمال کرتے ہوئے ہم 50VDC تک کی ریٹنگ کا زینر ڈائیوڈ ٹیسٹ کر سکتے ہیں۔ ٹائمر آئی سی 555 کو ایسٹیبل حالت میں استعمال کیا گیا ہے۔ اس حالت میں اس کی آؤٹ پٹ پن کو ایک چھوٹے سے آڈیو ٹرانسفارمر کو چلانے کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔یہاں پر کوئی بھی ایسا ٹرانسفارمر استعمال کیا جا سکتا ہے جس کی پرائمری امپیڈینس 1K اوہم اور سیکنڈری امپیڈینس 8 اوہم ہو۔ یہ ٹرانسفارمر الٹا کر استعمال کیا جائے گا یعنی اس کی پرائمری کو بطور سیکنڈری اور سیکنڈری کو بطور پرائمری استعمال کیا جائے گا۔

ٹرانسفارمر سے 120 وولٹ اے سی حاصل ہوں گے۔ حاصل شدہ آؤٹ پٹ کو ڈی سی میں تبدیل کرنے کے لئے ریکٹی فائر ڈائیوڈ 1N4004 استعمال کیا گیا ہے۔ الیکٹرولائیٹک کپیسیٹر، جس کی قدر 2µ2 ہے، ڈی سی وولٹیج کو ہموار کرنے کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ یہاں پر استعمال کردہ کپیسیٹر کی وولٹیج ریٹنگ 150VDC سے کم ہرگز نہ ہو۔

فہرست اجزاء

( زینر ڈائیوڈ ٹیسٹر )
رزسٹرز    
R1 = 2K2 کاربن فلم ¼ واٹ
R2 = 82K کاربن فلم ¼ واٹ
R1 = 22K کاربن فلم ¼ واٹ
R2 = 10K کاربن فلم ¼ واٹ
کپیسیٹرز    
C1 = 4n7 سرامک
C2 = 4µ7 الیکٹرولائیٹک
C3 = 2µ2 الیکٹرولائیٹک
سیمی کنڈکٹرز    
IC1 = 555 ٹائمر آئی سی
D1 = 1N4004 ریکٹی فائر ڈائیوڈ
ZD1 = زیر جانچ زینر ڈائیوڈ
متفرق    
SW1 = سنگل پول ڈبل تھرو سوئچ
SW2 = آن آف سوئچ
T1 = آڈیو ٹرانسفارمر(تفصیل مضمون میں دیکھیں)
B1 = 9V بیٹری

فعال پاور زینر

(امیر سیف اللہ سیف)

فعال (یعنی ایکٹو Active) زینر کا یہ سرکٹ زیادہ کرنٹ پر کام کرنے والے متبادل زینر ڈائیوڈ کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس میں پاور ٹرانزسٹر 2N3055استعمال کیا گیا ہے۔ یہاں پر اسی پاور کا ملتی جلتی خصوصیات کا حامل کوئی بھی این پی این ٹرانزسٹر استعمال کیا جا سکتا ہے۔


فعال پاور زینرکا سرکٹ ڈایا گرام

اس سرکٹ کو پاور سپلائی لائن کے آر پار استعمال کریں۔ اس سرکٹ میں وولٹیج کے بلند جھٹکوں (اسپائکس Spikes) پر غلط طور پر ٹرگر False Triggeringجیسے مسائل بھی پیدا نہیں ہوتے۔ یہ سرکٹ سلیکان کنٹرولڈ ریکٹی فائر کی نسبت زیادہ بہتر انداز میں کام کرتا ہے۔

واشنگ مشین موٹر کنٹرولر

(امیر سیف اللہ سیف)

عام طور پر واشنگ مشینوں میں سنگل فیز موٹر استعمال کی جاتی ہے۔ سیمی آٹو میٹک واشنگ مشنیوں میں موجود کنٹرول سوئچ ٹائمر اور موٹر کو الٹا سیدھا چلانے کا انتظام مکمل طور پر میکینیکل نوعیت کا ہوتا ہے۔ چونکہ کہ یہ انتظام میکینیکل نوعیت کا ہوتا ہے چنانچہ کثرت استعمال سے جلد ہی خراب ہو جائا ہے۔

یہاں پر اسی خرابی پر قابو پانے کے لئے الیکٹرونکس کا سہارا لیا گیا ہے۔ زیر نظر سرکٹ واشنگ مشین کی سنگل فیز موٹر کو کنٹرول کرتا ہے۔ سرکٹ ڈایا گرام شکل نمبر 1 میں دکھایا گیا ہے۔ بنیادی طور پر سنگل فیز موٹر کو واشنگ مشین میں کنٹرول کرنے کے لئے ایک ماسٹر ٹائمر کی ضرورت پڑتی ہے جو یہ تعین کرتا ہے کہ موٹر نے کتنی دیر چلنا ہے اور کس رخ پر چلنا ہے۔ عام طور پر ہر دس سیکنڈ کے بعد موٹر تین سیکنڈ کے لئے رکتی ہے اور اس کے بعد الٹے رخ پر دوبارہ چلنے لگتی ہے۔ اگر آپ نے کبھی اپنے سیلنگ فین کا کپیسیٹر تبدیل کرنے کا تجربہ کیا ہے تو یہ بات آپ کے مشاہدے میں آئی ہو گی کہ اگر غلطی سے کپیسیٹر کے کنکشن الٹ لگ جائیں تو پنکھا الٹا چلنے لگتا ہے۔

اس کنٹرولر میں کپیسیٹر کے اسی کردار کو استعمال کیا گیا ہے۔ شکل نمبر 2 میں واشنگ مشین کی موٹر دکھائی گئی ہے۔ اس شکل میں دکھایا گیا ہے کہ اس موٹر کو سیدھا اور الٹا کیسے چلایا جاتا ہے۔ جب واشنگ مشین کی موٹر کی وائنڈنگ L1 ، ریلے سوئچ RLY2 کے ٹرمینل A سے منسلک ہوتی ہے تو اسے مین اے سی سپلائی براہ راست مل رہی ہوتی ہے۔ اس حالت میں موٹر سیدھی چل رہی ہوتی ہے۔ شکل نمبر 2 الف دیکھیں۔ جب موٹر کی وائنڈنگ L2 ریلے سوئچ RLY2 کے ٹرمینل B سے منسلک ہوتی ہے تو اسے مین اے سی سپلائی الٹ حالت میں یعنی فیز شفٹ حالت میں مل رہی ہوتی چنانچہ اس حالت میں موٹر الٹی چل رہی ہوتی ہے۔ شکل نمبر 2 ب دیکھیں۔ اس طرح ریلے سوئچ RLY2 موٹر کے چلنے کے رخ کو کنٹرول کرتا ہے۔


شکل نمبر 1 واشنگ مشین موٹر کنٹرولر کا سرکٹ ڈایا گرام


شکل نمبر 2 واشنگ مشین کی موٹر چلنے کا رخ کنٹرول کرنے کا طریقہ کار

موٹر جب ایک رخ میں چل رہی ہوتی ہے تو اسے فوری طور پر دوسرے رخ میں چلانا ممکن نہیں ہوتا۔ رخ تبدیل کرنے کے لئے اسے چند لمحات کے لئے روکنا ضروری ہوتا ہے۔ اگر ایسا نہ کیا جائے اور اسے فوری طور پر فیز شفٹ حالت میں وولٹیج فراہم کر دئیے جائیں تو موٹر خراب ہو سکتی ہے۔ اس عمل کو ممکن بنانے کے لئے (یعنی موٹر کے دوسرے رخ میں چلنے کے لئے درکار وقفہ مہیا کرنے کے لئے) ٹائمر آئی سی IC2 استعمال کیا گیا ہے۔ یہ آئی سی 555 ہے جو دس دس سیکنڈ کے متبادل (سیدھے اور الٹے) آن وقفے کو اور تین سیکنڈ کے آف وقفے مہیا کرتا ہے۔ چنانچہ ہر دس سیکنڈ سیدھا اور دس سیکنڈ الٹا چلنے کے درمیانی وقفے میں موٹر تین سیکنڈ کے لئے رک جاتی ہے۔رزسٹر R3 اور R4 کی قدریں ان ہی وقفوں کو متعین کرنے کے لئے منتخب کی گئی ہیں۔

ماسٹر ٹائمر کے طور پر ٹائمر آئی سی 555 کو مونو اسٹیبل حالت میں استعمال کیا گیا ہے۔ یہ آئی سی IC1 ہے۔ اس کے آن وقفے کو پری سیٹ پوٹینشو میٹر VR1 کے ذریعے کنٹرول کیا گیا ہے۔ اس پوٹینشو میٹر کے ساتھ سلسلے وار 47K قدر کا رزسٹر R1 استعمال کیا گیا ہے تاکہ جب پوٹینشو میٹر صفر رزسٹینس کی حالت میں ہو تب بھی سیریز رزسٹینس صفر نہ ہونے پائے۔

ماسٹر ٹائمر اس وقت کو متعین کرنے کے لئے ہےجس کے لئے آپ نے واشنگ مشین کو چلانا ہے۔ یہ عام طور پر 15 سے 18 منٹ کا ہوتا ہے۔ اس مقصد کے لئے دونوں ٹائمرز کی آؤٹ پٹ کوIC3 نینڈ NAND گیٹ N1 کی دونوں ان پٹس پر فراہم کیا گیا ہے۔ اس گیٹ کی آؤٹ پٹ پن 3 کو ایک پی این پی ٹرانزسٹر TR1 کے راستے ریلے سوئچ RLY1 سے جوڑا گیا ہے۔ اس حالت میں یہ ریلے سوئچ صرف اس وقت کام کرے گا جب نینڈ گیٹ کی آوٹ پٹ لو LOW ہو گی۔

جب رخ متعین کرنے والا ٹائمر آئی سی IC2 آن حالت میں ہوگا تو منفی کی طرف جاتی ہوئی اس کی آؤٹ پٹ جے کے فلپ فلاپ آئی سی IC4 کی پن 2 کو لو کر دے گی جس سے ریلے سوئچ RLY2 انرجائز حالت میں آ کر موٹر کو ایک رخ میں چلا رہا ہو گا۔ جب آئی سی IC2 آف حالت میں ہو گا تو اس دوران میں نینڈ گیٹ کی آؤٹ پٹ ہائی ہو کر ریلے سوئچ RLY1 کو ڈی انرجائز حالت میں لے آئے گی جس سے میں اے سی سپلائی ریلے سوئچ RLY2 کے ذریعے آف حالت میں رہے گی اور موٹر بند ہو جائے گی۔

پہلے ٹائمر آئی سی 555 کی ٹرگر پن 2 پر فلوٹنگ پوائنٹ ایرر Floating Point Error واقع ہو سکتا ہے جس کا امکان ختم کرنے کے لئے رزسٹر R8 استعمال کی گئی ہے تاکہ پن 2 ہائی رہے۔

فہرست اجزاء

واشنگ مشین موٹر کنٹرولر

رزسٹرز      
R1 = 47K رزسٹر ¼ واٹ
R2 = 47K رزسٹر ¼ واٹ
R3 = 1M0 رزسٹر ¼ واٹ
R4 = 470K رزسٹر ¼ واٹ
R5 = 100R رزسٹر ¼ واٹ
R6 = 100R رزسٹر ¼ واٹ
R7 = 470R رزسٹر ¼ واٹ
R8 = 100K رزسٹر ¼ واٹ
VR1 = 1M0 پری سیٹ پوٹینشو میٹر
کپیسیٹر    
C1 = 1000µ, 16V الیکٹرو لائیٹک
C2 = 0µ01 سرامک
C3 = 10µ, 16V الیکٹرو لائیٹک
C4 = 0µ01 سرامک
سیمی کنڈکٹرز    
TR1-2 = BC558 پی این پی ٹرانزسٹر
IC1-2 = 555 ٹائمر آئی سی
IC3 = 4011 ٹائمر آئی سی
IC4 = 4027 ٹائمر آئی سی
D1-2 = 1N4007 ریکٹی فائر ڈائیوڈ
متفرق    
SW1 = 500mA پش ٹو آن، پش بٹن سوئچ
RLY1,2 = 6V, 100R ریلے سوئچ

کارہیڈ لائٹ کنٹرولر

(امیر سیف اللہ سیف)

یہ انتہائی پریشان کن حقیقت ہے کہ آپ کو اپنی کار کی ہیڈ لائٹ آن رہ جانے کا علم اس وقت ہوتا ہے جب آپ کار کو اسٹارٹ کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن بیٹری ڈسچارج حالت میں ملتی ہے۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے بہت سے طریقوں میں سے ایک یہ ہے کہ آپ زیر نظر سرکٹ کو تیار کرکے (یا تیار کرواکے) اپنی کار میں لگوالیں۔

یہ سرکٹ آپ کو اس بات سے آ گاہ نہیں کرتا بلکہ عمل کرتا ہے۔ جب آپ اپنی کار کا اگنیشن سوئچ آف کرتے ہیں تو اس سرکٹ میں لگا ہوا ریلے ڈی انر جائز (آف) ہو جاتا ہے اور ہیڈ لائٹس بھی آف ہو جاتی ہیں۔ آپ چاہیں تو اس حالت میں دوبارہ ہیڈ لائٹس آن کر سکتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے پش بٹن سوئچ S1 لگایا گیا ہے۔ یہ سوئچ دباتے ہی سلیکان کنٹرولڈ ریکٹی فائر Th1 ٹرگر ہو کر ریلے سوئچ Re1 کو روبہ عمل کر دیتا ہے۔ واضح رہے کہ یہ عمل صرف اسی وقت ممکن ہے جب اگنیشن سوئچ آف ہو۔ دوسری صورت میں شنٹ ڈائیوڈ D1 کی وجہ سے Th1 کے گرد وولٹیج اتنے کم ہوتے ہیں کہ یہ ٹرگر نہیں کیا جا سکتا۔ عام طور پر اگنیشن سوئچ آف کرنے کے بعد ہیڈ لائٹس آن کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی چنانچہ آپ چاہیں تو یہ سوئچ استعمال نہ کریں۔

ریلے سوئچ معیاری نوعیت کا 12V کا ہے۔ اس کے کنٹیکٹس 25A تک برداشت کرنے کے قابل ہونے چاہئیں۔


کارہیڈ لائٹ کنٹرولر کا سرکٹ ڈایا گرام۔

کیبل ٹی وی ایمپلی فائر

(امیر سیف اللہ سیف)

کیبل ٹی وی کے لئے یہ ایک ابتدائی نوعیت کا ایمپلی فائر سرکٹ ہے۔ اس کا موازنہ تجارتی، اعلی معیار کے کیبل ٹی وی ایمپلی فائرز سے نہیں کیا جا سکتا۔ یہ غیر تجارتی اور گھریلو نوعیت کا کیبل ٹی وی ایمپلی فائر ہے۔ اس میں صرف دو ٹرانزسٹرز استعمال کئے گئے ہیں۔ ٹرانزسٹر درمیانی قوت کے آر ایف نوعیت کے ہیں۔ بتائے گئے ٹرانزسٹرز کے علاوہ اسی نوعیت کے کوئی بھی ٹرانزسٹرز استعمال کئے جا سکتے ہیں۔


کیبل ٹی وی ایمپلی فائر کا سرکٹ ڈایا گرام

یہ سرکٹ 75 اوہم کو ایکشل کیبل والے کیبل سسٹم کے لئے بہت مناسب ہے۔ اس سرکٹ سے 20dB تک کا گین حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ٹرانزسٹرTR1 ایمپلی فی کیشن کے لئے اور ٹرانزسٹر TR2 کو بطور ایمیٹر فالوور، کرنٹ گین میں اضافے کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔

اس سرکٹ کو سادگی اور آسانی کی بنیاد پر ویرو بورڈ پر بھی نصب کیا جا سکتا ہے۔ سرکٹ کو ڈی سی سپلائی درکار ہے۔ دکھائے گئے ٹرانزسٹرز کی جگہ کوئی بھی درمیانی قوت کے این پی این آر ایف ٹرانزسٹرز استعمال کئے جا سکتے ہیں۔


فہرست اجزاء

( کیبل ٹی وی ایمپلی فائر )

رزسٹرز    
R1 = 75R رزسٹر ¼ واٹ
R2 = 680R رزسٹر ¼ واٹ
R3 = 100R رزسٹر ¼ واٹ
R4 = 820R رزسٹر ¼ واٹ
R5 = 75R رزسٹر ¼ واٹ
کپیسیٹرز    
C1 = 2n2, 25Vسرامک ڈسک
C2 = 2n2, 25Vسرامک ڈسک
سیمی کنڈکٹرز    
TR1 = C1324 یا کوئی بھی این پی این آر ایف ٹرانزسٹر
TR2 = C1324 یا کوئی بھی این پی این آر ایف ٹرانزسٹر

گیٹ الارم

(امیر سیف اللہ سیف)


شکل نمبر 1 میں گیٹ الارم کا سرکٹ ڈایا گرام دکھایا گیا ہے۔ اس میں نینڈ گیٹ شمٹ ٹرگر آئی سی 4093 استعمال کیا گیا ہے۔ اس آئی سی میں چار عدد نینڈ گیٹ شمٹ ٹرگرہیں۔ ان میں سے پہلا IC1a بطور فاسٹ (Fast)آسی لیٹر اور دوسرا IC1b بطور سلو (Slow) آسی لیٹراستعمال کیا گیا ہے۔ ان دونوں کو تیسرے نینڈ گیٹ شمٹ ٹرگر IC1c کے ذریعے آپس میں ملا دیا گیا ہے جس سے پپ پپ پپ جیسی آواز پیدا ہوتی ہے۔ یہ آواز اس وقت پیدا ہو گی جب کوئی دروازہ یا کھڑکی وغیرہ کھلے گی۔

سرکٹ کو سائرن جیسی بہت بلند آواز پیدا کرنے کے لئے ڈیزائن نہیں کیا گیا بلکہ صرف آگاہی کے لئے (کہ کوئی دروازہ یا کھڑکی وغیرہ کھل گئی ہے) ایک پیزو سرامک بذر سے آواز پیدا کی گئی ہے۔الارم کی آواز کو وارننگ آلے سے مشابہ کرنے کے لئے آپ رزسٹر R1 اور ڈائیوڈ D1 کو نکال کر رزسٹر R2 کی قدر میں کمی کر کے آزما سکتے ہیں۔بذر سے خارج ہونے والی آواز کی فریکوئنسی کو متعین کرنے کے لئے ویری ایبل رزسٹر VR1 استعمال کیا گیا ہے۔

اس گیٹ الارم کی کارکردگی کو سادہ آن آف عمل کی نسبت زیادہ موثر اور بہتر بنانے کے لئے IC1d پر مشتمل ایک ٹائمر تشکیل دیا گیا ہے تاکہ دروازہ یا کھڑکی وغیرہ کھلنے کے بعد دوبارہ بند ہونے کے بعد بھی 20 سے 30 تک کی اضافی ”پپ“ سنائی دے سکیں۔اگر آپ بذر کی ضرورت محسوس نہ کریں تو فریکوئنسی کم کر کے، بذر کی جگہ ایل ای ڈی بھی لگا سکتے ہیں۔ ایسی صورت میں پیزو سرامک بذر کی جگہ ایل ای ڈی، ایک 1K قدر کا اضافی رزسٹر سیریز میں جوڑ کر لگائیں۔

شکل نمبر2 میں ایک عام ریڈ سوئچ کو ، نارملی کلوزڈریڈ سوئچ کے طور پر استعمال کرنے کا طریقہ دکھایا گیا ہے۔ ریڈ سوئچ کے ساتھ ایک چھوٹا سا مقناطیس لگا دیں تاکہ وہ اس کی وجہ سے کلوز حالت میں آجائے۔ دروازے یا کھڑکی کے ساتھ نسبتاً بڑا مقناطیس لگائیں تاکہ جوں ہی دروازہ بند کیا جائے، ریڈ سوئچ اس بڑے مقناطیس کی وجہ سے اوپن ہو جائے۔یہاں پرریڈ سوئچ کی جگہ دوسرا مناسب سوئچ، مثلاً مائیکرو سوئچ بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

فہرست اجزاء

( گیٹ الارم )
رزسٹرز    
R1 = 10K کاربن فلم ¼ واٹ
R2 = 38K کاربن فلم ¼ واٹ
R4 = 100K کاربن فلم ¼ واٹ
VR1 = 22K پری سیٹ پوٹینشو میٹر
کپیسیٹرز    
C1,3 = 10u 25V الیکٹرو لائیٹک
C2 = 10n سرامک یا پولی ایسٹر
C4 = 100u الیکٹرولائیٹک
سیمی کنڈکٹرز    
IC1a-d = 4093 کواڈ نینڈ گیٹ شمٹ ٹرگر سی موس آئی سی
D1 = 1N4148 سگنل ڈائیوڈ
X1 = پیزو سرامک بذر(تفصیل مضمون میں)
متفرق    
SW1a-d = ریڈ سوئچ (تفصیل مضمون میں)

250mW ایمپلی فائر

بہت چھوٹے ایم پی تھری پلیئر کے لیے یہ چھوٹا سا ایمپلی فائر بہت کار آمد ہے۔ کم قیمت ایم پی تھری پلیئر کی آؤٹ پٹ ائر فون میں سنی جاتی ہے جس سے صرف ایک ہی فرد محظوظ ہو سکتا ہے۔ یہ ایمپلی فائر 8 اوہم کے اسپیکر کو 250mW تک کی آڈیو پاور مہیا کرتا ہے جس سے ایم پی تھری پلیئر (یا کسی بھی دوسرے آلے) کی آواز کو باآسانی کئی افراد سن سکتے ہیں۔ اس مختصر لیکن کار آمد سرکٹ کا فریکوئنسی ریسپانس کافی بہتر ہے اور یہ متعدد عمومی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس سرکٹ کو 9V کی چھوٹی بیٹری سے چلایا جا سکتا ہے۔


250mW ایمپلی فائر کا سرکٹ ڈایا گرام

فہرست اجزاء

( 250mW ایمپلی فائر)

رزسٹرز    
R1 = 4K7 رزسٹر ¼ واٹ
R2 = 82K رزسٹر ¼ واٹ
R3 = 12K رزسٹر ¼ واٹ
R4 = 1K8 رزسٹر ¼ واٹ
VR1 = 10K پوٹینشو میٹر
کپیسیٹرز    
C1 = 100µF, 16V الیکٹرو لائیٹک
C2 = 100µF, 16V الیکٹرو لائیٹک
C3 = 220µF, 16V الیکٹرو لائیٹک
سیمی کنڈکٹرز    
TR1 = BC547 این پی این ٹرانزسٹر
TR2 = BC337 این پی این ٹرانزسٹر
TR3 = BC327 پی این پی ٹرانزسٹر
متفرق    
B1 = 9V بیٹری
SW1 = آن آف سوئچ
LS = 8R لاؤڈ اسپیکر 0۔25 واٹ

78XX مانیٹر

جب وولٹیج ریگولیٹر کو مین اے سی سپلائی ایڈاپٹر سے وولٹیج دیئے جاتے ہیں تو بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ اس کی آئوٹ پٹ بہت کم ہو جاتی ہے کیونکہ مین سپلائی سے ملنے والے وولٹیج بھی کم ہو جاتے ہیں یا پھر اوور لوڈنگ کی وجہ سے بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔ ایسی کیفیت کی صورت میں یہ سرکٹ فوراً روبہ عمل ہو کر اس سے آگاہ کر دیتا ہے۔

78XX سیریز کے وولٹیج ریگولیٹرز کا درست عمل ان پٹ اور آئوٹ پٹ وولٹیج کے فرق پر منحصر ہوتا ہے۔ یہ فرق کسی صورت میں 3V سے زیادہ نہیں ہونا چاہئے۔زیر نظر سرکٹ میں ان پٹ اور آئوٹ پٹ وولٹیج پر آئی سی IC1 کے ذریعے نظر رکھی جاتی ہے۔ا گر وولٹیج ریگولیٹر کو ملنے والے ان پٹ وولٹیج بہت کم ہوں تو IC1 روبہ عمل ہو جاتا ہے جس سے C1 چارج ہو جاتا ہے اور T1 روبہ عمل ہوکر ایل ای ڈی D2 کو روشن کر دیتا ہے۔ T1 ڈارلنگٹن ٹرانزسٹر BC517 ہے اگر یہ نہ ملے تو سرکٹ میں دکھائے گئے طریقے سے دو عدد BC547 ٹرانزسٹر استعمال کئے جاسکتے ہیں۔

کپیسٹر C1 پر موجود چارج ایل ای ڈی کو 10mS تک روشن رکھنے کی یقین دہانی کراتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ان پٹ وولٹیج میں مختصر ترین وقفے کے لئے بھی ہونے والی کمی معلوم کی جا سکتی ہے۔ا گر آپ صوتی طور پر اس کمی کا اظہار چاہتے ہیں تو R7 اور D2 کی جگہ ایک پیزوسرامک بذر استعمال کریں۔

زیرنظر سرکٹ 7805 ریگولیٹر کے لیے کارآمد ہے۔د وسرے 78XX ریگولیٹرز کے لیے آپ کو R1 کی قدر میں تبدیلی کرنی پڑے گی جسے اس فارمولے R1=[(2Vd/Verg)+1]/RL سے معلوم کیا جا سکتا ہے۔ اس میں Vd‘ وولٹیج ریگولیٹر میں ہونے والا وولٹیج ڈراپ ہے جبکہ Vreg ‘ وولٹیج ریگولیٹر کے آئوٹ پٹ وولٹیج ہیں۔ Vd کی قدر‘ ریگولیٹر میں ہونے والے وولٹیج ڈراپ سے قدرے زیادہ رکھیں۔


78XX مانیٹر کا سرکٹ ڈایا گرام۔

فہرست اجزاء

( 78XX مانیٹر )
رزسٹرز    
R1 = 27K کاربن فلم ¼ واٹ (تفصیل کے لیے متن دیکھیں)
R2 = 10K کاربن فلم ¼ واٹ
R3 = 10K کاربن فلم ¼ واٹ
R4 = 10K کاربن فلم ¼ واٹ
R5 = 100K کاربن فلم ¼ واٹ
R6 = 100K کاربن فلم ¼ واٹ
R7 = 470R کاربن فلم ¼ واٹ
کپیسیٹرز    
C1 = 10µ, 25V الیکٹرو لائیٹک
C2 = 100n سرامک یا پولی ایسٹر
سیمی کنڈکٹرز    
IC1 = CA3140 آپریشنل ایمپلی فائر آئی سی
D1 = ایل ای ڈی
D2 = 1N4148 سگنل ڈائیوڈ
T1 = BC517 تفصیل مضمون میں

آٹو میٹک ایل ای ڈی لائٹ

(امیر سیف اللہ سیف)

اس مفید سرکٹ ڈایا گرام میں 12 عدد سفید ایل ای ڈیز سے روشنی فراہم کی گئی ہے۔ جب مین اے سی سپلائی بند ہوتی ہے تو یہ ایل ای ڈی خود کار طور پر آن ہو جاتے ہیں۔

جب مین سپلائی موجود ہوتی ہے تو یہ سرکٹ منسلک ری چارج ایبل بیٹری کو خود کار طور پر چارج کرتا ہے۔ جب بیٹری مکمل چارج ہو جاتی ہے تویہ خودکار چارجر، چارجنگ کو روک دیتا ہے۔

اس سرکٹ کو آپ کم خرچ خود کار ایمر جنسی روشنی کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں۔ سرکٹ میں سفید ایل ای ڈی استعمال کئے گئے ہیں جو کافی مناسب روشنی فراہم کرتے ہیں۔

سرکٹ کا عمل کافی سادہ ہے۔ مین اے سی سپلائی کے 220VAC کو اسٹیپ ڈاؤن ٹرانسفارمر T1 کے ذریعے 9V AC (500mA) میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ چار عدد ریکٹی فائر ڈائیوڈ D1-4 برج سرکٹ تشکیل دیتے ہیں جو اے سی کو ڈی سی میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ اے سی کو فلٹر کرنے کے لئے کپیسیٹر C1 استعمال کیا گیا ہے۔ ریگولیٹر آئی سی LM317 نو وولٹ کو 7VDC تک ریگولیٹ کرتا ہے۔ اس کی آؤٹ پٹ کو بیٹری چارج کرنے کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔

ٹرانزسٹر BC548 اور زینر ڈائیوڈ 6V8 ½W بیٹری کی چارجنگ کو کنٹرول کرتے ہیں اور جب بیٹری مکمل چارج ہو جاتی ہے تو زینر ڈائیوڈ بیٹری کو جانے والے وولٹیج کو روک دیتا ہے۔ سرکٹ کو عملی شکل دینے کے بعد پوٹینشومیٹر R13 کی مدد سے ریگولیٹر آئی سی LM317 کی آؤٹ پٹ کو 7V پر متعین کر لیں۔

سرکٹ میں لگا ہوا دوسرا ٹرانزسٹر پاور نوعیت کا BD140 ہے جو ایل ای ڈیز کو چلاتا ہے۔ اسے مناسب سے ہیٹ سنک پر نصب کریں۔



آٹو میٹک ایل ای ڈی لائٹ کا سرکٹ ڈایا گرام


فہرست اجزاء

آٹو میٹک ایل ای ڈی لائٹ

رزسٹرز    
R1-12 = 100R رزسٹر ¼ واٹ
R13 = 2K2 پوٹینشو میٹر
کپیسیٹر    
C1 = 1000µ, 25V الیکٹرو لائیٹک
سیمی کنڈکٹرز    
Q1 = BC548 این پی این ٹرانزسٹر
Q2 = BD140 پاور ٹرانزسٹر
IC1 = LM317 ریگولیٹر آئی سی
D1-5 = 1N4007 ریکٹی فائر ڈائیوڈ
D6 = 6V8 ½W زینر ڈائیوڈ
متفرق    
T1 = 9V, ٹرانسفارمر 500mA
B1 = 6V, 3.5Ah ری چارج ایبل بیٹری

ایل ای ڈی ٹارچ

(امیر سیف اللہ سیف)

ہنگامی صورت حال میں یہ مختصر سی ایل ای ڈی ٹارچ آپ کے بہت کام آئے گی۔ اس کا سرکٹ اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ یہ کم جگہ میں سما سکے۔ اس میں استعمال کردہ بیٹری براہ راست مین اے سی سپلائی سے چارج کی جا سکتی ہے۔ اس میں نکل کیڈمیئم بیٹری (1V2 کے تین سیل) استعمال کی گئی ہے۔ اگر اس ٹارچ کو مناسب احتیاط سے استعمال کیا جائے تو یہ بیٹری کافی عرصہ تک (میں اسے تین سال سے استعمال کر رہا ہوں) کام دے گی۔



ایل ای ڈی ٹارچ کا سرکٹ ڈایا گرام

سرکٹ میں مین اے سی سپلائی لائن کے راستے دو کپیسیٹر C1 اور C2 استعمال کئے گئے ہیں- دکھائی گی قدروں سے یہ کرنٹ کو 70mA تک محدود رکھتے ہیں۔ جب میں اے سی سپلائی کا سوئچ آن کیا جاتا ہے تو ایک لمحے کے لئے کافی زیادہ وولٹیج سرکٹ میں آنے ہیں۔ اسے ابتدائی سرج کرنٹ surge کہتے ہیں۔ اس کرنٹ کو روکنے کے لئے رزسٹر R1 استعمال کیا گیا ہے۔ جب مین اے سی سپلائی کا سوئچ آف کیا جاتا ہے تو پہلے دونوں کپیسیٹر چارج حالت ہی میں ہوتے ہیں۔ رزسٹر R2 ان کو ڈسچارج کرنے کا عمل سرانجام دیتا ہے۔

اس کے بعد ریکٹیفائر برج سرکٹ اور فلٹر کپیسییٹر ہے۔ ٹرانزسٹر کو بطور سوئچ استعمال کیا گیا ہے۔ جب تک مین اے سی سپلائی موجود رہتی ہے رزسٹرR4 اور ایل ای ڈی LED1 کے راستے بیٹری چارچ ہوتی رہتی ہے۔ اس رزسٹر اور ایل ای ڈی کی وجہ سے بیٹری کو ملنے والی چارجنگ کرنٹ 50mA تک رہتی ہے۔ یہ ایل ای ڈی نہ صرف مین اے سی سپلائی کی موجودگی ظاہر کرتا ہے بلکہ بیٹری کو جانے والی کرنٹ بھی محدود رکھتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جب ایل ای ڈی روشن رہتا ہے تو ٹرانزسٹر کی بیس پر 1V6 تک وولٹیج رہتے ہیں۔ اس حالت میں ٹرانزسٹر کی بیس ایمیٹر کی نسبت زیادہ مثبت رہتی ہے اور ٹرانزسٹر آف حالت میں رہتا ہے۔ جوں ہی مین اے سی سپلائی آف ہوتی ہے، ٹرانزسٹر کی بیس پر وولٹیج گر جاتے ہیں اور وہ (رزسٹر R3 کے راستے) لو ہو جاتی ہے۔ اس طرح ٹرانزسٹر سوئچ آن ہو کر تین سفید ایل ای ڈی روشن کر دیتا ہے۔

واضح رہے کہ سرکٹ جب چارج کیا جا رہا ہو گا تو یہ براہ راست مین اے سی سپلائی سے جڑا ہوا ہوگا۔ چونکہ اس کا سائز کم رکھنے کے لئے اس میں کوئی ٹرانسفارمر استعمال نہیں کیا گیا چنانچہ پورے سرکٹ میں ہر وقت مین اے سی سپلائی موجود ہوگی۔ سرکٹ میں کسی بھی پرزے یا تار کو کسی حالت میں بھی ہاتھ نہ لگائیں ورنہ برقی جھٹکا لگے گا۔ سرکٹ کو پلاسٹک کے بکس میں نصب کریں اور آن آف سوئچ بھی پلاسٹک کی ڈنڈی والا استعمال کریں۔ سرکٹ کو چارچ کرتے وقت فیز اور نیوٹرل دکھائے گئے طریقے سے منسلک کریں ورنہ فیز سارے سرکٹ میں موجود رہے گا جو زیادہ خطرناک ہے۔


فہرست اجزاء

( ایل ای ڈی ٹارچ )

رزسٹرز    
R1 = 220K رزسٹر ½ واٹ
R2 = 100R رزسٹر 2 واٹ
R3 = 270R رزسٹر ½ واٹ
R4 = 33R رزسٹر ½ واٹ
R5 = 330R رزسٹر ½ واٹ
کپیسیٹر    
C1 = 0µ47, 400V پولی اسٹرین
C2 = 0µ47, 400V پولی اسٹرین
C3 = 470µ, 63V الیکٹرو لائیٹک
سیمی کنڈکٹرز    
TR1 = BC558 این پی این ٹرانزسٹر
D1-4 = 1N4007 ریکٹی فائر ڈائیوڈ
LED1 = سرخ ایل ای ڈی
LED2-4 = سفید ایل ای ڈی
متفرق    
SW1 = آن آف سلائیڈ سوئچ
F1 = 100mA مین سپلائی اے سی فیوز
B1 = 3V6 نکل کیڈمیئم بیٹری (1V2 کے تین سیل)

بغیر ٹرانسفارمر کی پاور سپلائی

(امیر سیف اللہ سیف)

یہ پاور سپلائی مین سپلائی اے سے وولٹیج سے 220V ان پٹ لیتی ہے اور آئوٹ پٹ میں ڈی سی سپلائی مہیا کرتی ہے۔ آئوٹ پٹ کرنٹ اجزا کی دکھائی گئی قدروں کے مطابق 15mA ہوگی جبکہ آئوٹ پٹ وولٹیج 12V ڈی سی ہوں گے۔ آئوٹ پٹ وولٹیج میں کمی بیشی کے لئے زینر ڈائیوڈ کی قدر میں تبدیلی کی جا سکتی ہے۔

یہ پروجیکٹ ایک چھوٹی سی جگہ پر نصب کیا جا سکتا ہے۔ چونکہ اس سے ملنے والی کرنٹ خاصی کم ہے چنانچہ اسے چھوٹے اور کم پاور ضروریات رکھنے والے آلات یا سرکٹس کے لئے ہی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

اس پاور سپلائی کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ اس میں مین اے سی سپلائی سے کوئی آئسولیشن مہیا نہیں کی گئی۔ اسے آن حالت میں استعمال کرتے وقت احتیاطی تدابیر کو ملحوظ رکھیں۔لازمی ہے کہ آن حالت میں اس سرکٹ پر یا جس آلے سے یہ منسلک ہے اس پر کوئی کام نہ کریں۔ اگر کام کرنا ضروری ہو تو سب سے پہلے سپلائی کو مین اے سی لائن سے الگ کر کے استعمال کریں۔

مہیا ہونے والی کرنٹ میں اضافہ کرنے کے لئے مین سپلائی لائن کی طرف لگے ہوئے کپیسیٹرC1 کی قدر میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔اسی کے ساتھ آئوٹ پٹ میں لگے ہوئے کپیسیٹر C2 میں بھی مناسب تبدیلی ضروری ہوگی۔ زیادہ کرنٹ کے لئے بڑا کپیسیٹر درکار ہوگا۔

مین اے سی سپلائی لائن سے آئسولیشن فراہم کرنے کے لئے ان پٹ میں آئسولیشن ٹرانسفارمر لگایا جا سکتا ہے۔ چھوٹا سا آڈیو ٹرانسفارمر، جس کی وائینڈنگ 600:600 اوہم امپیڈینس کی ہو، عمدہ آئسولیشن فراہم کرے گا۔


بغیر ٹرانسفارمر کی پاور سپلائی کا سرکٹ ڈایا گرام

فہرست اجزاء

(بغیر ٹرانسفارمر کی پاور سپلائی )
کپیسیٹرز    
C1 = 0µ39F, 400V سرامک
C2 = 47µ, 25Vالیکٹرولائیٹک
سیمی کنڈکٹرز    
D1 = 11V زینر ڈائیوڈ(تفصیل مضمون میں)
BR1 = 250V, 1Amp برج ریکٹی فائر
متفرق    
  = 220V مین سپلائی اے سی کیبل پلگ کے ساتھ

بچوں سے محفوظ ری سیٹ سوئچ

پرانے ڈیسک ٹاپ کمپیوٹرز استعمال کنندگان بخوبی جانتے ہیں کہ اس کا ری سیٹ سوئچ کس قدر اہمیت کا حامل ہے۔ا گر کسی خاص وجہ سے یا غلط ہدایت کے باعث کمپیوٹر کا اندرونی عمل رک جائے تو ری سیٹ سوئچ ہی واحد ذریعہ ہوتا ہے کہ کمپیوٹر کو دوبارہ چلایا جا سکے۔ دوسری طرف یہ پریشانی کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ آپ کوئی اہم کام کر رہے ہیں اور بچے یا خود آپ کی غلطی سے یا کسی بھی حادثاتی صورت میں یہ سوئچ دب جائے تو آپ کی گھنٹوں کی محنت بیکار ہو سکتی ہے۔

اس قسم کی صورت حال سے بچنے کے لیے یہاں پر پیش کردہ سوئچ سسٹم بے حد کارآمد رہے گا۔ اس میں دیئے گئے بندوبست سے کمپیوٹر اس وقت تک ری سیٹ نہیں ہوگا جب تک چار سوئچ بیک وقت نہیں دبائے جائیں گے۔ حفاظت کی شرح کو دگنا کرنے کے لیے آپ یہ سوئچ اس طرح لگائیں کہ دو سوئچ ایک ہاتھ کی دو انگلیوں سے اور بقیہ دو دوسرے ہاتھ کی دو انگلیوں سے دبائے جا سکیں۔
نوٹ: یہ طریقہ کار صرف پرانے ڈیسک ٹاپ یا کچھ ٹاور کیسنگ والےکمپیوٹرز کے لئے کارآمد ہے۔


بچوں سے محفوظ ری سیٹ سوئچ کا سرکٹ ڈایا گرام

بیلنس انڈیکیٹر

(امیر سیف اللہ سیف)

اگر آپ کے ایمپلی فائر میں دو بیلنس کنٹرول موجود ہیں تو درحقیقت یہ بیلنس کنٹرول اور لیول کنٹرول کے طور پر کام کر رہے ہوں گے۔ ان کی خامی یہ ہے کہ ان کی مدد سے درست طور پر بیلنس متعین کرنا خاصا دشوار ہوتا ہے۔ اس کا حل یہ ہے کہ دو مونوپوٹینشومیٹرز کی بجائے دو اسٹیریو پوٹینشومیٹر استعمال کئے جائیں‘ جیسا کہ زیر نظر سرکٹ میں دکھایا گیا ہے۔

پوٹینشومیٹر P1a اور P2a پہلے لگے ہوئے دو پوٹینشومیٹرز کے طور پر کام کرتے ہیں جبکہ بقیہ دو ایک برج سرکٹ میں جوڑے گئے ہیں۔ اس طرح دونوں چینل کے درمیان توازن کی کیفیت معلوم کرنا آسان ہوجاتا ہے ۔ توازن کی کیفیت کا اظہار دو ایل ای ڈی کرتے ہیں۔


بیلنس انڈیکیٹر کا سرکٹ ڈایا گرام۔

جدید AM ڈی ماڈولیٹر

(امیر سیف اللہ سیف)

یہ سرکٹ دراصل فاسٹ اینویلوپ سیمپلر Fast Envelope Sampler کا ہے۔ جب کسی سگنل کو ایمپ لی ٹیوڈ ماڈولیٹ کیا جاتا ہے تو اس پر مستقل نظر رکھنی پڑتی ہے تاکہ ماڈولیٹنگ فریکوئنسی کی زیادہ سے زیادہ مقدار کیرئر فریکوئنسی کی نصف مقدار سے نہ بڑھنے پائے۔ یہ سرکٹ ایسے اطلاقات کے لیے بخوبی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس سرکٹ میں فیز ایرر واقع نہیں ہوتا جبکہ ڈائیوڈ ڈی ٹیکٹر میں ایسا ہو سکتا ہے۔

چونکہ اس نوعیت کے سرکٹ کو کچھ ایسے اطلاقات کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہےجہاں براہ راست وولٹیج درکار ہوتے ہیں (مثال کے طور پر AGC لوپ میں) چنانچہ سرکٹ میں AC اور DC وولٹیج فراہم کرنے کا بندوبست رکھا گیا ہے۔ یہ سرکٹ V 5 ± سپلائی پر کام کرتا ہے۔ سرکٹ میں کرنٹ کا خرچ 20mA کے لگ بھگ ہے۔



جدید AM ڈی ماڈولیٹر کا سرکٹ ڈایا گرام



جدید AM ڈی ماڈولیٹر میں استعمال ہونے والے آئی سیز کی پنوں کی ترتیب



جدید AM ڈی ماڈولیٹر نصب شدہ حالت میں



جدید AM ڈی ماڈولیٹر کا پی سی بی (کمپونینٹ سائیڈ)



جدید AM ڈی ماڈولیٹر کا پی سی بی (سولڈر سائیڈ)



پی سی بی پر جدید AM ڈی ماڈولیٹر کے اجزا کی ترتیب

خود کار سپیڈ کنٹرولر


(امیر سیف اللہ سیف)

گرمی کی راتوں کے دوران میں ابتدائی اوقات میں تو درجہ حرارت کافی بلند ہوتا ہے لیکن جوں جوں رات گزرتی ہے اس میں بدریج کمی واقع ہوتی جاتی ہے۔اگر طبی لحاظ سے دیکھا جائے تو سونے کے بعد انسان کی میٹابولک (Metabolic) شرح میں بھی کمی واقع ہو جاتی ہے جس کے باعث گرمی اس شدت سے متاثر نہیں کرتی جس شدت سے جاگتے وقت اثر انداز ہوتی ہے۔ان حقائق کی روشنی میں یہ عنصر عیاں ہے کہ ابتدائی طور پر تو پنکھے یا روم کولر پوری رفتار سے چلائے جاتے ہیں لیکن بعد میں جب ہوا میں خنکی آ جاتی ہے تو بار بار آنکھ کھل جاتی ہے اور پنکھے یا روم کولرکی رفتار کم کرنی پڑتی ہے۔

یہاں پر دیا گیاپروجیکٹ اسی ضرورت کو مد نظر رکھتے ہوئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ ابتداءمیں ایک پہلے سے متعین وقت کے لئے یہ پنکھے یا روم کولرکو پوری رفتار پر چلاتا ہے۔ اس متعین وقت کے بعد پنکھے یا روم کولر کی رفتار کو درمیانی یعنی میڈیم حالت میں لے آتا ہے۔اسی طرح کچھ وقت مزید گزرنے کے بعد یہ پنکھے یا روم کولر کی رفتار کو کم یعنی Slow پر لے آتا ہے۔ کم و بیش آٹھ گھنٹے بعد یہ پنکھے یا روم کولر کو بالکل بند یعنی سوئچ آف کر دیتا ہے۔


شکل نمبر 1

شکل نمبر 1 میں اس پروجیکٹ کا سرکٹ ڈایا گرام دکھایا گیا ہے۔آئی سی IC1 ٹائمر 555 ہے جسے ایسٹیبل ملٹی وائبریٹر حالت میں استعمال کیا گیا ہے۔ اس حالت میں یہ کلاک پلس پیدا کرتا ہے جن کو ڈیکیڈ ڈرائیور/کائونٹرز میں بھیجا جاتا ہے۔ ڈیکیڈ ڈرائیور/کائونٹرز آئی سی IC2 اور IC3 پر مشتمل ہیںاور بالترتیب ڈیوائیڈ بائی 10 اور ڈیوائیڈ بائی 9 کائونٹرز کے طور پر عمل کر رہے ہیں۔ کپیسیٹر C1 اور رزسٹرز R1, R2 کی قدریں اس طرح منتخب کی گئی ہیں کہ آخری آئی سی IC3 کی آخری آئوٹ پٹ تقریباً آٹھ گھنٹے بعد ہائی ہو جاتی ہے۔

آئی سی IC3 کی پہلی دو آ ئو ٹ پٹس Q0 اور Q1 دو ڈائیوڈز D1 اور D2 کے راستے ٹرانزسٹر Q1 سے اس طرح جوڑی گئی ہیں کہ لاجک گیٹ OR جیسا عمل واقع ہو۔ یعنی یہ دونوں آ ئو ٹ پٹس OR گیٹ جیسا عمل کرتی ہیں۔ ابتدائی طور پر Q0 آئو ٹ پٹ ہائی ہوتی ہے جس کی وجہ سے ریلے RL1 روبہ عمل حالت میں (انرجائزڈ) ہوتی ہے۔ یہ اس وقت تک اسی حالت میں رہتی ہے جب تک آ ئو ٹ پٹ Q1 ہائی نہ ہو جائے۔

جیسا کہ سرکٹ ڈایا گرام سے بخوبی ظاہر ہے، اس آئی سی کی باقی آ ئو ٹ پٹس کو بھی اسی طرح دو مزید گروپس میں تقسیم کر کے براستہ ڈائیوڈز دو الگ الگ ٹرانزسٹرز کی بیس سے جوڑا گیا ہے۔ اس عمل سے جوں جوں وقت گزرتا جائے گا، آئی سی کی آ ئوٹ پٹس ہائی ہوتی جائیں گی اور متعلقہ ٹرانزسٹرز مخصوص وقفوں کے لئے آن اور آف ہوتے جائیں گے۔ اس کے نتیجے میں متعلقہ ریلے سوئچ آن اور آف ہو کر مطلوبہ رفتار مہیا کرنے کے لئے پنکھے یا روم کولر کی رفتار کو متعین کرتے رہیں گے۔اس بندوبست سے ابتدا میں پنکھے یا روم کولر کو مین اے سی سپلائی براہ راست ملے گی اور یہ پوری رفتار سے چلے گا۔ جب Q2 آؤٹ پٹ ہائی اور Q1 آ ئو ٹ پٹ لو ہو جائے گی تو ریلے سوئچ RL1 آف ہو جائے گا جبکہ ریلے سوئچ RL2 آن ہو جائے گا۔ اس حالت میں پنکھے یا روم کولر کو میں اے سی سپلائی کی فراہمی رزسٹینس(یا پھر میڈیم رفتار کے لئے مہیا کردہ وائینڈنگ) کے راستے ہو گی۔اسی طرح جب Q4 آ ئو ٹ پٹ اپنی باری پرلو ہو گی اور Q5 آ ئو ٹ پٹ ہائی ہو گی تو ریلے سوئچ RL2آف ہو جائے گا جبکہ ریلے سوئچ RL3 آن ہو جائے گا۔ اس حالت میں پنکھے یا روم کولر کو میں اے سی سپلائی کی فراہمی اگلی رزسٹینس(یا پھرلو رفتار کے لئے مہیا کردہ وائینڈنگ) کے راستے ہو گی۔اس صورت میں پنکھا یا روم کولر سب سے کم رفتار پر چلتا رہے گا۔

مذکورہ بالا تمام عمل کے دوران میں آئی سی IC3 کی پن 11 لو حالت میں رہے گی جس سے ٹرانزسٹر Q4 کٹ آف حالت میں رہے گا۔ چنانچہ ٹرانزسٹر Q5 سیچوریٹ حالت میں رہتے ہوئے ریلے RL4 کو آن حالت میں رکھے گا۔عمل کے آخر میں جب آئی سی IC3 کی پن 11جو کہ Q9 آ ئو ٹ پٹ ہے، ہائی ہو گی تو ٹرانزسٹر Q4 سیچوریٹ حالت میں آ جائے گا۔ اس طرح ٹرانزسٹر Q5 کٹ آف ہو جائے گا اور ریلے RL4 آف ہو جائے گی۔ اس طرح پنکھے یا کولر کو مین اے سی سپلائی کی فراہمی منقطع ہو جائے گی اور یہ بند ہو جائے گا۔

اگر ٹائمر آئی سی 555 سے منسلک کپیسیٹر C1 اور رزسٹرز R1, R2 کی قدریں اس طرح منتخب کی جائیں کہ آئی سی IC3 کی آخری آ ئو ٹ پٹ تقریباً آٹھ گھنٹے بعد ہائی ہو تو پنکھا یا کولر مسلسل آٹھ گھنٹے چلے گا۔ فل، میڈیم اور لو رفتار پر کتناکتنا وقفہ چلے گا، اس کا انحصاراس بات پر ہے کہ IC2 کی آ ئو ٹ پٹس کو ٹرانزسٹرز سے کس طرح جوڑا گیا ہے۔ سرکٹ میں دکھائی گئی ترتیب سے یہ دورانیہ مندرجہ ذیل شرح کے مطابق ہوگا۔


      پوری رفتار   کل وقت کا پانچواں حصہ      تقریباً ایک گھنٹہ 26 منٹ
      درمیانی رفتار   کل وقت کا تیسرا حصہ   تقریباً دو گھنٹے 40 منٹ
      کم رفتار   کل وقت کا نصف حصہ   تقریباً چار گھنٹے

(مندرجہ بالا اوقات اس صورت میں ہیں اگر کل وقت آٹھ گھنٹے ہو)
اگر آپ ان اوقات کی شرح میں تبدیلی کرنا چاہتے ہیں تو IC2 کی آئوٹ پٹس کو مختلف ترتیب سے (ڈائیوڈزکے راستے) ٹرانزسٹرز سے جوڑ سکتے ہیں۔ ایک آ ئو ٹ پٹ سے دوسری آ ئو ٹ پٹ تک منتقل ہونے کا دورانیہ تقریباً 48 منٹ ہوگا (بشرطیکہ کل وقت آٹھ گھنٹے ہو)۔ اسی طرح اگر تین رفتاروں (فل، میڈیم اور لو ) سے زیادہ رفتاروں کو کنٹرول کرنا ہو تو ڈائیوڈز، ٹرانزسٹر اور ریلے سوئچ (بشمول متعلقہ اجزا) استعمال کر کے اور ان کو IC2 کی آ ئو ٹ پٹس سے جوڑ کر اضافی رفتار کنٹرول کی جا سکتی ہے۔


شکل نمبر 2

شکل نمبر 3

عملی تشکیل دینے کے بعد سرکٹ کو پنکھے یا روم کولر سے جوڑنے کا طریقہ شکل نمبر 3 اور شکل نمبر 4 میں دکھایا گیا ہے۔کچھ پنکھوں یا روم کولرز کی موٹروں کی رفتار کنٹرول کرنے کے لئے رزسٹرز یا آٹو ٹرانسفارمر (جن کو ریگولیٹر بھی کہا جاتا ہے) استعمال کئے جاتے ہیں۔ ایسی موٹروں کی رفتار کنٹرول کرنے کے لئے وائرنگ کا طریقہ شکل نمبر 3 میں دکھایا گیا ہے۔ جن پنکھوں کی رفتار آٹو ٹرانسفارمر قسم کے ریگولیٹر سے کنٹرول کی جاتی ہے ان میں عام طور پر تین سے زیادہ رفتاریں متعین کرنے کی سہولت ہوتی ہے۔ ایسی صورت میں آپ کوئی سی تین وائینڈنگز استعمال کر سکتے ہیں۔ وائینڈنگ کو بھی آپ رزسٹر تصور کرتے ہوئے شکل نمبر 3 کے مطابق کنکشن کریں گے۔ جن پنکھوں کی رفتار کو سالڈ اسٹیٹ ڈمر کی مدد کم یا زیادہ کیا جاتا ہے وہاں پر بھی یہی رزسٹر والی وائرنگ کا نقشہ استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تاہم ایسی صورت میں آپ کو ویری ایبل رزسٹر کی بجائے تین مختلف قدروں کے رزسٹر استعمال کرنے پڑیں گے۔


شکل نمبر 4

آج کل خاص طور پر روم کولرز میں ایسی موٹریں استعمال کی جاتی ہیں جن میں رفتار کو کنٹرول کرنے کے لئے الگ الگ وائینڈنگ مہیا کی جاتی ہے۔ ایسی موٹروں کی رفتار کنٹرول کرنے کے لئے وائرنگ کا طریقہ شکل نمبر 4 میں دکھایا گیا ہے۔

فہرست اجزاء

(پنکھے اور کولر کے لئے خود کار اسپیڈ کنٹرولر)
رزسٹرز    
R1 = 22K کاربن فلم
R2 = 1M0 کاربن فلم
R3-6 = 10K کاربن فلم
R7 = 22K کاربن فلم
کپیسیٹرز    
C1 = 220µF الیکٹرولائیٹک
C2 = 0µ01 سرامک ڈسک
سیمی کنڈکٹر    
IC1 = 555 ٹائمر آئی سی
IC2-3 = 4017 ڈیکیڈ ڈرائیور/کائونٹرز آئی سی
Q1-5 = C828 یا BC147 سلیکان ٹرانزسٹر
D1-13 = 1N4007 سلیکان ریکٹیفائر ڈائیوڈ
متفرق    
RLY1-4 = 6VDC سنگل پول ڈبل تھرو ریلے سوئچ کوائل امپیڈینس 100 اوہم

ری سیٹ پروٹیکشن

(امیر سیف اللہ سیف)

کمپیوٹرز پر ری سیٹ سوئچ ایسے مقامات پر لگا ہوتا ہے جہاں سے یہ غلطی سے دب سکتا ہے۔ اس صورت میں نہ صرف قیمتی ڈیٹا ضائع ہو جاتا ہے بلکہ آپ کی گھنٹوں کی محنت بھی برباد ہو سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اگر ہارڈڈسک پر فائل محفوظ کرنے کے دوران غلطی سے ری سیٹ سوئچ دب جائے تو ہارڈڈسک کے خراب ہونے یا کم ازکم بیڈ کلسٹر Bad Cluster آنے کے امکانات ہوتے ہیں چنانچہ ایسے حادثات سے بچنے کے لیے کچھ نہ کچھ بندوبست کرنا ضروری ہے۔

عام طور پر ری سیٹ سوئچ کمپیوٹر کے مدر بورڈ سے دوتاروں کے ذریعے منسلک ہوتا ہے۔ ان میں سے ایک تار 0V سے اور دوسری تار ری سیٹ سرکٹ سے منسلک ہوتی ہے۔ زیر نظر سوئچ‘ ری سیٹ سوئچ اور مدر بورڈ کے درمیان منسلک کیا جائے گا۔ کمپیوٹر کا ارتھ کنکشن اس سرکٹ کے مقام M سے منسلک کرنا لازمی ہے۔ سرکٹ کی پاور کمپیوٹر کی پاور سپلائی سے حاصل کی جا سکتی ہے۔

یہ سرکٹ نصب کرنے کے بعد ری سیٹ سوئچ کا عمل کمپیوٹر کو ری سیٹ نہیں کرے گا بلکہ زیر نظر سرکٹ میں لگے ہوئے بذر کو چار سیکنڈ کے لیے آن کر دے گا تاکہ آپ کو ری سیٹ عمل سے آگاہ کر سکے۔ اگر اسی دوران آپ نے دوسری مرتبہ ری سیٹ سوئچ دبا دیا تو کمپیوٹر ری سیٹ ہو جائے گا۔


ری سیٹ پروٹیکشن کا سرکٹ ڈایا گرام

سفید ایل ای ڈی روشن کریں

سفید ایل ای ڈی روشن کریں
ایک یا دو بیٹری سیلز سے (بغیر انڈکٹرز کے)

Pulse Boost white LED Driver

(امیر سیف اللہ سیف)

یہاں پر پیش کردہ سرکٹس کی مدد سے آپ سفید ایل ای ڈی (یا الٹرا برائٹ ایل ای ڈی) کو1.5 وولٹ کے ایک یا دو سیلز (کل 3 وولٹ) سے روشن کرسکتے ہیں۔

سفید اور الٹر برائٹ ایل ای ڈی روشن کرنے میں مسائل

روشنی مہیا کرنا لازمی ضرورت ہے۔ ہر جگہ اور ہرمقام پر مین سپلائی سے چلنے والی روشنی نہیں پہنچائی جا سکتی۔ فلیش لائٹ، ٹارچ، دستی روشنیاں اور اسی نوعیت کی دوسری متبادل روشنیاں بیٹری سے چلتی ہیں اور ان کو مسلسل، مستقل اور اچھی نوعیت کی بیٹری کی ضرورت پڑتی ہے۔ خاص طور پر ایسے مقامات پر جہاں بجلی دستیاب نہیں ہے یا پھر لوڈ شیڈنگ کا دور دورہ ہے، کم بیٹری خرچ سے حاصل ہونے ولی روشنی کی ضرورت ہر کسی کو پڑ سکتی ہے۔ روشنی حاصل کرنے کا ایک عمدہ اور کم خرچ ذریعہ سفید ایل ای ڈی ہے۔ سفید ایل ای ڈی کو روشن کرنے کے لئے، دوسرے کسی بھی رنگین ایل ای ڈی کی نسبت زیادہ وولٹیج درکار ہوتے ہیں۔دستیاب سفید ایل ای ڈی روشن ہونے کے لئے عام طور پر 2.8 وولٹ سے 4 وولٹ تک کی ضرورت رکھتے ہیں۔ اس کا انحصار انفرادی ایل ای ڈی اور بیٹری کرنٹ پر ہوتا ہے۔

عام نووولٹ کی ٹرانزسٹر بیٹری 4 وولٹ والے ایل ای ڈی کو آسانی سے چلا سکتی ہے بشرطیکہ درست قدر کا رزسٹر اس کے ساتھ سلسلے وار طور پر جوڑا جائے۔ لیکن دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ عام طور پر دستیاب پرائمری بیٹری سیلز میں سے یہ سب سے زیادہ گراں قیمت ہے نیز اس سے حاصل ہونے والی پاور بھی نسبتا" کم ہے۔ چنانچہ ہمارے استعمال کے لئے یہ مناسب نہیں ہے۔

الکلائن اور کاربن زنک نوعیت کی پرائمری بیٹریوں کی قیمت دستیاب توانائی کی بنیاد کی بجائے، سیل کی انفرادی نوعیت پر ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر ڈی سائز کے سیل، چھوٹے AAA سائز کے سیلز کی نسبت دگنی قیمت کے حامل ہوتے ہیں جبکہ ان سے حاصل ہونے والی توانائی چھوٹے سیل کی نسبت دگنی سے بھی اچھی خاصی زیادہ ہوتی ہے۔اس طرح ڈی سائز کا سیل استعمال کرنے میں نسبتا" سستی روشنی حاصل کرنا ممکن ہوتا ہے۔

سفید ایل ای ڈی کو براہ راست روشن کرنے کے لئے 1.5 وولٹ کے تین سیل درکار ہوتے ہیں۔ کچھ حالت میں تو ایسا کرنا مناسب رہتا ہے لیکن زیادہ تر حالات میں ایسا کرنا مناسب نہیں ہوتا۔ اس کی ایک مثال بار بار چارج کی جا سکنے والی روشنی کی دی جا سکتی ہے۔بار بار چارج ہونے والے بیٹری سیل یعنی ری چارج ایبل سیل خاصے گراں قیمت ہوتے ہیں۔ یہاں استعمال کے لئے مناسب ترین ،صرف ایک بیٹری سیل ہی رہتا ہے تاکہ کم سے کم خرچ میں طویل وقفوں کے لئے روشنی مہیا کی سکے۔ علاوہ ازیں صرف ایک سیل کے استعمال سے تیارہونے والے یونٹ کا سائز بھی کم سے کم رکھا جا سکتا ہے۔ہمیں جس نوعیت کی روشنی کا بندوبست کرنا ہے اس کے لئے، دیکھا گیا ہے کہ سائز، وزن، دستیاب برقی توانائی اور لاگت کے اعتبار سے مناسب ترین بیٹری سیل ڈبل اے AA سائز کا ہے۔ سفید ایل ای ڈی کو روشنی فراہم کرنے کے لئے ایک سیل سے چلایا جا سکتا ہے۔ اس مقصد کے لئے عام طور پر بلاکنگ آسی لیٹر استعمال کیا جاتا ہے جس میں خاص طور پر وائنڈ کیا گیا انڈکٹر(کوائل یا ٹرانسفارمر) استعمال کیا جاتا ہے۔ اس طرح کا سرکٹ بنانے کے لئے کئی دشواریاں سامنے آتی ہیں۔ خاص طور پر مخصوص قطر کا فیرائٹ کور مسئلہ بنتا ہے۔ یہاں پر پیش کردہ سرکٹس میں انڈکٹرز کا استعمال نہیں کیا گیا۔ اس لئے یہ سرکٹ بنانے میں آسان ہے ۔

دو سیلز سے چلنے والا پلس بوسٹ سرکٹ

یہاں پر پیش کردہ سفید ایل ای ڈی پاور سپلائی سرکٹس در اصل سادہ سے پلس بوسٹ Pulse Boost سرکٹ ہیں۔ ان میں سے پہلا سرکٹ تین وولٹ سپلائی کا ہے۔ دوسرا سرکٹ بھی بنیادی طور پر پہلے ہی کی طرح ہے بس اس میں پلس بوسٹ سرکٹ کا اضافہ کر کے ایک سیل سے چلایا گیا ہے۔ اگرچہ اس دوسرے سرکٹ کی آؤٹ پٹ (یعنی اس سے حاصل ہونے والی روشنی) پہلے سرکٹ کی آؤٹ پٹ کی نسبت خفیف سی کم ہے لیکن ایک سیل پر چلنے کی وجہ سے اس کی افادیت میں اضافہ ہو گیا ہے۔تیسرا سرکٹ اگرچہ زیادہ پرزہ جات کا حامل ہے لیکن اس سے حاصل ہونے والی روشنی کم و بیش دو سیلز سے چلنے والے سرکٹ جتنی ہی ہے۔


دو سیلز سے چلنے والا پلس بوسٹ سرکٹ ڈایا گرام

پہلے ہم دو سیلز سے چلنے والے سرکٹ ڈایا گرام کی تفصیل بیان کرتے ہیں۔ یہ تینوں سرکٹس میں سب سے بنیادی نوعیت کا ہے۔ اس میں دو درجے ہیں پہلا درجہ ملٹی وائبریٹر پر مشتمل آسی لیٹر کا ہے جو سرکٹ ڈایا گرام میں بائیں طرف دکھایا گیا ہے۔ دائیں طرف پلس بوسٹ سرکٹ ہے۔

ملٹی وائبریٹر سادہ نوعیت کا ہے ۔ یہ دو ٹرانزسٹر پر مشتمل ہے جن کو اس انداز میں جوڑا گیا ہے کہ یہ ایک وولٹ سے بھی کم پر رو بہ عمل رہے۔ یہ مخالف فیز میں اسکوائر ویو آؤٹ پٹ پیدا کر تا ہے۔ قارئین ملٹی وائبریٹر کے عمل سے بخوبی آگا ہ ہوں گے کہ جب پہلا ٹرانزسٹر TR1 رو بہ عمل ہوتا ہے تو منفی کی طرف جاتا ہوا کلکٹر پلس دوسرے ٹرانزسٹر TR2 کو آف کر دیتا ہے اور جب TR2کی بیس میں لگا ہوا کپیسیٹر C2 اس حد تک چارج ہو جاتا ہے کہ TR2 آن ہو جائے تو اس کے نتیجے میں TR1 آف ہو جاتا ہے۔ اب کپیسیٹر C1 چارج ہونا شروع کر دیتا ہے اور جب یہ اس حد تک چارج ہو جاتا ہے کہ TR1 آن ہو جائے تو TR2 دوبارہ آف ہو جاتا ہےاور یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہتا ہے۔ بیس رزسٹرز (R2 اور R3) نیز بیس کپیسیٹرز (C1 اور C2) کی قدروں میں تبدیلی کر کے آسی لیٹر کی فریکوئنسی میں تبدیلی کی جا سکتی ہے۔ فریکوئنسی راست متناسب ہے بیٹری وولٹیج منفی بیس ایمیٹر وولٹیج کے۔ یعنی بیٹری وولٹیج کم ہونے پر فریکوئنسی میں بھی کمی واقع ہو گی۔ لیکن یہاں پر فریکوئنسی بہت زیادہ اہمیت کی حامل نہیں۔ یہ بس اتنی زیادہ ہونی چاہیئے کہ کپیسیٹر C3 کو بوسٹ کر سکے۔اور یہ کہ کپیسیٹرC3 اس فریکوئنسی پر کم امپیڈینس کا حامل رہے۔

بوسٹ سرکٹ ٹرانزسٹر TR4 اور ملحقہ پرزہ جات پر مشتمل ہے۔ یہ بوسٹ کپیسیٹرC3 کو چارج کرتا ہے۔چارج ہونے کے بعد یہ کپیسیٹر ایل ای ڈی، رزسٹر اور بیٹری وولٹیج کے ساتھ سلسلے وار سوئچ کرتا ہے۔ مثالی طور پر اس کپیسیٹر کو بیٹری وولٹیج سے دگنے وولٹیج ایل ای ڈی کو پلس کرنے چاہیئں لیکن چونکہ ہم تصوراتی دنیا میں نہیں بلکہ حقیقی دنیا میں رہتے ہیں چنانچہ عملی طور پر حاصل ہونے والے وولٹیج اس مقدار سے کم ہی رہتے ہیں۔

سرکٹ کے عمل میں ٹرانزسٹر TR4 کی بیس کو اسکوائر ویو کے ذریعے سوئچ کیا جاتا ہے جس سے ملنے والی انورٹڈ اسکوائر ویو ٹرانزسٹر TR3 کو سوئچ کرتی ہے۔ چنانچہ جب TR4 آن ہوتا ہے تو TR3 آف حالت میں رہتا ہے اور اسی طرح جب TR3 آن ہوتا ہے تو TR4 آف رہتا ہے۔جب ٹرانزسٹر TR4 آن حالت میں ہوتا ہے تو کپیسیٹر C3 کا منفی سرا گراؤنڈ پر رہتا ہے اور چونکہ اس دوران میں TR3 آف حالت میں ہے، کپیسیٹرC3 رزسٹر R6 راستے چارج ہوتا ہے۔ آسی لیٹر سے ملنے والے اگلے نصف سائکل میں ٹرانزسٹر TR4 آف ہو جاتا ہے جبکہ TR3 آن حالت میں آ جاتا ہے۔ اس طرح یہ کپیسیٹر C3 کے مثبت سرے کو (جو تقریبا" +3Vپر ہوتا ہے) گراؤنڈ پر لے آتا ہے۔اس کے نتیجے میں کپیسیٹر C1 کا منفی سرا اور اس سے منسلک ایل ای ڈی کا کیتھوڈ -3V پر آ جاتا ہے۔ چونکہ ایل ای ڈی کا اینوڈ رزسٹر R7 کے راستے +3Vسے جڑا ہوا ہے تو اس طرح ایل ای ڈی اور اس کےڈراپنگ رزسٹر کے آر پار 6Vپیدا ہو جاتے ہیں۔ یہ تو تھی سرکٹ کی کار کردگی لیکن عملی طور پر سرکٹ کے اندرونی نقصانات وغیرہ کی وجہ سے ایل ای ڈی پر اتنے وولٹیج پیدا نہیں ہوتے۔ تاہم یہ اتنے ضرور ہوتے ہیں کہ ایل کو روشن کر سکیں۔

ایک سیل سے چلنے والا پلس بوسٹ سرکٹ

بنیادی طور پر یہ سرکٹ بھی پہلے ہی کی طرح ہے سوائے اس فرق کے کہ رزسٹر R7 کی قدر 22R کر دی گئی ہے اور ٹرانزسٹرز TR5 اورTR6 و ملحقہ پرزہ جات کا اضافہ کر کے ایک دوسرا پلس بوسٹ سرکٹ بڑھا دیا گیا ہے۔ یہ دوسرا سرکٹ بھی پہلے پلس بوسٹ سرکٹ ہی کی طرح کام کرتا ہے لیکن اس میں این پی این ٹرانزسٹرز استعمال کرکے ایل ای ڈی کے کیتھوڈ کو منفی پلس فراہم کرنے کی بجائے پی این پی ٹرانزسٹر استعمال کرکے مثبت پلس فراہم کیا گیا ہے۔اس کا مطلب مثالی طور پر یہ ہو سکتا ہے کہ ایل ای ڈی کی سیریز میں لگے ہوئے رزسٹر کو جن مثبت وولٹیج سے پلس کیا جا رہا ہے ان کی مقدار بیٹری وولٹیج سے دگنی ہے۔دوسری طرف ایل ای ڈی کا کیتھوڈ بیٹری وولٹیج کے مقدار جتنے منفی وولٹیج سے سوئچ ہو رہا ہے۔ اس طرح مجموعی طور پر ایل ای ڈی کے ارد گرد 4V5 موجود ہیں جو بیٹری وولٹیج کے تین گنا کے برابر ہیں۔ تاہم عملی طور پر یہاں 4 وولٹ حاصل ہوتے ہیں۔


ایک سیل سے چلنے والا پلس بوسٹ سرکٹ ڈایا گرام

نائز جنریٹر

(امیر سیف اللہ سیف)

یہاں پر پیش کردہ نائز جنریٹر اپنی بینڈوڈتھ پر مستحکم نائز انرجی مہیا کرتا ہے۔چنانچہ یہ سرکٹ ایسی ضروریات کے لیے پیمائش کرنے میں بے حد مفید ہے جہاں محدود نائز بینڈ درکار ہوتا ہے۔کلاک فریکوئنسی اور R6:R7 کی نسبت تبدیل کرکے پیدا کردہ نائز کو مخصوص ضروریات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔



نائز جنریٹر کا سرکٹ ڈایا گرام۔

ٹائمر 555 بطور اینا لاگ ٹو ڈیجیٹل کنورٹر

(امیر سیف اللہ سیف)

اگر 12 وولٹ بیٹری کے وولٹیج ناپنے ہوں اور اس کے لئے سادہ ترین حل درکار ہو تو اس کے لئے ٹائمر آئی سی 555 بہترین حل ہے۔ ٹائمر آئی سی 555 آؤٹ پٹ میں مثبت پلس فراہم کرتا ہے۔ حاصل ہونے والی پلس وڈتھ، سرکٹ میں دکھائی گئی "اینا لاگ ان پٹ" پر فراہم کردہ وولٹیج اور 4µ7 قدر کے کپیسیٹر پر موجود وولٹیج (فرض کریں یہ 2V5 ہیں) کے فرق کے بالعکس متناسب ہوتے ہیں۔


ٹائمر 555 بطور اینا لاگ ٹو ڈیجیٹل کنورٹر کا سرکٹ ڈایا گرام
اس سرکٹ کو درجہ بند (کیلی بریٹ) کرنے کے لئے سرکٹ سے حاصل ہونے والے مثبت پلسز کو ناپ لیں اور اینا لاگ ان پٹ پر معلوم وولٹیج فراہم کریں۔ فرض کریں کہ آپ ان پٹ پر 15 وولٹ دے رہے ہیں اور آوٹ پٹ سے ملنے والی قدر2092 ہے۔ اس قدر کو ے کے لئے سرکٹ سے حاصل ہونے والے مثبت پلسز کو ناپ لیں اور اینا لاگ ان پٹ پر معلوم وولٹیج فراہم کریں۔ فرض کریں کہ آپ ان پٹ پر 15 وولٹ دے رہے ہیں اور آوٹ پٹ سے ملنے والی قدر2092 ہے۔ اب فراہم کردہ 15 وولٹ کو 4µ7 قدر کے کپیسیٹر پر موجود وولٹیج (جو ہم نے 2V5 فرض کئے ہیں) سے منفی کر کے (یعنی وولٹیج کا فرق) 2092 سے ضرب دے دیں۔ حاصل ہونے والی قدر 26150 ہوگی یعنی :

2092 * (15 - 2.5) = 26150
اب اسی فارمولے کو استعمال کرتے ہوئے آپ آسانی سے وولٹیج کی پیمائش کر سکتے ہیں۔

اس سرکٹ سے پیمائش کردہ وولٹیج کی حدود 6V سے 18V تک ہے۔ اس کی وجہ سرکٹ کے کام کرنے کی ریاضیاتی حدود ہیں۔ یہ 10 بٹ کے اے/ڈی کنورٹر کے برابر ہیں۔ سرکٹ کی درستگی کی حد (ایکوریسی accuracy) پروسیسر کی کلاک رفتار اور +5V سپلائی حدود کے اعتبار سے متغیر (یعنی کم و بیش) ہو سکتی ہے۔ کنورژن ٹائم سیکنڈ کے دسویں (1/10) حصے کے برابر ہے۔ واضح رہے کہ یہ سرکٹ 5V سے نچلی قدر کو درستگی سے نہیں ناپ سکے گا۔ اس کے علاوہ آپ جن 5V کو ناپ رہے ہیں وہ بھی پہلے جانچ لیں۔ اگر فراہم کردہ وولٹیج 5V2 ہیں تو فارمولے میں 2V5 کی بجائے 2V6 قدر استعمال کریں۔

یہ بات بھی ذہن میں رکھیں کہ ٹائمر آئی سی 555 سے حاصل ہونے والی فریکوئنسی بھی ہموار (لینئر) نہیں ہو گی۔ تاہم اس سے زیادہ فرق نہیں پڑے گا کیونکہ آپ فریکوئنسی نہیں بلکہ پلس وڈتھ کی پیمائش کو استعمال کر رہے ہیں۔ بتائے گئے طریقہ کار کے مطابق اصولی طور پر یہ سرکٹ کسی بھی مائیکرو پروسیسر/کنٹرولر کے ساتھ استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہاں پر دکھایا گیا سادہ سا پروگرام بیسک اسٹیمپ 1 (Basic Stamp 1) کے لئے لکھا گیا تھا تاہم آپ اپنے استعمال کردہ مائیکرو پروسیسر کے مطابق اس میں تبدیلی کر سکتے ہیں۔

'uncomment the debug lines to
'get pulse value while
'calibrating loop:
'debug cls
'I used pin 0 
pulsin 0,1,w2
'debug w2
'This is the coefficient
w1=26150
'you will need to
'calibrate.
w4=w1/w2
'I am going to get
w3=w4*100
'around the integer-
'only Stamp math.
w4=w2*w4
'remember the Stamp has
w1=w1-w4*10
'left-to-right math
w4=w1/w2
w3=w4*10+w3
w4=w2*w4
w1=w1-w4*10
w4=w1/w2
w3=w4+w3
'250 is really 2.5 volts
w3=w3+250 
'we get a reading in
debug w3,"volts * 100"
'hundredths of volts
goto loop

ٹیون ایبل بینڈ پاس فلٹر

(امیر سیف اللہ سیف)

ہائی آرڈر ٹیون ایبل بینڈ پاس فلٹرز کے ڈیزائن میں جو دشواریاں پیش آتی ہیں ان میں RC نیٹ ورک کے ویری ایبل رزسٹرز کی درست ٹریکنگ بھی شامل ہے۔ اس دشواری کا ایک ظاہری حل یہ ہے کہ سوئچ کے ذریعہ کپیسیٹر نیٹ ورک میں سے کسی ایک کپیسیٹر کا انتخاب کیا جائے۔ ذیل میں دیئے گئے سرکٹ سے یہ تکنیک واضح ہے۔

سرکٹ کو دوبڑے حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ پہلا حصہ آسیلیٹر ہے جو الیکٹرونک سوئچ کنٹرول کرتا ہے اور دوسرا حصہ چار عدد فیز شفٹ نیٹ ورکس (جو فلٹرنگ کا مقصد پورا کرتے ہیں) پرمشتمل ہے۔ اس میں ٹائمر آئی سی 555 استعمال کیا گیا ہے جس سے پلسیٹنگ سگنل حاصل کیا گیا ہے۔ اس سگنل کی فریکوئنسی کو وسیع حدود میں متغیر کیا جاسکتا ہے۔ سگنل کا ڈیوٹی فیکٹر 1:10 سے 100:1 تک متغیر کیا جا سکتا ہے۔

الیکٹرونک سوئچ ES1-4 ویری ایبل رزسٹر تشکیل دیتے ہیں جن کی قدر کا انحصار ڈیجیٹل سگنل کی فریکوئنسی پر ہے۔ جب یہ سوئچ کلوز (بند) ہوتے ہیں تو ان کی رزسٹینس 60W ہوتی ہے۔ اوپن (کھلی) حالت میں ان کی رزسٹینس لامحدود ہوتی ہے۔ چنانچہ اگر فرض کر لیا جائے تاکہ ایک سوئچ وقت کے 1/4 حصے کے لیے کلوز ہوتا ہے تو اس کی رزسٹینس 240W ہوگی۔ ہر سوئچ کی اوپن۔ کلوزنسبت کو تبدیل کرکے متبادل اوسط رزسٹینس حاصل کی جاسکتی ہے۔


ہائی آرڈر ٹیون ایبل بینڈ پاس فلٹر کا سرکٹ ڈایا گرام

پروگرام ایبل سوئچ

(امیر سیف اللہ سیف)

ڈیٹا سٹریم Stream کو ظاہر کرنے یا اینالاگ ملٹی پلیکسر کو کنٹرول کرنے کے لیے یہ پروگرام ایبل سوئچ استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ملٹی پلیکسر کو بطور پروگرام ایبل آسی لیٹر کی بنیاد کے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

سرکٹ کا مرکزی حصہ نیشنل سیمی کنڈکٹرز کے کی بورڈ ڈیکوڈر آئی سی MM76C922 پر مشتمل ہے۔ یہ آئی سی سادہ اور تیز رفتاری دونوں طریقوں سے 4x4 میٹر یکس کا کی بورڈ پڑھنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ 4 بٹ آئوٹ پٹ مہیا کرنے کے ساتھ ساتھ اس آئی سی میں ”ڈیٹادستیاب“ Data Available آئوٹ پٹ بھی مہیا کی گئی ہے۔ جب تک کی بورڈ پر کوئی ”کی“ دبی رہتی ہے‘ یہ آئوٹ پٹ ہائی رہتی ہے۔ سب سے آخر میں دبائی گئی ”کی“ کی مناسبت سے ملنے والا ڈیٹا‘ چاہے ”کی“ کو چھوڑ بھی دیا جائے‘ آئوٹ پٹ پر دستیاب رہتا ہے۔ جس رفتار سے یہ آئی سی کی بورڈ کو اسکین کرتا ہے اس کا تعین C1 سے ہوتا ہے۔ C1 کی قدر 100nF ہو (جیسا کہ ڈایا گرام میں دکھایا گیا ہے) تو اسکین کرنے کی شرح 600Hz ہوتی ہے۔

ریم (IC2) کی پروگرامنگ انتہائی آسان ہے۔ ڈی کوڈر کی DA آئوٹ پٹ کو N1 کے ذریعے الٹا (انورٹ) دیا گیا ہے تاکہ اسے WRITE پلس کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔ جب ’کی‘ کو چھوڑا جاتا ہے تو ریم ڈس ایبل حالت میں آ جاتی ہے۔ا یڈریس کائونٹر IC3 ایک ایڈریس سے کلاک ہو جاتا ہے (یعنی ایک ایڈریس آگے بڑھ جاتا ہے)۔

پروگرام شدہ ڈیٹا کو الگ کلاک سگنل کی مدد سے پڑھا جا سکتا ہے اور یہ کلاک سگنل N3 سے حاصل ہوتا ہے۔ جس رفتار سے ڈیٹا ریم میں سے پڑھا جاتا ہے وہ P1 کی مدد سے منتخب یا متعین کی جاتی ہے۔ گیٹ N3 کو روبہ عمل کرنے کے لیے سوئچ S18 کو حالت A پر رکھا جاتا ہے۔ سرکٹ میں صرف نصف ریم استعمال کی گئی ہے ۔



پروگرام ایبل سوئچ کا سرکٹ ڈایا گرام

پنکھے کے لئے تالی سے چلنے والا ریموٹ کنٹرول

یہ سرکٹ ایسے ریموٹ کنٹرول کے لئے ہے جو پنکھے کو کنٹرول کرتا ہے۔ یہ نہ صرف پنکھے کو آن یا آف کرتا ہے بلکہ اس کی رفتار بھی کنٹرول کر سکتا ہے۔ پنکھے کے لئے تالی سے چلنے والے ریموٹ کنٹرول کا بنیادی فائدہ یہ ہے کہ یہ پنکھے کی رفتار کی دس مختلف حدوں تک کو کنٹرول کر سکتا ہے ۔ جبکہ عام دستیاب پنکھوں میں تین سے پانچ مرحلوں میں رفتار کنٹرول ہوتی ہے۔

سرکٹ ڈایا گرام

مکمل سرکٹ کو چار اہم حصوں میں منقسم کیا جا سکتا ہے۔ یہ آواز سے چلنےوالا ٹرگر پلس جنریٹر، کلک پلس جنریٹر، کلاک پلس جنریٹر اور لوڈ آپریٹر ہے۔ ذیل میں ان کی وضاحت پیش کی جاتی ہے۔

آواز سے چلنے والا پلس جنریٹر:

اس حصے کو TR1 ٹرانزسٹر BC148 کے گرد تشکیل دیا گیا ہے جو کلاس سی ایمپلی فائر حالت میں کام کر رہا ہے۔ مائکروفون کو آواز کےسگنل کی برقی سگنلز میں تبدیلی کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔ اسے ٹرانزسٹر TR1کی بیس سے منسلک کیا گیا ہے تاکہ یہ نہ صرف صوتی سگنلز کو برقی سگنلز میں تبدیل کرے بلکہ ان کی قوت میں بھی کچھ اضافہ کرے۔

کلاک پلس جنریٹر :

یہ حصہ IC1ٹائمر آئی سی NE555کے گرد تشکیل دیا گیا ہے اور یہ آئی سی یہاں پر مونو اسٹیبل ملٹی وائبریٹر کے طور پر کام کر رہا ہے۔ ٹرگر پلس ٹرانزسٹر TR1 سے پیدا ہوتا ہے جو آئی سی IC1کی پن2 پر آتا ہے۔ ہائی آؤٹ پٹ کے ٹائم پیریڈ (T) کو مندرجہ ذیل فارمولے سے معلوم کیا جا سکتا ہے۔

T = 1.1RC

کلاک پلس کاؤنٹر:

سرکٹ ڈایا گرام کا یہ حصہ ڈیکیڈ کاؤنٹر آئی سی کے گرد تشکیل دیا گیا ہے۔ سرکٹ میں یہ آئی سی سے ظاہر کیا گیا ہے۔ یہ ٹائمر آئی سی IC1سے آنے والے کلاک پلسز کو شمار کرتا ہے۔ آئی سی IC1کی آؤٹ پٹ آئی سی کی پن پر آتی ہے۔ آئی سی IC2کی دس آؤٹ پٹس ہیں جن کو صفر سے نو (0, 1, 2, 3, 4…..9). تک ظاہر کیا جاتا ہے۔آؤٹ پٹ نمبر 4 پن 10 سے حاصل ہوتی ہے جسے براہ راست ری سیٹ پن 15 سے جوڑا گیا ہے۔

لوڈ آپریٹر:

سرکٹ کا یہ حصہ تین ٹرانزسٹرا اور ایک ریلے ڈرائیور پر مشتمل ہے جو تین الگ الگ ریلے سوچز چلاتا ہے۔ آئی سی کی ہر آؤٹ پٹ کو ہر ٹرانزسٹر کی بیس سے براستہ100Ω اوہم رزسٹر اور ایل ای ڈی، منسلک کیا گیا ہے۔ رفتار ظاہر کرنے کے لئے تین ایل ای ڈی استعمال کئے گئے جن کو LED1،LED2اور LED3سے ظاہر کیا گیا ہے۔ یہ بالترتیب رفتار1 ، رفتار2 اور رفتار3 کو ظاہر کرتے ہیں۔


پنکھے کے لئے تالی سے چلنے والے ریموٹ کنٹرول کا سرکٹ ڈایا گرام

اگرچہ یہاں پر صرف تین آؤٹ پٹس کو کنٹرول کرنے کے لئے ریلے سوئچ دکھائے گئے ہیں تاہم ڈیکیڈ کاؤنٹر آئی سی کی بقیہ آؤٹ پٹس کو بھی مزید رفتار حدود کو متعین کرنے کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ پہلی تالی پہلی رفتار کو متعین کرے گی، دوسری تالی دوسری رفتار کو اور تیسری تالی تیسری رفتار متنعین کرے گی۔ چوتھی تالی پر پنکھا آف ہو جائے گا۔


فہرست اجزاء

(پنکھے کے لئے تالی سے چلنے والا ریموٹ کنٹرول)

رزسٹرز    
R1 = 10K رزسٹر ¼ واٹ
R2 = 1M2 رزسٹر ¼ واٹ
R3 = 2K2 رزسٹر ¼ واٹ
R4 = 150R رزسٹر ¼ واٹ
R5 = 220 رزسٹر ¼ واٹ
R6 = 10K رزسٹر ¼ واٹ
R7 = 100R رزسٹر ¼ واٹ
کپیسیٹرز    
C1-2 = 0µ1, 16Vالیکٹرو لائیٹک
C3 = 4µ7, 16Vالیکٹرو لائیٹک
C4 = 0µ01, سرامک ڈسک
C5 = 1000µ, 12Vالیکٹرو لائیٹک
سیمی کنڈکٹرز    
TR1 = BC148 این پی این سلیکان ٹرانزسٹر
TR2 = C1383 این پی این سلیکان میڈیم پاور ٹرانزسٹر
IC1 = NE555 ٹائمر آئی سی
IC2 = CD4017BE ڈیکیڈ کاؤنٹر آئی سی
D1,2 = 1N4001 سلیکان ڈائیوڈ
متفرق    
MIC1 = الیکٹریٹ مائیکروفون
LED1 = سبز رنگ کا ایل ای ڈی
LED2 = زرد رنگ کا ایل ای ڈی
LED3 = سرخ رنگ کا ایل ای ڈی
پاور سپلائی = 6V-0V-6V،500mA

ڈیجیٹل پاور سپلائی



یہاں پر دیا گیا سرکٹ سادہ سا ہے جو کم فرق سے 1V25 وولٹ سے15V19 وولٹ تک 15 مرحلوں میں ڈی سی وولٹیج فراہم کرتا ہے۔ مرحلوں کی تفصیل جدول میں دکھائی گئی ہے۔ اس سرکٹ کی ان پٹ سے 20V وولٹ سے 35Vوولٹ تک کے وولٹیج منسلک کئے جا سکتے ہیں۔

سرکٹ کا پہلا مرحلہ ڈیجیٹل اپ ڈاؤن کاؤنٹر پر مشتمل ہے جسے کواڈ دو ان پٹ نینڈ NAND شمٹ ٹرگر (4093) آئی سی IC1 سے تشکیل دیا گیا ہے۔ اگلا مرحلہ آئی سی IC2 پر مشتمل ہے جو بائنری اپ ڈاؤن کاؤنٹر 4029 پر مشتمل ہے۔


سرکٹ ڈایا گرام کو بڑا دیکھنے کے لئے سرکٹ ڈایا گرام پر کلک کریں

آئی سی 4093 کے دو گیٹ آپ ڈاؤن لاجک تشکیل دینے کے لئے استعمال کئے گئے ہیں جو پش بٹن S1 اور S2 کی مدد سے یہ لاجک تشکیل دیتے ہیں۔ بقیہ دو گیٹ ایک آسی لیٹر تشکیل دیتے ہیں جو آئی سی 4029 کے لئے کلاک پلس پیدا کرتے ہیں۔ آسی لیٹر کی فریکوئنسی کپیسیٹر C1 اور پری سیٹ پوٹینشو میٹر VR1 کی مدد سے متعین کی گئی ہے۔ آئی سی 4029 آسی لیٹر سے پیدا ہونے والے کلاک پلسز وصول کرتا ہے اور ترتیب وار (سیکوئنشل) بائنری آؤٹ پٹ پیدا کرتا ہے۔ جب تک اس آئی سی (4029) کی پن 5 لو رہتی ہے کاؤنٹر گنتی (کاؤنٹنگ) کا عمل جاری رکھتا ہے۔ جوں ہی اس کی پن 5 ہائی ہوتی ہے یعنی جیسے ہی اس پر لاجک 1 وصول ہوتا ہے، یہ گنتی کا عمل فورا“ روک دیتا ہے۔

آئی سی 4029 کی پن 10 پر لاجک 1 یا ہائی پلس کی موجودگی سے یہ سیدھی گنتی گنتا ہے جبکہ اس پن پر لاجک 0 یا لو پلس ملنے پر یہ الٹی گنتی شمار کرنے لگتا ہے۔ پش بٹن S1 دبانے پر آئی سی کی پن 10 پر ہائی پلس فراہم کیا جا سکتا ہے جس سے یہ سیدھی گنتی گنے گا۔ پش بٹن سوئچ S2 کی مدد سے اس آئی سی کی پن پر لو پلس فراہم کر کے اسے الٹی گنتی گننے کے لئے متعین کیا جا سکتا ہے۔

کاؤنٹر آئی سی IC2 کی آؤٹ پٹ کو ایک ڈیجیٹل ویری ایبل رزسٹر کے طور پر کام کرنے کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔ سرکٹ کا یہ حصہ چار عدد نارملی اوپن ریڈ ریلے پر مشتمل ہے جو محض 5mAکرنٹ پر کام کرتے ہیں۔ سوئچنگ عمل سرانجام دینے کے لئے ٹرانزسٹر استعمال کئے گئے ہیں۔ بیرونی رزسٹرز کو ریڈ ریلے کنٹیکٹس کے متوازی جوڑا گیا ہے۔ اگر کوئی مخصوص ریلے کنٹیکٹ، ٹرانزسٹر کی بیس پر کنٹرول ان پٹ کے ذریعے اوپن کیا جاتا ہے تو اس ریلے کنٹیکٹ کے متوازی لگا ہوا رزسٹر سرکٹ سے منسلک ہو جاتا ہے۔

مختلف ڈیجیٹل ان پٹ جوڑوں کی نظریاتی آؤٹ پٹس ایک جدول میں دکھائی گئی ہیں۔ وولٹیج ریگولیٹر (LM317) آئی سی IC3کی آؤٹ پٹ پر اصل پیمائش کردہ مقداریں، جدول میں دکھائی گئی نظریاتی مقداروں کے قریب ترین ہوں گی۔ اس وقت تک جب کہ ان پٹ اور آؤٹ پٹ کے مابین فرق 2V5وولٹ سے زائد ہو، آؤٹ پٹ وولٹیج مندرجہ ذیل فارمولے معلوم کئے جا سکتے ہیں۔

آؤٹ پٹ وولٹیج Vout=1.25(1+R2'/R1')
جبکہ  
R1'=R15 = 270 اوہمز (متعین)
اور R2' =R11 + R12 + R13 + R14
 =220 + 470 + 820 +1500 اوہمز
 =3,010 اوہمز(جبکہ تمام ریلےسوئچز رو بہ عمل (انرجائزڈ) حالت میں ہوں)

جدول

بائنری آؤٹ پٹ متبادل اعشاری عدد LED4
R14(W)
LED3
R13(W)
LED2
R12(W)
LED1
R11(W)
R2'(W) آؤٹ پٹ وولٹیج(V)
0000 0شارٹ شارٹشارٹ شارٹ0 1V25
0001 1شارٹ شارٹشارٹ 220220 2V27
0010 2شارٹ شارٹ470 شارٹ470 3V43
0011 3شارٹ شارٹ470 220690 4V44
0100 4شارٹ 820شارٹ شارٹ820 5V05
0101 5شارٹ 820شارٹ 2201040 6V06
0110 6شارٹ 820470 شارٹ1290 7V22
0111 7شارٹ 820470 2201510 8V24
1000 81500 شارٹ شارٹ شارٹ1500 8V19
1001 91500 شارٹ شارٹ 2201720 9V21
1010 101500 شارٹ 470 شارٹ1970 10V37
1011 111500 شارٹ 470 2202190 11V39
1100 121500 820شارٹ شارٹ2390 11V99
1101 131500 820شارٹ 2202540 13V01
1110 141500 820470 شارٹ2790 14V17
1111 151500 820470 2203010 15V19

آؤٹ پٹ کا اظہار چار عدد ایل ای ڈیز LED1 تا LED4 کے ذریعے ہوتا ہے تاہم یہ اظہار بائنری اعداد میں ہوگا۔ اس بائنری اظہار کو مختلف منتخب آؤٹ پٹ وولٹیجز (جو جدول میں دکھائے گئے ہیں) میں تبدیل کرنے کے لئے دوسرا سرکٹ استعمال کیا جا سکتا ہے جو آئی سی 74LS154پر مشتمل ہے۔ یہ آئی سی IC4 ہے۔ اس سرکٹ کی ان پٹ A تا D کو پہلے سرکٹ کے آئی سی IC2 کی آؤٹ پٹس A تا D سے جوڑا جا سکتا ہے۔ ایسی صورت میں چار عدد ایل ای ڈیز LED1 تا LED4 استعمال کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔آئی سی 74LS154 ڈی کوڈر/ڈی ملٹی پلیکسر آئی سی ہے جو آئی سی IC2 کی بائنری آؤٹ پٹ کو پڑھ کر اپنی سولہ میں سے کسی ایک مطابقت کی آؤٹ پٹ کو آن کرتا ہے۔ اس آئی سی کی آؤٹ پٹ سے جڑے ہوئے ایل ای ڈیز کو پاور سپلائی کے ڈبے کے پینل پر ایک دائرے میں نصب کر کے وولٹیجز کا اظہار کیا جا سکتا ہے۔



جب سرکٹ کو پاور فراہم کی جاتی ہے تو آئی سی خود کو ری سیٹ کر دیتا ہے چنانچہ اس کی آؤٹ پٹس پنز6، 11، 12 اور 14 صفر پر آ جاتی ہیں یعنی بائنری صفر 0000کو ظاہر کرتی ہیں۔ اس طرح سرکٹ کی ڈی سی آؤٹ پٹ اسی مطابقت سے کم سے کم درجے یعنی 1V25 وولٹ ہو جاتی ہے۔سیدھی گنتی والا پش بٹن سوئچ S1 دبانے پر آئی سی IC2 کی گنتی میں اضافہ ہوتا ہے جس سے آؤٹ پٹ وولٹیج بھی بڑھنے لگتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ گنتی 1111 پر آؤٹ پٹ وولٹیج 15V19 (یہ فرض کرتےہوئے کہ پری سیٹ پوٹینشو میٹر VR2 کی رزسٹینس صفر ہے) ہو جائیں گے۔ پر ی سیٹ پوٹینشو میٹر VR2 کو متعین کر کے آؤٹ پٹ وولٹیج میں کچھ تبدیلی کی جا سکتی ہے۔ آؤٹ پٹ وولٹیج کو کم کرنے کے لئے الٹی گنتی گننے والا پش بٹن سوئچ S2 دبایا جا سکتا ہے۔

جب کسی بھی ریلے کے کنٹیکٹ اوپن ہو ں گے تو اس کے ساتھ لگا ہوا ایل ای ڈی روشن ہو جائے گا۔

جدول میں دکھائے گئے آؤٹ پٹ وولٹیج یہ فرض کرتے ہوئے ناپے گئے ہیں کہ پری سیٹ پوٹینشو میٹر VR2 کی رزسٹینس صفر اوہم ہے۔ اگر اس رزسٹر کی رزسٹینس صفر سے زیادہ ہو گی تو جدول میں دکھائے گئے وولٹیج کی نسبت اصل وولٹیج زیادہ ہوں گے۔

فہرست اجزاء

(ڈیجیٹل پاور سپلائی)

رزسٹرز    
R1,2 = 1K0 رزسٹر ¼ واٹ
R3-6 = 10K رزسٹر ¼ واٹ
R7-10 = 470R رزسٹر ¼ واٹ
R11 = 22R رزسٹر ¼ واٹ
R12 = 470R رزسٹر ¼ واٹ
R13 = 820R رزسٹر ¼ واٹ
R14 = 1K5 رزسٹر ¼ واٹ
R15 = 270R رزسٹر ¼ واٹ
VR1 = 470K پری سیٹ پوٹینشو میٹر
VR2 = 100R پری سیٹ پوٹینشو میٹر
کپیسیٹرز    
C1 = 1µ0F, 16V الیکٹرو لائیٹک
C2 = 10µF, 16V الیکٹرو لائیٹک
C3 = 1000µF, 25V الیکٹرو لائیٹک
سیمی کنڈکٹرز    
T1-4 = BC548 جنرل پرپز این پی این ٹرانزسٹر
IC1 = CD4093 کواڈ دو ان پٹ نینڈ NAND شمٹ ٹرگر آئی سی
IC2 = CD4029 بائنری اپ ڈاؤن کاؤنٹر آئی سی
IC3 = LM317 وولٹیج ریگولیٹر آئی سی
IC4 = 74LS154 ڈی کوڈر/ڈی ملٹی پلیکسر آئی سی
D1-4 = 1N4007 ریکٹی فائر ڈائیوڈ
D5,6 = 1N4001 ریکٹی فائر ڈائیوڈ
متفرق    
RL1-4 = 5V0, 500R ریڈ ریلے (تفصیل مضمون میں)
S1,2 = پش بٹن سوئچ

ڈیجیٹل کوڈ لاک



یہ بہت کم لاگت سے تیار ہونے والا کوڈ لاک سوئچ ہے جسے نہ صرف بنانا آسان ہے بلکہ اسے مطلوبہ مقام پر نصب بھی آسانی سے کیا جا سکتا ہے۔ اس میں کوڈ کے مطابق پش بٹن دبانے کی ترتیب بہت منفرد ہے۔ اس کوڈ لاک کو کھولنے کے لئے صرف چھ پش بٹن دبانے ہوتے ہیں لیکن ایک وقت میں صرف دو پش بٹن سوئچ دبائے جا سکتے ہیں۔ اس طرح سوئچز کے کل تین سیٹ ایک خاص ترتیب میں دبانے کی ضرورت پڑتی ہے۔ سوئچز کے ان تین جوڑوں میں سے ایک کو دو بار دبانا ہوتا ہے۔ اس سرکٹ کی دیگر خصوصیات یہ ہیں:



ڈیجیٹل کوڈ لاک کا سرکٹ ڈایا گرام

  • اس میں 16 سوئچ استعمال کئے گئے ہیں جس سے یہ گمان ہوتا ہے کہ سرکٹ میں شاید مائیکرو پروسیسر استعمال کیا گیا ہے۔
  • ریلے سوئچ کو روبہ عمل کرنے کے لئے کسی پاور ٹرانزسٹر کی ضرورت نہیں۔
  • سرکٹ ممکنہ حد تک کم اور عام دستیاب پرزوں پر مشتمل ہے۔
  • بنانے میں کم خرچ اور کم جگہ گھیرنےوالا ہے۔

اس سرکٹ کی اہم خصوصیت اس کا مونو اسٹیبل حالت میں کام کرنا ہے۔ جب یہ ایک مرتبہ ٹرگر ہو جاتا ہے تو اس کی آؤٹ پٹ ہائی ہو جاتی ہے اور ساکن یا لو حالت میں آنے سے قبل، ایک خاص وقفے کے لئے ہائی ہی رہتی ہے۔ یہ وقفہ ٹائمنگ اجزا متعین کرتے ہیں۔ سرکٹ کی بنیاد ٹائمر آئی سی 555 ہے۔ یہ نہ صرف کم خرچ ہے بلکہ آسانی سے دستیاب بھی ہے۔ اس کی پن 2 ٹرگرنگ ان پٹ پن ہے۔ جب اس پر سپلائی وولٹیج کی ایک تہائی 1/3 قدر سے کم حد تک وولٹیج مہیا کئے جاتے ہیں تو یہ پن آؤٹ پٹ پن 3 کو ہائی حالت میں لے آتی ہے۔ آئی سی کی پن 6 تھریشولڈ پن ہے۔ جب اس پر سپلائی وولٹیج کی دو تہائی 2/3حد سے زائد وولٹیج مہیا کئے جاتے ہیں تو یہ آؤٹ پن 3 کو واپس لو حالت میں لے آتی ہے۔ آئی سی کی ری سیٹ پن 4 پر منفی کی طرف جاتا ہوا پلس فراہم کرنے سے آئی سی کی آؤٹ پٹ غیر فعال لو حالت میں آ جاتی ہے۔ چنانچہ سرکٹ کے عمومی عمل کے دوران ضروری ہے کہ ری سیٹ پن کو ہائی حالت میں رکھا جائے۔

ریلے سوئچ کو انرجائز کرنے کے لئے پش بٹن سوئچز کے تین سیٹ SA-SC، S1- S8 اور S3-S4 اسی ترتیب میں دبائے جاتے ہیں۔ پش بٹن SA اور SC کو ایک ساتھ دبانے پر رزسٹر R3 اور R4 پر مشتمل پوٹینشل ڈیوائیڈر کے راستے کپیسیٹر C3 چارج ہوتا ہے۔ ان دونوں کو چھوڑنے پر کپیسیٹر C3، رزسٹر R4 کے راستے ڈسچارج ہونے لگتا ہے۔ کپیسٹر C3 اور رزسٹر R4 کی قدریں اس طرح منتخب کی گئی ہیں کہ کپسیٹر کو مکمل ڈسچارج ہونےمیں لگ بھگ پانچ سیکنڈ کا وقت لگتا ہے۔

اسی پانچ سیکنڈ کے وقفے میں (سوئچ SA اور SC کو چھوڑنے کے بعد) پش بٹن سوئچ S1 اور S8 کو ایک ساتھ دبانے پر آئی سی 555 کی پن 2 گراؤنڈ سے منسلک ہو جاتی ہے اور آئی سی ٹرگر ہو جاتا ہے۔ اس حالت میں کپیسیٹر ، رزسٹر کے راستے ڈسچارج ہونے لگتا ہے۔ اس کے نتیجے میں آئی سی کی آؤٹ پٹ پن 3 پانچ سیکنڈ کے لئے ہائی ہو جاتی ہے۔ اس وقفے (یعنی کپیسیٹر C1کا تھریشولڈ وولٹیج تک کا چارجنگ وقفہ T) کا تعین اس فارمولے سے ہوتا ہے۔ T=1.1 R1 x C1 سیکنڈز-

اسی پانچ سیکنڈ کے وقفے کے دوران میں سوئچ SA اورSC کو ایک ساتھ ایک مرتبہ پھر دبایا جاتا ہے جس کے بعد سوئچز کا اگلا اور آخری جوڑا یعنی سوئچ S3 اور S4 دبایا جاتا ہے۔ یہ سوئچ ریلے سوئچ RLY1 کو آئی سی کی آؤٹ پٹ پن 3 سے منسلک کر کے اسے انرجائز کر دیتا ہے۔ ریلے کے نارملی اوپن اور کامن کنٹیکٹس آپس میں جڑ جاتے ہیں اور اس سے منسلک سولینائیڈ کھنچ کر کھٹکے (تالے) کو کھینچ لیتا ہے یعنی تالا کھل جاتا ہے۔

سرکٹ میں دکھائے گئے بقیہ سوئچ آئی سی کی ری سیٹ پن 4 اور گراؤنڈ کے درمیان لگائے گئے ہیں۔ تالا کھولنے کے لئے درکار کوڈ استعمال کرنے کے دوران اگر ان میں سے کوئی سوئچ دبا دیا جاتا ہے تو آئی سی ری سیٹ ہو کر آؤٹ پٹ کو غیر فعال حالت میں لے آتا ہے۔ اگر کوئی ناجائز طور پر کوڈ لاک کو کھولنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ سوئچ دبائے جانے کا امکان زیادہ ہوتا ہے جس سے تالا کھلنے کے امکانات نہیں رہتے۔

سرکٹ کی آن حالت کی نشاندی ایک ایل ای ڈی روشن ہو کر کرتا ہے۔ سرکٹ میں کوڈ تبدیل کرنے کے لئے مطلوبہ سوئچز کے کوئی سے بھی تین جوڑے دکھائے گے طریقے سے سرکٹ سے منسلک کیئے جا سکتے ہیں۔

فہرست اجزاء

( ڈیجیٹل کوڈ لاک)

رزسٹرز    
R1 = 1M0 رزسٹر ¼ واٹ
R2 = 10K رزسٹر ¼ واٹ
R3 = 1K0 رزسٹر ¼ واٹ
R4 = 10K رزسٹر ¼ واٹ
R5 = 820R رزسٹر ¼ واٹ
کپیسیٹرز    
C1 = 1000µ, 16V الیکٹرو لائیٹک
C2 = 1µ0, 16V الیکٹرو لائیٹک
C3 = 0µ01, سرامک ڈسک
C4 = 4µ7, 16V الیکٹرو لائیٹک
سیمی کنڈکٹرز    
D1-4 = 1N4007 ریکٹی فائر ڈائیوڈ
IC1 = 555 ٹائمر آئی سی
متفرق    
T1 = ٹرانسفارمر,220V پرائمری
  = 6V-0-6V سیکنڈری 300mA کرنٹ
RLY1 = 6V, 100R ریلے سوئچ
SW0-9 = پش ٹو آن پش بٹن سوئچ
SWA-F = پش ٹو آن پش بٹن سوئچ

کار لائٹ مانیٹر

(امیر سیف اللہ سیف)

کارلائٹ کا خراب ہونا کافی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ اکثر جدید کاروں میں بیرونی روشنی کے خراب ہونے کی صورت میں ڈیش بورڈ پر اظہار کرنے کا بندوبست موجود ہوتا ہے تاہم لاکھوں کاریں ایسی ہیں جن میں ایسا کوئی نظام موجود نہیں۔ اگر آپ طویل سفر کر رہے ہیں اور راستے میں کوئی بلب خراب ہو جاتا ہے تو یہ آپ کے لیے خطرے کا باعث بن سکتا ہے۔ زیر نظر سرکٹ آپ کو یہ سہولت مہیا کرے گا کہ جونہی کوئی بلب وغیرہ خراب ہوگا‘ یہ آپ کو اس خرابی سے آگاہ کر دے گا جس سے آپ محتاط رہیں گے او ربروقت اس خرابی کو دور کر سکیں گے۔


کارلائٹ مانیٹر کا سرکٹ ڈایا گرام۔

گھریلو ریموٹ کنٹرول

(امیر سیف اللہ سیف)

اگر آپ کو یہ خواہش ہو کہ اپنے بستر، رائٹنگ ٹیبل یا صوفہ پر بیٹھے بیٹھے آپ بلب، ٹیوب لائٹ، انرجی سیور، برقی پنکھا یا کوئی بھی دوسرا گھریلو آلہ، انفرا ریڈ ریموٹ کنٹرول کے ذریعے آن یا آف کر سکیں تو یہ سرکٹ آپ ہی کے لئے ہے۔ یہ سرکٹ بہت سادہ ہے اور اس میں انفرا ریڈ نوعیت کا کوئی بھی ریموٹ کنٹرولر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اگر گھر میں پرانے ٹی وی، وی سی آر کا کوئی ریموٹ کنٹرول موجود ہے یا پھر موجودہ ٹی وی، ڈی وی ڈی، وی سی ڈی، ایل سی ڈی یا ایل ای ڈی ٹی وی کا کوئی ریموٹ کنٹرول ہے تو آپ اسے بخوبی استعمال کر سکتے ہیں۔ یہ ریموٹ کنٹرول 25 تا 30 فٹ تک کے فاصلے کے لئے کار آمد ہو گا۔


گھریلو ریموٹ کنٹرولر کا سرکٹ ڈایا گرام

سرکٹ میں 38KHz کی انفرا ریڈ شعاعوں کو محسوس (ڈی ٹیکٹ) کر کے اس سے ایک ریلے سوئچ چلایا گیا ہے جو آپ کے گھریلو برقی آلات کے ساتھ سلسلے وار جڑ جائے گا۔ ریموٹ کنٹرولر سے آنے والی کی انفرا ریڈ شعاعیں سرکٹ کے انفرا ریڈ رسیور ماڈیول سے ٹکراتی ہیں تو اس کی آؤٹ پٹ پن 3 سے ایک سگنل پیدا ہوتا ہے۔ اس سگنل کو ٹرانزسٹر TR1 کے ذریعے ایمپلیفائی کیا جاتا ہے۔

یہ افزائش شدہ (ایمپلیفائی کردہ) سگنل ٹرانزسٹر BC558 سے براہ راست ڈیکیڈ کاؤنٹر آئی سی CD4017 کی کلاک پن 14 پر آتا ہے۔ جب تک اس آئی سی کلاک پن پر کوئی سگنل موجود نہیں ہوتا، سرخ ایل ای ڈی روشن رہتا ہے جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ آپ کا منسلک برقی آلہ آف حالت میں ہے۔ جوں ہی آئی سی کو کلاک سگنل ملتا ہے اس کی پن 2 ہائی ہو جاتی ہے اور اس سے منسلک سبز رنگ کا ایل ای ڈی روشن ہو جاتا ہے جبکہ سرخ ایل ای ڈی آف ہو جاتا ہے۔ سبز ایل ای ڈی روشن ہو کر یہ ظاہر کرتا ہے کہ منسلک برقی آلہ آن حالت میں ہے۔

یہیں سے یہ ہائی آؤٹ پٹ ریلے ڈرائیور ٹرانزسٹر TR2 کی بیس پر بھی جاتی ہے اور ٹرانزسٹر BC548 کو رو بہ عمل حالت میں لے آتی ہے۔ یہ ٹرانزسٹر ریلے سوئچ کو انر جائز کر دیتا ہے اور اس کے نارملی اوپن کنٹیکٹس سے منسلک برقی آلے کو برقی سپلائی مہیا ہونے لگتی ہے۔

فہرست اجزاء

(گھریلو ریموٹ کنٹرولر)

رزسٹرز    
R1 = 47R رزسٹر ¼ واٹ
R2 = 220K رزسٹر ¼ واٹ
R3 = 330R رزسٹر ¼ واٹ
R4 = 330R رزسٹر ¼ واٹ
R5 = 1K0 رزسٹر ¼ واٹ
کپیسیٹر    
C1 = 100µ, الیکٹرو لائیٹک 16V
C2 = 0µ1, سرامک
سیمی کنڈکٹرز    
TR1 = BC558 این پی این ٹرانزسٹر
TR2 = BC548 پی این پی ٹرانزسٹر
IC1 = CD4017 ڈیکیڈ کاؤنٹر آئی سی
D1 = 1N4007 ریکٹی فائر ڈائیوڈ
LED1 = 5mm سرخ ایل ای ڈی
LED2 = 5mm سبز ایل ای ڈی
متفرق    
RLY1 = 5V, ریلے سوئچ 100R
IR1 = TSOP1738 انفرا ریڈ ماڈیول

الیکٹرونک پروجیکٹس

ATMEL مائیکرو کنٹرولر پروگرامنگ بذریعہ پی سی





تعارف

اس مضمون میں ہم کمپیوٹر (PC) سے ATMEL مائیکروکنٹرولر کو پروگرام کرنے کے لیے ایک آسان پروگرامر کا سرکٹ ڈایا گرام پیش کر رہے ہیں۔ اس پروگرامر کی مدد سے آپ مندرجہ ذیل مائیکروکنٹرولرز پروگرام کر سکتے ہیں۔ یہ سب 8 بٹ کے مائیکروکنٹرولر ہیں اوران میں فلیش میموری موجود ہے۔

     
1) AT89C51 2) AT89C52 3) AT89LV51
4) AT89LV52 5) AT89C1051 6) AT89C2051

نوٹ : یہ تمام فلیش کی بنیاد والے مائیکروکنٹرولرز ہیں۔

زیر نظر پروگرامر فلیش میموری کے حامل تمام مائیکروکنٹرولر فنکشن کی سہولت مہیا کرتا ہے جس میں کوڈریڈ, کوڈرائٹ, چپ ایریز, سگنیچر ریڈ اور لاک بٹ رائٹ فلیش شامل ہیں۔ اگر آپ اس مائیکروکنٹرولر پروگرامر کو AT89C51/C52/LV51/LV52 کنٹرولرز کے لیے استعمال کر رہے ہیں توکوڈ رائٹ, چپ ایریز اورلاک بٹ رائٹ فنکشن 5V0 12V 5V0 یا 12V پر سرانجام دیئے جا سکتے ہیں۔ اس طرح سرکٹ کی ضروریات کے مطابق سپلائی وولٹیج متعین کئے جاسکتے ہیں۔

ایسے مائیکروکنٹرولرز جن کے نمبر کے آخر میں "5" موجود ہے صرف 5V0 پر کام کرنے کے لیے استعمال کئے جاسکتے ہیں۔ جن پر یہ نمبر موجود نہیں ہوتا وہ مائیکروکنٹرولر معیاری 12V پر کام کرنے کے لیے استعمال کئے جاتے ہیں۔

زیر نظر پروگرامر آئی بی ایم پی سی سے منسلک کیا جا سکتا ہے۔ پروگرام کو کمپیوٹر کی پیرلل پورٹ سے منسلک کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ پروگرامر سرکٹ کے لیے درکار پاور, بیرونی پاور سپلائی سے مہیا کی جا سکتی ہے۔

سافٹ وئر

زیر نظر پروگرامر کو سافٹ وئر کنٹرول کرتا ہے۔ یہ سافٹ وئر ہوسٹ کمپیوٹر پر چلتا ہے۔ مائیکروکنٹرولر AT89C51/C52 اور C1051/C2051 کے لیے کنٹرول پروگرام مائیکرو سافٹ C لینگوئج میں لکھا گیا ہے۔ مائیکروکنٹرولر AT89LV51 اور AT89LV52 کے لیے الگ سے کوئی کنٹرول پروگرام موجود نہیں ہے۔ یہ AT89C51/C52 ہی کے پروگرام سے کنٹرول ہوتے ہیں۔ اس مضمون میں جہاں مائیکروکنٹرولر AT89C51/C52 کا حوالہ دیا گیا ہے اسے AT89LV51/LV52 کے لیے بھی سمجھا جائے۔

تمام پروگرامر کنٹرول سافٹ وئرز ڈاس DOS سے چلیں گے۔ پروگرام کانام لکھ کر آخر میں''LPT1'' یا ''LPT2'' (جو پیرلل پورٹ بھی اس مقصد کے لیے استعمال کی جا رہی ہو) لکھیں۔ اگر آپ پیرلل پورٹ واضح نہیں کریں گے تو پروگرام ایرر میسیج دے گا۔ کنٹرول پروگرام مینو سے چلنے والے ہیں اور ان میں مندرجہ فنکشن دستیاب ہیں۔

Chip Erase

مائیکروکنٹرولر کی کوڈ میموری کو صاف کرنے کے لیے۔ اس عمل کے اختتام پر کامیاب عمل یا ناکام عمل کی تصدیق خودکار طور پر نہیں ہوتی۔

Program From File

یہ مخصوص کردہ فائل میں سے پروگرام (بائنری کوڈ) کو پڑھ کرمائیکروکنٹرولر کی میموری میں لکھنے کے لیے ہے۔ پروگرام چلانے کے بعد اس فنکشن کو منتخب کرنے پر پروگرام آپ سے فائل کا نام پوچھے گا۔ فائل کے نام میں آپ پاتھ اور فائل ایکس ٹینشن بھی دے سکتے ہیں۔
فائل صرف وہی قابل قبول ہوگی جس میں بائنری ڈیٹا موجود ہوگا۔ہیکس ڈیٹا فائل قابل قبول نہیں ہوگی۔ اس فائل میں موجود پہلی بائٹ کنٹرولر کی میموری کی پہلی لو کیشن پر پروگرام کی جائے گی۔ ہر اگلی بائٹ میموری کی اگلی لوکیشن پر ترتیب وار انداز میں پروگرام ہوگی۔ یہ عمل اس وقت تک جاری رہے گا جب تک میموری کی آخری لوکیشن نہ آجائے یا پھر فائل میں سے ڈیٹا ختم نہ ہو جائے۔
مائیکروکنٹرولر کی میموری میں کوئی ڈیٹا موجود ہے یا نہیں, پروگرامنگ عمل اس سے قطع نظر جاری رہے گا۔ بلینک چیک خودکار طور پر سرانجام نہیں پاتا اور نہ ہی پروگرامنگ کے بعد میموری کے ڈیٹا کا فائل کے ڈیٹا سے خودکار موازنہ سرانجام پاتا ہے۔
کنٹرول پروگرام میں پروگرامنگ کا بصری اظہار کرنے کا انتظام موجود نہیں ہے۔ البتہ پروگرامنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد کنٹرول مینو دوبارہ نمودار ہو جائے گا۔

Verify Against File

مینو کا یہ فنکشن کوڈ میموری کو فائل کے مندرجات کے مطابق جانچتا ہے اور اس طرح دونوں کا موازنہ کرتا ہے۔ یہ مینو بھی فائل کا نام مانگتا ہے جس میں آپ پاتھ اور فائل ایکس ٹینشن بھی دے سکتے ہیں۔ پروگرامر کو بائنری فائل درکار ہو گی۔ یہاں پر ہیکس ڈیٹا کی حامل فائل کام نہیں کرے گی۔فائل کی پہلی بائٹ کا موازنہ میموری لو کیشن کی پہلی بائٹ سے کیا جائے گا اور اسی ترتیب میں ہر اگلی بائٹ کا موازنہ کیا جائے گا۔ یہ عمل اس وقت تک جاری رہے گاجب تک میموری ختم نہ ہو جائے یا پروگرام کی آخری بائٹ نہ آ جائے۔ اگر کسی لوکیشن کا ڈیٹا فائل کے ڈیٹا سے مطابقت کا حامل نہ ہوا تو اس لوکیشن کا ایڈریس اور بائٹ کے مندرجات اسکرین پر ظاہر ہو جائیں گے۔ اگر دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے تو کچھ بھی نمودار نہیں ہوگا۔

Save to File

مینو کا یہ فنکشن مائیکروکنٹرولر کی میموری میں موجود ڈیٹا کو ایک فائل میں محفوظ کر نے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ پروگرام اس فائل کا نام پوچھے گا جس میں میموری کا ڈیٹا محفوظ کرنا ہے۔ اس میں بائٹس کی تعداد میموری لوکیشن کی تعداد کے مطابق ہوگی۔

Blank Check

یہ فنکشن چیک کرتا ہے کہ مائیکروکنٹرولر کی میموری کی تمام لوکیشن کے مندرجات '1' ہیں یا نہیں۔ چیکنگ کے بعداگر مائیکرو کنٹرولر کی میموری کی ہر لوکیشن میں '1' موجود ہے تو پاس Pass بصورت دیگر فیل Fail کی نشاندہی ہوتی ہے۔ پاس آنے کی صورت میں مائیکرو کنٹرولر بلینک تصور کیا جائے گا جس میں نئی بائنری فائل محفوظ کی جا سکتی ہے۔

Read Signature

سگنیچر بائٹ کے مندرجات پڑھنے اور ڈسپلے (نمودار) کرنے کے لیے یہ فنکشن استعمال کیا جاسکتا ہے۔ سگنیچر بائٹ کی تعداد اور ان کے متوقع مندرجات کا انحصار مائیکروکنٹرولر کی نوعیت پر ہے۔ مزید معلومات کے لیے متعلقہ مائیکروکنٹرولر کی ڈیٹا شیٹ دیکھی جا سکتی ہے۔

Write Lock Bit 1
Write Lock Bit 2
Write Lock Bit 3

یہ فنکشن متعلقہ لاک بٹ کو سیٹ (یعنی لاک) کرتا ہے۔واضح رہے کہ AT89C1051/C2051 میں صرف دو لاک بٹس ہیں جبکہ AT89C51/LV51 اور AT89C52/LV52 میں تین لاک بٹس ہیں۔

Exit

کنٹرولر پروگرامر پروگرام کو بند کرنے کے لیے۔

اس پروگرامر کے لیے سافٹ وئر ATMEL بلیٹن بورڈ سروس BBS سے دستیاب ہے۔ ان کا ایڈریس یہ ہے۔ 408-436-4309

سسٹم پر انحصاریت

مائیکروکنٹرولر AT89C51 اور AT89C52 کے لیے تیار کردہ کنٹرول پروگرام دو اقسام کا ہے۔ سسٹم پر انحصار کرنے والا اور سسٹم سے آزاد۔ سسٹم پر انحصار کرنے سے مراد یہ ہے کہ اس پروگرام کو جس پرسنل کمپیوٹر سسٹم پر چلایا جائے گا یہ اس سسٹم پر انحصار کرتے ہوئے کام کرے گا۔ سسٹم سے آزاد کا مطلب یہ ہے کہ یہ پروگرام جس پرسنل کمپیوٹر سسٹم پر چلایا جائے گا یہ اس سسٹم پر انحصار نہیں کرے گا۔سسٹم پر انحصار کرنے والے پروگرام میں مطلوبہ تاخیری وقفہ جات(ڈیلے)، سافٹ وئر ٹائمنگ لوپ پر منحصر ہوں گے۔ ان کا وقفہ استعمال کردہ کمپیوٹر کی اسپیڈ پر منحصر ہوگا اور اگر کمپیوٹر تیزرفتار رہے تو وقفہ کم ہوگا۔ زیر نظر پروگرامر کے سافٹ وئر کو 80386 سسٹم پر 33MHz رفتار کے ساتھ جانچا گیا تھا۔ دوسرے سسٹم پر چلانے کے لیے سافٹ وئر میں تبدیلی کی ضرورت ہوگی۔ یہ طریقہ کار اپنی سادگی اور آسانی کی بنا پر منتخب کیا گیا تھا۔

سسٹم سے آزادانہ کام کرنے والے سافٹ وئر کے لیے پروگرام ایبل انٹرول ٹائمر درکار ہوگا جسے سسٹم کے ہارڈوئر میں جوڑنا پڑے گا۔ اس صورت میں ٹائم ڈیلے یعنی تاخیری وقفہ سسٹم کی رفتار سے متاثر نہیں ہوگا۔ کنٹرول پروگرام چلانے کے بعد ٹائمر کو اس طرح متعین کیا جائے گا کہ مطلوبہ تاخیری وقفے حاصل ہو سکیں۔ پروگرام بند کرنے سے پہلے ٹائمر کو اپنی اصل حالت پر واپس متعین کرنا ہوگا۔

اس امر کو یقینی بنانے کے لیے کہ ٹائمر کو اصل حالت میں واپس لانے سے پہلے پروگرام بند نہ ہو جائے۔ CTRL-Cاور CTRL-BREAK کیز کو غیر فعال بنایا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جب تک مینو سے Exit کمانڈ کے ذریعے پروگرام کو بند نہ کیا جائے یا سسٹم کی پاور آف کرکے اسے ری بوٹ نہ کیا جائے۔ پروگرام بند نہیں ہوگا۔

ٹائمر کنٹرول بورڈ، 8086 اسمبلی ماڈیول کے طور پر مہیا کیا گیا ہے جسے کمپائل کردہ کنٹرول پروگرام سے جوڑا (Link کیا) جا سکتا ہے۔ٹائمر کی شرح 0.838 مائیکروسیکنڈ ہے تاہم کم سے کم عملی تاخیری وقفہ سسٹم اور سافٹ وئر دونوں مل کر متعین کریں گے۔ ٹائمر کوڈ کے ذریعے یہ یقینی بنایا گیا ہے کہ پیدا ہونے والا تاخیری وقفہ مطلوبہ وقفے سے کم نہ ہو۔ مائیکروکنٹرولر AT89C1051/C2051 کے لیے مہیا کردہ کنٹرول پروگرام سسٹم سے آزادانہ کام کرتا ہے۔

پروگرامر

پروگرامر کے لیے سرکٹ ڈایا گرام شکل نمبر 1 اور شکل نمبر 2 میں دکھایا گیا ہے۔ یہ پروگرامر، کمپیوٹر انٹرفیس اور سوئچ ایبل پاور اسپلائی سرکٹ پر مشتمل ہے۔ سگنل سیکوئنس اور ٹائمنگ جو پروگرامنگ کے لیے درکار ہوتی ہے، سافٹ وئر کنٹرول کے تحت ہوسٹ کمپیوٹر پیدا کرتا ہے۔ مائیکروکنٹرولر AT89C51/C52 کی پروگرامنگ کے لیے 40 پن کی زیروانسرشن فورس ZIF ساکٹ مہیا کی گئی ہے۔ سرکٹ ڈایا گرام میں بائی پاس کپیسیٹر درکار ہوں گے۔ یہ TTL اجزاء کے لیے لگائے جائیں گے تاہم سرکٹ ڈایا گرام میں انہیں نہیں دکھایا گیا۔



شکل نمبر 1

سرکٹ ڈایا گرام کو بڑا دیکھنے کے لئے سرکٹ ڈایا گرام پر کلک کریں



شکل نمبر 2
سرکٹ ڈایا گرام کو بڑا دیکھنے کے لئے سرکٹ ڈایا گرام پر کلک کریں

پروگرامر کے سرکٹ اور مائیکروکنٹرولر کے لیے پاور سپلائی 5V کی متعین (فکسڈ) سپلائی ہے۔ دوسری سپلائی 5Vاور 12V (قابل انتخاب) فراہم کرتی ہے جو پروگرامنگ کے دوران استعمال کی جائے گی۔ ویری ایبل سپلائی کی آؤٹ پٹ پر ٹرانزسٹر کا اضافہ کرکے تیسرے درجے (تھرڈ لیول) کا گراؤنڈ مہیا کیا گیا ہے۔ یہ مائیکروکنٹرولر AT89C1051/C2051 کو پروگرام کرتے وقت استعمال ہوگا۔

ویری ایبل پاور اسپلائی سرکٹ میں استعمال کردہ رزسٹرز کی قدریں متعین کرنے کے لیے وولٹیج ریگولیٹر LM317 کی ڈیٹا شیٹ میں مہیا کی گئی مساواتیں استعمال کی گئی ہیں۔

پروگرامر کو کمپیوٹر کے ساتھ منسلک کرنے کے لیے 25 تاروں والی ربن کیبل استعمال کی گئی تھی۔ اس کیبل کی لمبائی ممکنہ حد تک کم رکھیں۔ یہ لمبائی تین فٹ سے زیادہ ہرگز نہ رکھیں۔

پیرلل انٹرفیس

اصل پیرلل انٹرفیس جو IBM کی طرف سے مہیا کیا گیا ہے، ڈیٹا کی دو طرفہ منتقلی کے لیے موزوں قرار نہیں دیا گیا تاہم اس انٹرفیس کو جس انداز میں ڈیزائن کیا گیا ہے اس کے باعث ڈیٹا کی دو طرفہ (بائی ڈائریکشنل) منتقلی ممکن ہے۔ اس کے لیے شرط یہ ہے کہ کمپیوٹر میں معیاری پیرلل انٹرفیس موجود ہو۔ واضح رہے کہ معیاری پیرلل انٹرفیس بائی ڈائریکشنل ہوتا ہے۔

اگر زیر نظر پروگرامر مائیکروکنٹرولر کی میموری میں ڈیٹا منتقل کردے لیکن اسے پڑھنے یا ویری فائی کرنے میں کامیاب نہ ہوسکے تو کمپیوٹر کا پیرلل انٹرفیس غیر معیاری نوعیت کا ہوگا یعنی بائی ڈائریکشنل نہیں ہوگا۔ اس صورت میں آپ شکل نمبر 4 اورشکل نمبر 5 میں دیا گیا پیرلل انٹرفیس استعمال کرکے اس نقص کو دور کرسکتے ہیں یہ پیرلل انٹرفیس بائی ڈائریکشنل یا دو طرفہ عمل کے لیے موزوں ہے اور زیر نظر پروگرامر سے مطابقت کا حامل ہے۔

یہ پیرلل انٹرفیس LPT1 کے طور پر ایڈریس 378-37F یا LPT2 کے طور پر ایڈریس 278-27F پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ چونکہ یہ انٹرفیس سرکٹ ہے اور اسے خاص طور پر زیر نظر پروگرامر کے لیے تیارکیا گیا ہے چنانچہ اسے بطور پرنٹر انٹرفیس استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

نوٹ :

تمام آئی سیز کے لیے 0µ1 قدر کا بائی پاس کپیسیٹر ضرور استعمال کریں۔

گھنٹہ گھربرائے ڈیجیٹل کلاک-II

گھنٹہ گھر کا ایک اور سرکٹ ملاحظہ فرمائیں اس میں صرف ایک آئی سی 4011 استعمال کیا گیا ہے جو دو ان پٹ کے چار نینڈ گیٹس پر مشتمل ہے۔ سرکٹ میں آئی سی کے چاروں گیٹ استعمال کرتے ہوئے ایسا بندوبست کیا گیا ہے کہ ہر گھنٹے بعد یہ سرکٹ ایک مناسب سی آواز پیدا کرے۔

اس سرکٹ میں دہائی منٹ کے سیگمنٹ f اور g کی آئوٹ پٹس کو‘ جن پر بالترتیب لاجک صفر اور لاجک ایک لیول ہوگا ‘ نینڈ گیٹ کی دونوں ان پٹس پر فراہم کیا گیا ہے۔ آپ دیکھ رہے ہیں کہ گیٹ N3 کی آئوٹ پٹ کو گیٹ N2 کی ان پٹ سے جوڑا گیا ہے۔ اس طرح کی فیڈ بیک سے جب گیٹ N3 کی آئوٹ پٹ ہائی ہو گی تو گیٹ N2 کی دونوں ان پٹس ہائی ہو جائیں گی جس سے اس کی آئوٹ پٹ لو ہو جائے گی۔





گھنٹہ گھر II کا سرکٹ ڈایا گرام برائے ڈیجیٹل کلاک


ڈایا گرام کے نیچے گھنٹہ گھر II کے لئے پر نٹڈ سرکٹ بورڈ اصل سائز میں دکھایا گیا ہے - سا تھ ہی پر نٹڈ سرکٹ بورڈ پر گھنٹہ گھر II کے اجزا کی ترتیب بھی دکھائی گئی ہے -

جوں ہی مطلوبہ لاجک لیول اس سرکٹ کے گیٹ N1 پر ملے گا‘ یہ سرکٹ روبہ عمل ہو کر ٹرانزسٹر کی بیس کو ہائی کر دے گا ۔ ٹرانزسٹر کے کلکٹر سے ریلے سوئچ منسلک کیا جا سکتا ہے ۔ اس ریلے سوئچ کے کنٹیکٹس کو استعمال کرتے ہوئے کسی بھی الارم‘ میوزیکل الارم یا بذر کو رو بہ عمل کیا جا سکتا ہے۔

دونوں گیٹس کے درمیان کپیسیٹر لگایا گیا ہے جس سے قدرے وقفہ فراہم ہوتا ہے۔ اسی وقفے کے دوران میں گیٹ N3 کی آئوٹ پٹ ہائی رہے گی اور بذر بھی اتنے ہی وقفے تک روبہ عمل رہے گا۔ یہ سرکٹ پہلے سرکٹ کی نسبت کم خرچ اور آسان ہے۔

فہرست اجزاء

( گھنٹہ گھر II)
رزسٹرز    
R1 = 10K کاربن فلم
R2 = 1M0 کاربن فلم
R3 = 10K کاربن فلم
کپیسیٹر    
C1 = 1µ0 الیکٹرولائیٹک
سیمی کنڈکٹر    
N1- N4 = 4011 سی موس آئی سی
TR1 = C828 سلیکان ٹرانزسٹر
D1 = 1N4148 سگنل ڈائیوڈ
متفرق    
LS = 8R اسپیکر
RLY = 12V ریلے سوئچ

ایک کلو میٹر رینج کا ایف ایم ٹرانسمٹر

(امیر سیف اللہ سیف)

ایک کلو میٹر رینج رکھنے والے ایف ایم ٹرانسمٹر کا سرکٹ ڈایا گرام پیش ہے۔ بنیادی طور پر یہ سرکٹ تین حصوں پر مشتمل ہے۔ پہلا حصہ آڈیو پاور ایمپلی فائر اسٹیج پر مشتمل ہے جو ڈائنامک مائیکروفون کی آؤٹ پٹ سےحاصل ہونے والے آڈیو سگنلز کی افزائش یعنی ایمپلی فی کیشن کرتا ہے۔ دوسرا حصہ آر ایف آسی لیٹر اسٹیج پر مشتمل ہے۔ تیسرا اور آخری حصہ آر ایف پاور ایمپلی فائر اسٹیج ہے جو آڈیو سگنلز کو ایک کلو میٹر تک نشر کر سکتا ہے۔

آڈیو ایمپلی فائر اسٹیج تین ٹرانزسٹرز پر مشتمل ہے۔ ڈائنا مک مائیکروفون کی ہائی امپیڈینس آؤٹ پٹ کو میچ کرنے کے لئے ایف ای ٹی استعمال کیا گیا ہے۔ اس کی آؤٹ پٹ کو مزید ایمپلی فائی کرنے کے لئے دو BC107 ٹرانزسٹر استعمال کئے گئے ہیں جن سے 200mW (ملی واٹ) آؤٹ پٹ حاصل ہوتی ہے۔

آر ایف سگنل پیدا کرنے کے لئے آر آیف آسی لیٹر کے طور پر ٹرانزسٹر 2N3708 استعمال کیا گیا ہے۔ آر ایف آسی لیٹر کے طور پر کام کرنے کے ساتھ ساتھ یہ ٹرانزسٹر آڈیو سگنلز کی فریکوئنسی ماڈولیشن کا عمل بھی سرانجام دیتا ہے۔ اس کے بعد ان ماڈولیٹڈ سگنلز کو ایمپلی فائی کرنے کے لیے آر ایف پاور ایمپلی فائر استعمال کیا گیا ہے جو ایرئل کو تقریبا“ 600mW آؤٹ پٹ فراہم کرتا ہے۔



ایک کلو میٹر رینج والے ایف ایم ٹرانسمٹر کا سرکٹ ڈایا گرام

اس سرکٹ میں استعمال ہونے والے انڈکٹرز (کوائلز) کی تفصیل یہ ہے۔

L1 = یہ ائر کور کوائل ہے جس کا ڈایا میٹر 7mm ہو گا۔ استعمال کردہ کاپر لیمی نیٹڈ وائر کا قطر 1mm ہے اور اس کے صرف 6 چکر دئے جائیں گے۔ 1mm قطر کی تار کی جگہ آپ 19SWGنمبرکی تار استعمال کر سکتےہیں۔
L2 = یہ بھی ائر کور کوائل ہے جس کا ڈایا میٹر 7mm ہو گا۔ اسے L1 کے ساتھ ہی لپیٹا جائے گا۔استعمال کردہ کاپر لیمی نیٹڈ وائر کا قطر 1mm ہے اور اس کے صرف 6 چکر دئے جائیں گے۔ 1mm قطر کی تار کی جگہ آپ 19SWGنمبرکی تار استعمال کر سکتے ہیں۔
L3 = یہ ائر کور کوائل ہے جس کا ڈایا میٹر 6mm ہو گا۔ استعمال کردہ کاپر لیمی نیٹڈ وائر کا قطر 0.6mm ہے اور اس کے صرف 8 چکر دئے جائیں گے۔ 0.6mm قطر کی تار کی جگہ آپ 23SWGنمبرکی تار استعمال کر سکتے
RFC = یہ ریڈیو فریکوئنسی چوک ہے جو 0.3mm قطر کی کاپر لیمی نیٹڈ وائر کے تا چکروں پر مشتمل ہوگی۔ اسے 5mm قطر کی کسی پلاسٹک کی نلکی پر لپیٹا جائے گا۔ 0.3mm قطر کی تار کی جگہ آپ 30SWG نمبرکی تار استعمال کر سکتے ہیں۔

ایک کلو میٹر رینج ایف ایم ٹرانسمٹر کے لئے پرنٹڈ سرکٹ بورڈ ڈیزائن


پرنٹڈ سرکٹ بورڈ پر ایک کلو میٹر رینج ایف ایم ٹرانسمٹر کے اجزا کی ترتیب


ایک کلو میٹر رینج ایف ایم ٹرانسمٹر پرنٹڈ سرکٹ بورڈ پر نصب شدہ حالت میں

فہرست اجزاء

ایک کلو میٹر رینج کا ایف ایم ٹرانسمٹر
تمام رزسٹر ¼ واٹ‘ ٪5 شرح انحراف کے حامل ہیں

رزسٹرز          
R1 = 1M0 کاربن فلم R2 = 10K کاربن فلم
R3 = 4K7 کاربن فلم R4 = 150K کاربن فلم
R5 = 22K کاربن فلم R6 = 3K9 کاربن فلم
R7 = 220R کاربن فلم R8 = 75K کاربن فلم
R9 = 10K کاربن فلم R10 = 1K5 کاربن فلم
R11 = 100R کاربن فلم R12 = 100K کاربن فلم
R13 = 56K کاربن فلم R14 = 100R کاربن فلم
کپیسیٹرز    
C1 = 100nF سرامک C2 = 47nF سرامک
C3 = 100nF الیکٹرولائیٹک C4 = 4µ7F الیکٹرولائیٹک
C5 = 100nF سرامک C6 = 33µF الیکٹرولائیٹک
C7 = 33nF سرامک C8 = 5pF سرامک
C9 = 150pF سرامک C10 = 33pF سرامک
VC1 = 0-20pF ٹرمر VC2 = 0-20pF ٹرمر
VC3 = 0-40pF ٹرمر
سیمی کنڈکٹر    
TR1 = 2N5555 ایف ای ٹی
TR2 = BC107 این پی این سلیکان ٹرانزسٹر
TR3 = BC107 این پی این سلیکان ٹرانزسٹر
TR4 = 2N3708 این پی این سلیکان ٹرانزسٹر
TR3 = BC107 این پی این سلیکان ٹرانزسٹر
TR3 = BC109 این پی این سلیکان ٹرانزسٹر
متفرق    
ANT = ایف ایم کوارٹر ویو ایرئل
MIC = ڈاینامک مائیکروفون۔

سالڈ اسٹیٹ لیزر


(امیر سیف اللہ سیف)

لیزر پروجیکٹ کا ذکر ہو تو اکثر قارئین یہ سمجھتے ہیں کہ شاید ہیلئم نیون (He-Ne)گلاس ٹیوب گیس لیزر کی بات ہورہی ہے۔ اکثر کتب و رسائل میں اسی لیزر کے پروجیکٹ شائع ہوتے رہے ہیں ۔ یہ یونٹ لازمی طور پر بڑے‘ نسبتاً مہنگے اور ہائی وولٹیج کی ضرورت کے حامل ہوتے ہیں لیکن یہاں پر ہم آپ کی خدمت میں ایسا لیزر پروجیکٹ پیش کر رہے ہیں جس میں سالڈ اسٹیٹ لیزر ڈائیوڈ استعمال کیا گیا ہے۔یہ پروجیکٹ صرف تدریسی مقاصد اور ان دوستوں کے ذوق کی تکمیل کے لیے پیش کیا جا رہا ہے جو اپنے ہاتھ پروجیکٹ بنانا پسند کرتے ہیں۔

سالڈ اسٹیٹ لیزر نے مذکورہ بالا تمام تصورات کو تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔ اب لیزر پروجیکٹ نہ صرف کم وولٹیج سے چلائے جا سکتے ہیں بلکہ ان کی قیمت بھی کم ہو گئی ہے اور ان کا سائز بھی مختصر ہو گیا ہے۔

اکثر قارئین باخبر ہوں گے کہ لیزر ڈائیوڈز سی ڈی پلیئرز اور لیزر پرنٹرز میں استعمال ہو رہے ہیں- حالیہ چند سالوں میں سالڈ اسٹیٹ لیزرز نے بہت سے لوگوں کو اپنی طرف بہت زیادہ متوجہ کیا ہے۔

اس پروجیکٹ میں پیش کردہ لیزر پوائنٹر کو بنیادی لیزر سورس‘ لیزر لیولنگ گائیڈ، تفریح اور دیگر مقاصد کے لیئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ پروجیکٹ میں استعمال کردہ اجزا اور بذات خود لیزر ڈائیوڈ کو بہت کم جگہ پر نصب کیا جا سکتا ہے جس کی وجہ سے اس پروجیکٹ کو انفرادی ضروریات کے تحت کئی طریقوں سے بکس یا کیس میں نصب کرنا ممکن ہے۔ لیزر ڈائیوڈ کو پاور مہیا کرنے کے لیئے منبع (سورس) کا انتخاب آپ کے بجٹ اور ضرورت کے مطابق ہوگا تاہم پاور سورس کی تبدیلی سے لیزر شعاع کی شدت میں بہت کم فرق پڑے گا۔

لیزر ڈائیوڈ

سالڈ اسٹیٹ لیزر ڈائیوڈ دیکھنے میں اگرچہ بہت سادہ سا ہے لیکن اسے چلانا نسبتاً پیچیدہ ہے۔آگے چند حفاظتی تدابیر بتائی گئی ہیں جن کو مد نظر رکھ کر آپ ڈائیوڈ کو حادثاتی طور پر تباہ ہونے سے بچا سکیں گے۔ اس پروجیکٹ میں جو لیزر ڈائیوڈ استعمال کیا گیا ہے اس میں مانیٹر فوٹوڈائیوڈ موجود ہے جو پاور سپلائی ریگولیٹر سرکٹ کو فیڈ بیک مہیا کرنے کے لیئے استعمال ہوتا ہے۔ لیزر ڈائیوڈ کے عمل کا انتہائی نازک مرحلہ اس کی فارورڈ کرنٹ ہے۔

استعمال کردہ لیزر ڈائیوڈ کی تھریشولڈ کرنٹ (تاکہ لیزنگ عمل کا آغاز ہو سکے) مثالی طور پر 80mA ہے۔ اس کرنٹ کی زیادہ سے زیادہ مقدار 95mA تک ہے۔100mA سے زائد کرنٹ لیزر ڈائیوڈ کو فوری طور پر تباہ کر دیتی ہے۔ اندر لگا ہوا مانیٹر ڈائیوڈ لیزر کی آؤٹ پٹ لائٹ پاور پر نظر رکھتا ہے۔ اسے زیرنظر سرکٹ میں کرنٹ ریگولیٹر سرکٹ کے ایک حصے کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔

استعمال کردہ لیزر ڈائیوڈ کی آپٹیکل آؤٹ پٹ پاور 5mW مقرر کی گئی ہے جو نسبتاً زیادہ قدر ہے اور اس کے باعث کافی طاقت کی روشنی حاصل کی جا سکتی ہے۔ 50% ڈیوٹی سائکل پر پلس کرنے سے‘ جب کہ پلس وڈتھ زیادہ سے زیادہ 1ms رکھی جائے‘ لیزر ڈائیوڈ سے 6mW تک کی آؤٹ پٹ پاور حاصل کی جا سکتی ہے۔

لیزر ڈائیوڈ کے گرد زیادہ سے زیادہ ریورس وولٹیج کی شرح 2V ہے۔ یہ ڈائیوڈ 10 سے 50 درجے سینٹی گریڈ درجہء حرارت پر کام کر سکتا ہے۔ اس کے آپریٹنگ وولٹیج 2.3V سے 2.7V ہیں اور لیزنگ ویو لینتھ 670nm سے 680nm تک ہے۔ یہ ویو لینتھ سرخ رنگ کے لیزر کی خصوصیات کے طور پر جانی جاتی ہے۔

ریگولیٹر

یہ سرکٹ لیزر ڈائیوڈ کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے اور اس کے عمل کا انحصار لیزر ڈائیوڈ کے عمل پر ہے ۔ چنانچہ لیزر ڈائیوڈ کو اس سرکٹ کا اہم ترین حصہ کہا جا سکتا ہے۔لیزر ٹارچ کا سرکٹ ڈایا گرام شکل نمبر 1میں دکھایا گیا ہے۔ یہ سرکٹ دراصل ریگولیٹر ہی کا سرکٹ ڈایا گرام ہے۔


شکل نمبر 1 : سالڈ اسٹیٹ لیزر کا مکمل سرکٹ ڈایا گرام۔

3mW کا لیزر ڈائیوڈ اپنی آپریٹنگ کرنٹ کو ‘ 5mW کے لیزر ڈائیوڈ کی نسبت مختلف طریقے سے متعین کرتا ہے چنانچہ دونوں کے لئے رزسٹر R3 کی قدر بھی مختلف ہے۔ لیزر اسمبلی میں مانیٹر فوٹو ڈائیوڈ لگا ہوا ہے جو سرکٹ کو کنٹرول کرتا ہے۔ یہ پن 1 اور پن 3 سے منسلک ہے۔ اس فوٹو ڈائیوڈ پر پڑنے والی روشنی کی مقدار ‘ ڈائیوڈ میں سے گزرنے والی ریورس کرنٹ کو متغیر کرتی ہے۔اس کے نتیجے میں یہ ریورس کرنٹ ریگولیٹر کی کرنٹ کو کنٹرول کرتی ے ۔ اس طرح لیزر ڈائیوڈ سے گزرنے والی کرنٹ بھی کنٹرول ہوتی ہے۔

فرض کریں کہ لیزر ڈائیوڈ سے آنے والی روشنی(لیزر شعاع) میں اضافہ ہوتا ہے تو فوٹو ڈائیوڈ میں سے زیادہ ریورس کرنٹ گزرے گی اور ٹرانزسٹر TR1 کی بیس کرنٹ میں اضافہ ہو جائے گا۔ چونکہ TR1 پی این پی نوعیت کا ٹرانزسٹر ہے چنانچہ بڑھتے ہوئے وولٹیج اسے آف کر دیں گے۔ اس حالت میں بیس وولٹیج ‘ ایمیٹر وولٹیج سے قریب تر ہوں گے۔

ٹرانزسٹر TR2 کے بیس وولٹیج ٹرانزسٹر TR1سے ملتے ہیں چنانچہ لیزر ڈائیوڈ سے گزرنے والی کرنٹ اب کم ہو جائے گی۔ لیزر ڈائیوڈ کے عمل اور رزسٹرز VR1, R2 کی مجموعی رزسٹینس سے کرنٹ کا تعین ہوتا ہے۔ پوٹینشو میٹر VR1 کی مدد سے لیزر ڈائیوڈ کی آؤٹ پٹ پاور بھی کنٹرول کی جا سکتی ہے۔

تشکیل

آغاز سے قبل لیزر ڈائیوڈ کو استعمال کرنے کی ہدایات کو اچھی طرح سمجھ لیں۔

لیزر ٹارچ کو پی سی بی پر نصب کیا جائے گا۔ اس پی سی بی کا نمونہ اور پی سی بی پر اجزا کی ترتیب کا خاکہ شکل نمبر 2 میں دکھایا گیا ہے۔


شکل نمبر 2 : سالڈ اسٹیٹ لیزر کے لئے پی سی بی کا نمونہ اور اس پر اجزا کی ترتیب۔

پی سی بی کا سائز کافی مختصر ہے اور چونکہ سرکٹ میں کم اجزا استعمال کئے گئے ہیں چنانچہ آپ اپنی ضرورت کے مطابق کسی بھی سائز میں اپنا پی سی بی خود بھی بنا سکتے ہیں۔ آپ لیزر ٹارچ کو جس نوعیت کے کیس میں بند کرنا چاہتے ہیں‘ اپنا پی سی بی بھی اسی کیس کے سائز کے مطابق بنا سکتے ہیں۔ تاہم دکھایا گیا پی سی بی 1.5 x 0.75 انچ کا ہے جو کسی بھی چھوٹے سے کیس میں آسانی سے نصب کیا جا سکتا ہے۔

پوٹینشو میٹر پی سی بی کے اوپر ہی لگایا جا سکتا ہے۔ اسی طرح پش سوئچ کے پیڈ بھی پی سی بی پر بنے ہوئے ہیں۔ آپ چھوٹے سے سائز کا پش سوئچ استعمال کریں اور اس کو چھوٹی تاروں کی مدد سے پی سی بی کے اوپر ہی جوڑ دیں۔

یہ بے حد ضروری ہے کہ آپ لیزر ڈائیوڈ کو سب سے آخر میں جوڑیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ لیزر ڈائیوڈ، الیکٹرو سٹیٹک ڈسچارج (ESD) سے، بہت آسانی سے خراب ہو سکتا ہے چنانچہ اس سلسلے میں خاصی احتیاط کی ضرورت ہوگی۔ اس ڈائیوڈ کو استعمال کرنے سے قبل اینٹی سٹیٹک احتیاطی تدابیر ضرور اختیار کریں جو اس نوعیت کے اجزا کے بچاؤ کے لئے عام طور پر مستعمل ہیں۔

مثال کے طور پر اپنے آپ کو کسی بڑے دھاتی جسم سے چھو کر ڈسچارج کر لیں۔ اس طرح اگر آپ کے جسم میں کوئی الیکٹرو سٹیٹک چارج موجود ہے تو وہ اس دھاتی جسم میں منتقل ہو جائے گا۔ اسی طرح سولڈرنگ آئرن کو بھی باقاعدہ ارتھ کر لیں اور تب اس سے ٹانکے لگائیں۔ جب لیزر ڈائیوڈ کو آپ پی سی بی پر جوڑ لیں گے تو اس کے بعد بورڈ اور بورڈ پر لگے ہوئے دیگر اجزا اسے سٹیٹک چارج سے تحفظ فراہم کریں گے۔

اجزا کو صفائی اور نفاست سے جوڑیں اور ٹانکے بھی نہایت عمدہ لگائیں۔ یہاں پر بے احتیاطی اور جلد بازی کام بگاڑ دے گی اور بعد میں آپ کو خاصی دشواری ہوگی۔

جانچ پڑتال

سرکٹ کو پاور مہیا کرنے سے قبل یہ یقین کر لیں کہ لیزر ڈائیوڈ سے لگے ہوئے کنکشن درست اور محفوظ ہیں۔ یہ خاص طور پر دیکھیں کہ لیزر ڈائیوڈ کی تاریں آپس میں شارٹ ہونے کے امکانات تو نہیں ہیں۔ بہتر ہوگا کہ اس کی تاروں پر پلاسٹک سلیو Sleeveچڑھا دیں۔

سرکٹ بورڈ کو دو بارہ چیک کریں۔ اضافی تاریں‘ ٹانکے کی فالتو مقدار‘ ڈھیلے کنکشن وغیرہ سب باریک بینی سے جانچیں۔فالتو اور اضافی تاریں کاٹ کر چھوٹی کر لیں۔ تارکا کوئی ٹکڑا وغیرہ پی سی بورڈ پر کہیں پڑا رہ گیا ہے تو اسے ہٹا لیں۔ ٹانکوں کے ارد گرد اور پی سی بی کے ٹریکس کے درمیان اگر ٹانکے کی اضافی اور غیر ضروری مقدار موجود ہے تو اسے احتیاط سے دور کر لیں۔ پی سی بورڈ پر لگی ہوئی تاروں کو مناسب انداز میں ہلا جلا کر دیکھ لیں کہ یہ درست جڑ گئی ہیں اور ٹانکہ لگنے کی جگہ پر ڈھیلی تو نہیں ہیں۔ اگر کوئی ٹانکہ مشکوک یا کمزور معلوم ہو تو اسے دوبارہ لگا لیں۔ تار کے بورڈ پر لگے ہوئے سروں کو اچھی طرح دیکھیں کہ کوئی تار ٹوٹنے والی تو نہیں۔

سب کچھ درست ہو تو سرکٹ کو پاور سپلائی سے جوڑ دیں۔ پہلی مرتبہ لیزر ڈائیوڈ کی روشنی فوکس میں نہیں ہوگی۔ یہاں خاص طور پر خیال رکھیں کہ آپ نے آن حالت میں لیزر ڈائیوڈ کے روشنی خارج کرنے والے سرے کو براہ راست ہرگز نہیں دیکھنا۔ یہ عمل آپ کی بینائی کو خراب کرنے کا باعث ہو سکتا ہے کیونکہ لیزر شعاع بینائی کے لیے مضر ہے- چند میٹر کے فاصلے سے لیزر کی روشنی کسی دیوار پر ڈالیں۔ اس کے بعد لیزر ڈائیوڈ کا لینز متعین (Adjust)کریں۔ اس پر چوڑیاں لگی ہوتی ہے ان کو اندر اور باہر کی طرف گھما کر فوکس متعین کیا جا سکتا ہے۔ لینز کو اس طرح متعین کریں کہ روشنی کا نقطہ 2.3mmقطر کا بنے۔

اگر یہاں تک سب کچھ درست ہے تو اب آپ اپنے پروجیکٹ کو کسی مناسب سے کیس میں بند کر سکتے ہیں۔

لیزر ڈائیوڈ خراب ہو جائے تب بھی یہ لیزر شعاع خارج کر سکتا ہے تاہم اس کی قوت بہت کم ہوگی۔ اگر کبھی آپ محسوس کریں کہ لیزر شعاع کی قوت کم ہو گئی ہے تو لیزر ڈائیوڈ کو تبدیل کر دیں۔

فہرست اجزاء

( سالڈ اسٹیٹ لیزر )

رزسٹرز    
R1 = 1K0 کاربن فلم رزسٹر ¼ واٹ‘ ٪5 شرح انحراف
R2 = 1K0 کاربن فلم رزسٹر ¼ واٹ‘ ٪5 شرح انحراف
R3 = 10R کاربن فلم رزسٹر ¼ واٹ‘ ٪5 شرح انحراف
کپیسیٹر    
C1 = 100µ الیکٹرولائیٹک
سیمی کنڈکٹر    
TR1 = A564 پی این پی سلیکان ٹرانزسٹر
TR2 = C828 این پی این سلیکان ٹرانزسٹر
D1 = 1N4001 ریکٹی فائر ڈائیوڈ
D2 = لیزر ڈائیوڈ
متفرق    
3V = بیٹری سیل
  = لیزر ڈائیوڈ کے لئے کیس‘ لینز وغیرہ۔

لاؤڈ اسپیکر بطور مائیکروفون

(امیر سیف اللہ سیف)


لاؤڈ اسپیکر آؤٹ پٹ آلہ ہے جو برقی سگنلز کو آواز میں تبدیل کرتا ہے۔ لیکن اس سرکٹ میں ہم اسے الٹ طور پر استعمال کریں گے یعنی مائیکروفون کے طور پر۔ اس طرح یہ آلہ آپ کی آواز کو برقی سگنلز میں تبدیل کرنے کا کام کرے گا۔ اکثر سرکٹس میں اس طرح کی ضرورت پیش آ جاتی ہے کہ اسپیکر ہی کو بطور مائیک استعمال کر لیا جائے۔ ایسی صورت میں یہ سرکٹ آپ کے کام آئے گا۔


لاؤڈ اسپیکر بطور مائیکروفون کا سرکٹ ڈایا گرام

آواز کی لہریں جب اسپیکر کی کون سے ٹکراتی ہیں تو اسے مرتعش کر دیتی ہیں جس سے وائس کوائل بھی حرکت کرتی ہے اور اسپیکر کے مقناطیسی میدان کی وجہ سے حفیف سے برقی سگنلز پیدا ہوتے ہیں۔اس سرکٹ کی مدد سے یہ برقی سگنلز کسی قدر ایمپلی فائی کر کے آؤٹ پٹ میں فراہم کر دیئے جاتے ہیں۔


لاؤڈ اسپیکر بطور مائیکروفون کے لیے پرنٹڈ سرکٹ بورڈ کانمونہ سائز 1.85x 1.3 انچ

سرکٹ 6وولٹ سے 12وولٹ تک کسی بھی سپلائی سے کام کر سکتا ہے۔ پہلا ٹرانزسٹر کامن بیس موڈ میں استعمال کیا گیا ہے۔ اس کی خصوصیت یہ ہےکہ یہ اسپیکر کی کم امپیڈینس سے میچ کرتا ہے نیز اس کا وولٹیج گین کافی بلند ہوتا ہے۔ دوسرا ٹرانزسٹر ایمی ٹر فالوور کے طور پر کام کر رہا ہے۔ اس کا وولٹیج گین اکائی سے خفیف سا کم ہے لیکن آؤٹ پٹ امپیڈینس کم ہوتی ہے جس کے باعث اس کی آؤٹ پٹ سے کافی لمبی تار جوڑی جا سکتی ہے۔


پرنٹڈ سرکٹ بورڈ پر لاؤڈ اسپیکر بطور مائیکروفون کے اجزا کی ترتیب

حاصل ہونے والی آواز کا معیار معیاری الیکٹریٹ مائیکروفون کی نسبت بہت عمدہ نہیں ہے تاہم عام استعمال کے لیے قابل قبول ہے۔ ان پٹ میں آپ ایک انچ سے تین انچ قطر کا اسپیکر جوڑ سکتے ہیں۔ یہاں پر 4 اوہم سے 64 اوہم تک کی امپیڈینس کا اسپیکر بخوبی استعمال کیا جا سکتا ہے تاہم زیادہ امپیڈینس کے اسپیکر کے لیے آپ کو 8.2 اوہم رزسٹر کی قدر تبدیل کرنی پڑے گی تاکہ اسپیکر کی اپنی امپیڈینس کو میچ کیا جا سکے۔۔

فہرست اجزاء

( لاؤڈ اسپیکر بطور مائیکروفون )
رزسٹرز    
R1 = 2M2 کاربن فلم ¼ واٹ
R2 = 5K6 کاربن فلم ¼ واٹ
R3 = 8R2 کاربن فلم ¼ واٹ
R4 = 2K2 کاربن فلم ¼ واٹ
کپیسیٹرز    
C1 = 220µ, 25V الیکٹرو لائیٹک
C2 = 220µ, 25V الیکٹرو لائیٹک
C3 = 100µ, 25V الیکٹرولائیٹک
سیمی کنڈکٹرز    
Q1 = BC109C ٹرانزسٹر
Q2 = BC109C ٹرانزسٹر
متفرق    
LS1 = 4-64اوہم لاؤڈ اسپیکر (تفصیل مضمون میں)
SW = آن آف سوئچ
BT1 = 6-12V بیٹری یا پاور سپلائی

مکھیوں سے نجات

(امیر سیف اللہ سیف)

انسان ہوں یا جانور‘ مکھیوں سے دونوں پریشان رہتے ہیں۔ خاص طور پر گھروں میں مکھیاں انتہائی پریشان کن بلکہ مضر صحت ماحول پیدا کر دیتی ہیں۔ ان سے بچائو کے لیے جراثیم کش ادویات بھی ناکافی ثابت ہوتی ہیں۔ مکھیاں ہر جگہ موجود ہیں اور بے شمار مقامات پر نہایت تیزی سے پیدا ہوتی ہیں۔ ہمارے ہاں صفائی کے انتظامات بے حد ناکافی ہیں۔ رہائشی علاقوں میں پانی کے نکاس کا انتظام بھی درست نہیں اور جگہ جگہ کوڑے کرکٹ کے ڈھیر سونے پر سہاگہ ہیں۔ ایسے ماحول میں مکھیاں نہایت آسانی سے پیدا ہوتی ہیں اور ان کی نسل میں اضافے کی رفتار حیران کن ہوتی ہے۔

مکھیوں سے بچائو کے متعدد طریقے موجود تو ہیں لیکن ان طریقوں پرعمل کے نتیجے میں مزید کئی مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔ کیمیائی ادویات کا چھڑکائو وقتی طورپر تو موثر ثابت ہوتاہے لیکن یہ ادویات مکھیوں کی تمام اقسام کے لیے کارگرثابت نہیں ہوتیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ان ادویات کا مسلسل استعمال ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافے کا باعث بنتا ہے۔

اس مضمون میں ہم مکھیوں کو ہلاک کرنے والے ایک الیکٹرونک آلے کی تشکیل پر روشنی ڈالیں گے۔ یہ دراصل ہائی وولٹیج کی ایک جالی پر مشتمل ہے۔مکھیاں جوں ہی اس جالی پر آتی ہیں بلند وولٹیج کا لمحاتی جھٹکا انہیں فوراً ہلاک کر دیتا ہے۔ یہ آلہ بیٹری سے بھی چلتا ہے اور آپ اسے شمسی توانائی (سولرانرجی) سے بھی چلا سکتے ہیں۔ اگر ضرورت محسوس ہو تو اسے آپ ایڈاپٹر کے ذریعے منیز اے سی سپلائی سے بھی پاور مہیا کر سکتے ہیں۔

زیرنظرکنٹرولر یونٹ کو خودکار طور پر بھی آن اور آف کرایا جا سکتا ہے اور ایسا آپ خود بھی اپنی مرضی سے کر سکتے ہیں۔ اس میں ایک فوٹو الیکٹرک سیل لگایا گیا ہے جو رات کے وقت یا گہرے بادلوں کی آمد پر‘ جو عموماً بارش لانے کا باعث بنتے ہیں‘ کنٹرولر کو آف کر دیتا ہے۔

فوٹو ٹرانزسٹر کنٹرولر کو برقی رو کی فراہمی اس وقت تک معطل رکھتا ہے جب تک روشنی کی مقدار ایک خاص حد تک بڑھ نہ جائے‘ کنٹرولر‘ پاور ملنے پر‘ ایک یا دو سیکنڈ کے وقفوں سے ہائی وولٹیج پیدا کر تا ہے تاکہ بیڑی کی زندگی طویل ہو سکے۔ سولر پاور کی خصوصیت کے باعث اس سے کنٹرولر کو چلایا گیا ہے اور بیٹری کو چارج کرایا گیا ہے۔

کنٹر ولر سے پیدا ہونے والے پیک ٹو پیک وولٹیج کی مقدار کم از کم 0 300 وولٹ ہے جو 3mm کے فاصلے کو پھلانگ ( جمپ Jump کر) سکتے ہیں۔ ہائی وولٹیج ڈسچارج کرنٹ کی قدر 8mA ہے جسے انسان کے لیے محفوظ تصور کیا جاتا ہے تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ اس سے دور نہ رہیں۔ا یسی صورت میں آپ کو اچانک لگنے والا جھٹکا بذات خود تو کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا لیکن اچانک جھٹکے کے باعث آپ گر سکتے ہیں یا کسی چیزسے ٹکراکر زخمی ہو سکتے ہیں۔

سرکٹ ڈایا گرام

مکھیوں سے نجات دلانے والے کنٹرولر کا مکمل سرکٹ ڈایا گرام شکل نمبر 1 میں دکھایا گیا ہے۔ یہ سرکٹ‘ سوئچنگ‘ پلسنگ اور ہائی وولٹیج آئوٹ پٹ حصوں پر مشتمل ہے۔ پاور مہیا کرنے کے لیے سرکٹ سے ایک تا 5 واٹ کا سولر پینل اور 12V کی بیٹری (موٹر سائیکل یا مووی کیمرے کی) درکار ہوگی۔ اگر آپ اس یونٹ کو مینز اے سی پاور سے چلانا چاہتے ہیں تو پھر 12V کا ایڈاپٹر یا پاور سپلائی استعمال کر سکتے ہیں۔

ہائی وولٹیج پیدا کرنے کے لیے سرکٹ میں ایک اگنیشن کوائل استعمال کیا گیا ہے جسے ایک جالی یا گرڈ سے منسلک کیا گیا ہے۔ یہ جالی متوازی طور پرلگی ہوئی موٹی تاروں پر مشتمل ہے۔ اس جال پرمکھیاں آ کر بیٹھیں گی اور ہلاک ہو جائیں گی۔


شکل نمبر 1 مکھیوں سے نجات دلانے والے کنٹرولر کا مکمل سرکٹ ڈایا گرام۔

ایل ای ڈی فلیشر آسی لیٹر آئی سی LM3909 کو ملنے والے وولٹیج 6V سے 9V تک محدود رکھے گئے ہیں بلکہ یہ عمل وولٹیج کنٹرولر IC1 کے ذریعے سرانجام دیا گیا ہے۔ آئی سی LM3909 پلسز کا ایک سلسلہ پیدا کرتا ہے جسے ٹرانزسٹر 2N2222A سے ملایا گیا ہے تاکہ سوئچنگ سرکٹ تشکیل دیا جا سکے۔ IC2 سے ٹرانزسٹر کی طرف آنے والی آئوٹ پٹ‘ پلس کرنٹ میں اتنا اضافہ کردیتی ہے کہ اس سے 5V ریلے Ry1 کے کنٹیکٹ بند (کلوز) ہوسکیں۔ یہ عمل ہر ایک سے دو سیکنڈ کے وقفے سے 0.1 سیکنڈ کے لیے (یعنی اتنے وقفے تک ریلے کے کنٹیکٹ کلوز رہتے ہیں) سرانجام دیا جاتا ہے۔ ریلے کے متوازی لگا ہوا ڈائیوڈ D1‘ کو ائل کے سروں پر پیدا ہونے والے ہائی وولٹیج اثرات کو شنٹ کر دیتا ہے تاکہ ٹرانزسٹر خراب نہ ہو۔

فوٹو ٹرانزسٹر Q3 کے ذریعے سرکٹ کو رات کے وقت یا گہرے بادلوں کے وقت آف رکھنے کا بندوبست کیا گیا ہے۔ جوں جوں روشنی کی اوسط مقدار میں کمی واقع ہوتی ہے Q3 کی اندرونی رزسٹینس میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ اس اضافے سے‘ ٹرانزسٹر Q1 کی بیس پر مثبت بائس میں کمی واقع ہوتی ہے حتیٰ کہ ٹرانزسٹر کٹ آف ہو جاتا ہے۔ فوٹو ڈائیوڈ کے کلکٹر پر ایک ایل ای ڈی لگا کر وولٹیج ڈراپ کرنے کا بندوبست کیا گیا ہے۔

سنگل پول سنگل تھرو ریلے سوئچ Ry1 کے ذریعے ٹائمر NE755 آئی سی IC3 کو 12V بیٹری وولٹیج کے پلسز مہیا کئے گئے ہیں۔ ٹائمر آئی سی کو اس سرکٹ میں فری رننگ آڈیو فریکوئنسی پلس جنریٹر کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ اس آئی سی سے پیدا ہونے والے پلسز کو پاور ٹرانزسٹر 2N3055 کے ذریعے ایمپلی فائی کیا گیا ہے۔ پاور ٹرانزسٹر کی آئوٹ پٹ گاڑی کی اگنیشن کوائل T1 کو چلانے کے لیے استعمال کی گئی ہے تاکہ گرڈ (جالی) کے لیے ہائی وولٹیج پیدا کئے جا سکیں۔ T1 کی سیکنڈری پر وولٹیج کی مقدار 12,000 وولٹ پیک ٹو پیک (تقریباً) ہوگی۔


شکل نمبر 2 مکھیوں سے نجات دلانے والے کنٹرولر کا تیار شدہ نمونہ جسے بریڈ بورڈ پر نصب کیا گیا ہے۔

اصل تیارکردہ یونٹ کو 12V کی ری چارج ایبل بیٹری سے پاور مہیا کی گئی تھی۔ یہ موٹر سائیکل میں استعمال ہونے والی لیڈ ایسڈ بیڑی تھی۔ اسے دن کے وقت چارج کرنے کے لیے ایک واٹ کا 12V والا سولر پینل استعمال کیا گیا تھا۔

کنٹرولر کی تشکیل

اصل یونٹ کو بریڈ بورڈ پر نصب کیا گیا تھا۔ بیٹری سولر پینل اور اگنیشن کوائل بریڈ بورڈ سے باہر جوڑے گئے تھے۔ آپ اپنی مرضی سے ان اجزاء کو نصب کرنے کے لیے کوئی بھی مناسب طریقہ استعمال کر سکتے ہیں۔و یروبورڈ پر یا پی سی بی تیار کرکے اس پر تمام اجزاء جوڑے جا سکتے ہیں۔

آپ پروجیکٹ کو نصب کرنے کے لیے جو طریقہ بھی استعمال کریں‘ چند باتوں کا ضرور خیال رکھیں۔ کپیسٹر C6 کو T1 کی پرائمری سے جتنا ممکن ہو اتنا قریب رکھ کر جوڑ دیں۔ سرکٹ کے اجزاء نصب کرنے کے بعد اچھی طرح چیک کریں کہ تمام اجزاء درست لگے ہیں۔ اس کے بعد سرکٹ کو پاور مہیا کریں۔ اگنیشن کوائل کے مرکز پر اسپارک چیک کریں۔

ہائی وولٹیج گرڈ

گرڈ یا جالی کی ساخت کنگھی نما دو اجزاء پر مشتمل ہے۔ شکل نمبر 3 میں ان کی تفصیل کے لیے ایک خاکہ دیا گیا ہے۔ 16 نمبر کی تار سے آپ یہ گرڈ بنا سکتے ہیں۔ اس طرح کی تار کپڑوں کے ہینگر بنانے میں بھی استعمال کی جاتی ہے۔ متبادل طور پر آپ 12 نمبر کی تانبے کی ٹھوس تار بھی استعمال کر سکتے ہیں۔


شکل نمبر 3 مکھیوں سے نجات دلانے والے کنٹرولر کے لیے درکار جالی کی بناوٹ کا خاکہ۔

جالی کے لیے مطلوبہ سائز اور تعداد میں تاریں کاٹ اور موڑ کر ان کو لکڑی یا پلائی وڈ کے ٹکڑے پر نصب کریں۔ تیاری کے بعد آپ یہ پینل عموداً یا ساٹھ درجے کے زاویے پرنصب کر سکتے ہیں۔ ایسے چار پینل تیار کرکے شکل نمبر 4 کے مطابق عموداً اور 60 درجے کے زاویے پر نصب کر دیں۔ ایک کنٹرولر سے آپ ایسی چار گرڈز کو منسلک کر سکتے ہیں۔ تمام پینل متوازی جوڑ کر‘ سرکٹ کی آئوٹ پٹ سے (اگنیشن کوائل T1 کی سیکنڈری سے) جوڑ دیں۔ گرڈ کی تاروں کو سہارنے کے لیے پورسلین کے ٹکڑے استعمال کریں تاکہ یہ لکڑی یا پلائی روڈ کے تختوں سے اوپر رہیں۔ اگر بارش یا نمی کی وجہ سے تختے نم ہو جائیں تو پورسلین کے یہ ٹکڑے شارٹ سرکٹ سے تحفظ مہیا کریں گے۔


شکل نمبر 4 ڈبے کے اوپر چار عدد گرڈز نصب حالت میں دکھائی گئی ہے۔

استعمال

مکھیوں سے نجات حاصل کرنے کے لیے تیار شدہ گرڈ اور سرکٹ کو شکل نمبر 4 کی تصویر کے مطابق کسی موزوں کیس یا ڈبے میں نصب کریں۔ اس ڈبے کا رخ اس طرح رکھیں کہ گرڈز کا منہ شمال او رمشرق کی جانب رہے۔تیار شدہ یونٹ کو ایسے مقام پرنصب کریں جہاں مکھیوں کی بہتات ہو تاہم بچوں سے محفوظ رکھیں۔


شکل نمبر 5 آٹو موبائل اگنیشن کوائل۔

آپ اس کی جگہ آسانی سے دستیاب ہونے والی کوئی بھی اگنیشن کوائل استعمال کر سکتے ہیں۔ گرڈز کو دن میں ایک مرتبہ ضرور چیک کریں۔ اگر ضروری ہو تو گرڈز کی صفائی کریں کیونکہ مری ہوئی مکھیاں گرڈ میں اٹک کر شارٹ سرکٹ کا باعث بن سکتی ہیں۔

احتیاط

کنٹرولر کی گرڈ پر موجود کرنٹ اگرچہ کافی قلیل ہے تاہم وقتی جھٹکا پہنچانے کے لیے وولٹیج کی مقدار کافی بلند ہے۔ ضروری ہے کہ یونٹ پر کام کرنے کے دوران‘ اس کا مقام بدلنے کے دوران یا صفائی وغیرہ کے لیے پاور آف کر دی جائے۔ اس یونٹ کو کسی ایسے مقام پر ہرگز نصب نہ کریں جہاں بچوں کی رسائی آسان ہو۔ اس یونٹ کو نصب کرنے کے بعد اس کے قریب ہائی وولٹیج سے خبردار کرنے والا بورڈ ضرور نصب کریں۔

فہرست اجزاء

(مکھیوں سے نجات حاصل کریں)
رزسٹرز    
R1 = 560R ¼ واٹ‘ ٪5 شرح انحراف کاربن فلم
R2 = 100R ¼ واٹ‘ ٪5 شرح انحراف کاربن فلم
R3 = 120R ¼ واٹ‘ ٪5 شرح انحراف کاربن فلم
R4,5 = 100K ¼ واٹ‘ ٪5 شرح انحراف کاربن فلم
R6,7 = 330R ¼ واٹ‘ ٪5 شرح انحراف کاربن فلم
کپیسیٹر    
C1 = 470µ, الیکٹرولائٹیک 25V
C2 = 0µ004, الیکٹرولائٹیک 25V
C3 = 0µ01, سرامک
C4 = 47µ, الیکٹرولائٹیک 25V
C5 = 0µ33, سرامک
C6 = 0µ007, سرامک 100V
سیمی کنڈکٹرز    
D1 = 1N4002 ریکٹی فائر ڈائیوڈ
IC1 = LM317T وولٹیج ریگولیٹر آئی سی
IC2 = LM3909 ایل ای ڈی فلیشر
IC3 = NE7555 یا NE555 ٹائمر آئی سی
LED1 = سرخ ایل ای ڈی
Q1 = 2N2222A یا متبادل سوئچنگ ٹرانزسٹر
Q2 = 2N3055 پاور ٹرانزسٹر
Q3 = انفراریڈ فوٹو ٹرانزسٹر
متفرق    
B1 = 12V لیڈ ایسڈ بیٹری
RY1 = 5V ریلے SPST
T1 = T یا CD نوعیت کی 12V اگنیشن کوائل

مین اے سی سپلائی وولٹیج انڈیکیٹر


(امیر سیف اللہ سیف)



یہ سرکٹ سی موس آئی سی CD4033 پر مشتمل ہے اور مین اے سی سپلائی وولٹیج کی موجودگی کو معلوم کر سکتا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اس کے لئے ضروری نہیں کہ برقی تار یا آلے سے اس کو برقی طور پر منسلک کیا جائے۔ اس آلے کی مدد سے مین اے سی سپلائی کی موجودگی معلوم کرنے کے لئے تار وغیرہ سے پلاسٹک انسولیشن کو چھیلنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔


اس آلے کی پروب کو تار کے پاس لے آئیں اور یہ اس تار میں مین اے سی سپلائی کی موجودگی کو ظاہر کر دے گا۔اگر مین اے سی سپلائی وولٹیج موجود نہیں ہیں تو یہ آلہ بے ترتیب انداز میں 0 سے 9 تک کا کوئی بھی ہندسہ مستقل طور پر ظاہر کرتا رہے گا۔ اگر مین اے سی سپلائی موجود ہو گی تو برقی میدان (الیکٹرک فیلڈ) اس آلے کی پروب کے راستے اثر انداز ہو گا۔ایسی صورت میں یہ آلہ ترتیب سے 0 تا 9 کے ہندسے ظاہر کرے گا اور اس ترتیب کو دہراتا رہے گا۔ 

چونکہ سرکٹ میں استعمال کردہ آئی سی سی موس نوعیت کا ہے جس کی ان پٹ امپیڈینس بہت بلند ہوتی ہے چنانچہ پروب کے راستے داخل ہونے والے معمولی سے وولٹیج بھی اس کاﺅنٹر آئی سی کو کلاک کرنے کے لئے کافی ہوں گے۔اسی وجہ سے اس پر نمودار ہونے والے ہندسے تیزی سے 0 سے 9 تک جائیں گے اور پھر یہ سلسلہ جاری رہے گا۔اس ترتیب سے نمودار ہونے والے ہندسے مین اے سی سپلائی کی موجودگی کو ظاہر کریں گے۔ جب آپ اس آلے کو اس تار سے، جس میں سے مین سپلائی گزر رہی ہے، دور لے جائیں گے تو مسلسل نمودار ہونے والے ہندسوں کا سلسلہ بند ہو جائے گا۔ اس آلے کو آپ نو وولٹ کی PP3 نوعیت کی بیٹری سے بخوبی چلا سکتے ہیں۔


فہرست اجزاء

( مین اے سی سپلائی وولٹیج انڈیکیٹرر )
رزسٹرز    
R1 = 100K کاربن فلم ¼ واٹ‘ ٪5 شرح انحراف
R2 = 100K کاربن فلم ¼ واٹ‘ ٪5 شرح انحراف
کپیسیٹر    
C1 = 0u1 سرامک
سیمی کنڈکٹرز    
IC1 = 4033 سی موس آئی سی
DS1 = کامن کیتھوڈ سیون سیگمنٹ ڈسپلے
متفرق    
S1 = آن آف سوئچ

میوزیکل گھنٹہ گھر برائے ڈیجیٹل کلاک

(امیر سیف اللہ سیف)

اگر آپ موسیقی کے رسیا ہیں تو یہ سرکٹ آپ کو سب سے زیادہ پر کشش محسوس ہوگا۔ یہ سرکٹ اپنے ڈیجیٹل کلاک کے ساتھ لگا کر آپ ہر گھنٹے بعد سولہ مختلف دھنوں والا الارم سن سکیں گے۔ میوزیکل گھنٹہ گھر کا یہ سرکٹ شکل میں دکھایا گیا ہے۔

میوزیکل گھنٹہ گھر کا سرکٹ پہلے دو سرکٹس کی نسبت مختلف ضروریات کا حامل ہے چنانچہ اس کے لیے مختلف ان پٹ کوڈنگ استعمال کی گئی ہے۔ پورا سرکٹ دو بڑے حصوں پر مشتمل ہے۔ پہلا حصہ کلاک سے آنے والے پلس ڈی ٹیکٹ کر کے‘ مطلوبہ ان پٹ پر رو بہ عمل ہوتا ہے اور اس کے نتیجے میں منسلک دوسرے حصے کو‘ جو دراصل ایک میوزیکل الارم ہے‘ پاور ملتی ہے اور وہ آن ہو کر سولہ مختلف سروں میں موسیقی بجاتا ہے۔

اس سرکٹ کے لئے کلاک چپ کی اکائی گھنٹے کی سیون سیگمنٹ آئوٹ پٹس a, f, e استعمال کی گئی ہیں۔ مختلف گیٹس پر مشتمل ڈی کوڈر سرکٹ کے ذریعے سیون سیگمنٹ آئوٹ پٹس a, f, e سے ملنے والی ان پٹس کی مدد سے ایسی لاجک آئوٹ پٹ حاصل کی گئی ہے جو ہر گھنٹے بعدایک لاجک لیول سے دوسرے لاجک لیول پر آ جاتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر پہلی مرتبہ یہ لاجک لیول ”1 “ مہیا کر رہی ہے تو اگلے گھنٹے کے مکمل ہونے پر یہ لاجک لیول ”0“ مہیا کرے گی۔

یہ عمل اس لئے ضروری ہے کہ اس آئوٹ پٹ سے ہم نے مونو شاٹ آئی سی 74121 کو ان پٹ مہیا کرنی ہے۔ یہ آئی سی تین ان پٹس کا حامل ہے جن میں سے ایک ان پٹ (پن 5 ) کو رزسٹر R7 کے راستے مثبت سپلائی سے مستقل طور پر جوڑ دیا گیا ہے۔ بقیہ دونوں ان پٹس میں سے ایک (پن 3) کو (جسے ہم ان پٹ A کہیں گے) ڈی کوڈر کے گیٹ A2 کی آئوٹ پٹ سے جوڑا گیا ہے۔ اسی آئوٹ پٹ کو انورٹر N4 کے راستے مونو شاٹ آئی سی کی دوسری ان پٹ (پن 4) سے ملایا گیا ہے (جسے ہم ان پٹ B کہیں گے)۔







میوزیکل گھنٹہ گھر کا سرکٹ ڈایا گرام برائے ڈیجیٹل کلاک
ڈایا گرام کے نیچے میوزیکل گھنٹہ گھر کے لئے پر نٹڈ سرکٹ بورڈ اصل سائز میں دکھایا گیا ہے-
سا تھ ہی پر نٹڈ سرکٹ بورڈ پر میوزیکل گھنٹہ گھر کے اجزا کی ترتیب بھی دکھائی گئی ہے -


میوزیکل گھنٹہ گھر کو نصب کرنے کے لئے پر نٹڈ سرکٹ بورڈ استعمال کیا جائے گا۔ ریگولیٹر آئی سی
IC7 کے علاوہ دیگر تمام اجزا پر نٹڈ سرکٹ بورڈ پر نصب کئے جائیں گے۔ یہاں پر میوزیکل گھنٹہ گھر
کے لئے پرنٹڈ سرکٹ بورڈ کا ایک نمونہ دکھایا گیا ہے۔ یہ اصل سائز میں ہے۔ بورڈ کو پہلے کسی دوسرے ٹرانزسٹر
کے لئے ڈیزائن کیا گیا تھا لیکن بعد میں پاور ٹرانزسٹر C1061 کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا گیا جس کی
وجہ سے اس کے لئے بورڈ پر مناسب سوراخ موجود نہیں ہیں لہذا اسے احتیاط سے نصب کریں۔


فرض کریں کہ پہلی مرتبہ آئوٹ پٹ ہائی یعنی لاجک 1 ہوتی ہے۔ مونو شاٹ کی ان پٹ A پر اس حالت میں ہائی لیول ہوگا جبکہ ان پٹ B پر انورٹر کے راستے یہی لاجک الٹ کر لو لیول ہو جائے گا۔ اس سے مونوشاٹ آئی سی ٹرگر کرکے اپنی آئوٹ پٹ کو ہائی کر دے گا۔ دوسری مرتبہ یہ لاجک الٹ جائے گا یعنی آئی سی کی ان پٹ A پر لو لیول اور ان پٹ B پر ہائی لیول ہو جائے گا۔ اس سے مونو شاٹ پھر ٹرگر کرکے اپنی آئوٹ پٹ کو ہائی کر دے گا۔

مونو شاٹ آئی سی کی آئوٹ پٹ کتنی دیر تک ہائی رہتی ہے اس کا تعین آئی سی کی پن 10 اور 11 کے درمیان لگا ہوا کپیسیٹر کرتا ہے۔ یہ کپیسیٹر C4 ہے۔ یہ رزسٹر R8 کے راستے چارج ہوتا ہے۔ چارجنگ وقفہ مندرجہ ذیل فارمولے سے معلوم کیا جا سکتا ہے:

(0.69xR8xC4)

فہرست اجزاء

( میوزیکل گھنٹہ گھر )
رزسٹرز          
R1 = 100K کاربن فلم R2 = 100K کاربن فلم
R3 = 100K کاربن فلم R4 = 1K0 کاربن فلم
R5 = 1K0 کاربن فلم R6 = 1K0 کاربن فلم
R7 = 1K5 کاربن فلم R8 = 68K کاربن فلم
R9 = 1K5 کاربن فلم R10 = 10K کاربن فلم
R11 = 1K0 کاربن فلم R12 = 39K کاربن فلم
R13 = 10K کاربن فلم R14 = 1K5 کاربن فلم
R15 = 5K6 کاربن فلم R16 = 5K6 کاربن فلم
R17 = 3K9 کاربن فلم R18 = 2K2 کاربن فلم
R19 = 10K کاربن فلم R20 = 10K کاربن فلم
کپیسیٹرز      
C1 = 0µ47 الیکٹرولائیٹک C2 = 0u1 سرامک ڈسک
C3 = 100u الیکٹرولائیٹک C4 = 220u الیکٹرولائیٹک
C5 = استعمال نہیں کیا گیا C6 = 4µ7 الیکٹرولائیٹک
C7 = 0µ033 سرامک ڈسک C8 = 25µ الیکٹرولائیٹک
C9 = 0µ1 سرامک ڈسک C10 = 1µ0 الیکٹرولائیٹک
C11 = 0µ22 سرامک ڈسک      
سیمی کنڈکٹرز          
N1-4 = 7404 ٹی ٹی ایل آئی سی A1-2 = 7404 ٹی ٹی ایل آئی سی
IC3 = 74121 ٹی ٹی ایل آئی سی IC4 = 555 ٹائمر آئی سی
IC5 = 7493 ٹی ٹی ایل آئی IC6 = 555 ٹائمر آئی سی
IC7 = 7805 ریگولیٹر آئی سی TR1 = C828 یا BC147 سلیکان ٹرانزسٹر
TR2 = C828 یا BC147 سلیکان ٹرانزسٹر TR3 = C828 یا BC147 سلیکان ٹرانزسٹر
TR4 = C1061 سلیکان ٹرانزسٹر      
متفرق          
LS = 8R اسپیکر      

واکی ٹاکی بنا ئیں

گھر‘ گودام‘ ورکشاپ یا دفتر میں دو طرفہ لاسلکی (وائرلیس) رابطہ قائم کریں

50MHz فریکوئنسی پر کام کرنے والا واکی ٹاکی کا مکمل پروجیکٹ

جس کی آئوٹ پٹ پاور 200mW ہے۔ بنانے میں آسان اور اجزا عام دستیاب ہیں۔

پی سی بی ڈیزائن اور دیگر تفصیلات کے ساتھ


واکی ٹاکی کا مطلب ہے چلتے پھرتے بات کرنا۔ یہ نام ایسے آلے کا ہے جس میں ٹرانسمٹر/رسیور دونوں آلے شامل ہوتے ہیں۔ اسے ٹرانسیور (Transciever) بھی کہتے ہیں۔ واکی ٹاکی دو آدمیوں کے درمیان رابطے کا کام دیتا ہے۔ ایک وقت میں ایک آدمی بات کر رہا ہوتا ہے اور دوسرا آدمی بات سن رہا ہوتا ہے۔ اس مقصد کے لئے واکی ٹاکی میں ایک سوئچ ہوتا ہے جسے پش ٹو ٹاک Push to Talk سوئچ کہتے ہیں۔

بلاک ڈایا گرام

واکی ٹاکی کا بلاک ڈایا گرام دیکھیں۔ سرکٹ کو سادہ اور کم خرچ رکھنے کے لئے واکی ٹاکی میں کچھ اجزا ٹرانسمٹر اور رسیور دونوں میں مشترک طور پر استعمال کیے جاتے ہیں۔ ان اجزا میں ایمپ لی فائر‘ اسپیکر اور ایرئل شامل ہیں۔ ایک سوئچ کے ذریعے یہ اجزا حسب ضرورت، باری باری ٹرانسمٹر اور رسیور سے منسلک کئے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ رسیور کے لئے ٹیونر سرکٹ اور ٹرانسمٹر کے لئے آسی لیٹر سرکٹ جو بالترتیب ٹرانزسٹر 2SC535 اور 2SC482 پر مشتمل ہیں ‘ الگ الگ استعمال کئے جاتے ہیں۔ واکی ٹاکی کے ان حصوں کو بلاک ڈایا گرام میں واضح کیا گیا ہے۔


شکل نمبر 1


سرکٹ ڈایا گرام

سرکٹ کا عمل بہت سادہ ہے اور آپ اسے بلاک ڈایا گرام کی مدد سے نہایت آسانی سے سمجھ سکتے ہیں۔ جب سرکٹ کا سوئچ SW1 حالت B میں ہوتا ہے تو سرکٹ ٹرانسمٹ Transmit حالت میں ہوتا ہے ۔ اس دوران میں سرکٹ کا ایرئل، آسی لیٹر سے(جو ٹرانزسٹر2SC482 پر مشتمل ہے) منسلک ہو جاتا ہے جب کہ اسپیکر ایمپ لی فائر کی ان پٹ سے منسلک ہو کر بطور مائیکروفون کام کرتا ہے۔ جیسا کہ آپ بلاک ڈایا گرام سے دیکھ سکتے ہیں ٹرانزسٹر TR3 تا TR5 بطور ایمپ لی فائر کام کر رہے ہیں۔ ان میں سے TR3,4 بطور پری ایمپ لی فائر کام کرتے ہیں۔ ٹرانسمٹ حالت میں یہ دونوں ٹرانزسٹر ‘ اسپیکر سے آنے والے سگنلز کو ایمپ لی فائی کرتے ہیں اور ان سگنلز کو پاور ایمپ لی فائر (ٹرانزسٹر 2N3053 ) کی ان پٹ پر دے دیتے ہیں۔ یہاں سے یہ سگنلز آسی لیٹر میں چلے جاتے ہیں اور آسی لیٹر کی آئوٹ پٹ کو ماڈولیٹ کرتے ہیں تاکہ آواز کو نشر کیا جا سکے۔آسی لیٹر کرسٹل کنٹرولڈ نوعیت کا ہے چنانچہ اس کی کارکردگی نہایت مستحکم ہے اور سگنل کی فریکوئنسی قائم رہتی ہے‘ اسے بار بار ٹیون نہیں کرنا پڑتا۔


شکل نمبر 2 : واکی ٹاکی کا سرکٹ ڈایا گرام


جب سرکٹ کا سوئچ SW1 حالت A میں ہوتا ہے تو سرکٹ رسیو Receive حالت میں ہوتا ہے ۔ اس دوران میں سرکٹ کا ایرئل، ٹیونر سے (جو ٹرانزسٹر 2SC535پر مشتمل ہے) منسلک ہو جاتا ہے جب کہ اسپیکر ایمپ لی فائر کی آئوٹ پٹ سے منسلک ہو کر بطور اسپیکرکام کرتا ہے۔ اس حالت میں ایرئل سے آنے والے سگنلز ٹیونر میں آتے ہیں جہاں پر ان کو ڈی ٹیکٹ/ڈی ماڈولیٹ کیا جاتا ہے اور پھر انہیں ایمپ لی فائر کی مدد سے بڑھا کر اسپیکر کے ذریعے سن لیا جاتا ہے۔ ٹرانسفارمر T1 اور T2 امپیڈینس میچنگ کے لئے ہیں اور یہ آڈیو ٹرانسفارمر ہیں ۔ ان کی پرائمری اور سیکنڈری وائنڈنگز کی امپیڈینس سرکٹ ڈایا گرام پر واضح کی گئی ہے۔

تشکیل

واکی ٹاکی کا یہ سرکٹ پی سی بی پر تشکیل دیا جائے گا جس کا نمونہ شکل نمبر 3 میں دیا گیا ہے۔ پی سی بی پر اجزا کی ترتیب کا خاکہ شکل نمبر 4 میں دکھایا گیا ہے۔ واضح رہے کہ پی سی بی پر تین عدد جمپر Jumper بھی لگانے ہوں گے۔


شکل نمبر 3 : واکی ٹاکی کے لئے پی سی بی ڈیزائن


اجزا کی تاریں ممکنہ حد تک چھوٹی رکھیں تاکہ سرکٹ میں غیر ضروری انڈکٹینس پیدا نہ ہو۔ یہ کافی بلند فریکوئنسی پر کام کرتا ہے چنانچہ اگر اجزا کی تاریں لمبی رکھیں گے اور ٹانکے وغیرہ صفائی سے نہیں لگائیں گے تو سرکٹ درست عمل نہیں کرے گا۔


شکل نمبر 4 : پی سی بی ڈیزائن پر واکی ٹاکی کے اجزا کی ترتیب


ٹرانزسٹرز کی تاروں کی پہچان کریں اور ان کو ان کے مقرر کردہ مقامات پر نصب کریں۔ الیکٹرو لائیٹک کپیسیٹرز کی پولیریٹی کا خیال رکھتے ہوئے نصب کریں۔


شکل نمبر 5 : واکی ٹاکی کے اسمبلڈ پی سی بی سے وائرنگ کرنے کا طریقہ


ریڈیو فریکوئنسی چوک RFC‘ کوائل L1 اور L2 کے علاوہ بقیہ تمام اجزا آپ کو بازار میں مل جائیں گے البتہ یہ اجزا (انڈکٹرز) آپ کو خود بنانے پڑیں گے۔ ان اجزا کا بنانا بھی بے حد آسان ہے۔ذیل میں ان کی تفصیل پیش ہے۔

کوائل L1:

کسی پرانے ریڈیو سیٹ میں سے ایسا فارمر حاصل کریں جس میں آئرن ڈسٹ کور موجود ہو۔ اس آئرن کور کا قطر 8mm ہونا چاہئے۔ اب فارمر کے اوپر درمیان میں 23SWG کاپر انیملڈ تار کے چار چکر قریب قریب لپیٹ لیں اور ان کو ایلفی یا اسی جیسے کسی دوسرے چپکنے والے مادے کی مدد سے اپنی جگہ پر قائم کر دیں۔ یاد رکھیں کہ کنیکشن کرنے کے لئے تار کا نصف انچ سرا دونوں طرف سے (شروع اور آخر) باہر نکالنا ہے۔ یہ وائنڈنگ خشک ہونے کے بعد اس کے اوپر اسی تار کا صرف ایک چکر لپیٹ کر سیکنڈری وائنڈنگ مکمل کریں۔ حسب سابق نصف انچ سرا دونوں طرف سے کنیکشن کے لئے چھوڑ دیں۔

کوائل L2:

یہ کوائل بھی L1 کی طرح بنائی جائے گی ۔ اسی فارمر پر درمیان میں 25SWG کاپر انیملڈ تار کے پانچ چکر قریب قریب لپیٹ لیں اور ان کو ایلفی یا اسی جیسے کسی دوسرے چپکنے والے مادے کی مدد سے اپنی جگہ پر قائم کر دیں۔ کنیکشن کرنے کے لئے تار کا نصف انچ سرا دونوں طرف سے (شروع اور آخر) باہر نکال لیں۔ یہ وائنڈنگ خشک ہونے کے بعد اس کے اوپر اسی تار کا صرف ایک چکر لپیٹ کر سیکنڈری وائنڈنگ مکمل کریں۔ حسب سابق نصف انچ سرا دونوں طرف سے کنیکشن کے لئے چھوڑ دیں۔

ریڈیو فریکوئنسی چوک RFC

یہ انڈکٹر ¼ واٹ کے کاربن فلم رزسٹر پر لپیٹا جائے گا۔100K قدر کا ایک رزسٹر لے لیں۔ اب 30SWG کاپر اینملڈ تار کا سرا چھیل کر رزسٹر کی ایک تار پر ‘ رزسٹر کی باڈی کے قریب ٹانکا لگا کر جوڑ دیں۔ اب بڑی احتیاط کے ساتھ رزسٹر کی باڈی پر قریب قریب تار کو لپیٹ لیں۔ ایک تہہ مکمل ہونے کے بعد دوسری تہہ لپیٹیں۔ اس طرح تہہ در تہہ 100 چکر مکمل کریں۔ چکر لپیٹنے کا رخ ایک ہی رکھیں۔ اس کے بعد اضافی تار کاٹ لیں اور اس کا سرا چھیل کر رزسٹر کی دوسری طرف والی تار پر ٹانکے سے جوڑ دیں۔ آپ کی ریڈیو فریکوئنسی چوک تیار ہے۔

تشکیل کا کام سارے اجزا کو ٹانکے لگا کر مکمل کریں اور باریک بینی سے سارے اجزا‘ ٹانکوں اور تاروں (جمپرز‘ بورڈ سے باہر کے کنیکشن وغیرہ) کو چیک کریں۔ سب کچھ درست ہو تو سرکٹ سے بیٹری جوڑ دیں۔ اب مرحلہ آتا ہے واکی ٹاکی کو ٹیون کرنے کا۔ صرف پہلی مرتبہ ٹیوننگ کافی ہو گی لیکن ٹیوننگ کے لئے آپ کو ایسے دو یونٹ درکار ہوں گے۔ ان ہی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے دوسرا یونٹ بھی مکمل کریں اور اب ٹیوننگ کی طرف چلیں۔

ٹیوننگ

ٹیوننگ کا عمل سرانجام دینے کے لئے دونوں سیٹ آن کریں۔ ایک سیٹ کا سوئچ ٹرانسمٹ حالت میں اور دوسرے کا سوئچ رسیور حالت میں رکھیں۔

اب جس سیٹ کا سوئچ رسیو حالت میں ہے اس کی کوائل L1 کی کور کو آہستہ آہستہ گھمائیں۔ یاد رہے کہ دوسرے سیٹ کو کسی ٹیپ پلیئر یا ٹی وی کے سامنے رکھیں یا پھر کسی دوست سے کہیں کہ وہ اس کے سامنے مسلسل کوئی لفظ مثلاً ہیلو وغیرہ کہتا رہے۔ رسیو والے سیٹ پر کوائل L1 کی کور کو گھماتے ہوئے آواز وصول کرنے کی کوشش کریں۔ کسی ایک مقام پر آواز آنا شروع ہو جائے گی۔ اگر اس طریقے سے آواز وصول نہ ہو تو پھر ٹرانسمٹ حالت میں رکھے ہوئے سیٹ کی کوائل L2 کو ٹیون کریں۔ اس طرح بار بار کوشش کر کے آپ آواز وصول کر لیں گے۔ ایک سیٹ کی ٹیوننگ مکمل ہو نے کے بعد اب ان کے سوئچ کی حالت بدل دیں یعنی جو رسیو حالت میں ہے اسے ٹرانسمٹ حالت میں لے آئیں اور جو ٹرانسمٹ حالت میں ہے اسے رسیو حالت میں لے آئیں۔ سارا عمل دہرائیں۔

اب آپ کے دونوں سیٹ ٹیون ہو گئے ہیں۔ جب تک بیٹری ایک خاص حد سے نیچے تک ڈسچارج نہیں ہوگی دونوں سیٹ کام کرتے رہیں گے۔ جیسا کہ پہلے بتایا جا چکا ہے سرکٹ میں لگا ہوا آسی لیٹر کرسٹل کنٹرولڈ ہے چنانچہ اس کی نشریاتی فریکوئنسی مستحکم رہے گی۔

فہرست اجزاء

( واکی ٹاکی )

رزسٹرز

تمام رزسٹر ¼ واٹ‘ ٪5 شرح انحراف کے حامل ہیں
  R1 = 22K کاربن فلم   R2 = 4K7 کاربن فلم
  R3 = 470R کاربن فلم   R4 = 22K کاربن فلم
  R5 = 2K2 کاربن فلم   R6 = 33K کاربن فلم
  R7 = 4K7 کاربن فلم   R8 = 1K0 کاربن فلم
  R9 = 470R کاربن فلم   R10 = 1K0 کاربن فلم
  R11 = 33K کاربن فلم   R12 = 4K7 کاربن فلم
  R13 =   استعمال نہیں کیا گیا   R14 = 470R کاربن فلم
  R15 = 12K کاربن فلم   R16 = 15K کاربن فلم
  R17 = 10R کاربن فلم

کپیسیٹرز

  C1 = 30p سرامک یا پولی ایسٹر   C2 = 0µ022 سرامک یا پولی ایسٹر
  C3 = 10p سرامک یا پولی ایسٹر   C4 = 0µ0047 سرامک یا پولی ایسٹر
  C5 = 0µ0022 سرامک یا پولی ایسٹر   C6 = 33p سرامک یا پولی ایسٹر
  C7 = 0µ022 سرامک یا پولی ایسٹر   C8 = 22p سرامک یا پولی ایسٹر
  C9 = 4µ7 الیکٹرولائیٹک   C10 = 47µ الیکٹرولائیٹک
  C11 = 4µ7 الیکٹرولائیٹک   C12 = 33µ الیکٹرولائیٹک
  C13 = 4µ7 الیکٹرولائیٹک   C14 = 33µ الیکٹرولائیٹک
  C15 = 33µ الیکٹرولائیٹک   C16 = 220µ الیکٹرولائیٹک

سیمی کنڈکٹر

  TR1 = 2SC535 این پی این ٹرانزسٹر   TR2 = 2SC482 این پی این ٹرانزسٹر
  TR3 = 2SC460 این پی این ٹرانزسٹر   TR4 = 2SC460 این پی این ٹرانزسٹر
  TR5 = 2N3053 این پی این ٹرانزسٹر   XTAL = 49.860MHz کرسٹل

متفرق

  L1 =   تفصیل مضمون میں   L2 =   تفصیل مضمون میں
  RFC =   تفصیل مضمون میں   T1 =   پرائمری : 8K0 سیکنڈری :2K0
  T2 =   پرائمری 8R سیکنڈری : 500R   LS =   8R0 لائوڈ سپیکر
  B1 =   9V0بیٹری   ANT =   لوپ اسٹک
  SW1 =   8 پول ٹو وے پش سوئچ   SW2 =   آن آف سوئچ

ٹیلی فون ہولڈ آن میوزک


(امیر سیف اللہ سیف)


جیسا کہ سرکٹ ڈایا گرام سے ظاہر ہے، اس سرکٹ میں میلوڈی آئی سی UM66 استعمال کیا گیا ہے۔ایسا UM66 استعمال کریں جس کے نمبر کے آخر میں S نہ لکھا ہو۔ S نمبر والا آئی سی صرف ایک مرتبہ میوزک چلا کر بند ہو جاتا ہے جبکہ ہمارے اس سرکٹ کو غیر معینہ وقفے کے لئے کام کرنا ہے۔

اس سرکٹ کو نصب کرنے کے لئے یہاں پر تین مختلف سائز کے پی سی بورڈ نمونے دیئے جا رہے ہیں تاکہ جگہ اور مقام کی مناسبت سے آپ اس سرکٹ کو نصب کرنے کے لئے مناسب پی سی بی منتخب کر سکیں۔




سرکٹ ڈایا گرام میں آن آف سوئچ بھی دکھایا گیا ہے۔ یہاں پر دیئے گئے بڑے سائز کے پی سی بی پر تو یہ سوئچ لگایا گیا ہے لیکن چھوٹے سائز کے پی سی بی پر یہ آن آف سوئچ نہیں لگایا گیا۔ اگر آپ نے یہ سرکٹ کسی ایسے مقام پر لگانا ہے جہاں جگہ کم ہو، مثال کے طور پر ٹیلی فون سیٹ کے اندر،تو پھر وہاں اس پی سی بی کے اوپر ہی یہ آن آف سوئچ لگانے کی ضرورت نہیں۔ اگر یہ سوئچ لگانا لازمی ہو تو ٹیلی فون سیٹ کی باڈی میں کسی مناسب مقام پر جگہ بنا کر وہاں آن آف سوئچ لگا لیں اور تار کے دو عددٹکڑوں سے اسے پی سی بی پر جوڑ دیں ۔اس سرکٹ کوپی سی پر نصب کر کے آپ نے ٹیلی فون سیٹ کے اندر لگانا ہے۔ ایسی صورت میں اگر یہ سوئچ پی سی بی کے اوپر ہی لگایا گیا تو اسے آن آف کرنا ممکن نہیں ہوگا۔

آئی سی UM66 میں چار مختلف میوزک موجود ہیں جن کی تفصیل یہ ہے۔

UM66-1 = Chrismas Melodies
UM66-2 = Birthday Melodies
UM66-3 = Wedding March
UM66-4 = Elvis Love Me Tender

فہرست اجزاء

( ٹیلی فون ہولڈ آن میوزک )
رزسٹرز    
R1 = 4K7 کاربن فلم
R2 = 150K کاربن فلم
VR1 = 10K پری سیٹ پوٹینشو میٹر
کپیسیٹرز    
C1 = 4µ7 الیکٹرولائیٹک
C2 = 4µ7 الیکٹرولائیٹک
سیمی کنڈکٹر    
IC1 = UM66 میلوڈی آئی سی(تفصیل مضمون میں)
Q1,2 = C828 سلیکان ٹرانزسٹر
D1-4 = 1N4001 ریکٹی فائر ڈائیوڈ
متفرق    
SW1 = آن آف سلائیڈ سوئچ(ڈبل پول سنگل تھرو)

پاور بوسٹر

(امیر سیف اللہ سیف)

اکثر اوقات ریلے‘سٹیپرموٹر یا ایسے ہی کسی بڑے لوڈ کو چلانے کے لیے ڈیجیٹل سگنل درکار ہوتا ہے۔ اس مقصد کے لیے متعلقہ آلے کی آؤٹ پٹ کرنٹ اور آؤٹ پٹ وولٹیج میں اضافہ کرنا لازمی ہوتا ہے۔چند لاجک جزاءکانسٹینٹ وولٹیج اوپن کلکٹر آئوٹ پٹس کے حامل ہیں تاہم یہ بھی 15V یا 30V تک محدود ہیں۔

ایک آسان ترکیب استعمال کرکے 7406 یا 7407 لاجک ٹی ٹی ایل آئی سی کی آئو ٹ پٹ بھی اوپن کلکٹر آئوٹ پٹ کے طور پر استعمال کی جا سکتی ہے۔ اس کا طریقہ شکل میں دکھایاگیا ہے۔ یہ اجزاءآپ شکل کے مطابق جوڑ کر بہت کم جگہ میں نصب کر سکتے ہیں۔ چونکہ اس اضافی سرکٹ کی آئوٹ پٹ سے حاصل ہونے والا سگنل انورٹ حالت میں ہوگا چنانچہ 7407 کی نان انورٹنگ نوعیت استعمال کرنی ہوگی تاکہ انورٹڈ آئوٹ پٹ حاصل ہو۔

ٹرانزسٹر کا انتخاب مطلوبہ آئوٹ پٹ کے اعتبار سے کریں۔ ٹرانزسٹر BC546 استعمال کرنے کی صورت میں آئوٹ پٹ 65V پر 200mA تک ہوگی۔




پاور بوسٹر کا سرکٹ ڈایا گرام اور اجزا کو جوڑنے کا طریقہ

گھریلو حفاظتی نظام

نادیدہ لہروں کی مدد سے حفاظتی نظام تشکیل دینے کا عمل نیا نہیں ہے۔ نہایت قیمتی سازوسامان کی حفاظت کا بڑے پیمانے پر انتظام ایسی نادیدہ لہروں کی مدد کیا جاتا ہے۔ جب ان نادیدہ شعاعوں یا لہروں کے تسلسل میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو کوئی سائرن، الارم یا دوسرے آلات رو بہ عمل ہو جاتے ہیں۔

یہاں پر ایک ایسے ہی کم لاگت کے حفاظتی نظام کا بندوبست کرنے کے لئے سرکٹ ڈایا گرام اور دیگر تفصیلات مہیا کی گئی ہیں۔ یہ نظام چوروں اور بلا اجازت آپ کے گھر تک رسائی حاصل کرنے والوں سے آپ کو فورا” آگاہ کرے گا۔ آج کل بازار میں چین کی بنی ہوئی لیزر ٹارچ کافی کم قیمت پر عام دستیاب ہے۔ اس نظام میں اسی ٹارچ کو استعمال کیا گیا ہے۔ آپ چاہیں تو لیزر ڈائیوڈ کی مدد سے آپ اپنی ٹارچ بھی بنا سکتے ہیں۔ اس کا سرکٹ ڈایا گرام اور طریقہ کار بھی مہیا کیا گیا ہے۔

جیسا کہ شکل میں دکھائے گئے بلاک ڈایا گرام سے واضح ہے۔ گھر کی بیرونی دیواروں کے کونوں پر سادہ آئینے اس طرح نصب کئے گئے ہیں کہ جب لیزر شعاع ان سے ٹکرا کر منعکس ہو گی تو ان شعاعوں کا ایک جال سا بن جائے گا۔ جب بھی ان شعاعوں میں سے کسی بھی ایک شعاع کے راستے میں کوئی بھی رکاوٹ آ کر، چاہے وہ ایک لمحے ہی کے لئے کیوں نہ ہو، اسے آگے جانے سے روک دے گی تو سرکٹ فورا“ رو بہ عمل ہو کر سائرن، الارم یا کسی بھی دوسرے حفاظتی آلے کو آن کر دے گا۔

لیزر شعاع آئنوں سے منعکس ہوتی ہوئی بالاخرایک ایل ڈی آر سے ٹکراتی ہے جو رسیور سرکٹ میں لگا ہوا ہے۔ اس ایل ڈی آر کو مناسب لمبائی (چار انچ مناسب رہے گی) کے ایک پائپ کے سرے پر نصب کرنا ضروری ہے تاکہ ایل ڈی آر دوسری روشنیوں سے متاثر نہ ہو۔



شکل نمبر 1 گھریلو حفاظتی نظام کی تنصیب کے لئے رہنما خاکہ


شکل نمبر 2 لیزر بیم (تیار شدہ) کے لئے رسیور سرکٹ ڈایا گرام


شکل نمبر 3 لیزر بیم خود بنانے کے لئے سرکٹ ڈایا گرام


شکل نمبر 4 لیزر بیم سرکٹ کی تشکیل کے لئے پی سی بی کا نمونہ


شکل نمبر 5 لیزر بیم سرکٹ کے پی سی بی پر اجزا کی ترتیب


شکل نمبر 6 لیزر بیم سرکٹ کا نصب شدہ خاکہ


شکل نمبر 7 رسیور سرکٹ کی تشکیل کے لئے پی سی بی کا نمونہ


شکل نمبر 8 رسیور سرکٹ کے پی سی بی پر اجزا کی ترتیب


شکل نمبر 9 رسیور سرکٹ کا نصب شدہ خاکہ

اس حفاظتی نظام کا رسیور سرکٹ چند عام دستیاب پرزہ جات پر مشتمل ہے۔ ان میں دو عدد اسٹیپ ڈاؤن ٹرانسفارمرز، ریکٹی فائر ڈائیوڈز، فلٹر کپیسیٹرز، دو عدد ریلے سوئچز، ایک پی این پی ٹرانزسٹر اور ایک ایل ڈی آر پر مشتمل ہے۔ جب ایل ڈی آر پر لیزر بیم منعکس ہوتی ہوئی آتی ہے اور جب تک موجود رہتی ہے، ٹرانزسٹر روبہ عمل حالت میں رہتا ہے اور اس سے منسلک ریلے سوئچ بھی آن حالت میں رہتا ہے۔ جوں ہی لیزر بیم کے سامنے کوئی رکاوٹ پیدا ہوتی ہے، ایل ڈی آر کی رزسٹینس میں اضافہ ہو جاتا ہے اور ٹرانزسٹر آف حالت میں آ جاتا ہے۔ ٹرانزسٹر آف ہونے سے ریلے سوئچ بھی آف ہو جاتا ہے اور اس کا نارملی کلوزڈ کنکشن، کامن کنکشن سے مل کر دوسرے ٹرانسفارمر کو مین اے سی سپلائی سے منسلک کر دیتا ہے۔ جوں ہی اس ٹرانسفارمر کو مین اے سی سپلائی ملتی ہے اس سے منسلک ریلے سوئچ آن ہو کر کسی سائرن، الارم یا دوسرے آلے کو آن کر دیتا ہے۔

نوٹ :لیزر بیم سرکٹ خود بنانے کے لئے مکمل پروجیکٹ “سالڈ اسٹیٹ لیزر“ پڑھیں۔

12 وولٹ ٹیوب لائٹ انورٹر

(امیر سیف اللہ سیف)

اس ٹیوب لائٹ انورٹر میں کوئی بھی مخصوص پرزہ جات استعمال نہیں کئے گئے۔ عام طور پر ایسے سرکٹس میں استعمال ہونے والے ٹرانسفارمر خاص طور پر بنانے پڑتے ہیں لیکن اس میں آپ عام دستیاب پاور سپلائی ٹرانسفارمر جو 12 وولٹ سیکنڈری کا ہو، استعمال کر سکتے ہیں۔ ٹیوب لائٹ کو روشن کرنے کے لئے کوئی بھی 12 وولٹ کا ایسا ٹرانسفارمر جس کی کرنٹ ریٹنگ 350mA ہو، کافی رہے گا۔اس سرکٹ میں یہ ٹرانسفارمر الٹا استعمال ہوگا یعنی 220V سیکنڈری کو ایک کپیسیٹر کے راستے ٹیوب لائٹ سے جوڑا جائے گا جبکہ 12Vپرائمری کو میٹل آکسائیڈ سیمی کنڈکٹر فیلڈ ایفیکٹ ٹرانزسٹر MOSFET کی آؤٹ پٹ سے جوڑا جائے گا۔ٹرانزسٹر Q1 کو لازماً ہیٹ سنک پر نصب کریں۔ آؤٹ پٹ میں خاصے وولٹیج ہوں گے لہذا آن حالت میں سرکٹ پر کام کرتے وقت محتاط رہیں۔



12 وولٹ ٹیوب لائٹ انورٹر کا سرکٹ ڈایا گرام


12 وولٹ ٹیوب لائٹ انورٹرکے لئے پرنٹڈ سرکٹ بورڈ                       12 وولٹ ٹیوب لائٹ انورٹرنصب شدہ   


پرنٹڈ سرکٹ بورڈ پر 12 وولٹ ٹیوب لائٹ انورٹرکے اجزا کی ترتیب

فہرست اجزاء

( 12وولٹ ٹیوب لائٹ انورٹر)

رزسٹرز    
R1 = 1K0 رزسٹر ¼ واٹ
R2 = 2K7 رزسٹر ¼ واٹ
کپیسیٹرز    
C1 = 100µF، 25V الیکٹرو لائیٹک
C2,3 = 0µ01F، 25Vسرامک ڈسک
C4 = 0µ01F، 1KV سرامک ڈسک
سیمی کنڈکٹرز    
Q1 = IRF510 موس ایف ای ٹی
IC1 = 555 ٹائمر آئی سی
متفرق    
T1 = 12V، ٹرانسفارمر 350mA (تفصیل مضمون میں)
  = 210V مین سپلائی اے سی کیبل پلگ کے ساتھ

8051 مائیکرو کنٹرولر ٹرینر





8051 مائیکرو کنٹرولر ٹرینر کا سرکٹ ڈایا گرام




8051 مائیکرو کنٹرولر ٹرینر کے لئے پرنٹڈ سرکٹ بورڈ کا نمونہ
( اصل سائز 159mm x 108mm)۔




8051 مائیکرو کنٹرولر ٹرینر کے پرنٹڈ سرکٹ بور پر اجزا کی ترتیب




8051 مائیکرو کنٹرولر ٹرینر نصب شدہ حالت میں۔

دو ٹون الارم

(امیر سیف اللہ سیف)

ڈیجیٹل کلاک کے ساتھ عام طور پر ڈی سی بذر بطور الارم استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کی آواز نہ صرف کم ہوتی ہے بلکہ کانوں کو اچھی بھی نہیں لگتی۔ آیئے آپ کو ایک ایسا الارم بنانے کا طریقہ بتائیں جو نہ صرف دو ٹون میں آواز دے گا بلکہ اس کی آواز بھی خاصی بلند ہوگی اور مزے کی بات یہ ہے کہ اس کی آواز کانوں کو بری بھی نہیں لگے گی۔

دوٹون الارم کا سرکٹ ڈایا گرام شکل نمبر 1 میں دکھایا گیا ہے۔ اس سرکٹ میں ٹائمر آئی سی 555 کو ایسٹیبل ملٹی وائبریٹر کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ اس ایسٹیبل ملٹی وائبریٹر کی فریکوئنسی 800Hz رکھی گئی ہے۔ ٹائمر آئی سی کی کنٹرول ان پٹ (پن 5) پر کلاک آئی سی کی پن 39 سے 1Hz آئوٹ پٹ فراہم کی گئی ہے۔ اس طرح ٹائمر کی فریکوئنسی ہر سیکنڈ بعد تبدیل ہوتی ہے اور اس کی آؤٹ پٹ سے دو ٹون کی آواز نکلتی ہے۔





شکل نمبر 1 : ٹائمر آئی سی 555 پر مشتمل دو ٹون الارم سرکٹ ڈایا گرام برائے ڈیجیٹل کلاک
ڈایا گرام کے نیچے دو ٹون الارم کے لئے پر نٹڈ سرکٹ بورڈ اصل سائز میں دکھایا گیا ہے - سا تھ ہی پر نٹڈ سرکٹ بورڈ پر دو ٹون الارم کے اجزا کی ترتیب بھی دکھائی گئی ہے -

فہرست اجزاء

( دو ٹون الارم )
رزسٹرز    
R1 = 68K کاربن فلم
R2 = 56K کاربن فلم
R3 = 10K کاربن فلم
R4 = 10K کاربن فلم
R5 = 33R کاربن فلم
R6 = 100K کاربن فلم
کپیسیٹرز    
C1 = 0µ01 سرامک
C2 = 100µ الیکٹرولائیٹک
C3 = 100n سرامک
C4 = 100µ الیکٹرولائیٹک
سیمی کنڈکٹر    
IC1 = 555 ٹائمر آئی سی
متفرق    
LS = 8W اسپیکر

ساؤنڈ لیول میٹر

(امیر سیف اللہ سیف)

اگرچہ آئی سی NE604 بنیادی طور پر ہائی فریکوئنسی اطلاقات کےلئے تجویز کردہ ہے تاہم اسے دوسری ضروریات کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے جیسا کہ زیر نظر سرکٹ میں اسے آڈیو اطلاقات (ساؤنڈ لیول میٹر کے طور پر ) کیلئے استعمال کیا گیا ہے۔

سرکٹ میں آئی سی کا سگنل اسٹرینتھ انڈیکیٹر کام میں لایا گیا ہے جو اندرونی لاگ رتھمک کنورٹر کی بنیاد پر کام کرتا ہے۔ اس کی وجہ سے ہم ہموار (لینئر) ڈیسی بل اسکیل حاصل کر سکتے ہیں چنانچہ سرکٹ میں دکھائے گئے موونگ کوائل میٹر کی جگہ ڈیجیٹل آلہ بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

سرکٹ کے لیے سگنل کی فراہمی کا ممکنہ ذریعہ الیکٹریٹ (کنڈنسر) مائیکروفون تصور کیا گیا ہے جو ارد گرد کی آوازوں کو برقی اشاروں (الیکٹریکل سگنلز) میں تبدیل کرتا ہے۔ اس نوعیت کے مائیکروفون میں عام طور پر ایک بفر اسٹیج موجود ہوتی ہے چنانچہ رزسٹرز R7، R8 اور کپیسیٹر C13 کے ذریعے اس بفر اسٹیج کے لئے پاور سپلائی وولٹیج مہیا کئے گئے ہیں۔

الیکٹریٹ (کنڈنسر) مائیک کے ذریعے آئی سی NE604 کی پن 16 پر ان پٹ مہیا کی گئی ہے۔ ان پٹ موصول ہونے پر NE604 پن 5 پر، جو کہ سگنل اسٹرینگتھ (اسٹرینتھ) کی آؤٹ پٹ ہے، 0 تا 50 مائیکرو ایمپئرµ A آؤٹ پٹ کرنٹ مہیا کرتا ہے۔ یہ آؤٹ پٹ کرنٹ، رزسٹر R2+R3 کے آرپار 0 تا 5V کا پوٹینشل ڈفرینس پیدا کرتی ہے۔ ان پٹ اور آؤٹ پٹ سگنل کی حدود 70dB کی صوتی حدود کے برابر یا متبادل ہیں۔ درجہ حرارت میں تبدیلی کی وجہ سے ہونے والے اثرات کا مداوا کرنے کے لئے 100 kΩ کی مطلوبہ رزسٹینس حاصل کرنےکے لئے دو رزسٹرز R2 اور R3 نیز ڈائیوڈ D1 استعمال کئے گئے ہیں۔

آؤٹ پٹ وولٹیج میں باقی رہنے والی کسی بھی نوعیت کی کوئی ناہمواری ختم کرنے کے لئےR4 رزسٹر اور کپیسیٹرزC9، C10 کو استعمال کیا گیا ہے۔ یہ اجزا آؤٹ پٹ کو آئی سی IC2 سے بفر (Buffer) کرنے سے قبل استعمال کئے گئے ہیں۔ ساؤنڈ لیول کو ظاہر کرنے کے لئے استعمال کردہ آلہ (یہاں پر موونگ کوائل میٹر) آئی سی کی آؤٹ پٹ پن 6 سے براستہ سیریز رزسٹرزR6+P1 مسلک کیا گیا ہے۔ اس پری سیٹ پوٹینشو میٹر (P1) کو اس طرح متعین (ایڈ جسٹ) کرنا ہے کہ 4V0 کے آؤٹ پٹ وولٹیج پر میٹر فل اسکیل ڈیفیلکشن (FSD) ظاہر کرے۔

اس ساؤنڈ لیول میٹر کی درجہ بندی (کیلی بریشن Calibration) کے لئے تدبیری طریقہ استعمال کرنا پڑے گا۔ دوسری صورت میں آپ کو پہلے سے درجہ بند آلے کی ضرورت پڑے گی۔ اگر آپ اپنے لاؤڈ اسپیکر کی کارکردگی سے بخوبی آگاہ ہیں اور جانتے ہیں کہ ایک میٹر فاصلے پر ایک واٹ آؤٹ پٹ کی صورت میں یہ کتنے ڈیسی بیل مہیا کرتا ہے تو آپ اس کو بطور حوالہ استعمال کر سکتے ہیں۔ اس کے بعد میٹر کے ڈائل یا اسکیل کو اسی کے مطابق دوسری اندازا“ مقداروں کے لئے نشان زدہ کیا جا سکتا ہے۔ اس ساؤنڈ لیول میٹر کی درجہ بندی چاہے کسی بھی طریقے سے کی جائے، ہمیشہ اس سے حاصل ہونے والی قدر کو صرف ظاہری مقدار کا اندازہ کرنے کے لئے استعمال کیا جائے۔ اس سے حاصل ہونے والی قدر درست ترین یا قطعی قدر نہیں ہوگی۔


آئی سی NE604N کے پن کنکشن اور اندرونی وائرنگ ڈایا گرام


ساؤنڈ لیول میٹر کا سرکٹ ڈایا گرام۔



ساؤنڈ لیول میٹر کیلئے پی سی بی کا نمونہ اور اجزاءکی پی سی بی پر ترتیب کا خاکہ۔


ساؤنڈ لیول میٹر کی کارکردگی کا گراف۔

گھنٹہ گھربرائے ڈیجیٹل کلاک -I

(امیر سیف اللہ سیف)

اس مفید پروجیکٹ کو بنا کر آپ اپنے ڈیجیٹل کلاک سے ہر گھنٹے بعد ایک بیپ Beep کی آواز میں گھنٹہ گزرنے کا اعلان سن سکتے ہیں۔

اس سرکٹ کے کام کرنے کی بنیاد یہ حقیقت ہے کہ جب ڈیجیٹل کلاک پر ایک گھنٹہ مکمل ہو جاتا ہے تو اس کے اکائی اور دہائی منٹ ظاہر کرنے والے ڈسپلے پر دو صفر 00 نمودار ہو جاتے ہیں۔ ایسا صرف ایک گھنٹے میں ایک ہی مرتبہ ہوتا ہے۔ اس صورت میں اکائی اور دہائی منٹ ڈسپلے آؤٹ پٹ سیگمنٹ f پر لاجک لیول 0 اور سیگمنٹٹ g پر لاجک لیول 1 ہوتا ہے۔ یہ حقیقت ذیل میں دی گئی جدول سے واضح ہے۔

جدول : اکائی منٹ ڈسپلے آؤٹ پٹ

                                                    ڈسپلے سیگمنٹ                            
ڈجٹ a b c d e f g
0 0 0 0 0 0 0 1
1 1 0 0 1 1 1 1
2 0 0 1 0 0 1 0
3 0 0 0 0 1 1 0
4 1 0 0 1 1 0 0
5 0 1 0 0 1 0 0
6 0 1 0 0 0 0 0
7 0 0 0 1 1 1 1
8 0 0 0 0 0 0 0
9 0 0 0 0 1 0 0

نوٹ: یہ جدول کامن اینوڈ نوعیت کے ڈسپلے کے لئے ہے۔
کامن کیتھوڈ نوعیت کے ڈسپلے کے لئے لاجک 0 کی جگہ لاجک 1
پڑھا جائے اور اسی طرح لاجک 1 کی جگہ لاجک 0 پڑھا جائے۔

جدول سے یہ بھی واضح ہے کہ ڈسپلے آؤٹ پٹ سیگمنٹ f اور g پر لاجک لیول کی یہ صورت بقیہ کسی ہندسے کے ڈسپلے ہونے سے پیدا نہیں ہوتی۔اسی لاجک کیفیت کو استعمال کرتے ہوئے ہم ایسا سرکٹ تشکیل دے سکتے ہیں جو عین اسی وقت روبہ عمل ہو اور اس وقت تک رو بہ عمل رہے جب تک یہ کیفیت برقرار رہے۔ شکل میں ایسا ہی ایک سرکٹ دکھایا گیا ہے۔





گھنٹہ گھر I کا سرکٹ ڈایا گرام برائے ڈیجیٹل کلاک
ڈایا گرام کے نیچے گھنٹہ گھر I کے لئے پر نٹڈ سرکٹ بورڈ اصل سائز میں دکھایا گیا ہے - سا تھ ہی پر نٹڈ سرکٹ بورڈ پر گھنٹہ گھر I کے اجزا کی ترتیب بھی دکھائی گئی ہے -

اس سرکٹ میں سی موس آئی سی 4011 اور 4012 استعمال کئے گئے ہیں۔ سرکٹ ڈایا گرام میں دکھائے گئے گیٹ N1 اور N2 آئی سی 4011 کے اور گیٹ N3 اور N4 آئی سی 4012 کے ہیں۔ گیٹ N1 اور N2 دو ان پٹ نینڈ گیٹ ہیں جن کی دونوں ان پٹس کو باہم جوڑ دیا گیا ہے۔ ان دونوں ان پٹس سے کلاک آئی سی کی اکائی منٹ اور دہائی منٹ کی سیگمنٹ f آؤٹ پٹس جوڑی جائیں گی۔ باقی کنیکشن سرکٹ ڈایا گرام میں واضح کئے گئے ہیں جن کو سمجھنا آپ کے لئے مشکل نہیں ہوگا۔

سرکٹ کا عمل اس طرح ہے کہ جب کلاک ڈسپلے پر منٹ کے ہندسے (اکائی اور دہائی) 00 ہوں گے تو دونوں ڈجٹس کے f سیگمنٹ لاجک 0 پر جبکہ ان کے g سیگمنٹ لاجک 1 پر ہوں گے۔ یہ کیفیت بقیہ کسی بھی وقت نمودار نہیں ہوتی چنانچہ اس کیفیت کے نمودار ہونے پر گیٹ N3 کی آؤٹ پٹ لو ہو جائے گی۔ اس گیٹ کی آؤٹ پٹ لو ہونے پر گیٹ N4 کی آؤٹ پٹ ہائی ہو جائے گی اور بذر بجنا شروع ہو جائے گا۔

آپ دیکھ رہے ہیں کہ گیٹ N4 کی آؤٹ پٹ اور بذر کے درمیان ایک کپیسیٹر لگا یا گیا ہے۔ اس کپیسیٹر کا کام یہ ہے کہ بذر کو مسلسل بجنے سے روکا جائے۔ آپ یہاں پر 10µF سے 100µF تک کی قدر کا کپیسیٹر استعمال کر سکتے ہیں۔ کپیسیٹر کی قدر زیادہ ہوگی تو بذر زیادہ دیر تک آواز دے گا اور اگر کپیسیٹر کی قدر کم ہوگی تو بذر سے آنے والی آواز بھی کم وقفے کے لئے سنائی دے گی۔

فہرست اجزاء

( گھنٹہ گھر I )
رزسٹرز    
  = استعمال نہیں کیا گیا
کپیسیٹرز    
C1 = 10-100u الیکٹرولائیٹک (تفصیل مضمون میں دیکھیں)
C2 = 10n سرامک یا پولی ایسٹر
C4 = 100u الیکٹرولائیٹک
سیمی کنڈکٹرز    
N1, N2 = 4011 سی موس آئی سی
N3, N4 = 4012 سی موس آئی سی
D1 = 1N4148 سگنل ڈائیوڈ
BZ = 6V پیزو سرامک بذر

ہر دس منٹ بعد بجنے والا الارم



اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ آپ کا ڈیجیٹل کلاک ہر دس منٹ بعد ایک آواز کے ذریعے وقت کی نشاندہی کر ے تو یہ سرکٹ آپ کی اس خواہش کو پورا کرے گا۔ سرکٹ بہت آسان ہے اور اس میں بھی سی موس آئی سی 4011 استعمال کیا گیا ہے۔ ہر دس منٹ بعد بجنے والے الارم کا سرکٹ شکل میں دکھایا گیا ہے۔

جدول : دہائی منٹ ڈسپلے ؤٹ پٹ

ڈسپلے سیگمنٹ

ڈجٹ abcdefg
00000001
11001111
20010010
30000110
41001100
50100100

نوٹ: یہ جدول کامن اینوڈ نوعیت کے ڈسپلے کے لئے ہے۔
کامن کیتھوڈ نوعیت کے ڈسپلے کے لئے لاجک 0 کی جگہ لاجک 1
پڑھا جائے اور اسی طرح لاجک 1 کی جگہ لاجک 0 پڑھا جائے۔





ہر دس منٹ بعد بجنے والے الارم کا سرکٹ ڈایا گرام
ڈایا گرام کے نیچے ہر دس منٹ بعد بجنے والے الارم کے لئے پر نٹڈ سرکٹ بورڈ اصل سائز میں دکھایا گیا ہے-
سا تھ ہی پر نٹڈ سرکٹ بورڈ پر ہر دس منٹ بعد بجنے والے الارم کے اجزا کی ترتیب بھی دکھائی گئی ہے-

اس سرکٹ کی ان پٹ بھی دہائی منٹ کے سیگمنٹ f اور g سے لی گئی ہے۔ ان پٹ پر مختلف لاجک لیول جدول میں دکھائے گئے ہیں۔ یہ جدول کامن اینوڈ نوعیت کے ڈسپلے کے لئے ہے۔ کامن کیتھوڈ نوعیت کے ڈسپلے کے لئے لاجک 0 کی جگہ لاجک 1 پڑھا جائے اور اسی طرح لاجک 1 کی جگہ لاجک 0 پڑھا جائے۔ آئی سی کے گیٹس کو مختلف ترتیب میں جوڑ کر ہر دس گھنٹے بعد ایک ٹک کی آواز حاصل کی گئی ہے۔ اس سرکٹ میں آئی سی کے صرف تین گیٹ استعمال کئے گئے ہیں۔ تیسرے گیٹ کی آﺅٹ پٹ ایک کپیسیٹر کے راستے پیزو سرامک بذر کو فراہم کی گئی ہے۔ اس کپیسیٹر کی قدر کم رکھنے سے ٹک کی آواز آئے گی لیکن اگر آپ اس کی قدر زیادہ رکھیں گے تو بذر زیادہ وقفے کے لئے آواز دے گا۔

فہرست اجزاء

( ہر دس منٹ بعد بجنے والا الارم )
کپیسیٹر    
C1 = 10µ الیکٹرولائیٹک
سیمی کنڈکٹر    
N1-3 = 4011 سی موس آئی سی
N3, N4 = 4012 سی موس آئی سی
متفرق    
BZ = 6V پیزو سرامک بذر

الیکٹرونک کیلکولیٹرز

بیٹری لائف کیلکولیٹر

مطلوبہ قدریں درج کریں اور “حل کریں“ کا بٹن دبائیں۔ نتائج ذیل میں ظاہر ہو جائیں گے۔ نی قدریں لکھنے کے لئے “صاف کریں“ کا بٹن دبائیں۔

قدریں درج کریں:

بیٹری کی استعداد کار : ملی ایمپئر گھنٹے
بیٹری کی کھپت (خرچ): ملی ایمپئر

حل شدہ قدر (نتیجہ):

بیٹری لائف: گھنٹے

وولٹیج ڈراپ کیلکولیٹر

یہ کیلکولیٹر ایسے برائوزرز پر کام کرے گا جن میں ”جاوا اسکرپٹ“ سپورٹ موجود ہے۔

اس کیلکولیٹر کی مدد سے آپ اے سی یا ڈی سی سرکٹ میں ہونے والے نقصانات (لاس فیکٹر Loss Factor) کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ اس سے حاصل ہونے والی قدریں تقریبا“ درست ہوں گی۔

اس میں استعمال کردہ فارمولے میں جو تار گیج استعمال کیا گیا ہے وہ امریکن اسٹینڈرڈ وائر گیج AWG کے مطابق ہے۔ تاہم دوسری جگہ امریکن وائر گیج کو اسٹینڈرڈ وائر گیج SWG میں تبدیل کرنے کا چارٹ دیا گیا ہے وہاں سے ان دونوں معیارات کا موازنہ کیا جا سکتا ہے۔

تار کے علاوہ سرکٹ بورڈ میں بھی ہونے والے وولٹیج ڈراپ کا ایک اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ تانبے، ایلومینئم، چاندی اور سونے کی تاروں میں ہونے والا وولٹیج ڈراپ معلوم کرنے کی سہولت موجود ہے۔

تار کا سائز معلوم کرنے کی ضرورت ہو تو دوسری جگہ دیا گیا وائر سائز کیلکولیٹر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

اس کیلکولیٹر سے حاصل ہونے والی قدریں قطعی مقداروں پر مشتمل نہیں بلکہ یہ اندازا“ قدریں ہیں یعنی اس سے حاصل ہونے والی مقداریں تقریبا“ درست ہوں گی۔ اس سے آپ ہونے والا وولٹیج ڈراپ اندازا“ معلوم کر سکیں گے۔



مطلوبہ مقداریں درج کریں
حالات منتخب کریں
دھات منتخب کریں
سائز منتخب کریں
وولٹیج اور فیز منتخب کریں
تار یا سرکٹ کی کل لمبائی کا نصف درج کریں فٹ
للوڈ درج کریں ایمپئر
   
حل شدہ مقداریں اندازا
اندازا“ ڈراپ وولٹ
سرکٹ کے آخر میں لوڈ وولٹ
وولٹیج ڈراپ شرح فیصد
کنڈکٹر CMA

فریکوئنسی ویولینتھ کیلکولیٹر

یہ کیلکولیٹر کسی بھی فریکوئنسی کے سگنل کی ویولینتھ معلوم کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔کوئی بھی فریکوئنسی (عددی مقدار) لکھیں، اس کی اکائی منتخب کریں اور مطلوبہ ویو لینتھ قدر (فل، ہاف، کوارٹر وغیرہ) کے بٹن پر کلک کریں۔فریکوئنسی کی متبادل ویو لینتھ (طول موج) فٹ، انچ اور میٹر میں معلوم ہو جائے گی۔ کیلکولیٹر چلانے پر پہلے سے 27.185 مقدار (میگا ہرٹز) میں خود بخود شامل ہو جائے گی۔ یہ چینل 19 کی فریکوئنسی ہے جو سٹیزن بینڈ کہلاتا ہے نیز اسے ہائی وے چینل بھی کہا جاتا ہے۔ویو لینتھ معلوم کرنے کےلیے دیئے گئے بٹن فل ویو، تھری کوارٹر ویو، آٹھ میں سے پانچ 5/8 ویو، ہاف ویو اور کوارٹر ویو کے لیے ہیں۔ ویو لینتھ کی مقداریں میٹرک قدروں یعنی میٹرز اور ملی میٹرز نیز امریکی مقداروں یعنی فٹ اور انچ میں دستیاب ہیں۔

مطلوبہ فریکوئنسی لکھنے کے لیے “صاف کریں“ بٹن دبائیں اور فریکوئنسی کے خانے میں فریکوئنسی کی عددی مقدار لکھیں۔ اس کے بعد فریکوئنسی کی اکائی کے خانے میں سے ہرٹز، کلو ہرٹز، میگا ہرٹز یا گیگا ہرٹز میں سے مطلوبہ اکائی کو منتخب کریں۔ پہلے فل ویو کا بٹن دبا کر اصل فریکوئنسی بینڈ اور ویو لینتھ معلوم کر لیں بعد میں دیگر مقداریں دیکھی جا سکتی ہیں۔ تاہم جواب کسی بھی بٹن کی مطابقت سے کسی بھی وقت حاصل کیا جا سکتا ہے۔

آر ایف سگنل فریکوئنسی ویو لینتھ

مطلوبہ مقداروں (ڈیٹا) کا اندراج

فریکوئنسی درج کریں عددی مقدار
فریکوئنسی کی اکائی
         

حاصل شدہ نتائج

درج کردہ فریکوئنسی کی حدود    میٹر بینڈ میں ہے جو تقریبا“ میٹر ہے
فریکوئنسی ویولینتھ فٹ
فریکوئنسی ویولینتھ انچ
فریکوئنسی ویولینتھ میٹر
فریکوئنسی ویو لینتھ    میٹر بینڈ حد میں ہے، جو تقریبا“ میٹر ہے
فریکوئنسی ویو لینتھ ملی میٹرز
منتخب کردہ          اکائی
درج کردہ فریکوئنسی ہرٹز میں
درج کردہ فریکوئنسی کلو ہرٹز میں
درج کردہ فریکوئنسی میگا ہرٹز میں
درج کردہ فریکوئنسی گیگا ہرٹز میں
     میٹر بینڈ      فریکوئنسی حدود (رینج) اور استعمال
     160 میٹر      1800-2000 کلوہرٹز HAM ریڈیو
     120 میٹر      2300-2498 کلو ہرٹز براڈ کاسٹنگ
     90 میٹر      3200-3400 کلو ہرٹز براڈ کاسٹنگ
     80 میٹر      3500-4000 کلوہرٹز HAM ریڈیو
     60 میٹر      4750-4995 کلو ہرٹز براڈ کاسٹنگ
     49 میٹر      5950-6250 کلو ہرٹز براڈ کاسٹنگ
     41 میٹر      7100- 7300 کلو ہرٹز براڈ کاسٹنگ
     40 میٹر      7000-7300 کلوہرٹز HAM ریڈیو
     31 میٹر      9500-9900 کلو ہرٹز براڈ کاسٹنگ
     30 میٹر      10100-10150 کلوہرٹز HAM ریڈیو
     25 میٹر      11650-11975 کلو ہرٹز براڈ کاسٹنگ
     22 میٹر      13600-13800 کلو ہرٹز براڈ کاسٹنگ
     20 میٹر      14000-14350 کلوہرٹز HAM ریڈیو
     19 میٹر      15100-15600 کلو ہرٹز براڈ کاسٹنگ
     17 میٹر      18068-18168 کلوہرٹز HAM ریڈیو
     16 میٹر      17550-17900 کلو ہرٹز براڈ کاسٹنگ
     15 میٹر      21000-21450 کلوہرٹز HAM ریڈیو
     13 میٹر      21450-21850 کلو ہرٹز براڈ کاسٹنگ
     12 میٹر      24890-24990 کلوہرٹز HAM ریڈیو
     11 میٹر      25670-27990 کلو ہرٹز براڈ کاسٹنگ, سٹیزن بینڈ (CB)
     10 میٹر      28000-29700 کلوہرٹز HAM ریڈیو

اوہمز لاء پاور کیلکولیٹر

یہ کیلکولیٹر ایسے برائوزرز پر کام کرے گا جن میں ”جاوا اسکرپٹ“ سپورٹ موجود ہے۔

ذیل میں چار جدول دیئے گئے ہیں جن میں بالترتیب پاور (واٹ میں)، کرنٹ (ایمپئر میں)، وولٹیج (وولٹس میں) اور رزسٹینس (اوہمز میں) معلوم کرنے کے لیے کیلکولیٹر موجود ہیں۔ ہر جدول اوہمز لا کے متعلقہ فارمولے کے مطابق قدریں ظاہر کرتا ہے۔ ان میں سے ہر ایک جدول میں آپ کو تین میں سے کوئی سی دو مقداریں درج کرنا ہوں گی۔ بقیہ مقداریں “حل کریں“ والا بٹن دبا کر معلوم کی جا سکتی ہیں۔

پاور معلوم کرنے کے لیے مندرجہ ذیل فارمولا استعمال کیا گیا ہے

W = V x I or W = I2 x R or W = V2 / R
پاور سے متعلقہ دیگر بنیادی فارمولے مندرجہ ذیل ہیں
I = W / V or I = (W / R)2
V = (W x R)2 or V = W / I
R = V2 / W or R = W / I2
اوہمز لاء پاور کیلکولیٹر

واٹ معلوم کرنے کے لیے

سرکٹ میں پاور معلوم کرنے کے لیے
استعمال ہونے والا فارمولا
یا W = V x I
یا W = I2 x R
    W = V2 / R
میں سے کوئی سی دو مقداریں لکھیں R اور I، V

وولٹیج(V)      کرنٹ(I)      رزسٹینس(R)
 
 



حل شدہ پاور

کرنٹ معلوم کرنے کے لیے

سرکٹ میں کرنٹ معلوم کرنے کے لیے
استعمال ہونے والا فارمولا
یا I = V / R
یا I = W / V
        I = (W / R)2
میں سے کوئی سی دو مقداریں لکھیں R, W, V

وولٹیج(V)      پاور (W)       رزسٹینس(R)
کیا یہ تھری فیز ہے؟
(سرکٹ تھری فیز ہو تو رزسٹینس درج نہ کریں)



حل شدہ کرنٹ


وولٹیج معلوم کرنے کے لیے

سرکٹ میں وولٹیج معلوم کرنے کے لیے
استعمال ہونے والا فارمولا
یا V = I x R      
یا V = (W x R)2
V = W / I  
میں سے کوئی سی دو مقداریں لکھیں R, I, W

پاور(W)      کرنٹ(I)      رزسٹینس(R)




حل شدہ وولٹیج


رزسٹینس معلوم کرنے کے لیے

سرکٹ میں رزسٹینس معلوم کرنے کے لیے
استعمال ہونے والا فارمولا
یا R = V / A
یا R = V2 / W
R = W / I2
میں سے کوئی سی دو مقداریں لکھیں W, I, V

وولٹیج (V)       کرنٹ (I)       پاور (W)




حل شدہ رزسٹینس


ایل ای ڈی رزسٹر کیلکولیٹر

یہ کیلکولیٹر ایسے برائوزرز پر کام کرے گا جن میں ”جاوا اسکرپٹ“ سپورٹ موجود ہے۔

ایل ای ڈی رزسٹر کیلکولیٹر

ایک ایل ای ڈی - سلسلے وار (سیریز میں) ایل ای ڈی - متوازی (پیرلل میں) ایل ای ڈی

AlGaInP نوعیت کے ایل ای ڈی کے لئے وولٹیج ڈراپ عام طور پر 1.9V تا 2.1V ہوتا ہے۔
InGaN نوعیت کے ایل ای ڈی کے لئے وولٹیج ڈراپ عام طور پر 3.1V تا 3.5V ہوتا ہے۔
انفرا ریڈ نوعیت کے ایل ای ڈی کے لئے وولٹیج ڈراپ عام طور پر 1.2V ہوتا ہے۔

AlGaInP نوعیت کے ایل ای ڈی کی کرنٹ عام طور پر 50mA ہوتی ہے۔
InGaN نوعیت کے ایل ای ڈی کی کرنٹ عام طور پر 30mA ہوتی ہے۔
UFO نوعیت کے ایل ای ڈی کی کرنٹ عام طور پر 20mA ہوتی ہے۔

سپلائی وولٹیج عام طور پر وہ ہوتے ہیں جو آپ کے پاس دستیاب ہیں یا اس سرکٹ پر منحصر ہوتے ہیں جس میں ایل ای ڈی کو استعمال کرنا ہے۔ عام طور پر یہ مقداریں 6V، 3V یا 12V ہوتی ہیں۔

مطلوبہ قدریں درج کر کے “حل کریں“ کا بٹن دبائیں۔


ایک ایل ای ڈی:
ایک ایل ای ڈی ایک رزسٹر کے ساتھ
سپلائی وولٹیج
  وولٹس
ایل ای ڈی کے گرد وولٹیج ڈراپ
  وولٹس
ایل ای ڈی کی مطلوبہ کرنٹ
  ملی ایمپئرز


کرنٹ محدود کرنے والے رزسٹر کی حل کردہ قدر
  اوہمز
10% شرح انحراف رزسٹرز کی نزدیکی اضافی قدر
  اوہمز
رزسٹر کی قوت (واٹیج) کی حل کردہ قدر
  وات
رزسٹر کی قوت (واٹیج) کی محفوظ قدر
  وات

سلسلے وار (سیریز میں) ایل ای ڈی :
سلسلے وار (سیریز میں) ایل ای ڈی
سپلائی وولٹیج
وولٹس
ایل ای ڈی کے گرد وولٹیج ڈراپ
  وولٹس
ایل ای ڈی کی مطلوبہ کرنٹ
  ملی ایمپئرز
کتنے ایل ای ڈی جڑے ہیں
 



کرنٹ محدود کرنے والے رزسٹر کی حل کردہ قدر
  اوہمز
10% شرح انحراف رزسٹرز کی نزدیکی اضافی قدر
  اوہمز
رزسٹر کی قوت (واٹیج) کی حل کردہ قدر
  وات
رزسٹر کی قوت (واٹیج) کی محفوظ قدر
  وات

متوازی (پیرلل میں) ایل ای ڈی:
متوازی (پیرلل میں) ایل ای ڈی
سپلائی وولٹیج
  وولٹس
ایل ای ڈی کے گرد وولٹیج ڈراپ
  وولٹس
ایل ای ڈی کی مطلوبہ کرنٹ
  ملی ایمپئرز
کتنے ایل ای ڈی جڑے ہیں
 



کرنٹ محدود کرنے والے رزسٹر کی حل کردہ قدر
  اوہمز
10% شرح انحراف رزسٹرز کی نزدیکی اضافی قدر
  اوہمز
رزسٹر کی قوت (واٹیج) کی حل کردہ قدر
  وات
رزسٹر کی قوت (واٹیج) کی محفوظ قدر
  وات

ٹرانزسٹر سمولیٹر و کیلکولیٹر

یہ کیلکولیٹر ایسے براؤزرز پر کام کرے گا جن میں ”جاوا اسکرپٹ“ سپورٹ موجود ہے۔

یہ کیلکولیٹر ٹرانزسٹر کی خصوصیات معلوم کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس میں ریاضی کے وہ فارمولے شامل ہیں جن کو ٹرانزسٹر کے سلسلے میں اخذ کیا گیا ہے۔ ابتدائی طور پر چند قدریں خود کار طریقے سے استعمال کی گئی ہیں لیکن آپ ان کو مطلوبہ حقیقی قدروں سے تبدیل کر سکتے ہیں۔ بائیں طرف مقررہ قدریں درج کی جاتی ہیں جبکہ ان سے حاصل ہونے والی قدریں دائیں طرف نظر آتی ہیں۔ درمیان میں ٹرانزسٹر کا بنیادی سرکٹ دکھایا گیا ہے۔ بائیں طرف کے حصے میں نچلی جانب پی این پی یا این پی این پولیریٹی کا ٹرانزسٹر حسب ضرورت متنخب کیا جا سکتا ہے۔ درمیان میں نظر آنے والا سرکٹ منتخب شدہ پولیریٹی کے مطابق خود بخود تبدیل ہو جاتا ہے۔

بیس وولٹیج Vb کے ساتھ + اور - بٹن دکھائے گئے ہیں۔ یہ بٹن دبانے سے (ماؤس کا پوائنٹر بٹن پر لا کر کلک کریں) بیس وولٹیج میں 0.1V کی تبدیلی (کمی یا اضافہ، دبائے گئے بٹن کے اعتبار سے) کی جا سکتی ہے۔ سیچوریشن یعنی ٹرانزسٹر کے عمل کی انتہائی حد اور کٹ آف یعنی ٹرانزسٹر کے آف ہونے کی نشاندہی خود بخود حالت یعنی Condition کے نیچے دیئے گئے ڈبوں میں نشان سے ہو جائے گی۔

ٹرانزسٹر کی مخصوص اصطلاحات کو یہاں پر نیلے رنگ میں ظاہر کیا گیا ہے۔ ان میں سے کسی پر ماؤس پوائنٹر لے جانے سے نچلے خانے میں اس اصطلاح کی وضاحت نظر آئے گی۔ وضاحت اردو اور انگریزی میں دی گئی ہے۔ نیچے ان اصطلاحات کی تفصیل صرف اردو میں، الگ جدول میں بھی بیان کر دی گئی ہے۔

ٹرانزسٹر سمولیٹر و کیلکولیٹر

ان پٹس


 Voltages

VCC 
V     
    

VEE 

Component Values
Polarity 

Beta  

R1  Ohms

R2  Ohms
ٹرانزسٹر سرکٹ

حاصل شدہ قدریں


 Voltages


  V


  V


 Power


P


 Currents

Ic 
Ib 
Ie 


 Conditions

  Saturated
  Cutoff   
     

اصطلاحات کی تفصیل

Vb بیس وولٹیج
بیس پر وولٹیج کی مقدار گراؤنڈ کی نسبت سے
VCC کلکٹر پر پاور سپلائی وولٹیج
VEE ایمیٹر پر پاور سپلائی وولٹیج
اگر اس قدر کو صفر 0 پر سیٹ کر دیا جائے تو یہ ایسا ہی ہو گا جیسا آپ نے اس مقام کو گراؤنڈ سے جوڑ دیا ہے۔
Beta ß بیٹا (جسے ”بی - ٹا “پڑھتے ہیں)
ٹرانزسٹر کی ایک خصوصیت جو کلکٹر کرنٹ کی بیس کرنٹ کے ساتھ نسبت ظاہر کرتی ہے۔ کلکٹر کرنٹ برابر ہے بیس کرنٹ ضرب بیٹا کے (Ic=Ib*beta) یا بیٹا برابر ہے کلکٹر کرنٹ تقسیم بیس کرنٹ کے (beta=Ic/Ib) بیٹا کو ٹرانزسٹر کا گین بھی کہا جاتا ہے۔
Vc کلکٹر وولٹیج
کلکٹر پر وولٹیج کی مقدار گراؤنڈ کی نسبت سے۔ یہاں پر یہ مقدار اس
(Vc=Vcc-(Ic*R1 فارمولے سے حاصل کی گئی ہے تا وقتیکہ سیچوریشن پوائنٹ نہ آ جائے جس میں بیس وولٹیج کلکٹر وولٹیج کے برابرVc=Vb ہو جاتے ہیں۔
Ve ایمیٹر وولٹیج
ایمیٹر پر وولٹیج کی مقدار گراؤنڈ کی نسبت سے۔ یہاں پر یہ مقدار اس
Ve=Vb-0.7 فارمولے سے حاصل کی گئی ہے تا وقتیکہ کٹ آف پوائنٹ نہ آ جائے جس میں ایمیٹر وولٹیج اور ایمیٹر پر سپلائی وولٹیج برابر Ve=Vee ہو جاتے ہیں۔ واضح رہے کہ سلیکان ٹرانزسٹر کا بیس ایمیٹر جنکشن ایک ڈائیوڈ کی طرح عمل کرتے ہوئے 0.7 وولٹ ڈراپ کرتا ہے۔
Ib بیس کرنٹ
یہاں پر بیس کرنٹ اس Ib=Ie-Ic فارمولے سے اخذ کی گئی ہے۔
Ie ایمیٹر کرنٹ
یہاں پر ایمیٹر کرنٹ اس Ie=(Ve-Vee)/R2 فارمولے سے اخذ کی گئی ہے۔
Ic کلکٹر کرنٹ
یہاں پر کلکٹر کرنٹ اس Ic=Ie*alpha فارمولے سے اخذ کی گئی ہے تا وقتیکہ سیچوریشن پوائنٹ نہ آجائے۔(بیٹا میں ایک کا اضافہ کرکے بیٹا پر تقسیم کرنے سے الفا کی قیمت حاصل ہوتی ہے یعنی الفا برابر ہے (alpha=beta/(beta+1))سیچوریشن پوائنٹ پر کلکٹر کرنٹ Ic=(Vcc-Vc)/R1 کے برابر ہو جاتی ہے۔
Saturation ٹرانزسٹر کے عمل کی انتہائی حد۔ سیچوریشن وہ حالت ہے جس میں ٹرانزسٹر مکمل طور پر آن ہو جاتا ہے۔ یہاں پر سیچوریشن حالت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب کلکٹر وولٹیج ڈراپ ہو کر بیس وولٹیج کی قدر کے برابر آ جاتے ہیں۔
Cutoff ٹرانزسٹر کے غیر عامل یا آف ہونے کی حالت کٹ آف کہلاتی ہے۔ اس حالت میں ٹرانزسٹر مکمل طور پر آف ہو جاتا ہے۔ یہاں پر کٹ آف حالت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب کلکٹر کرنٹ ڈراپ ہو کر صفر تک پہنچ جاتی ہے۔
P پاور
یہاں پر پاور سے مراد وہ حرارت ہے جو ٹرانزسٹر خارج کرتا ہے۔ عمومی اطلاقات کے لیے پاور اس P=(Vc-Ve)*Ic فارمولے سے معلوم کی جا سکتی ہے۔ یہاں پر نسبتا“ زیادہ درست فارمولا P = (Vc-Ve)*Ic + (Vb-Ve)*Ib استعمال کیا گیا ہے۔
Polarity یہاں پر پولیریٹی سے مراد بائی پولر ٹرانزسٹر کی دو بنیادی اقسام یعنی پی این پی یا این پی این میں سے کوئی ایک ہے۔

555مونو اسٹیبل ٹائم آؤٹ کیلکولیٹر

یہ کیلکولیٹر ایسے برائوزرز پر کام کرے گا جن میں ”جاوا اسکرپٹ“ سپورٹ موجود ہے۔

یہ کیلکولیٹر مونو اسٹیبل حالت میں کام کرنے والے ٹائمر آئی سی کی، کنٹرول کپے سی ٹینس اور رزسٹینس کی بنیاد پر، تاخیر (ٹائم آؤٹ یا ڈیلے) معلوم کرنے کے لئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ جب سرکٹ کو پاور مہیا کی جاتی ہے تو آؤٹ پٹ اس وقت تک لو رہتی ہے جب تک تاخیری وقت (ڈیلے ٹائم) ختم نہیں ہوجاتا۔ اس کے بعد آؤٹ پٹ ہائی ہو جاتی ہے اور مسلسل ہائی رہتی ہے۔ ٹائم آؤٹ ڈیلے معلوم کرنے کا فارمولا یہ ہے

ٹائم آؤٹ ڈیلے (سیکنڈز) = 1.1 * R * C

اس میں R اوہمز میں اور C فیراڈز میں ہے۔ کیلکولیٹر میں میں کپے سی ٹینس C کو فیراڈز میں درج کریں (یہاں مائیکرو فیراڈذ میں قدر درج نہ کریں) اور رزسٹینس R اوہمز میں۔ “حل کریں“ کا بٹن دبا کر ٹائم آؤٹ معلوم کی جا سکتی ہے جو سیکنڈز میں ہو گی۔

555مونو اسٹیبل ٹائم آؤٹ کیلکولیٹر

مطلوبہ مقداریں درج کریں
کپیسیٹر(C) فیراڈز
رزسٹر(R) اوہمز
   
اصل حل شدہ نتائج
تاخیر(ڈیلے) ٹائم آؤٹ (سیکنڈز)
نزدیکی کامل (Rounded) نتائج
تاخیر(ڈیلے) ٹائم آؤٹ (سیکنڈز)

اوہم لاء کیلکولیٹر


یہ کیلکولیٹر ایسے برائوزرز پر کام کرے گا جن میں ”جاوا اسکرپٹ“ سپورٹ موجود ہے۔

ذیل میں اوہم لاءکی مختلف مقداریں معلوم کرنے کے لئے ایک کیلکولیٹر مہیا کیا گیا ہے۔ اس میں صرف کوئی سی دو معلوم مقداریں لکھیں اور کیلکولیٹ کا بٹن دبا دیں، بقیہ د و مقداریں اس پر ظاہر ہو جائیں گی۔ دوبارہ استعمال کے لئے ری سیٹ بٹن دبانا ضروری ہوگا۔

مثال کے طور پر ہمیں معلوم ہے کہ 100 واٹ کا بجلی کا بلب جسے ہم 220V پر استعمال کرتے ہیں، 0.455 ایمپئر (یعنی 455 ملی ایمپئر) کرنٹ خرچ کرتا ہے اور اس کے فلامنٹ کی رزسٹینس 484 اوہم ہوتی ہے۔ اب آپ اس کیلکولیٹر میں واٹ کے خانے میں 100 اور وولٹ کے خانے میں 220 لکھ دیں، کیلکولیٹ کا بٹن دبائیں تو رزسٹینس(اوہم) اور کرنٹ (ایمپئر) کے خانے میں بتائی گئی مقداریں نمو دار ہو جائیں گی۔

                                وولٹیج (E)    = کرنٹ (I) x رزسٹینس (R)
                                پاور (واٹ)  = کرنٹ کا مربع (I^2) x رزسٹینس (R)
                                پاور (واٹ) = I*E = E^2 / R


Voltsوولٹ (e)
Ampsایمپئر (i)
Ohms اوہم (r)
Power پاور (watts)

اوہمز لاء کیلکولیٹر بغیر پاور

یہ کیلکولیٹر ایسے برائوزرز پر کام کرے گا جن میں ”جاوا اسکرپٹ“ سپورٹ موجود ہے۔

کرنٹ ، وولٹیج اور رزسٹینس میں ایک سادہ سا باہمی تعلق موجود ہے۔ اس تعلق کو جارج سائمن اوہم Georg Simon Ohm نام کے ایک سائنس دان نے دریافت کیا تھا اسی لئے اسے اوہم کا قانون یا Ohm’s Law کہتے ہیں۔

ذیل کے تین جدول اوہمز لا کے فارمولے کے مطابق قدریں ظاہر کرتے ہیں۔ ان میں آپ کو تین میں سے کوئی سی دو مقداریں درج کرنا ہوں گی۔ یہ تین مقداریں وولٹیج میں فرق (V) یا (E) جسے وولٹ میں ناپا جاتا ہے، کرنٹ (I) یا ایمپئریج جسے ایمپئر میں ناپا جاتا ہے اور رزسٹینس (R)جسے اوہم میں ناپا جاتا ہے، ہیں۔ ان کی وضاحت اس طرح ہے


وولٹیج میں فرق : (V) یا (E) سرکٹ کے دو مقامات کے درمیان وولٹیج میں فرق
کرنٹ : (I) سرکٹ کے دو مقامات کے درمیان گزرنے والی کرنٹ
رزسٹینس : سرکٹ کے دو مقامات کے درمیان رزسٹینس

اوہم لا کی تین شکلیں ہیں
وولٹیج معلوم کرنے کے لیے(V = I x R)

کرنٹ معلوم کرنے کے لیے (I = V / R)
رزسٹینس معلوم کرنے کے لیے۔(R = V / A)

( DV سے مراد وولٹیج ڈفرینس ہے اسے V یا E سے بھی ظاہر کیا جاتا ہے)

تینوں جدول کے دیئے گئے خانوں میں سے کسی بھی دو خانوں میں مطلوبہ مقداریں درج کریں اور کیلکولیٹ کا بٹن دبا دیں، بقیہ دو مقداریں ظاہر ہو جائیں گی۔ دوبارہ استعمال کے لئے ری سیٹ بٹن دبانا ضروری ہوگا۔

اوہمز لاء کیلکولیٹر بغیر پاور

سرکٹ میں وولٹیج معلوم کرنے کے لیے...
ان پٹ کرنٹ

Amps
ان پٹ رزسٹینس

Ohms
 

 
وولٹیج کی مقدار

Volts

سرکٹ میں کرنٹ معلوم کرنے کے لیے ...
ان پٹ وولٹیج

Volts
ان پٹ رزسٹینس

Ohms
 

 
کرنٹ کی مقدار

Amps

سرکٹ میں رزسٹینس معلوم کرنے کے لیے...
ان پٹ وولٹیج

Volts
ان پٹ کرنٹ

Amps
 

 
رزسٹینس کی مقدار

Ohms

بائی پولر جنکشن ٹرانزسٹر(BJT) بائس وولٹیج کیلکولیٹر


مطلوبہ قدریں درج کریں اور “حل کریں“ پر کلک کریں۔ حل شدہ نتائج نیچے ظاہر ہو جائیں گے۔


بیس بائس کی نوعیت:


بیس رزسٹینس (Rb): کلو اوہم
ان پٹ وولٹیج (Vin): وولٹ
Ra: کلو اوہم
Rb: کلو اوہم
کلکٹر رزسٹینس (Rc): کلو اوہم
ایمیٹر رزسٹینس (Re): کلو اوہم
سپلائی وولٹیج (Vs): وولٹ
کرنٹ گین:  
بیس سے ایمیٹر تک ڈراپ: وولٹ
           

حل شدہ قدریں (نتائج):

کلکٹر وولٹیج (Vc): وولٹ
ایمیٹر وولٹیج (Ve): وولٹ
بیس وولٹیج (Vb): وولٹ
کلکٹر کرنٹ (Ic): mAملی ایمپئر
بیس کرنٹ (Ib): mAملی ایمپئر
 
 

بیٹری چارج ٹائم کیلکولیٹر


یہ کیلکولیٹر ایسے برائوزرز پر کام کرے گا جن میں ”جاوا اسکرپٹ“ سپورٹ موجود ہے۔

یہ کیلکولیٹر کسی بھی چارج ایبل بیٹری کا زیادہ سے زیادہ چارجنگ وقفہ (آپ کی درج کردہ رقوم کے حوالے سے) معلوم کرنے کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ذیل میں اس کیلکولیٹر کے دو بڑے حصے دکھائے گئے ہیں۔ اوپر والے حصے میں تین میں سے دو مقداریں درج کرنا ضروری ہیں، تیسری مقدار ، ’حل کریں ‘ کا بٹن دباتے ہی خود بخود نمو دار ہو جائے گی۔نچلے خانے شرح کارکردگی میں نقصان (Efficiency Loss) کی قدریں بھی دکھائی جائیں گی۔ اگرچہ صفر نقصان اور 10% شرح کارکردگی کا حصول عملی طور پر نا ممکن کے قریب ہے تاہم نظریاتی طور پر ان قدروں کو آپ کی معلومات کے لئے دکھایا گیا ہے۔اگر نقصانات کی شرح 40% سے زیادہ ہو تو اس کی وجہ معلوم کرنے کے لئے آپ کو دو میں سے ایک کام کرنا پڑے گا، یا تو چارجر تبدیل کر دیں یا پھر بیٹری نئی لگا لیں۔


اکائی مقدار
بیٹری کی استعداد mAh
چارجنگ کرنٹ کی شرح mA
مکمل چارجنگ وقت (شرح کارکردگی میں نقصان20%) گھنٹے
 
  حاصل شدہ نتا ئج Calculated Results
مکمل چارجنگ وقت (شرح کارکردگی میں نقصان10% )  گھنٹے
مکمل چارجنگ وقت ( شرح کارکردگی میں نقصان30% ) گھنٹے
مکمل چارجنگ وقت (شرح کارکردگی میں نقصان40% ) گھنٹے
مکمل چارجنگ وقت ( شرح کارکردگی میں نقصان صفر ) گھنٹے

رزسٹینس، کپے سیٹینس، وولٹیج اور ٹائم کیلکولیٹر

یہ کیلکولیٹر ایسے برائوزرز پر کام کرے گا جن میں ”جاوا اسکرپٹ“ سپورٹ موجود ہے۔

یہ کیلکولیٹر “رزسٹینس، کپے سیٹینس، وولٹیج اور چارج ٹائم اور فوری (یا لمحاتی) Instant وولٹیج کے گروپ میں سے کوئی سی ایک قدر معلوم کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

دکھائے گئے ڈایا گرام میں جب سوئچ کو کلوز (آن) کیا جاتا ہے تو کپیسیٹر کو، بیٹری کے 63.2% فیصد تک چارج ہونے کے لیے درکار وقت برابر ہوگا رزسٹینس اور کپے سیٹینس کے حاصل ضرب کے یعنی

T=(R*C)

مثال کے طور پر اگر سرکٹ میں کپیسیٹر کی قدر 100 uF اور رزسٹر کی قدر 100K ہو تو کپیسیٹر کو 12 وولٹ بیٹری سے 7.6 وولٹ تک چارج ہونے کے لیے 10 سیکنڈ درکار ہوں گے۔

اس کیلکولیٹر میں پانچ مقداریں دی گئی ہیں۔ کوئی سی چار مقداریں درج کر کے پانچویں مقدار معلوم کی جا سکتی ہے۔ مثال کے طور پر، کیلکولیٹر میں پہلے سے درج کردہ مقداریں دیکھیں۔ یہ اس طرح ہیں کہ 1 فیراڈ قدر کا کپیسیٹر، 1 اوہم رزسٹر کے راستے، 1 وولٹ بیٹری سے چارج ہو رہا ہے، اسے 777 ملی وولٹ تک چارج ہونے کے لیے 1.5 سیکنڈ درکار ہوں گے ۔ دائیں سے بائیں طرف چلتے ہوئے یہ مقداریں اس طرح درج کی جائیں گی۔


      1, .001, 1000000, 1500

فوری وولٹیج کا خانہ خالی رکھا جا ئے گا جس کا مطلب صفر ہوگا۔حاصل ہونے والا جواب 0.777 کے لگ بھگ ہونا ضروری ہے۔

کوئی بھی ایک خانہ خالی یا صفر مقدار کا حامل رکھا جا سکتا ہے۔ بقیہ چاروں خانوں میں مطلوبہ قدریں درج کر دیں اور “حل کریں“ بٹن دبا دیں۔ اگلی مرتبہ نئی قدریں درج کرنے کے لیے “صاف کریں“ بٹن دبائیں۔

اس کیلکولیٹر میں استعمال کردہ اصول مندرجہ ذیل فارمولا کے مطابق ہیں۔

(Vc = V * (1- e ^ (-t / R*C)

اس میں مختلف مقداریں اس طرح ہوں گی

      Vc     =     کپیسیٹر وولٹیج (وولٹ میں)
      V     =     بیٹری کے سپلائی وولٹیج (وولٹ میں)
      R     =     رزسٹینس (کلو اوہم میں)
      C     =     کپے سیٹینس (مائیکرو فیراڈ میں)
      t     =     ٹائم (ملی سیکنڈ میں)
      e     =     یہ مستقل مقدار constant ہے جو برابر ہے 2.71828 کے۔


کوئی سی چار قدریں درج کریں پانچواں خانہ خالی رکھیں یا اس میں صفر درج کریں
نام قدریں
سپلائی وولٹیج وولٹ
رزسٹینس کلو اوہم
کپے سیٹینس مائیکرو فیراڈ
ٹائم ملی سیکنڈ
لمحاتی وولٹیج وولٹ
                           

زینر ڈائیوڈ کیلکولیٹر

مطلوبہ قدریں متعلقہ خانوں میں درج کریں اور “حل کریں“ پر کلک کریں۔ نتائج یعنی حل شدہ قدریں نیچے دئے گئے خانوں میں ظاہر ہوں گی۔

قدریں درج کریں:

زیادہ سے زیادہ ان پٹ وولٹیج:

وولٹ

کم سے کم ان پٹ وولٹیج:

وولٹ

آؤٹ پٹ وولٹیج:

وولٹ

لوڈ کرنٹ:

ملی ایمپئرز


حل شدہ قدریں (نتائج):

رزسٹینس R کی قدر:

اوہم واٹ

زینر ڈائیوڈ :

وولٹ واٹ

ٹراانسفارمر کیلکولیٹر

ٹرانسفارمر کی قدریں معلوم کرنا


یہ کیلکولیٹر ایسے براؤزر پر کام کرے گا جن میں ”جاوا اسکرپٹ“ سپورٹ موجود ہے۔

ٹرانسفارمر کی تین خصوصیاتی قدروں یعنی وولٹیج، کرنٹ اور کلو وولٹ ایمپیئر KVA میں سے کسی ایک نامعلوم قدر کو حل کرنے کے لیے یہ کیلکولیٹر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کی مدد سے سنگل فیز اور تھری فیز کے ٹرانسفارمرز کی قدریں معلوم کی جا سکتی ہیں۔ تین میں سے کوئی سی دو قدریں مطلوبہ خانوں میں درج کر دیں، ٹرانسفارمر کی نوعیت (یعنی سنگل فیز یا تھری فیز) منتخب کریں اور “حل کریں“ بٹن دبا دیں۔ اگلی مرتبہ نئی قدریں درج کرنے کے لیے “صاف کریں“ بٹن دبائیں۔


نام قدر
(صرف کوئی سی دو قدریں درج کریں)
Amps ایمپیئر
Volts وولٹ
kVA کے وی اے
ٹرانسفارمر کی نوعیت سنگل فیز تھری فیز
       

ٹرانزسٹر بیس رزسٹر کیلکولیٹر

یہ کیلکولیٹر ایسے براؤزر پر کام کرے گا جن میں ”جاوا اسکرپٹ“ سپورٹ موجود ہے۔

ٹرانزسٹر کی بیس رزسٹر معلوم کرنے کے لئے یہاں پر کیلکولیٹر پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ اشد ضروری ہے کہ مندرجہ ذیل ہدایات کا خاص خیال رکھا جائے۔:

  • ٹرانزسٹر کی آن حالت میں اس میں سے گزرنے والی کرنٹ کی زیادہ سے زیادہ مقدار کو پہلے سے معلوم کر لیں۔ یہ ٹرانزسٹر کی کلکٹر کرنٹ ہو گی۔
  • کسی بھی مخصوص ٹرانزسٹر کی مختلف خصوصیات مثلا“ کرنٹ گین، بے ٹا، فارورڈ کرنٹ گین (Hfe) وغیرہ، ٹرانزسٹر کی ڈیٹا شیٹ سے حاصل کریں۔ خراب ترین حالات (Worst Case) میں کام کرنے کے عمل کے لئے Hfe کی دی گئی کم سے کم قدر یا کلکٹر کرنٹ کی درست قدر استعمال کریں۔
  • کلکٹر ایمیٹر وولٹیج (Vce) وہ قدر ہے جو ان دونوں کے مابین موجود ہوگی۔ اس قدر کے لئے ہدایات یہاں پر موجود نہیں ہیں
  • وولٹیج ڈراپ وہ قدر ہے جو کی اس وقت ہو گی جب ٹرانزسٹر اپنی انتہائی عمل کی حالت میں یعنی سیچوریشن Saturation کی حالت میں ہوگا۔ یہ قدر معلوم کرنے کے لئے ٹرانزسٹر کی ڈیٹا شیٹ میں، کلکٹر کرنٹ کے مقابلے میں Vbe اور Vce(sat) کے گراف سے مدد لیں۔
  • ٹرانزسٹر کو مکمل طور پر آن کرنے کی یقین دہانی کے لئے کلکٹر کرنٹ کی قدر کو دوگنا کر کے کیلکولیٹر میں استعمال کریں۔ متبادل طور پر اس کیلکولٹر سے حاصل ہونے والی بیس رزسٹر کی قدر کو نصف کر کے استعمال کریں۔
  • دی گئی مثالوں میں خراب ترین حالات میں ایمپلی فیکیشن فیکٹر (Hfe) اور کلکٹر کرنٹ کی زیادہ سے زیادہ قدر رکھی گئی ہے۔ آپ کی انفرادی ضروریات کے لئے یہ قدریں تبدیل ہو سکتی ہیں۔ آپ صرف وہ قدریں درج کریں جو آپ کی اپنی ضروریات کے مطابق ہوں۔
  • دی گئی مثالیں مندرجہ ذیل ٹرانزسٹرز کے لئے ہیں۔
  • 2N2222, 2N3055, 2N3904, BC547, TIP31, TIP31A, TIP31C, TIP41, TIP41A, TIP41C, C1383, C828

ٹرانزسٹر بیس رزسٹر کیلکولیٹر

Choose transistor ٹرانزسٹر منتخب کریں
Max rating
انتہائی قدر(ریٹنگ) ۔
Input
ان پٹ
Calculated
حل شدہ قدر
Collector current
کلکٹر کرنٹ
A A      |
      |
Beta (Hfe)
بیٹا
      |
      |
Vce voltage
کلکٹر ایمیٹر وولٹیج
V       |
      |
Base voltage
بیس وولٹیج
V V       |
      |
Voltage drop
وولٹیج ڈراپ
V      |
      ↓
Base resistor value بیس رزسٹینس کی قدر Ω

پانچ بینڈ رزسٹر قدر کیلکولیٹر

قدر سے کلر کوڈ معلوم کرنا

یہ کیلکولیٹر ایسے برائوزرز پر کام کرے گا جن میں ”جاوا اسکرپٹ“ سپورٹ موجود ہے۔

یہ کیلکولیٹر رزسٹر کی قدر کو پانچ بینڈ کے کلر کوڈ میں تبدیل کرتا ہے۔ رزسٹر کی قدر لکھیں، اگلے خانے میں سے اوہم، کلو اوہم، میگا اوہم منتخب کریں۔ یہ انتخاب ضرب کنندہ (ملٹی پلائر) کے طور پر کام کرے گا۔ اس کے بعد رزسٹر کی شرح انحراف (ٹالرینس) منتخب کریں اور “حل کریں“ بٹن دبا دیں۔


رزسٹینس درج کریں     شرح انحراف




کلرکوڈاس طرح ہوگا
    

پانچ بینڈ رزسٹر کلر کوڈ کیلکولیٹر

یہ کیلکولیٹر ایسے برائوزرز پر کام کرے گا جن میں ”جاوا اسکرپٹ“ سپورٹ موجود ہے۔

دیئے گئے خانوں میں رزسٹر کے اوپر بنے ہوئے رنگوں کے حلقوں کے مطابق رنگ منتخب کریں۔ نیچے ان رنگوں کی مطابقت سے رزسٹر کی قدر ظاہر ہو جائے گی۔

    

چار بٹ بائنری کوڈڈ ڈیسی مل (BCD) کلاک ڈسپلے

یہ کیلکولیٹر ایسے برائوزرز پر کام کرے گا جن میں ”جاوا اسکرپٹ“ سپورٹ موجود ہے۔

آپ کے کمپیوٹر پر موجودہ وقت کو ظاہر کرنے کے لیے اس ڈسپلے میں چار بٹ (بائنری ڈجٹ) استعمال ہوئے ہیں۔ ان میں (دائیں طرف سے) پہلا ہندسہ یا ڈجٹ ایک یا اکائی قدر کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس سے اگلا دوسرا ہندسہ دو، تیسرا چار اور پھر اسی ترتیب میں چوتھا ہندسہ آٹھ قدر کی نمائندگی کرتے ہیں۔ سمجھنے کے لیے آپ اعشاری(ڈیسی مل) نظام کی اکائی، دہائی، سیکڑہ اور ہزار قدر کی نمائندگی کرنے والے ہندسی مقامات کو ذہین میں رکھ سکتے ہیں۔ بائنری میں چونکہ صرف دو ہندسے صفر اور ایک استمعال کیئے جاتے ہیں چنانچہ ان کی مقامی قدر ہر پچھلی مقامی قدر کا دگنا ہوتی ہے بالکل ویسے ہی جیسے اعشاری نظام میں ہر ہندسے کی اگلی مقامی قدر دس گنا ہوتی ہے۔اس طرح اگر آپ پہلی دوسری تیسری اور چوتھی مقامی قدر کے متبادل ڈیسی مل ہندسوں کو آپ میں جمع کریں گے تو بائنری کا اعشاری متبادل ہندسہ (قدر) حاصل ہو گا۔ ہر قطار کے بی سی ڈی صفر کو صفر مقدار اور ایک کو اس کی مقامی قدر کے مطابق لیا جائے گا۔ مثال کے طور پر اگر چاروں ہندسے ایک (1) ہیں تو ان کی قدر اس طرح نکلے گی

بائنری ہندسے کی مقامی قدر 1 2 4 8
ڈسپلے پر ہندسے 1 1 1 1
متبادل اعشاری قدر 1 2 4 8

حاصل شدہ قدر 1 + 2 + 4 + 8 = 15
اسی طرح اگر ڈسپلے پر ظاہر ہونے والے بائنری ہندسے کچھ یوں ہیں
1 0 1 1
تو ان کی متبادل اعشاری قدر اس طرح حاصل ہوگی

بائنری ہندسے کی مقامی قدر 1 2 4 8
ڈسپلے پر ہندسے 1 0 1 1
متبادل اعشاری قدر 1 0 4 8
حاصل شدہ قدر 1 + 0 + 4 + 8 = 13

اس کلاک میں گھنٹے، منٹ اور سیکنڈ کی نمائندگی کے لیے دو دو قطاروں میں ہندسے دئیے گئے ہیں- پہلی قطار دہائی کا ہندسہ اور دوسری قطار اکائی کا ہندسہ ظاہر کرنے کے لیے ہے۔ انتہائی دائیں طرف کے کالم میں بی سی ڈی کی ڈیسی مل قدریں ظاہر کی گئی ہیں۔ جوں جوں کلاک کا وقت تبدیل ہوتا جاتا ہے، اس کالم میں اعشاری قدریں بھی بدلتی جاتی ہیں۔


8
4
2
1
Binary
Decimal
 
 
 
 
بائنری
اعشاری
دہائی گھنٹے
اکائی گھنٹے
دہائی منٹ
اکائی منٹ
دہائی سیکنڈ
اکائی سیکنڈ
ڈیجیٹل متبادل اعداد : :

کلاک کو شروع کرنے کے لیے بٹن دبائیں۔

چار بینڈ رزسٹر قدر کیلکولیٹر

قدر سے کلر کوڈ معلوم کرنا

یہ کیلکولیٹر ایسے براؤزر پر کام کرے گا جن میں ”جاوا اسکرپٹ“ سپورٹ موجود ہے۔

یہ کیلکولیٹر رزسٹر کی قدر کو چار بینڈ کے کلر کوڈ میں تبدیل کرتا ہے۔ رزسٹر کی قدر لکھیں، اگلے خانے میں سے اوہم، کلو اوہم، میگا اوہم منتخب کریں۔ یہ انتخاب ضرب کنندہ (ملٹی پلائر) کے طور پر کام کرے گا۔ اس کے بعد رزسٹر کی شرح انحراف (ٹالرینس) منتخب کریں اور “حل کریں“ بٹن دبا دیں۔


رزسٹینس درج کریں   شرح انحراف



کلرکوڈاس طرح ہوگا     


چار بینڈ رزسٹر کلر کوڈ کیلکولیٹر

یہ کیلکولیٹر ایسے برائوزرز پر کام کرے گا جن میں ”جاوا اسکرپٹ“ سپورٹ موجود ہے۔

دیئے گئے خانوں میں رزسٹر کے اوپر بنے ہوئے رنگوں کے حلقوں کے مطابق رنگ منتخب کریں۔ نیچے ان رنگوں کی مطابقت سے رزسٹر کی قدر ظاہر ہو جائے گی۔

    

کپیسیٹر کوڈ / قدر کیلکولیٹر

قدر سے کوڈ یا کوڈ سے قدر معلوم کرنا

ذیل میں دو کیلکولیٹر دیئے گئے ہیں۔ ان میں سے پہلا کیلکولیٹر تین ہندسوں پر مشتمل کپیسیٹر کوڈ اور ٹالرینس (شرح انحراف) کوڈ کو کپیسیٹر کی قدر میں تبدیل کرتا ہے۔ دوسرا کیلکولیٹر اس کے الٹ کام کرتا ہے یعنی یہ کپیسیٹرکی قدر کو تین ہندسوں پر مشتمل کپیسیٹر کوڈ اور ٹالرینس (شرح انحراف) کوڈ میں تبدیل کرتا ہے۔ دونوں کیلکولیٹرالگ الگ آزادانہ کام کرتے ہیں۔ ایک وقت میں صرف ایک ہی کیلکولیٹر استعمال کریں۔

کوڈ کو قدر میں بدلیں

تین ہندسوں والا کوڈ لکھیں
 
C=

فیراڈز
ٹالرینس =
ٹالرینس کوڈ منتخب کریں    

قدر کو کوڈ میں بدلیں

کپیسیٹینس لکھیں
 
کوڈ =
   ٹالرینس کوڈ =
ٹالرینس منتخب کریں

بنیادی الیکٹرونکس

اوہم کا قانون

اوہم کا قانون استعمال کرتے ہوئے وولٹیج اور کرنٹ کی پیمائش

کرنٹ ، وولٹیج اور رزسٹینس میں ایک سادہ سا باہمی تعلق موجود ہے۔ اس تعلق کو جارج سائمن اوہم Georg Simon Ohm-1789-1854 نام کے ایک سائنس دان نے دریافت کیا تھا اسی لئے اسے اوہم کا قانون یا Ohm’s Law کہتے ہیں۔ اوہم نے اس تعلق کو ایک کلیئے میں واضح کیا ہے جسے ذیل میں بیان کیا گیا ہے۔

اسے ہم اوہم لاءکی حالت ایک کہیں گے۔ اوہم لا کی دوسری حالتیں بھی استعمال کی جاتی ہیں جن کو کرنٹ اور رزسٹینس معلوم کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔



( DV سے مراد وولٹیج ڈفرینس ہے اسے V یا E سے بھی ظاہر کیا جاتا ہے)
ان کلیہ جات کی مختلف مقداروں کی وضاحت اس طرح ہے

وولٹیج میں فرق : سرکٹ کے دو مقامات کے درمیان وولٹیج میں فرق
کرنٹ : سرکٹ کے دو مقامات کے درمیان گزرنے والی کرنٹ
رزسٹینس : سرکٹ کے دو مقامات کے درمیان رزسٹینس

ان کلیہ جات کو ہر اس موقع پر استعمال کیا جا سکتا ہے جہاں کسی بھی سرکٹ کے دو مقامات کے درمیان کوئی رزسٹر لگا ہوا ہو۔ ان مقداروں کے مابین موجود یہ سادہ سا باہمی تعلق ہمیں کئی مفید مقداریں معلوم کرنے کی سہولت مہیا کرتا ہے۔مذکورہ بالا تین مقداروں (کرنٹ، رزسٹینس اور وولٹیج میں فرق) میں سے کوئی سی دو مقداریں معلوم ہوں تو ہم تیسری مقدار آسانی سے معلوم کر سکتے ہیں۔ اوہم لاءکی جو حالت سب سے زیادہ استعمال ہوتی ہے وہ ”کرنٹ کی مقدار “ معلوم کرنے کے لئے ہے۔وولٹیج کو ناپنا آسان ہے اور رزسٹر کے کلر کوڈز کی مدد سے اس کی رزسٹینس دیکھی جا سکتی ہے (کلر کوڈ دیکھیں)۔ جب یہ دو قدریں معلوم ہو جاتی ہیں تو اوہم لاءکی دوسری حالت ( یعنیI = DV / R )کی مدد سے کرنٹ کی مقدار معلوم کی جا سکتی ہے۔ مثال کے طور پر شکل نمبر 1 میں دکھایا گیا مسئلہ پیش ہے۔ اس شکل میں ایک رزسٹر دکھایا گیا ہے جس کے ایک سرے پر 0V وولٹ (گراؤنڈ) ہیں اور دوسرے سرے پر 5V وولٹ ہیں (ملٹی میٹر کی سیاہ تار دائیں طرف اور سرخ تار بائیں طرف رکھ کر پیمائش کریں)۔

مقام A اور مقام B کے مابین وولٹیج میں فرق (5-0=5) وولٹ ہے یعنی DV=5۔ ان دونوں مقامات کے درمیان رزسٹر ہے جس کی قدر 500 اوہم ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ کرنٹ کا بہاؤ زیادہ وولٹیج والے مقام سے کم وولٹیج والے مقام کی طرف ہوتا ہے چنانچہ ہم زیادہ وولٹیج والے مقام سے کم وولٹیج والے مقام کے درمیان تیر کا نشان بنا دیتے ہیں۔شکل نمبر 2 دیکھیں۔

اب ہم اوہم لاءکی دوسری حالت کو استعمال کرتے ہوئے رزسٹر میں سے گزرنے والی کرنٹ معلوم کر سکتے ہیں۔

I = DV / R
DV / R = 5 / 500
5 / 500 = 0.01 Amps (ایمپئر)
0.01 Amps = 10 milliAmps (ملی ایمپئر)

10 ملی ایمپئر کو اختصار سے 10mA لکھا جاتا ہے۔ چنانچہ کرنٹ کی مقدار 10mA ہوگی۔ اب ہم اپنا جواب جانچنے کے لئے اوہم لاءکی پہلی اور تیسری حالت استعمال کرتے ہیں۔فارمولے میں استعمال کے لئے ہم کرنٹ کی قدر کو ایمپئر میں استعمال کریں گے۔چنانچہ اب ہمارے پاس کرنٹ I کی قدر 0.01ایمپئر اور رزسٹینس 500 اوہم ہے۔

کرنٹ = وولٹیج میں فرق x رزسٹینس
DV = I * R یعنی
I * R = 0.01 * 500
0.01 * 500 = 5 Volts (وولٹ)

ہمیں وولٹیج کی وہی مقدار حاصل ہوئی جو ہم استعمال کر رہے تھے یعنی 5 وولٹ۔ چنانچہ معلوم کردہ کرنٹ کی قدر درست ثابت ہوتی ہے۔اب ہم اوہم لاءکی تیسری حالت کی مدد سے رزسٹینس کی قدر معلوم کرتے ہیں۔ ہم جو قدریں استعمال کریں گے وہ I = 0.01 ایمپئر اور DV = 5وولٹ ہیں۔

کرنٹ = وولٹیج میں فرق x رزسٹینس
یعنی R = DV / I R
DV / I = 5 / 0.01
5 / 0.01 = 500 ohms.
R = 500 ohms چنانچہ

اب شکل نمبر 3 میں دیئے گئے مسئلے کی طرف آتے ہیں۔ ایک طرف وولٹیج 10 وولٹ ہیں جبکہ دوسری طرف وولٹیج 3 وولٹ ہیں۔ چنانچہ ان دونوں مقامات کے درمیان وولٹیج کا فرق( 10 - 3 = 7) 7 وولٹ ہے۔رزسٹینس کی قدر 400 اوہم ہے۔ اب ہمارے پاس دو مقداریں DV=7V اور R=400 Ohm موجود ہیں۔

اس طرح بائیں سے دائیں طرف بہنے والی کرنٹ کی مقدار مندرجہ ذیل کے مطابق ہوگی :

I

=

DV / R

DV / R

=

7 / 400

7 / 400

=

0.0175 Amps (ایمپئر)

0.0175 Amps(ایمپئر)

=

17.5 milliAmps (ملی ایمپئر)

17.5 milliAmps (ملی ایمپئر)

=

17.5 mA (ملی ایمپئر)

اس کا مطلب یہ ہوا کہ بائیں سے دائیں طرف بہنے والی کرنٹ کی مقدار 17.5 ملی ایمپئر ہے۔

اب فرض کریں کہ ہمارے پاس دو ایسے مقامات ہیں جن کے مابین وولٹیج کا فرق 5 وولٹ ہے ۔ مقام A پر وولٹیج 5 وولٹ اور مقام B پر وولٹیج 0 وولٹ (گراﺅنڈ) ہیں۔ واضح رہے کہ وولٹیج کا فرق خاص اہمیت کا حامل عنصر ہے۔اگر مقام A پر 7 وولٹ ہوں اور مقام B پر 2 وولٹ ہوں تب بھی وولٹیج کا فرق وہی5 (7 - 2 = 5) وولٹ ہی رہے گا۔اب فرض کریں ہمیں مقام A اور مقام B کے مابین گزرنے والی کرنٹ کی مقدار 0.02 ایمپئر یا 20 ملی ایمپئر درکار ہے یعنی ( I = 0.02 Amps = 20 mA)۔ایسی صورت میں ہمیں جس قدر کے رزسٹر کی ضرورت ہوگی وہ ہم آسانی سے معلوم کر سکتے ہیں۔ یہاں ہمیں اوہم لاء کی تیسری حالت سے مدد لینی ہوگی یعنی

R = DV/I
DV / I = 5 / 0.02
  = 250 ohms

اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر ہم مقام A اور مقام B کے درمیان 250 اوہم قدر کا رزسٹر جوڑ دیں تو ان مقامات کے مابین گزرنے والی کرنٹ کی مقدار 20 ملی ایمپئر یا 0.02 ایمپئر ہوگی۔ اس کو ثابت کرنے کے لئے آپ اوہم لاءکی دوسری حالت یعنی کر نٹ = وولٹیج میں فرق / رزسٹینس سے مدد لے سکتے ہیں۔

جدول ٹرانزسٹر پیکیج

کچھ ٹرانزسٹرز کی پیکیج معلومات ذیل کے جدول میں درج ہیں۔




سرفیس ماؤنٹ (SMD) ٹرانزسٹرز



کپیسیٹرز

کم قدر کے نان الیکٹرولائیٹک کپیسیٹرز کی قدریں کوڈ میں لکھی جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر 882, 447, 332, 222, 123, 101 وغیرہ۔ اس کوڈ میں بائیں طرف کے دو ہندسے کپیسیٹر کی قدر کو اور دائیں طرف کا ہندسہ کپیسیٹر کی قدر میں صفروں کی تعداد کو ظاہر کرتا ہے۔اس طرح حاصل ہونے والی قدر پیکو فیراڈز (pF) میں حاصل ہوتی ہے۔ مثلاً اگر کپیسیٹر پر لکھا ہوا کوڈ 101 ہو تو اس کی قدر 100pF ہوگی۔ (بائیں طرف کے دو ہندسے 10 ہیں جبکہ دائیں طرف کا ہندسہ 1 ہے اس طرح ہم 10 کے ساتھ ایک صفر کا اضافہ کرکے اسے 100 بنا لیں گے)۔ اسی طرح 123 کوڈ کا مطلب 12000pF ہوگا۔ الیکٹرونکس ڈائجسٹ میں کپیسیٹرز کی قدریں لکھتے وقت فیراڈ کو ظاہر کرنے والا حرف F نہیں لکھا جاتا کیونکہ کپیسیٹر کی قدر فیراڈز ہی میں ہوتی ہے۔

پیکو فیراڈز میں حاصل ہونے والی قدر اگربہت زیادہ ہو تو اسے 1000 پر تقسیم کر کے نینو فیراڈز (nF) میں اورنینو فیراڈز کو 1000 پر تقسیم کرکے مائیکرو فیراڈز (µF) میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ ذیل میں دی گئی مثالوں سے اس کی وضاحت ہو جائے گی۔


کوڈ pF قدر nF قدر µF قدر کوڈ pF قدر nF قدر µF قدر
102 1,000  1n0  0µ001  273 27,000 27n  0µ027
122 1,200  1n2  0µ0012 303 30,000 30n  0µ030
152  1,500  1n5  0µ0015 333 33,000 33n  0µ033
162 1,600  1n6  0µ0016  393 39,000 39n  0µ039
182 1,800  1n8  0µ0018 403 40,000 40n  0µ04
202 2,000  2n0  0µ002 453 45,000 45n  0µ045 
222  2,200  2n2  0µ0022 473 47,000 47n  0µ047
252 2,500  2n5  0µ0025 503 50,000 50n  0µ05
272 2,700  2n7  0µ0027 563 56,000 56n   0µ056
332 3,300  3n3  0µ0033 603 60,000 60n  0µ06
392 3,900  3n9  0µ0039 683 68,000 68n  0µ068
402 4,000  4n0  0µ004 753 75,000 75n  0µ075
472 4,700  4n7  0µ0047 823 82,000 82n  0µ082
502 5,000  5n0  0µ005 104 100,000 100n  0µ1
522 5,200  5n2   0µ0052  124  120,000 120n  0µ12
562 5,600  5n6  0µ0056 154 150,000 150n  0µ15
602 6,000  6n0  0µ006 184 180,000 180n  0µ18
652 6,500  6n5  0µ0065 204 200,000 200n  0µ20
682  6,800  6n8  0µ0068 224 220,000 220n  0µ22
702 7,000  7n0  0µ007 274 270,000 270n  0µ27
752 7,500  7n5  0µ0075 304 300,000 300n  0µ3 
802 8,000  8n0  0µ008 334 330,000 330n  0µ33
822 8,200  8n2  0µ0082 394  390,000 390n  0µ39
852 8,500  8n5   0µ0085 404 400,000 400n  0µ4
902  9,000  9n0  0µ009 474 470,000 470n  0µ47
952  9,500  9n5   0µ0095 504 500,000 500n  0µ5
103 10,000  10n  0µ01 564 560,000 560n  0µ56
123 12,000  12n  0µ012 684 680,000 680n  0µ68
153 15,000  15n  0µ015 754 750,000 750n  0µ75
163  16,000  16n  0µ016 824 820,000 820n  0µ82
193 18,000  18n   0µ018 904 900,000 900n   0µ9
203 20,000  20n  0µ02 954 950,000 950n  0µ95
223 22,000 22n  0µ022 105 1,000,000 1000n  1µ0

آپ دیکھ رہے ہیں کہ اس مثا ل میں m0.022 کو 022m0 اور دوسری قدروں کوبھی اسی طرح لکھا گیا ہے۔ یہاں بھی اعشاریہ کے نشان کی جگہ قدر ظاہر کرنے والا حرف لکھا گیا ہے تاکہ پڑھنے میں آسانی ہو۔

دو یا زائد کپیسیٹرمتوازی (Paralell) جوڑنے سے ان کی کپیسی ٹینس جمع ہو جاتی ہے مثال کے طور پر


متوازی (Paralell) جڑے ہوئے کپیسیٹرز کی قدر معلوم کرنے کا فارمولا .... +C1+C2+C3 ہے۔

دو یا زائد کپیسیٹرز سلسلے وار (Series) جوڑنے سے ان کی مجموعی کپیسی ٹینس‘ کم سے کم قدر کے کپیسیٹر سے بھی کم ہو جاتی ہے مثال کے طور پر:

سلسلے وار جڑے ہوئے دو کپیسیٹرز کی قدر معلوم کرنے کا فارمولا مندرجہ ذیل ہے :


دو سے زائد سلسلے وار جڑے ہوئے کپیسیٹرز کی قدر معلوم کرنے کا فارمولا مندرجہ ذیل ہے :

اگر ان کی وضاحت نہ کی گئی ہوتو تمام کپیسیٹر عام طور پر 60V کے ہوں گے۔ عام اصول کے مطابق کپیسیٹر کے ورکنگ وولٹیج‘ سرکٹ میں موجود وولٹیج کی نسبت کم از کم دگنے ضرور ہوں۔

کپیسیٹر کی قدر سے اس کا کوڈ یا اس کے کوڈ کی مدد سے اس کی قدر معلوم کرنے کے لیے کپیسیٹر کوڈ / قدر کیلکولیٹر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

آر ایف ٹرانزسٹر ڈیٹا

چند منتخب ٹرانزسٹرز کی خصوصیات

Type N/P Housing M/K/G Watt PL(PLPEP) MHz(ƒ) dB(VP) VCE
2N3375 N To-60   3 400   28
2N3553 N To-39 M 2,5 175   28
2N3632 N To-60   13,5 175   28
2N3866 N To-39 M 1 400 10 28
2N3924 N To-39 M 4 175   13,5
2N3926 N To-60   7 175   13,5
2N3927 N To-60   12 175   13,5
2N4040 N To-117 K 10 400 4 28
2N4041 N To-117 K 10 400 4 26
2N4427 N To-39 M 0,4 470 6 12
2N4428 N To-39 M 0,75 500 10 28
2N4429 N To-117 K 1 1000 5 28
2N4430 N To-129   2,5 1000 5 28
2N4431 N To-129   5 1000 4,5 28
2N4933 N To-60 M 20 88 7,6 24
2N5016 N To-60 M 15 400 5 28
2N5070 N To-60 M 25 30 13 28
2N5071 N To-60 M 24 80 9 24
2N5090 N To-60 M 1,2 400 7,8 28
2N5102 N To-60 M 15 135 4 24
2N5108 N To-39 M 1 1000 5 28
2N5589 N MT-71C   3 175 8,2 13,6
2N5590 N MT-72H   10 175 5,2 13,6
2N5591 N MT-72H   5 175 4,4 13,6
2N5635 N MT-71B   2,5 400 6,2 28
2N5636 N MT-71B   7,5 400 5,7 28
2N5637 N MT-72H   20 400 4,6 28
2N5641 N MT-71B   7 175 8,4 28
2N5642 N MT-72H   20 175 8,2 28
2N5643 N MT-72H   40 175 7,6 28
2N5644 N MT-72H   1 470 7 12,5
2N5645 N MT-72H   4 470 6 12,5
2N5646 N MT-72H   12 470 4,7 12,5
2N5687 N To-39 M 1,5 50 17 12,5
2N5688 N To-117 K 5 50 14 12,5
2N5689 N To-117 K 10 50 12,5 12,5
2N5690 N To-128   25 50 12,5 12,5
2N5697 N To-39 M 0,25 470 12,5 12,5
2N5698 N To-131   1 470 12,5 12,5
2N5699 N To-129   3,5 470 12,5 12,5
2N5700 N To-129   10,5 470 12,5 12,5
2N5701 N To-129   20 470 12,5 12,5
2N5702 N To-39 M 1,5 175 12,5 12,5
2N5703 N To-117 K 3 175 12,5 12,5
2N5704 N To-117 K 12 75 12,5 12,5
2N5705 N To-128   24 175 12,5 12,5
2N5707 N To-128   (20) 28 28 28
2N5708 N To-128   (40) 28 28 28
2N5711 N To-117 K (4) 135 26 26
2N5712 N To-117 K (20) 135 26 26
2N5713 N To-128   (40) 135 26 26
2N5773 N To-117 K 1,5 400 26 26
2N5834 N To-39 Mv 2,5 175 28 28
2N5846 N To-102   3,5 50 12,5 12,5
2N5847 N MT-72H   8 50 10 12,5
2N5848 N MT-72H   20 50 8 12,5
2N5849 N MT-75B   40 50 7,5 12,5
2N5862 N MT-75B   75 150 7 27
2N5913 N To-39   2 470 7 12
2N5914 N HSL   2 470 7 12
2N5915 N HSL   6 470 5 12
2N5916 N HSL   2 400 10 28
2N5918 N HSL   10 400 8 28
2N5919 N HSL   16 400 6 28
2N5922 N MT-75D   1 1000 5 28
2N5923 N MT-75D   2,5 1000 5 28
2N5924 N MT-75D   5 1000 5 28
2N5925 N MT-75D   10 1000 5 28
2N5944 N MT-90   2,0 470 9,0 12,5
2N5945 N MT-90   4,0 470 8,0 12,5
2N5946 N MT-90   10,0 470 6,0 12,5
2N5992 N HSL   21 88 10  
2N5993 N HSL   18 88 10  
2N5994 N HSL   35 118 7  
2N5995 N HSL   7 175 9,7  
2N5996 N HSL   15 175 4,5  
2N6080 N MT-72H   4 175 12  
2N6081 N MT-72H   15 175 6,3  
2N6082 N MT-72H   25 175 6,2 12,5
2N6083 N MT-72H   30 175 5,7 12,5
2N6084 N MT-72H   40 175 4,5 12,5
2N6093 N MT-67B   37,5 30 13 28
2N6105 N HSL   30 400 5 28
2N6136 N MT-93A   25 470 4 12,5
2N6197 N To-128   3 175 13 28
2N6198 N To-128   12 175 10,8 28
2N6199 N To-128   25 175 8,5 28
2N6200 N To-128   40 175 8,2 28
2N6201 N MT-92   70 175 5,4 28
2N6202 N To-128   3 400 10 28
2N6203 N To-128   12 400 6,8 28
2N6204 N To-128   25 400 6,2 28
2N6205 N To-128   40 400 5,2 28
2N6206 N To-128   3 1000 7 28
2N6207 N To-128   10 1000 5,2 28
2N6208 N To-128   20 1000 4 28
2N6255 N To-39 M 3 175 7,8 12,5
2N6439 N     60 400 7,8 28
2N6455 N     20 30 15 12,5
2N6456 N     45 30 14 12,5
2N6458 N     20 30 15 12,5
2N6459 N     45 30 14 12,5
2N6460 N     75 30 13 12,5
BFQ42 N To-39 M 2 170 12 13,5
BFQ43 N To-39 M 4 170 12 28
BFS22A N To-39 M 4 175 8 13,5
BFS23A N To-39 M 4 175 10 28
BFW46 N To-39 M 4 175 6 13,5
BFW47 N To-39 M 2,5 175 10 28
BLW64 N Sot-56 K 15 225 9,5 25
BLW75 N Sot-105 K 14 225 8 25
BLX13 N Sot-56 K (25) 30 18 28
BLX14 N Sot-55 K (50) 30 13 28
BLX15 N Sot-55 K (150) 30 14 50
BLX67 N Sot-48 K 2,5 470 8,5 12,5
BLX68 N Sot-48 K 7 470 5 12,5
BLX69A N Sot-48 K 17 470 4 28
BLX91A N Sot-48 K 10 470 11 28
BLX92A N Sot-48 K 2,5 470 11 28
BLX93A N Sot-48 K 7 470 8,5 28
BLX94A N Sot-48 K 25 470 6 28
BLX95 N Sot-56 K 40 470 4,5 28
BLX96 N Sot-48 K 0,5 860 6 25
BLX97 N Sot-48 K 1,0 860 5,5 25
BLX98 N Sot-48 K 3,5 860 5 25
BLY36 N To-60 M 13 175 5,8 13,8
BLY53A N Sot-48 K 7,8 470 5,9 13,8
BLY55 N To-60 M 7,8 470 5,9 13,8
BLY57 N To-60 M 7 175 5,5 13,5
BLY58 N To-60 M 12 175 4,7 13,5
BLY59 N To-60 M 3 400 8,8 28
BLY60 N To-60 M 13,5 175 5,8 28
BLY87A N Sot-48 K 8 175 9 13,5
BLY88A N Sot-48 K 15 175 7,5 13,5
BLY89A N Sot-56 K 25 175 6 13,5
BLY90 N Sot-55 K 50 175 5 12,5
BLY91A N Sot-48 K 8 175 12 28
BLY92A N Sot-48 K 15 175 10 28
BLY93A N Sot-56 K 25 175 9 28
BLY94 N Sot-55 K 50 175 7 28

 

  • N سے مراد این پی این NPN ٹرانزسٹر اور P سے مراد پی این پی PNP ٹرانزسٹر ہے۔
  • M/K/G میں سے M دھاتی یعنی میٹل Metal،
    K سرامکCeramic اور
    G شیشہ یعنی گلاس Glass کی پیکنگ کو ظاہر کرتے ہیں۔
  • اگرچہ تمام معلومات پوری توجہ اور چھان بین کے بعد شائع کی جا رہی ہیں تاہم یہ بغیر یقین دہانی (گارنٹی) کے ہیں۔

مخففات کی وضاحت

VCEO اوپن بیس حالت میں کلکٹر-ایمیٹر وولٹیج
VCBO اوپن ایمیٹرحالت میں کلکٹر-بیس وولٹیج
VEBO اوپن کلکٹر حالت میں ایمیٹر-بیس وولٹیج
IC کلکٹر کرنٹ
ICM پیک کلکٹر کرنٹ
IBM پیک بیس کرنٹ
PTOT کل قوت کا اخراج - یہ مقدار عام طور پر درجے سینٹی گریڈ کے عمومی درجہ حرارت پر لی جاتی ہے۔ یہ قوت کی وہ زیادہ سے زیادہ حد ہے جو کوئی ٹرانزسٹر بتائی گئی پیکنگ کے ساتھ برداشت کر سکتا ہے۔
Tj جنکشن درجہ حرارت - کسی بھی حالت میں درجہ حرارت اس حد سے نہیں بڑھنا چاہیئے۔ دوسری صورت میں ٹرانزسٹر یا تو خراب ہو جاتا ہے یا زیادہ دیر تک قابل اعتماد کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرتا۔
Tamb ارد گرد کا درجہ حرارت
Tstg سٹوریج درجہ حرارت ۔ یہ اس درجہ حرارت کی حدود ہیں جن میں ٹرانزسٹر کو رکھا جا سکتا ہے۔ ان حدود سے باہر کے درجہ حرارت پر ٹرانزسٹر میں استعمال کردہ مادے کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
ICBO کلکٹر - بیس کٹ آف کرنٹ۔
IEBO ایمیٹر - بیس کٹ آف کرنٹ۔
hFE فارورڈ کرنٹ گین
VCEsat کلکٹر - ایمیٹر کے مابین وولٹیج کی وہ حد جس پر یہ اپنے عمل کے انتہائی درجے پر آ جاتے ہیں۔
VBEsat بیس - ایمیٹر کے مابین وولٹیج کی وہ حد جس پر یہ اپنے عمل کے انتہائی درجے پر آ جاتے ہیں۔
Cc کلکٹر کپیسیٹینس
Ce ایمیٹر کپیسیٹینس
Ft فریکوینسی ٹرانزیشن۔ یہ فریکوئنسی کی وہ حد ہوتی ہے جس پر کامن ایمیٹر کرنٹ گین گر کر اکائی درجے پر آ جاتا ہے۔ ٹرانزسٹر جس فریکوئنسی پر کام کر رہا ہو، وہ اس حد سے کافی کم ہونی چاہیئے۔

رزسٹر

4 بینڈ رزسٹر کلر کوڈ

رزسٹر کے اوپر بنے ہوئے رنگوں کے حلقوں کی مدد سے اس کی قدر معلوم کرنے کے لئے مندرجہ ذیل طریقہ اختیار کریں:

  1. رزسٹر کو اس طرح پکڑیں کہ جس کنارے سے رنگ شروع ہو رہے ہوں وہ کنارا بائیں طرف رہے۔ اگر رزسٹر پر شرح انحراف (ٹالرینس Tolerance) ظاہر کرنے والا چوتھا حلقہ جو سرخ، گولڈن یا سلور رنگ کا ہوگا، موجود ہے تو وہ دائیں طرف رہے گا۔
  2. بائیں سرے سے پہلے دو رنگ دیکھیں۔ یہ رنگ رزسٹر کی قدر کے پہلے دو ہندسے ہوں گے۔ مثال کے طور پر اگر پہلا رنگ زرد      ہے اور دوسرا بنفشی    تو ہم مندرجہ ذیل کلر کوڈ چارٹ کی مدد سے ان رنگوں کے مقررہ ہندسے4 اور 7 لے کر 47 کا عدد حاصل کر لیں گے۔
  3. بائیں طرف سے تیسرے حلقے کے رنگ کو دیکھیں۔ ذیل میں دیئے گئے چارٹ میں درج اس رنگ کی مقررہ قدر ، پہلے حاصل کردہ قدر سے ضرب کھائے گی۔
  4. مثال کے طور پر اگر تیسرا حلقہ سرخ     رنگ کا ہے تو ہم ذیل میں دیئے گئے چارٹ میں اس رنگ کے آگے درج قدر x100 کو پہلے حاصل کردہ قدر سے ضرب دیں گے۔ اس طرح ہمیں قدر 4,700 حاصل ہوگی۔ یہ قدر اوہم میں ہوگی۔دراصل تیسرے حلقے میں موجود عدد جتنی صفریں، پہلے حاصل کردہ عدد کے بعد لکھنے سے بھی قدر (اوہم میں) حاصل ہو جاتی ہے سوائے اس کے کہ اگر تیسرا حلقہ گولڈن ہو تو پہلے دو حلقوں سے حاصل شدہ قدر کو 10 پر ، اور تیسرا حلقہ سلور ہو تو قدر کو 100 پرتقسیم کیاجائے گا۔
  5. رنگوں کا چوتھا حلقہ رزسٹر کی قدر میں درستگی کی شرح یا شرح انحراف (ٹالرینس Tolerance) کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کلر کوڈ میں دی گئی قدر میں اتنے فیصد کمی یا بیشی ہو سکتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر چوتھا رنگ گولڈن ہے تو رزسٹر کی دی گئی قدر میں %5 فیصد کمی بیشی ہو سکتی ہے ۔ اسیطرح سلور رنگ کی صورت میں %10 اور چوتھا حلقہ نہ ہونے کی صورت میں %20 کمی بیشی ہو سکتی ہے۔

  

4 بینڈ رزسٹر کلر کوڈ چارٹ

(گولڈن یا سلور رنگ کا حلقہ دائیں طرف رکھتے ہوئے)

Colour Name
رنگ کا نام
Colour
رنگ
First Stripe
پہلی پٹی
Second Stripe
دوسری پٹی
Third Stripe
تیسری پٹی
Fourth Stripe
چوتھی پٹی
سیاہ Black 0 0 x1  
برائون Brown 1 1 x10  
سرخ Red 2 2 x100  ±2%
اورنج Orange 3 3 x1,000  
زرد  Yellow 4 4 x10,000  
سبز Green 5 5 x100,000  
نیلا Blue 6 6 x1,000,000  
بنفشی Purple 7 7    
گرے Gray 8 8    
سفید White 9 9    
گولڈ Gold     x0.1 ±5%
سلور Silver     x0.01 ±10%
 کوئی رنگ نہیںNo Band         ±20%

 

5 بینڈ رزسٹر کلر کوڈ

رنگوں کے پانچ حلقوں والے رزسٹر کی قدرمعلوم کرنے کے لئے مندرجہ ذیل طریقہ اختیارکریں:

  1. رزسٹر کو اس طرح پکڑیں کہ جس کنارے سے رنگ شروع ہو رہے ہوں وہ کنارا بائیں طرف رہے۔ رزسٹرپر شرح انحراف (ٹالرینس Tolerance) ظاہر کرنے والا پانچواں حلقہ دائیں طرف رہے گا۔ پانچ حلقوں والے کلر کوڈ میں شرح انحراف ظاہر کرنے کے لئے گرے، بنفشی، نیلا، سبز اور برائون رنگ استعمال کئے جاتے ہیں۔
  2. بائیں سرے سے پہلے تین رنگ دیکھیں۔ یہ رنگ رزسٹر کی قدر کے پہلے تین ہندسے ہوں گے۔ مثال کے طور پر اگر پہلا رنگ سرخ دوسرا زرد اور تیسرا رنگ سبز ہے تو ہم مندرجہ ذیل کلر کوڈ چارٹ کی مدد سے ان رنگوں کے مقررہ ہندسے 2 , 4اور 5 لے کر 245 کا عدد حاصل کر لیں گے۔
  3. بائیں طرف سے چوتھے حلقے کے رنگ کو دیکھیں۔ ذیل میں دیئے گئے چارٹ میں درج اس رنگ کی مقررہ قدر ، پہلے حاصل کردہ قدر سے ضرب کھائے گی۔
  4. مثال کے طور پر اگر چوتھا حلقہ برائون رنگ کا ہے تو ہم ذیل میں دیئے گئے چارٹ میں اس رنگکے آگے درج قدر x10 کو پہلے حاصل کردہ قدر سے ضرب دیں گے۔ اس طرح ہمیں قدر 2450 حاصل ہوگی۔ یہ قدر اوہم میں ہوگی۔دراصل چوتھے حلقے میں موجود عدد جتنی صفریں، پہلے حاصل کردہ عدد کے بعد لکھنے سے بھی قدر (اوہم میں) حاصل ہو جاتی ہے سوائے اس کے کہ اگرچوتھا حلقہ گولڈن ہو تو پہلے دو حلقوں سے حاصل شدہ قدر کو 10 پر تقسیم کیاجائے گا۔پانچ حلقوں والے رزسٹر پر رنگوں کا چوتھا حلقہ گولڈ ،سیاہ، برائون، سرخ، اورنج، زرد، سبز اور نیلے رنگ میں سے کسی ایک پر مشتمل ہوسکتا ہے۔
  5. رنگوں کا چوتھا حلقہ رزسٹر کی قدر میں درستگی کی شرح یا شرح انحراف (ٹالرینس Tolerance) کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کلر کوڈ میں دی گئی قدر میں اتنے فیصد کمی یا بیشی ہو سکتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر چوتھا رنگ برائون ہے تو رزسٹر کی دی گئی قدر میں 1% فیصد کمی بیشی ہو سکتی ہے ۔باقی رنگوں کی مناسبت سے شرح انحراف کی قدر مندرجہ ذیل چارٹ میں واضح کی گئی ہے۔

 

5 بینڈ رزسٹر کلر کوڈ چارٹ

 

Colour Name
رنگ کا نام
Colour
رنگ
First Stripe
پہلی پٹی
Second Stripe
دوسری پٹی
Third Stripe
تیسری پٹی
Fourth Stripe
چوتھی پٹی
5th Stripe
پانچویں پٹی
سیاہ Black 0 0 0 x1  
برائون Brown 1 1 1 x10 ±1%
سرخ Red 2 2 2 x100 ±2%
اورنج Orange 3 3 3 x1,000  
زرد  Yellow 4 4 4 x10,000  
سبز Green 5 5 5 x100,000 ±0.5%
نیلا Blue 6 6 6 x1,000,000 ±0.25%
بنفشی Purple 7 7 7   ±0.1%
گرے Gray 8 8 8   ±0.05%
سفید White 9 9 9    
گولڈ Gold       x0.1 ±5%
سلور Silver         ±10%
 کوئی رنگ نہیں   No Band           ±20%

 

  1. رزسٹر کی قدر لکھتے وقت اس میں صفروں کی بہت زیادہ تعداد نہیں لکھی جاتی ۔ اعشاریہ کا نشان مندرجہ ذیل میں سے کسی ایک نشان سے تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ اس نشان کی ایک خاص قدر ہوتی ہے جس سے رزسٹر کی قدر کو ضرب دی جاتی ہے۔ رزسٹر کی قدر میں جہاں بھی یہ نشان‘جو انگریزی کا ایک حرف ہوتا ہے‘ لکھا گیا ہووہاں پر اعشاریہ لگا دیتے ہیں اور اس طرح حاصل ہونے والے ہندسوں کو اس انگریزی حرف کے سامنے لکھے ہوئے عدد سے ضرب دے دیتے ہیں۔ درحقیقت آپ کو ضرب دینے کی ضرورت نہیں بس اتنے صفر (جو ذیل میں لکھے ہوئے ہیں) رزسٹر کی قدر میں بڑھا دیں۔
  2. مثال کے طور پراگر فہرست اجزا میں کسی رزسٹر کی قدر 2K7 لکھی ہوئی ہے تو اس کی قدر معلوم کرنے کا طریقہ اس طرح ہوگا ....2K7 میں K کی جگہ اعشاریہ لگا دیں۔ اوپر جدول میں K کے سامنے 103 لکھا ہے جس کا مطلب 1,000 ہے۔ اس کے مطابق ہم 2K7 کی جگہ 1,000 × 2.7 لکھ کر اس رزسٹر کی قدر 2,700 اوہم یا 2.7K اوہم معلوم کر سکتے ہیں۔

 

نشان(حرف) نام قدر ضرب دیں
R   ایک 100 1
K   کلو 103 1,000
M   میگا   106 1,000,000
G   گیگا 109 1,000,000,000

دو یا زائد رزسٹر سلسلے وار (Series) جوڑنے سے ان کی رزسٹینس جمع ہو جاتی ہے مثال کے طور پر



 

سلسلے وار رزسٹرز کی قدر معلوم کرنے کا فارمولا یہ   ہے ۔



 

دو یا زائد رزسٹر متوازی (Paralell) جوڑنے سے ان کی مجموعی رزسٹینس‘ کم سے کم قدر کے رزسٹر سے بھی کم ہو جاتی ہے مثال کے طور پر



 

دو متوازی جڑے ہوئے رزسٹرز کی قدر معلوم کرنے کا فارمولا مندرجہ ذیل ہے :



 

دو سے زائد متوازی جڑے ہوئے رزسٹرز کی قدر معلوم کرنے کا فارمولا مندرجہ ذیل ہے :



 

اگر وضاحت نہ کی گئی ہو تو سرکٹس میں استعمال کردہ تمام رزسٹرز ‘ کاربن فلم نوعیت کے ہوں گے۔ یہ ¼ واٹ اور %5 شرح انحراف (Tolerance) کے ہوں گے۔

رزسٹرز کے رنگوں سے اس کی قدر معلوم کرنے کے لئے کلر کوڈ کیلکولیٹر استعمال کیا جا سکتا ہے

رزسٹر کی ترجیحی (Preferred)قدریں

رزسٹر کی ترجیحی (Preferred)قدریں

رزسٹرز متعددمعیاری حدودمیں دستیاب ہیں جن کو عام طور پر ترجیحی (Preferred)قدریں کہا جاتا ہے۔رزسٹرز کی قدروں کے یہ سلسلےیا سیریز، الیکٹرونک انڈسٹریزایسوسی ایشن Electronic Industries Association (جسے مخففا"EIA کہا جاتا ہے)کے متعین کردہ ہیں۔ یہ سلسلے E3،E6 ، E12، E24، E48، E96 اور E192 کہلاتے ہیں۔ 'E'کے بعد کا عدد رزسٹر کی قدروں کی وہ تعداد ظاہر کرتا ہے جو اس سلسلے (سیریز)کی ایک دہائی کے اندر موجود ہوتی ہے۔ سب سے زیادہ استعمال ہونے والا سلسلہ (اغلبا")E24ہے جبکہ سلسلہ E3اور E6 آج کل استعمال نہیں ہوتا۔ یہ سلسلے لوگارتمی (Logarithmic)نوعیت کے ہیں اور ان میں قدروں کا تعین رزسٹر کی شرح انحراف (ٹالرینس Tolerance) کے اعتبار سے کیا گیا ہے۔جن رزسٹرز کی شرح انحراف زیادہ قریبی قدر کی حامل ہو گی، ان کے سلسلے (سیریز) میں قدروں کی تعداد زیادہ ہوگی تاکہ قدریں ایک دوسری سےمشابہ (ایک جیسی یا ایک دوسرے میں مدغم) نہ ہوسکیں۔بعض اوقات ان سلسلوں کو شرح انحراف کے حوالے سے بھی بیان کیا جاتا ہے۔ دو سلسلوں (سیریز) کو مندرجہ ذیل فہرست کے مطابق بھی ایک دوسرے سے متعلق کیا جاتا ہے۔

E3 : شرح انحراف 50%       E48 : شرح انحراف 2%
E6 : شرح انحراف 20%       E96 : شرح انحراف1%
E12 : شرح انحراف 10%       E192 : 1%سے کم شرح انحراف
E24 : شرح انحراف 5%            

سرکٹ ڈیزائن کرتے وقت جب کوئی رزسٹر قدر (فارمولے سے) اخذ کی جاتی ہے تو ضروری ہوتا ہےکہ اسے نزدیکی ترجیحی قدر کے مطابق منتخب کر لیا جائے۔ عمومی طور پر یہ منتخب کردہ قدر، اس سلسلے(سیریز)کی ترجیحی قدر کے قریب ترین ہوتی ہے، جسے آپ استعمال کر رہے ہوں۔ کچھ حالات میں یہ زیادہ مناسب ہوتا ہے کہ اخذ کردہ قدر سے نزدیکی بالائی قدر کو منتخب کیا جائے۔ مثال کے طور پر کرنٹ کو محدود کرنے والا رزسٹر۔ جب آپ کرنٹ کو محدود کرنے والے رزسٹر کی اخذکردہ قدر کی بجائے نزدیکی کم قدر کا رزسٹر منتخب کریں گے تو ہو سکتا ہے کہ متعلقہ پرزہ اوور لوڈ ہو جائے۔

ذیل کی جدول میں دکھائی گئی قدریں عام استعمال کے ترجیحی سلسلوں کی ہیں۔

E12 سلسلہ (سیریز)

(بائیں سے دائیں پڑھیں)۔
1R0 10R 100R 1K0 10K 100K 1M0 10M0
1R2 12R 120R 1K2 12K 120K 1M2  
1R5 15R 150R 1K5 15K 150K 1M5  
1R8 18R 180R 1K8 18K 180K 1M8  
2R2 22R 220R 2K2 22K 220K 2M2  
2R7 27R 270R 2K7 27K 270K 2M7  
3R3 33R 330R 3K3 33K 330K 3M3  
3R9 39R 390R 3K9 39K 390K 3M9  
4R7 47R 470R 4K7 47K 470K 4M7  
5R6 56R 560R 5K6 56K 560K 5M6  
6R8 68R 680R 6K8 68K 680K 6M8  
8R2 82R 820R 8K2 82K 820K 8M2  

E24سلسلہ (سیریز)

(بائیں سے دائیں پڑھیں)۔
1R0 10R 100R 1K0 10K 100K 1M0 10M
1R1 11R 110R 1K1 11K 110K 1M1  
1R2 12R 120R 1K2 12K 120K 1M2  
1R3 13R 130R 1K3 13K 130K 1M3  
1R5 15R 150R 1K5 15K 150K 1M5  
1R6 16R 160R 1K6 16K 160K 1M6  
1R8 18R 180R 1K8 18K 180K 1M8  
2R0 20R 200R 2K0 20K 200K 2M0  
2R2 22R 220R 2K2 22K 220K 2M2  
2R4 24R 240R 2K4 24K 240K 2M4  
2R7 27R 270R 2K7 27K 270K 2M7  
3R0 30R 300R 3K0 30K 300K 3M0  
3R3 33R 330R 3K3 33K 330K 3M3  
3R6 36R 360R 3K6 36K 360K 3M6  
3R9 39R 390R 3K9 39K 390K 3M9  
4R3 43R 430R 4K3 43K 430K 4M3  
4R7 47R 470R 4K7 47K 470K 4M7  
5R1 51R 510R 5K1 51K 510K 5M1  
5R6 56R 560R 5K6 56K 560K 5M6  
6R2 62R 620R 6K2 62K 620K 6M2  
6R8 68R 680R 6K8 68K 680K 6M8  
7R5 75R 750R 7K5 75K 750K 7M5  
8R2 82R 820R 8K2 82K 820K 8M2  
9R1 91R 910R 9K1 91K 910K 9M1  

E48سلسلہ (سیریز)

E48سلسلے میں 100تا 1000دہائیوں کی قدریں

(بائیں سے دائیں پڑھیں)۔
100 105 110 115 121 127 133 140
147 154 162 169 178 187 196 205
215 226 237 249 261 274 287 301
316 332 348 365 383 402 422 442
464 487 511 536 562 590 619 649
681 715 750 787 825 866 909 953

دوسری دہائیوں کی قدروں کے لئے مطلوبہ قدر کو10 سے ضرب یا تقسیم کریں۔


E96سلسلہ (سیریز)

E96سلسلے میں 100تا 1000دہائیوں کی قدریں

(بائیں سے دائیں پڑھیں)۔
100 102 105 107 110 113 115 118
121 124 127 130 133 137 140 143
147 150 154 158 162 165 169 174
178 182 187 191 196 200 205 210
215 221 226 232 237 243 249 255
261 267 274 280 287 294 301 309
316 324 332 340 348 357 365 374
383 392 402 412 422 432 442 453
464 475 487 499 511 523 536 549
562 576 590 604 619 634 649 665
681 698 715 732 750 768 787 806
825 845 866 887 909 931 953 976

دوسری دہائیوں کی قدروں کے لئے مطلوبہ قدر کو10 سے ضرب یا تقسیم کریں۔


E192سلسلہ (سیریز)

E192سلسلے میں 100تا 1000دہائیوں کی قدریں

(بائیں سے دائیں پڑھیں)۔
100 101 102 104 105 106 107 109
110 111 113 114 115 117 118 120
121 123 124 126 127 129 130 132
133 135 137 138 140 142 143 145
147 149 150 152 154 156 158 160
162 164 165 167 169 172 174 176
178 180 182 184 187 189 191 193
196 198 200 203 205 208 210 213
215 218 221 223 226 229 232 234
237 240 243 246 249 252 255 258
261 264 267 271 274 277 280 284
287 291 294 298 301 305 309 312
316 320 324 328 332 336 340 344
348 352 357 361 365 370 374 379
383 388 392 397 402 407 412 417
422 427 432 437 442 448 453 459
464 470 475 481 487 493 499 505
511 517 523 530 536 542 549 556
562 569 576 583 590 597 604 612
619 626 634 642 649 657 665 673
681 690 698 706 715 723 732 741
750 759 768 777 787 796 806 816
825 835 845 856 866 876 887 898
909 920 931 942 953 965 976 988

دوسری دہائیوں کی قدروں کے لئے مطلوبہ قدر کو 10. سے ضرب یا تقسیم کریں۔

سسٹم انٹر نیشنل (SI) نظام

الیکٹرونکس ڈائجسٹ کے ان صفحات میں دیئے گئے اکثر سرکٹ ڈایا گرامز میں الیکٹرونک پرزہ جات (پارٹس) کو سسٹم انٹر نیشنل (SI) نظام کے مطابق نامزد (لیبل) کیا گیا ہے۔ System International یا SI نظام میں پرزہ جات کی قدریں (ویلیوز) اعشاری نقطے (ڈیسی مل پوائنٹ) کے بغیر لکھی جاتی ہیں۔ پرانے سرکٹ ڈایا گرامز میں خاص طور پر اعشاریہ کا نقطہ مدھم ہو جانے کی وجہ سے اور نئے سرکٹ ڈایا گرامز میں پرنٹنگ کی خرابی یا کسی بھی دوسری وجہ سے یہ نقطہ آسانی سے نظر نہیں آتا۔ اس کے باعث اکثر غلطی ہو جاتی ہے۔ اس غلطی کو دور کرنے یا اس کا امکان کم از کم رکھنے کی وجہ سے SI نظام مروج کیا گیا ہے۔

پرزہ جات یا اجزا کی قدر لکھتے وقت قدر کی اکائی آخر میں لکھی جاتی ہے۔ اگر قدر میں اعشاریہ نشان بھی آ رہا ہو تو اسے اکائی کے مخفف حرف سے تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر 10 اوہم رزسٹر کی قدر 10Rلکھی جائے گی اور 4.7mH قدر کے انڈکٹر کی قدر 4m7H لکھی جائے گی۔مزید مثالیں

2.2k = 2k2
2.5A = 2A5
.0015µ = 1.5n =1n5

مندرجہ ذیل جدول میں ضرب کنندہ (ملٹی پلائرز) کی سب سے عام استعمال ہونے والی وہ قدریں درج کی گئی ہیں جو الیکٹرونکس میں استعمال ہوتی ہیں۔

قدر   نام  نشان یا حرف قدر   نام  نشان یا حرف
10 3 کلو k 10 - 3 ملی m
10 6 میگا M 10 - 6 مائکرو µ
10 9 گیگا G 10 - 9 نینو n
10 12 ٹیرا T 10 - 12 پیکو p

سسٹم انٹرنیشنل یونٹس مقداریں SI Units Quantities

Quantity نام مقدار Symbolنشان Unitsاکائی
Resistance رزسٹینس R Ohms (W)اوہمز
Capacitanceکپیسی ٹینس C Farads (F)فیراڈز
Conductanceکنڈکٹینس G Siemens (S)سیمنز
Inductanceانڈکٹینس H Heney (H) ہنری
Currentکرنت I Amperes (A)ایمپئرز
Chargeچارج Q Coulombs (C)کولمبس
Energyتوانائی W Joules (J)جولز
Powerقوت P Watts (W)واٹس
E.M.Fالیکٹرو موٹو فورس E Volts (V)وولٹس
Massکمیت M Kilograms (Kg)کلو گرامز
Lengthلمبائی L Metres (m)میٹرز
Timeوقت T Seconds (s)سیکنڈز
Velocityاسرا V Metres/second (m/s)میٹر فی سیکنڈ
Angular Velocity
زاویاتی اسراع
w Radians/second (r/s)ریدیئن فی سیکنڈ

سولڈرنگ کا آسان طریقہ









سٹینڈرڈ وائر گیج اور امریکن وائر گیج حوالہ جاتی جدول

وائر گیج حوالہ جاتی جدول

Wire Gauge Reference Table

 

اس حوالہ جاتی جدول میں دی گئی معلومات امکانی حد تک درست، مکمل اور مفید رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ تاہم اس سلسلے میں کسی قسم کی یقین دہانی یا قانونی ذمہ داری اٹھانے سے مولف اور فورم مالکان کسی بھی لحاظ سے کسی بھی طرح ذمہ دار نہیں ہوں گے۔

عام طور تکنیکی معلومات، ڈرائنگز اور خصوصیات کے ضمن میں وائر گیج کا حوالہ دیا جاتا ہے۔ ان میں عام طور پر امریکن وائر گیج یعنی (AWG) اور سٹینڈرڈ وائر گیج یعنی (SWG) شامل ہوتے ہیں۔ کوائل لپیٹنے والی (کوائل وائنڈنگ) اکثر مشینیں ملی میٹر یا انچ میں دئے گئے قطر کے اعتبار سے پروگرام کی جاتی ہیں۔ یہاں پر دی گئی جدول میں ان دونوں وائر گیجز کے متبادل ملی میٹر اور انچ میں قطر درج کئے گئے ہیں۔

اس جدول میں دی گئی قطر کی پیمائشوں کا اطلاق ٹھوس تاروں پر ہو گا۔ معیاری تاروں کی پیمائش مطابقت کے تانبے کے کراس سیکشنل ایریا equivalent cross sectional سے اخذ کی گئی ہیں۔

امریکن وائر گیج تاروں کے سائز کا عددی نظام ہے جس میں کم سے کم عدد 6/0 زیادہ سے زیادہ سائز0.58000 انچ یا 14.7320 ملی میٹر کے لئے تفویض کردہ ہے۔
اس نظام ( AWG) میں گیج سائزوں میں سے ہر ایک، کراس سیکشنل ایریا کی بنیاد پر دوسرے سے 20.6 فیصد مختلف ہے۔

AWG

=

امریکن وائر گیج۔ اسے براؤن اینڈ شارپ گیج Brown & Sharpe بھی کہا جاتا ہے۔

SWG

=

اسٹینڈرڈ وائر گیج۔ یہ برطانوی پیمائشی نظام ہے۔  

BWG

=

برمنگھم وائر گیج۔ یہ برطانیہ کا تاروں کی پیمائش کا قدیم نظام ہے جو دنیا بھر میں استعمال ہوتا تھا۔

 

Gauge

SWG

AWG

Gauge

SWG

AWG

Inches

mm

Inches

mm

Inches

mm

Inches

mm

7/0

0.500

12.700

---

---

23

0.024

0.610

0.0226

0.574

6/0

0.464

11.786

0.58000

14.7320

24

0.022

0.559

0.0201

0.511

5/0

0.432

10.973

0.51650

13.1191

25

0.020

0.508

0.0179

0.455

4/0

0.400

10.160

0.46000

11.6840

26

0.018

0.457

0.0159

0.404

3/0

0.372

9.449

0.40960

10.4038

27

0.0164

0.417

0.0142

0.361

2/0

0.348

8.839

0.36480

9.26592

28

0.0148

0.376

0.0126

0.320

1/0

0.324

8.236

---

---

29

0.0136

0.345

0.0113

0.287

1

0.300

7.620

0.2893

7.35

30

0.0124

0.315

0.0100

0.254

2

0.276

7.010

0.2576

6.54

31

0.0116

0.295

0.0089

0.226

3

0.252

6.401

0.2294

5.83

32

0.0108

0.274

0.0080

0.203

4

0.232

5.893

0.2043

5.19

33

0.0100

0.254

0.0071

0.180

5

0.212

5.385

0.1819

4.62

34

0.0092

0.234

0.0063

0.160

6

0.192

4.877

0.162

4.11

35

0.0084

0.213

0.0056

0.142

7

0.176

4.470

0.1443

3.67

36

0.0076

0.193

0.0050

0.127

8

0.160

4.064

0.1285

3.26

37

0.0068

0.173

0.0045

0.114

9

0.144

3.658

0.1144

2.91

38

0.006

0.152

0.0040

0.102

10

0.128

3.251

0.1019

2.60

39

0.0052

0.132

0.0035

0.089

11

0.116

2.946

0.0907

2.30

40

0.0048

0.122

0.0031

0.079

12

0.104

2.642

0.0808

2.05

41

0.0044

0.112

0.0028

0.071

13

0.092

2.337

0.0720

1.83

42

0.004

0.102

0.0025

0.064

14

0.080

2.032

0.0641

1.63

43

0.0036

0.091

0.0022

0.056

15

0.072

1.829

0.0571

1.45

44

0.0032

0.081

0.0020

0.051

16

0.064

1.626

0.0508

1.29

45

0.0028

0.071

0.00176

0.045

17

0.056

1.422

0.0453

1.15

46

0.0024

0.061

0.00157

0.040

18

0.048

1.219

0.0403

1.02

47

0.002

0.051

0.00140

0.036

19

0.040

1.016

0.0359

0.912

48

0.0016

0.041

0.00124

0.031

20

0.036

0.914

0.0320

0.813

49

0.0012

0.030

0.00110

0.028

21

0.032

0.813

0.0285

0.724

50

0.001

0.025

0.00100

0.025

22

0.028

0.711

0.0253

0.643

 

 

 

 

 

 

متفرق

ٹائپ نمبرز

کچھ آئی سی مختلف کمپنیاں بناتی ہیں جس کی وجہ سے ان کے ٹائپ نمبر مختلف لیکن ان کی خصوصیات ایک جیسی ہوتی ہیں۔اسی وجہ سے الیکٹرونکس ڈائجسٹ میں ایسے آئی سیز کا مختصر نمبر ہی استعمال کیا جاتاہے۔ اگر کہیں مکمل ٹائپ نمبر استعمال کیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس سرکٹ میں صرف وہی آئی سی ہی درست نتائج مہیا کرے گا۔

مثال کے طور پر اگر کسی سرکٹ میں ٹائمر آئی سی 555 یا آپریشنل آئی سی 741 استعمال کیا گیا ہو تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ان ٹائپ نمبرز کے آئی سیز میں سے کوئی بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ آئی سی 555 کی جگہ LM555 یا mA555 یا MC555 وغیرہ۔ آئی سی 741 کی جگہ MIC741 یا µA741 یا SN72741 وغیرہ۔

جنرل پرپز ٹرانزسٹر

جنرل پرپز PNP یا جنرل پرپز NPN سلیکان ٹرانزسٹر سے مراد ایسا لو فریکوئنسی ٹرانزسٹر ہوتا ہے جس میں مندرجہ ذیل خصوصیات موجود ہوں۔ عمومی مقاصد کےٹرانزسٹر سے بھی یہی مرا د ہوگی:

خصوصیت قدر تفصیل
زیادہ سے زیادہ Vceo 20 کلکٹر ایمیٹر کے مابین وولٹ جبکہ بیس اوپن ہو
زیادہ سے زیادہ Ic 100mA کلکٹر کرنٹ
کم ازکم hfe 100 کرنٹ گین
زیادہ سے زیادہ Ptot 100mW پاور کا اخراج
کم ازکم ft 100MHz کٹ آف فریکوئنسی

ٹیسٹ وولٹیج

سرکٹ ڈایاگرامز میں وولٹیج کی جو مقداریں بیان کی جاتی ہیں وہ عام طور پر ایسے وولٹ میٹر سے ناپی جاتی ہیں جس کی حساسیت 20KΩ فی وولٹ ہوتی ہے۔ بصورت دیگر بتا دیا جاتا ہے۔

الیکٹرونکس ڈائجسٹ میں وولٹ ظاہر کرنے کے لیئے V اور وولٹیج ظاہر کرنے کے لیئے U استعمال کیا جاتا ہے۔

ویری ایبل رزسٹر

ویری ایبل رزسٹرز ، خاص طور پر پری سیٹ پوٹیشو میٹرز پر ان کی قدر کوڈ میں لکھی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر 302, 103, 101 وغیرہ۔ اس کوڈ میں بائیں طرف کے دو ہندسے ویری ایبل رزسٹر کی قدر کو اور دائیں طرف کا ہندسہ قدر میں صفروں کی تعداد کو ظاہر کرتا ہے۔اس طرح حاصل ہونے والی قدر اوہمزمیں حاصل ہوتی ہے۔ مثلاً اگر ویری ایبل رزسٹر پر لکھا ہوا کوڈ 101 ہو تو اس کی قدر 100 اوہم ہوگی۔ (بائیں طرف کے دو ہندسے 10 ہیں جبکہ دائیں طرف کا ہندسہ 1 ہے اس طرح ہم 10 کے ساتھ ایک صفر کا اضافہ کرکے اسے 100 بنا لیں گے)۔ اسی طرح 103 کوڈ کا مطلب 10000 اوہم یا 10K اوہم ہوگا۔ذیل میں دی گئی مثالوں سے اس کی مزیدوضاحت ہو جائے گی۔

کوڈ قدر کوڈ قدر
101 100 اوہم 503 50K اوہم
121 120 اوہم 603 60K اوہم
151 150 اوہم 703 70K اوہم
201 200 اوہم 803 80K اوہم
301 300 اوہم 903 90K اوہم
401 400 اوہم 104 100K اوہم
501 500 اوہم 204 200K اوہم
601 600 اوہم 304 300K اوہم
701 700 اوہم 404 400K اوہم
801 800 اوہم 504 500K اوہم
901 900 اوہم 604 600K اوہم
102 1K اوہم 704 700K اوہم
202 2K اوہم 804 800K اوہم
302 3K اوہم 904 900K اوہم
402 4K اوہم 105 1M اوہم
502 5K اوہم 205 2M اوہم
602 6K اوہم 305 3M اوہم
702 7K اوہم 405 4M اوہم
802 8K اوہم 505 5M اوہم
902 9K اوہم 605 6M اوہم
103 10K اوہم 705 7M اوہم
203 20K اوہم 805 8M اوہم
303 30K اوہم 905 9M اوہم
403 40K اوہم    

ٹرانزسٹر کیا ہے؟

ٹرانزسٹرکیاہے؟

یہ مضمون ٹرانزسٹر کی ایجاد کے چودہ سال بعد پاپولر الیکٹرونکس نامی رسالے میں اگست 1959 میں شائع ہوا تھا۔
اگر آپ بھی ان لوگوں میں سے ہیں جو ٹرانزسٹر کو سمجھنے کے لئے پیچیدہ ریاضیاتی مساواتیں حل نہیں کرنا چاہتے ہیں
یا ٹرانزسٹرز کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے تو یہ مضمون آج بھی آپ کے لئے بے حد مفید ثابت ہوگا۔

اوہم لا اور ٹرانزسٹر

آپ ٹرانزسٹر کے بنیادی عمل کو سمجھنے کے لئے یوں تصور کر لیں کہ دو ڈائیوڈ ایک دوسرے سے شکل نمبر1کے مطابق جڑے ہوئے ہیں۔

جیسا کہ شکل نمبر1 میں دکھایا گیا ہے بنیادی طور پر ٹرانزسٹر پی این پی نوعیت کا پرزہ ہے۔ اسے ہم این پی این بھی بنا سکتے ہیں اور وہ اس طرح کہ دونوں ڈائیوڈز کو الٹا کر جوڑدیں یعنی شکل نمبر 1(b) کے مطابق۔

اس موضوع پر تفصیلی گفتگو ہم آگے چل کر کریں گے لیکن اس وقت صرف اتنا یاد کر لیں کہ جب ہم پی P حصے کو مثبت وولٹیج اور این N حصے کو منفی وولٹیج فراہم کرتے ہیں تو ٹرانزسٹر اپنا عمل جاری کر دیتا ہے یعنی ٹرانزسٹر رو بہ عمل ہو جاتا ہے۔ انگریزی میں اسے کہتے ہیں کہ ٹرانزسٹر کنڈکٹ (Conduct) کرنے لگتا ہے۔

ٹرانزسٹر کی تین تاریں ہوتی ہیں جن کو بیس (Base) ایمی ٹر (Emitter) اور کلکٹر (Collector) کہتے ہیں۔ اوپر دی گئی شکل نمبر1 میں درمیانی تار تو بیس کی ہے لیکن بقیہ دونوں میں سے ایمی ٹراور کلکٹر کون کون سی تاریں ہیں، اس سوال کا جواب ابھی معلوم کرنا ہے۔آپ کو یہ پڑھ کر حیرت ہو گی کہ ہم بقیہ دونوں تاروں میں سے کسی کو بھی بطور ایمی ٹر اور بطور کلکٹر استعمال کر سکتے ہیں۔ لیکن عملی طور پر چونکہ عموماً کلکٹر حصے کو ایمی ٹر حصے کی نسبت قدرے بڑا یا طاقتور بنایا جاتا ہے چنانچہ سرکٹ ڈایا گرامز میں اور عملی کام میں کلکٹر کو کلکٹر اور ایمی ٹر کو ایمی ٹر ہی کے طور پر استعمال کرنا لازمی ہو جاتا ہے۔

در اصل کلکٹر اور ایمی ٹر کے مابین حقیقی فرق وہ طریقہ ہے جس سے ہم انہیں استعمال کرتے ہیں۔ ایمی ٹر کو اس طرح بائس کیا جاتا ہے کہ اس میں سے زیادہ سے زیادہ کرنٹ گزر سکے،اسے فارورڈ بائس کہتے ہیں۔ جبکہ کلکٹر کو الٹا بائس کیا جاتا ہے تاکہ اس میں سے کم سے کم کرنٹ گزرے۔ اسے ریورس بائس کہتے ہیں۔

اس طرح بیس اور ایمی ٹر کے درمیان زیادہ کرنٹ گزرتا ہے یعنی بیس اور ایمی ٹر کے درمیان کم وولٹیج ڈراپ واقع ہوتا ہے۔ ان دونوں کے درمیان تقریباً ایک چوتھائی وولٹ سے کچھ ہی زیادہ وولٹیج ڈراپ واقع ہوتا ہے۔مثال کے طور پر شکل نمبر 2 میں دیا گیا سرکٹ دیکھیں۔

یہاں پر ہم ایک لمحے کے لئے کلکٹر کو نظر انداز کر دیتے ہیں کیوں کہ ابھی تک ہم نے اسے خالی رکھا ہوا ہے۔ ایمی ٹر کو گراؤنڈ پر رکھا گیا ہے چنانچہ ہم بیس کو بھی تقریباًگراؤنڈ ہی پر فرض کرتے ہیں۔یعنی اس حالت میں بیٹری سے آنے والے 3V0 براہ راست 1K5 اوہم رزسٹر کے گرد مہیا ہو جائیں گے۔ اوہم لا کے مطابق رزسٹر کے گردکرنٹ اس مساوات کے مطابق حاصل ہو گی یعنی دو ملی ایمپئر 2mA۔

چونکہ یہاں پر ٹرانزسٹر کا یہ حصہ فارورڈ سمت میں عمل کر رہا ہے چنانچہ اس میں سے گزرنے والی کرنٹ کلکٹر کے ذریعے متاثر نہیں ہوگی۔یہاں پر یہ بات نوٹ کرلیں کہ چونکہ بیس کو منفی وولٹیج اور ایمی ٹر کو مثبت وولٹیج سے جوڑا گیا ہے چنانچہ ٹرانزسٹر لازمی طور پر پی این پی نوعیت کا ہوگا۔

کرنٹ اور ٹرانزسٹر

یہاں پر ایک دوسرا نکتہ سامنے آتا ہے۔ ٹرانزسٹر کے کلکٹر کو اس طرح بائس کرنا ضروری ہے کہ یہ غیر عامل یعنی نان کنڈکٹنگ حالت میں رہے۔یعنی بیس کلکٹر کو ریورس بائس کرنا ضروری ہے۔ اگر ہم صرف بیس کلکٹر ہی کو سامنے رکھیں اور ان ہی دونوں کو سرکٹ میں جوڑیں تو ریورس بائس حالت میں ان میں سے کوئی کرنٹ نہیں گزرے گی۔ لیکن جب ٹرانزسٹر کے بیس ایمی ٹر کو بھی بیس کلکٹر کے ساتھ ہی سرکٹ میں جوڑا جاتا ہے تو عملی طور پر بیس ایمی ٹر کے فارورڈ بائس حالت میں عمل کرنے کی وجہ سے بیس کلکٹر کے مابین بھی کرنٹ جاری ہو جاتا ہے اور کرنٹ کا یہی بہاؤ ٹرانزسٹر کے وجود میں آنے کا باعث بنا۔یہاں پر شاید یہ بات آپ کو قدرے پیچیدہ معلوم ہو۔ آسانی کے لئے یہ کہہ لیں کہ بیس میں سے کرنٹ کی کوئی بھی مقدار گزرے، یہ کلکٹر میں سے اضافہ شدہ کرنٹ جاری کرنے کا باعث بنے گی۔ بیس کرنٹ (Ib) معلوم کرنے کے لئے اوہم لا کی مدد لیتے ہیں۔ بیس کرنٹ (Ib) کو کرنٹ گین یعنی HFE سے ضرب دینے سے ہمیں کلکٹر کرنٹ (Ic) حاصل ہوگی۔ (یعنی

(ٹرانزسٹر میں HFE کا مطلب وہ نسبت ہے جو ٹرانزسٹر کی بیس کرنٹ اور کلکٹر کرنٹ کے مابین ہوتی ہے۔یہ نسبتی عدد ہوتا ہے اور اسے کرنٹ گین بھی کہا جاتا ہے۔ یہ عدد عام طور پر 10 سے200 تک ہوتا ہے۔ٹرانزسٹر میں کرنٹ گین کو بی-ٹا بھی کہا جاتا ہے اور اسے نشان β سے ظاہر کیا جاتا ہے۔)

یہاں پر ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کلکٹر کو زیادہ وولٹیج فراہم کر دیئے جائیں تو کیا یہ زیادہ کرنٹ گزارے گا؟ جواب یہ ہے کہ ایسا ہرگز نہیں ہو گا۔یہ سوال کرتے ہوئے ہم ایک باریک سا نکتہ نظر انداز کر رہے ہیں۔ یاد رکھیں کہ کلکٹر کرنٹ (Ic) ہمیشہ بیس کرنٹ (Ib) اور کرنٹ گین (HFE) کے حاصل ضرب کے برابر ہوگی۔ ٹرانزسٹر بنانے والے ادارے ہر ٹرانزسٹر کا کرنٹ گین اس کی ڈیٹا شیٹ میں مہیا کرتے ہیں۔ یہاں پر مثال کے طور پر ہم ایک پی این پی جرمینیئم(آج کل تقریباًً تمام ٹرانزسٹر سلیکان دھات سے بنائے جاتے ہیں لیکن ٹرانزسٹر کے ابتدائی دور میں یہ جرمینیئم دھات سے بنائے جاتے تھے۔) ٹرانزسٹر 2N107 کی ڈیٹا شیٹ دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا کرنٹ گین 20 ہے۔اس کا سرکٹ ڈایا گرام شکل نمبر 3 میں دکھایا گیا ہے۔

سرکٹ میں ٹرانزسٹر کا ایمی ٹر گراؤنڈ سے منسلک ہے اس طرح بیس لگ بھگ صفر وولٹ پر ہے جس کی وجہ سے بیٹری سے آنے والے تین وولٹ ڈی سی، 33K اوہم رزسٹرکے گرد ڈراپ ہوں گے۔اس طرح بیس سے گزرنے والی کرنٹ کی مقدار 0.1 ملی ایمپئر ہو گی۔اس ٹرانزسٹر میں افزائش (ایمپلی فی کیشن Amplification) یعنی گین 20 ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ کلکٹر سے ملنے والی کرنٹ 2 ملی ایمپئر ہو گی۔ یہاں پر پھر ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا رزسٹر R کی در کلکٹر کرنٹ میں کوئی تبدیلی پیدا کرے گی؟ جواب ہے بالکل نہیں۔ فرض کریں کہ رزسٹرR کی قدر 2K0اوہم ہے۔اوہم لا کے مطابق اس قدر کے رزسٹر کے گرد وولٹیج ڈراپ چار وولٹ 4V0ہو گا۔ اس کا مطلب صاف ہے کہ اگر رزسٹرR کی قدر زیادہ ہو گی تو کلکٹر سے کوئی وولٹیج نہیں گزریں گےاور کوئی وولٹیج نہ گزرنے کا نتیجہ صاف ہے، ٹرانزسٹر عمل ہی نہیں کرے گا یعنی نان کنڈکٹنگ حالت میں آ جائے گا۔چنانچہ اس سرکٹ میں رزسٹر Rکی قدر 800Rکے قریب رکھی جائے تو بہت عمدہ رہے گا۔ آپ یہ سوچ سکتے ہیں کہ اس قدر کے رزسٹر میں ہونے والا وولٹیج ڈراپ 1V6 ہو گا اور کلکٹر سے ملنے والے وولٹیج محض 1V4 رہ جائیں گے جو کہ بہت کم ہیں اور اس طرح کی سپلائی سے عمدہ سگنل وولٹیج حاصل نہیں ہو سکتے۔ آپ کی سوچ درست ہے لیکن اس کا زیادہ انحصار اس بات پر ہو گا کہ آپ ٹرانزسٹر کی افزائش (ایمپلی فی کیشن)سے کیا کام لینا چاہتے ہیں۔ عام طور پر آپ کو وولٹیج کی نہیں بلکہ کرنٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہاں پر ایک اور اہم بات مد نظر رکھنا ضروری ہے وہ ہے حرارت کے اثرات۔عام طور پر ٹرانزسٹر کا گین ہموار اور ایک ہی حد میں رہتا ہے تاہم اگر حرارت بڑھ جائے توکسی حد تک لیکیج Leakage کرنٹ سے واسطہ پڑتا ہے۔ لیکیج کرنٹ وہ کرنٹ ہے جو کام آنے کی بجائے ضائع ہو جاتی ہے۔ عام طور پر لیکیج کرنٹ کے بارے میں کسی تشویش کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اگر ہم ٹرانزسٹر کی بتائی گئی وولٹیج اورکرنٹ کی زیادہ سے زیادہ حدود کے اندر رہیں تو لیکیج کرنٹ سے شاذو نادر ہی واسطہ پڑتا ہے۔ان حدود میں زیادہ سے زیادہ کلکٹر سے بیس وولٹیج، زیادہ سے زیادہ کلکٹر کرنٹ اور زیادہ سے زیادہ حرارتی اخراج یعنی Dissipation زیادہ اہم ہیں۔ ٹرانزسٹر کو کبھی بتائی گئی حدود سے زیادہ وولٹیج فراہم نہ کریں، نہ ہی اسے زیادہ کرنٹ فراہم کریں اور نہ ہی زیادہ حرارت خارج کرنے دیں جو عام طور پر زیادہ وولٹیج اور کرنٹ فراہم کرنے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔

ٹرانزسٹر ڈیزائن

یہاں تک بتائے گئے اصولوں کے مطابق ہم ٹرانزسٹر استعمال کرتے ہوئے ایک چھوٹے سے ایمپلی فائر کا سرکٹ ڈیزائن کرتے ہیں۔ شکل نمبر 4 دیکھیں۔ سب سے پہلے یہ یاد کر لیں کہ ٹرانزسٹر در حقیقت ڈائیوڈز کے ایک جوڑے کی طرح کام کرتا ہے۔ اس سرکٹ میں بیس اور ایمی ٹر پر مشتمل ڈائیوڈ فارورڈ بائس کیا جاتا ہے۔ پی این پی ٹرانزسٹر میں بیس پر منفی وولٹیج اور ایمی ٹر پر مثبت وولٹیج فراہم کیئے جاتے ہیں۔اس طرح بیس اور ایمی ٹر سے بننے والے ڈائیوڈ میں کرنٹ جاری ہو جاتا ہے یعنی کنڈکٹ کرنے لگتا ہے۔ شکل نمبر 5 میں سرکٹ کا یہ حصہ الگ سے دکھایا گیا ہے۔

جب اس حصے کے ڈائیوڈ میں کرنٹ جاری ہو جاتا ہے (یعنی یہ کنڈکٹ کرنے لگتا ہے)تو اس کا عمل ایسے ہوتا ہے جیسے آپ نے کوئی سوئچ آن یعنی کلوز کر دیا ہو۔ اب جب یہ بیس ایمی ٹر حصے کا ڈائیوڈ کنڈکٹ کر رہا ہوتا ہے تو بیس پر مہیا کردہ تمام اے سی سگنل براہ راست ڈائیوڈ سے گزر کر گراؤنڈ کی طرف چلے جاتے ہیں۔ اکثر ضروریات کے لئے ان پٹ امپی ڈینس اتنی کم ہوتی ہے کہ آپ اسے صفر تصور کر سکتے ہیں۔اب آپ یہ سوال کر سکتے ہیں کہ اگر ان پٹ شارٹ سرکٹ حالت میں ہے تو کسی بھی قسم کی ایمپلی فی کیشن کیسے واقع ہو سکتی ہے کیونکہ اگر ان پٹ کو شارٹ کر دیا جائے تو وہاں پر کوئی وولٹیج برقرار نہیں رہ سکتے۔ در حقیقت یہاں پر وولٹیج سے بھی زیادہ ایک اور اہم چیز موجود ہے۔ چونکہ ٹرانزسٹر کی ان پٹ شارٹ سرکٹ حالت میں ہے، اس پر وولٹیج کی قابل ذکر مقدار موجود نہیں لیکن کلکٹر میں اس کے باوجود بھی کرنٹ جاری ہو گی اور کرنٹ ہی وہ چیز ہے جسے ٹرانزسٹر ایمپلی فائی کرتا ہے۔

فرض کریں کہ ہم ایسا ٹرانزسٹر استعمال کر رہے ہیں جس کا بی ٹا(کرنٹ گین) 20 ہے۔ اگر اس کی بیس پر ایک ملی ایمپیئر 1mA کا سگنل دیں تو کلکٹر پر 20 ملی ایمپیئر حاصل ہوں گے۔ یہ بات اپنے ذہن میں اچھی طرح بٹھا لیں کہ “ٹرانزسٹر کرنٹ کی افزائش (ایمپلی فی کیشن) کرتا ہے” یہاں پر سب سے زیادہ استعمال ہونے والا ٹرانزسٹر سرکٹ یعنی گراؤنڈڈ ایمی ٹر یا مشترک(کامن) ایمی ٹرسرکٹ استعمال کیا جا رہا ہے۔ ٹرانزسٹر کو مشترک(کامن) بیس اور مشترک(کامن) کلکٹر حالتوں میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

سلسلے وار ایمپلی فائرز

اب جبکہ ٹرانزسٹر کے کلکٹر سے ملنے والی آؤٹ پٹ وولٹیج کی بجائے ملی ایمپیئرز میں ہے اور یہ کلکٹر رزسٹر سے گزر رہی ہے تو اسے استعمال کرنا کیونکر ممکن ہوگا؟ یہ بات حقیقتا درست نہیں ہے۔ اس کا دارومدار کہ آؤٹ پٹ کو کس طرح استعمال کیا جائے، اس بات پر منحصر ہے کہ آپ ٹرانزسٹر کی آؤٹ پٹ کو کس طرح جوڑتے ہیں۔

فرض کریں کہ ہم اپنے ٹرانزسٹر ایمپلی فائر کی آؤٹ پٹ کو ایک دوسرے ٹرانزسٹر کی ان پٹ سے براہ راست جوڑ دیتے ہیں۔ اب چونکہ اس دوسرے ٹرانزسٹر کی ان پٹ شارٹ سرکٹ حالت میں ہے چنانچہ تمام سگنل کپلنگ کپیسیٹر کے راستے یہاں منتقل ہو جائیں گے۔ دوسرے الفاظ میں پہلے ٹرانزسٹر کی تمام آؤٹ پٹ دوسرے ٹرانزسٹر کی ان پٹ پر منتقل ہو جائے گی۔ اگر ان دونوں ٹرانزسٹرز کا بی ٹا یعنی کرنٹ گین 40 ہےتو نصٖف ملی ایمپیئر 0.5mA ان پٹ پہلے درجے میں 20mA آؤٹ پٹ فراہم کرے گی۔ یہ آؤٹ پٹ دوسرے درجے میں ایمپلی فائی ہو کر آؤٹ پٹ پر 800mA کرنٹ پیدا کرنے کا باعث بنے گی۔ اب اگر عملی طور پر کسی ٹرانزسٹر ایمپلی فائر کی آؤٹ پٹ سے اس قدر زیادہ کرنٹ حاصل کی جا رہی ہے تو چاہے وہ پاور ٹرانزسٹر ہی کیوں نہ ہو، اس سے خارج ہونے والی حرارت کا معقول بندوبست لازمی ہو گا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ٹرانزسڑ کو نصب کرنے کے لئے ہیٹ سنک استعمال کیا جائے بلکہ حرارت کا سد باب کرنے کے لیے مخصوس سرکٹ استعمال کرنا ضروری ہے۔

یہاں پر سمجھنے کی خاطر وقتی طور پر ہم سادہ سا ایمپلی فائر سرکٹ استعمال کر رہے ہیں اور عقلمندی کا تقاضا یہ ہے کہ ایسے سرکٹ میں آؤٹ پٹ سگنل کی زیادہ سے زیادہ مقدار ایک چوتھائی ایمپیئر 250mAیا اس سے کم رکھی جائے۔اس مقدارکی آؤٹ پٹ کے لئے ڈی سی بائس کی قدر کم کر کے کلکٹر کرنٹ کوایک ایمپیئر کی تہائی 300mA حد تک رکھ سکتے ہیں۔یہ کم کلکٹر وولٹیج کے لئے ایک محفوظ حد ہے۔اگر آپ کلکٹر پر چند وولٹ سے زیادہ وولٹیج استعمال کرتے ہیں تو آپ کو ٹرانزسٹر کی قوت کی حدود (پاور ریٹنگ) پر نظر رکھنی ضروری ہو گی اور ساتھ ہی ہیٹ سنک بھی استعمال کرنا ہوگا۔

ابھی تک یہ واضح نہیں ہوا کہ ہم حتمی آؤٹ پٹ کرنٹ کو کس طرح استعمال کریں۔ کیا ہم اسپیکر کو جوڑنے کے لئے کپلنگ کپیسیٹر استعمال کر سکتے ہیں؟ نظریاتی طور پر اس کا جواب ہے کہ ہاں ہم کر سکتے ہیں لیکن عملی طور پر ایسا کرنے سے آؤٹ پٹ پاور ضائع ہو جائے گی۔ آسان ترین طریقہ یہ ہے کہ شکل نمبر 7 کی طرح کلکٹر کی آؤٹ پٹ سے سلسلے وار طور پر ایک اسپیکر کو جوڑ دیا جائے۔لیکن اس طرح کلکٹر لوڈ بہت کم ہو جائےگا اور اس میں یعنی اسپیکر میں وولٹیج ڈراپ اتنا نہیں ہو گا کہ اسپیکر میں مناسب قوت منتقل ہو سکے۔ٹرانزسٹر کے کلکٹر سے اسپیکر کو منتقل ہونے والی قوت کو ہم اوہم کے قانون کے مطابق معلوم کر سکتے ہیں۔ اس کی مساوات یہ ہے: W=I2 R اس مساوات میں W وہ قوت یا پاور ہے جو اسپیکر میں منتقل ہو گی، I کلکٹر کرنٹ ہے اور R اسپیکر کی امپیڈینس ہے۔

اگر ہم چاہتے ہیں کہ کلکٹر سے اسپیکر تک زیادہ سے زیادہ قوت (پاور) منتقل ہو تو جیسا کہ شکل نمبر 8 میں دکھایا گیا ہے،ہمیں ایک ایسا ٹرانسفارمر استعمال کرنا ہوگا جس کی پرائمری امپیڈینس کلکٹرسے مطابقت رکھتی ہو اور سیکنڈری امپیڈینس اسپیکر سے مطابقت رکھتی ہو۔ اس طرح کلکٹر سے اسپیکر تک زیادہ سے زیادہ قوت منتقل ہو گی۔

وولٹیج آؤٹ پٹ

آؤٹ پٹ میں وولٹیج حاصل کرنے کے لئے ہم آسان سی ترتیب استعمال کرتے ہیں۔ فرض کریں کہ ہائی امپیڈینس ان پٹ کے حامل ایک ایمپلی فائر کے لئے پری ایمپلی فائر کی ضرورت ہے۔اس کے لئے ہمیں یہ معلوم کرنا ہو گا کہ ٹرانزسٹر کے کلکٹر کی آؤٹ پٹ پر کتنے وولٹیج حاصل ہو رہے ہیں۔ اگر ہم غور کریں تو یہ معلوم کرنا بہت آسان ہےکیونکہ ہم آؤٹ پٹ کو ایسی ان پٹ سے منسلک کر رہے ہیں جس کی ان پٹ امپیڈینس کافی ہائی ہے۔

شکل نمبر 9 میں دکھایا گیا سرکٹ دیکھیں۔ اس میں کلکٹر رزسٹینس کے طور پر 5K0 اوہم کا رزسٹر استعمال کیا گیا ہے جس کے باعث کل کلکٹر لوڈ بھی 5K0 اوہم ہے۔کپلنگ کپیسیٹر کے بعد500Kاوہم کا ویری ایبل رزسٹر استعمال کیا گیا ہے۔ تمام عملی اطلاقات کے لئے کلکٹر لوڈ 5K0 اوہم ہے۔ اگر کلکٹر پر کرنٹ1 ملی ایمپیئر حاصل ہو رہی ہے تو اوہم کے قانون کے مطابق ہمیں لوڈ پر5V0 وولٹ حاصل ہو رہے ہیں۔ اگر ہم ٹرانزسٹر کو اس سرکٹ کے مطابق اور کرنٹ وولٹ کی ان ہی حدود کے لئے استعمال کر رہے ہیں تو دیگر ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے ہمیں کلکٹر پر 7V0 دینے ہوں گے۔ کلکٹر سے ملنے والی ڈی سی کرنٹ کم از کم 1mAہونی ضروری ہے کیونکہ اگر ہم اے سی سگنل کی خصوصیات کو مد نظر رکھیں تو یہاں پر کم از کم 1.5mAپیک کرنٹ موجود ہو گی جو کہ خالص سائن ویو ہو گی کیونکہ ہمیں یہاں پر موسیقی کے سگنل ملیں گے جن کی حدود کافی اوپر نیچے (یعنی سونگ Swing)ہوتی رہیں گی۔ عقلمندی کا تقاضا یہ ہوگا کہ ہم یہاں پر ڈی سی بائس کرنٹ کی ایسی حدود متعین کریں جو درکار اے سی سگنل سے مطابقت رکھتی ہوں۔ چنانچہ کم سے کم کلکٹر کرنٹ1mA رکھنی ضروری ہے چاہے اس سے کم وولٹیج لیول بھی موجود ہو۔اس کی وجہ کچھ پیچیدگی کی حامل ہے کیونکہ ہمیں یہاں پر امپیڈینس اور ڈسٹارشن وغیرہ کا خیال بھی رکھنا پڑے گا۔ اس پر بعد میں گفتگو ہو گی۔

این پی این یا پی این پی

شاید آپ نے محسوس کیا ہو گا کہ اب تک ٹرانزسٹر کے جو بھی سرکٹ پیش کئے گئے ہیں وہ سب پی این پی نوعیت کے ہیں۔ جہاں تک سگنل ایمپلی فی کیشن کا تعلق ہے این پی این ٹرانزسٹر بہ عین ہی پی این پی ٹرانزسٹر کی طرح ہے۔ سگنل بیس میں داخل ہوتا ہے اور کلکٹر سے حاصل ہوتا ہے۔ بائس کے کنکشن مختلف ہوتے ہیں لیکن سگنل پر قطعی اثر انداز نہیں ہوتے۔

width="467">

اگر آپ دونوں اقسام کے ٹرانزسٹر ایک ساتھ استعمال کرتے ہیں تو ایک (یعنی پی این پی)کا ایمی ٹر مثبت گراؤنڈ سے اور دوسرے(یعنی این پی این) کا ایمی ٹر مثبت سپلائی وولٹیج سے منسلک ہوگا۔ ایسا کرنا بالکل درست ہوگا کیونکہ سگنل کے اعتبار سے دونوں ٹرانزسٹر فلٹر کپیسیٹر کے راستے باہم منسلک رہیں گے جس سے دونوں کے ایمی ٹر عملی طور پر گراؤنڈ حالت میں ہوں گے۔ شکل نمبر 10 میں دکھایا گیا سرکٹ ڈایا گرام اسی کی ایک مثال ہے۔

ان دونوں درجوں میں بائس کرنٹ متعین کرنا آسان ہے۔ سرکٹ میں بیس اور کلکٹر رزسٹرز کی قدریں نہیں دکھائی گئیں۔ اس کی دو وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ ان کی قدروں کا انحصار سپلائی وولٹیج پر ہے دوسری وجہ یہ ہے کہ اوپر بتائی گئی مثالوں اور وضاحت کی روشنی میں اگر ان کی قدریں آپ خود معلوم کریں تو زیادہ بہتر ہوگا۔

سگنل ان پٹ

فرض کریں کہ ہم ایک ریڈیو کے ڈی ٹیکٹر کی آؤٹ پٹ سے ایک ٹرانزسٹر کو جوڑ کر اسے بطور ایمپلی فائر استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ ایسا ایک سرکٹ شکل نمبر 11 میں دکھایا گیا ہے۔ کیا آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہم اسے کیسے جوڑیں گے؟ اگر آپ کا جواب یہ ہے کہ ڈی ٹیکٹر کی آؤٹ پٹ سے ایک ویری ایبل رزسٹر کو بطور والیوم کنٹرول استعمال کرتے ہوئے اس کے گرد ٹرانزسٹر کو جوڑتے ہیں تو شاید آپ کے ذہن میں یہ بات نہیں رہی کہ عام طور پر ڈی ٹیکٹر کو اس طرح ڈیزائن کیا جاتا ہے کہ وہ کافی زیادہ رزسٹینس میں کام کرتا ہے۔ اس صورت میں والیوم کنٹرول سے ملنے والے سگنل ٹرانزسٹر کی ان پٹ میں جاتے ہی شارٹ ہو جائیں گے او ر ڈی ٹیکٹر سرکٹ پر بھاری لوڈ پڑے گا۔کیونکہ ہم پہلےہی یہ جان چکے ہیں کہ بیس ایمی ٹر حصہ ایسے عمل کرے گا جیسے کہ اس کی ان پٹ شارٹ سرکٹ حالت میں ہے۔تو اب ان پٹ امپیڈینس کو اتنا زیادہ کیسے کیا جائے کہ ڈی ٹیکٹر سرکٹ پر لوڈ نہ پڑے؟ اس کا ایک آسان حل تو یہ ہے کہ ان پٹ سے ایک رزسٹر سلسلے وار لگا دیا جائے۔ یعنی والیوم کنٹرول اور ٹرانزسٹر کی بیس کے درمیان ایک رزسٹر جوڑا جائے۔ لیکن اس کے باوجود شور (ہم Hum)کے مسائل پیدا ہوں گے کیونکہ سارے سرکٹ کی گراؤنڈ ایک ہی ہے۔ وقتی طور پر تو اس کا سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ ہم ایک ایسا ان پٹ ٹرانسفارمر استعمال کریں جو 500K امپیڈینس کو 100امپیڈینس سے میچ کرے۔

ٹرانزسٹر سرکٹ ڈیزائن کرتے وقت ٹرانزسٹر کی اپنی لو (کم) امپیڈینس کا خیال نہ رکھنے کے باعث بہت سے ڈیزائن ناکام ثابت ہوتے ہیں۔ اگر آپ نے اب تک بتائی گئی تمام باتوں کو سمجھ لیا ہے تو اب ہم ٹرانزسٹر سرکٹ ڈیزائن کرنے کے سلسلے میں درکار عوامل (مختلف مقداروں اور پیمائشوں) کی جانچ کرنے اور چھوٹے سرکٹس کی جانچ کرنے کی طرف آتے ہیں۔

ٹرانزسٹر-کپلنگ، کنٹرولنگ اورجانچ(ٹیسٹنگ)

اگر آپ ٹرانزسٹرز کی خصوصیات بیان کرنے والی ڈیٹا بکس دیکھیں گے تو معلوم ہو گا کہ ٹرانزسٹرز کی بھی ان پٹ امپیڈینس ہوتی ہے جب کہ ہم پہلے بتا چکے ہیں ٹرانزسٹر کی ان پٹ شارٹ سرکٹ کی طرح ہوتی ہے۔ جب آپ اس تضاد کو دیکھتے ہیں تو الجھن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر ٹرانزسٹر 2N107 کی ان پٹ امپیڈینس600 اوہم کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے۔ یہاں پر آپ کو الجھن کا شکار نہیں ہونا چاہیئے کیونکہ دونوں باتیں یعنی ٹرانزسڑکی ان پٹ شارٹ سرکٹ جیسی ہوتی ہے اور ان پٹ امپیڈینس بھی ہوتی ہے،درست ہیں۔

اس بات کی وضاحت ایک مثال سے بخوبی ہو جائے گی اور آپ کی سمجھ میں بھی آ جائے گا کہ دونوں باتیں متضاد معلوم ہونے کے باوجودکس طرح درست ہیں۔آپ کسی بھی سرکٹ میں متعدد پرزوں کو تاروں سے یا کسی بھی طریقے سے باہم جوڑتے ہیں۔ اس کام میں تار کے کئی ٹکڑے استعمال کئے جاتے ہیں۔ کبھی آپ نے اندازہ لگانے کی کوشش کی ہے کہ ان تاروں کی اپنی رزسٹینس کتنی ہوتی ہے؟شاید آپ نے اس بارے میں کبھی سوچا تک نہ ہو گا۔ اگرچہ ان تاروں میں بھی رزسٹینس ہوتی ہے اور شاید کی قدر تار کے ایک فٹ میں نصف اوہم سے بھی کم ہو لیکن یہ رزسٹینس سرکٹ میں موجود ضرور ہوتی ہے۔ لیکن عملی طور پر آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ رزسٹینس کی اتنی کم مقدار، سرکٹ کی کارکردگی پر اثر انداز نہیں ہوتی۔اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ سرکٹ میں کئی ہزار اوہم قدر کی رزسٹینس کام کر رہی ہوتی ہے اسی لئے ہم اس قدر کم رزسٹینس کو سرے سے ہی نظر انداز کر دیتے ہیں۔ظاہر ہے جب سرکٹ میں چند ہزار اوہم کی رزسٹینس کام کر رہی ہوتی ہے تو ایک یا دو اوہم رزسٹینس کو کون خاطر میں لائے گا۔

بالکل یہی اصول ٹرانزسٹر کی ان پٹ امپیڈینس پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ اگرچہ ٹرانزسٹر2N107 کی ان پٹ امپیڈینس 600 اوہم یا کم و بیش ہوتی ہے لیکن یہ سرکٹ میں موجود دوسری امپیڈینس کی نسبت اتنی کم ہوتی ہے کہ اسے ہم شارٹ سرکٹ جیسی حالت سے تشبیہ دیتے ہیں۔ ویسے بھی ہم جب ٹرانزسٹر کی ان پٹ امپیڈینس کی قدر کو نظر انداز کر تے ہوئے سرکٹ ڈیزائن کرتے ہیں تو ہم بہت سی ریاضیاتی مساواتیں حل کرنے سے بچ جاتے ہیں۔ یہاں پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ کہ ان پٹ امپیڈینس کی قدر کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے کیا ہماری پیمائشیں اور اخذ کردہ مقداریں غلط تو نہیں حاصل ہوتیں چاہے غلطی کا امکان چند فی صد ہی کیوں نہ ہو۔ سوال اپنی جگہ بالکل درست ہے لیکن عملی طور پر ایسا کچھ نہیں ہوتا کہ ہم یہ جان سکیں کہ مذکورہ ان پٹ امپیڈینس کو نظر انداز کر کے غلط نتائج حاصل ہو رہے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ٹرانزسٹر کی خصوصیات کی جو مقداریں بتائی جاتی ہیں وہ انتہائی درست اور قطعی نہیں ہوتیں۔جس ٹرانزسٹر کا گین 20 بتایا جا رہا ہے ہو سکتا ہے کہ عملی طور پر اس کا حقیقی گین 10 جتنا کم ہو یا پھر 40 تک اضافہ شدہ حاصل ہو۔ یہی وجہ ہے کہ مساواتوں سے حاصل ہونے والی قدریں یا پیمائشیں سو فیصد رکھنا لازمی نہیں ہوتا بلکہ قریبی قدریں بھی عام طور پر قریب ترین مطلوبہ نتائج فراہم کرتی ہیں یا کم از کم کسی پریشانی کا باعث نہیں بنتیں۔

اب ہم ایک سرکٹ دیکھتے ہیں اور اس میں مختلف اجزا کی قدروں کا جائزہ لیتے ہیں۔ شکل نمبر12 دیکھیں۔ اگر سپلائی وولیٹج کی قدر بہت کم ہو مثال کے طور پر 1V5، تو اس میں کلکٹر رزسٹر Rکی قدر کو اتنا کم رکھنا پڑے گا کہ یہ تمام بیٹری وولٹیج کو ڈراپ نہ کر سکے۔لیکن اس سے یہ ہوگا کہ کم کلکٹر رزسٹینس، سگنل کی کچھ مقدار کو اگلے درجے میں نہیں پہنچنے دے گی۔ اس سے نہ صرف ایمپلی فی کیشن بہت کم ہو گی بلکہ کپلنگ کے لئے بھی بہت بڑی قدر کے کپیسیٹر کی ضرورت پڑے گی۔ اس کے علاوہ ایک اور مسئلہ بھی پیدا ہوگا۔ جب رزسٹر میں سگنل ضائع ہونے لگے گا تو شور یعنی ڈسٹارشن میں بھی خاصا اٖضافہ ہو جائے گا۔ان ساری خرابیوں کے باوجود زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ ان تمام مسائل کی وجہ عام طور پر بہت کم سپلائی وولٹیج ہوتے ہیں۔

والیوم کنٹرول

جو اصحاب ٹرانزسٹر سے پہلے ٹیوبوں پر کام کر چکے ہیں جانتے ہیں کہ ٹیوب میں گرڈ نہ ہونے کے برابر کرنٹ لیتی ہے لیکن ٹرانزسٹر کی صورت میں یہ بات الٹ جاتی ہے، ٹرانزسٹر کی بیس کرنٹ خرچ کرتی ہے۔ اب اگر ہم ٹرانزسٹر کو والیوم کنٹرول سرکٹ میں استعمال کرنا چاہتے ہیں تو اس کا خاص خیال رکھنا پڑے گا کہ والیوم کنٹرول کو اس طرح منسلک کیا جائے کہ وہ بیس بائس رزسٹر کی قدرپر اثر انداز نہ ہو سکے۔ شکل نمبر 13 کے سرکٹ کو دیکھیں۔ اس میں جب والیوم کنٹرول کو کم یا زیادہ کیا جائے گا تو نہ صرف سگنل کرنٹ کو کم و بیش کرے گا، جس کی ہمیں ضرورت ہے، بلکہ یہ بیس بائس رزسٹر کی قدر میں بھی تبدیلی کا باعث بنے گا، جس سے خاصی خرابیاں پیدا ہوں گی۔ چنانچہ والیوم کنٹرول کو ٹرانزسٹر سرکٹ میں اس طرح جوڑنا ضروری ہے جس طرح شکل نمبر 14 کے سرکٹ میں دکھایا گیا ہے۔

اگر آپ کو کم والیوم پر ڈسٹارشن، والیوم کنٹرول کو ذرا سا گھمانے پر آواز میں غیر معمولی تبدیلی یا والیوم کنٹرول سے بہت زیادہ شور آنے جیسے مسائل سے دو چار ہونا پڑ رہا ہے تو لازمی طور پر یہ جانچیں کہ آپ کا والیوم کنٹرول ٹرانزسٹر کی بائس میں تو تبدیلی نہیں کر رہا نیز یہ کہ والیوم کنٹرول سے گزرنے والی کرنٹ کی مقدار تو معمول سے زیادہ نہیں؟

فلٹر اور کپلنگ کپیسیٹرز

ٹرانزسٹر کے سرکٹ ڈیزائن اور ٹیوب کے سرکٹس میں ایک اور فرق فلٹر یا کپلنگ یا دونوں کپیسیٹرز کو لگانے کا بھی ہے۔ شکل نمبر 15(a) میں دکھایا گیا سرکٹ ٹیوب کے لئے لوپاس فلٹر Low-pass Filter کا ہے۔ اگر ہم یہی سرکٹ ٹرانزسٹر کی ان پٹ میں استعمال کریں گے تو اس میں لگا ہوا کپیسیٹر شارٹ سرکٹ ہو جائے گا جس سے فلٹر بیکار ہو جائے گا۔ ٹرانزسٹر سرکٹ میں استعمال کرنے کے لئے ہمیں لو پاس فلٹر سرکٹ کو دوبارہ ڈیزائن کرنا پڑے گا۔ شکل نمبر 15(b) میں جو سرکٹ دکھایا گیا ہے وہ ٹرانزسٹر سرکٹ میں استعمال کرنے کے لئے ڈیزائن کردہ لو پاس فلٹر کا ہے۔ یہ سرکٹ مقناطیسی (ڈائنامک Dynamic) مائیک کے لئے سکریچ فلٹر یا ایک سادہ سے ایکو لائزر کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے ۔

اگر مزید تنگ (Sharper)فریکوئنسی کو کٹ آف کرنا ہو تو اسی سرکٹ کو دہرا کر بھی لگایا جا سکتا ہے جس طرح کہ شکل نمبر 15(c) میں دکھایا گیا ہے۔ ایسا معلوم ہو رہا ہے کہ اگر ویکیوم ٹیوب کے سرکٹ کو ٹرانزسٹر کے لئے استعمال کرنا ہو تو اسے الٹانا پڑے گا۔ یہ بات جزوی طور پر تو درست ہو سکتی ہے لیکن اسے بہ طور اصول نہیں اپنایا جا سکتا اور ویسے بھی یہ بات صرف کپلنگ سرکٹس کی حد تک درست کہی جا سکتی ہے نیز یہ کہ ایسا کرنا ہمیشہ سود مند نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ عمل ہمیشہ کام نہیں آتا۔ یہ بات یاد رکھنے والی ہے کہ ایسے سرکٹس میں ٹیوب کی نسبت ٹرانزسٹر کے لئے ہمیشہ رزسٹر کی قدر کو کم اور کپیسیٹر کی قدر کو زیادہ رکھیں۔ یہ بھی لازمی ہے کہ سرکٹ کو ڈیزائن کرنے کے بعد اسے عملی طور پر بھی درست نتائج کے لئے جانچ لیا جائے۔

جدول نمبر 1

کلکٹر رزسٹر بلاکنگ کپیسیٹر
2K0 4μ0
4K02μ0
8K01μ0
10K 0μ8
20K 0μ4

بلاکنگ کپیسیٹر کی قدر متعین کرنے کے لئے اسے کلکٹر رزسٹر سے مطابقت کا حامل رکھیں۔ یعنی کلکٹر رزسٹینس اور بلاکنگ کپیسیٹر کی قدروں میں مناسب مطابقت رکھنا ضروری ہے۔ اگرچہ زیادہ درست قدریں معلوم کرنے کے لئے مناسب مساوات کا استعمال ضروری ہے تاہم آپ کی آسانی کے لئے جدول نمبر 1 میں کلکٹر رزسٹینس اور بلاکنگ کپیسیٹر کی قدروں کو درج کیا گیا ہے۔ 20 Hz جتنی کم حد تک کے فریکوئنسی ریسپانس کے لئے ان قدروں کو پورے ہندسوں میں یعنی راؤنڈ آف کر دیا گیا ہے۔

جانچ کے طریقے

ٹرانزسٹرٹرانزسٹر کی جانچ کرنا نہایت آسان ہے۔ ٹرانزسٹرز کے بارے میں ایک عمدہ بات یہ ہے کہ عام طور پر اس کے خواص میں بتدریج تبدیلی نہیں آتی بلکہ یہ جل جاتا ہے۔ اسی وجہ سے ٹرانزسٹرز کے تقریبا" تمام نقائص نہایت جلد اور آسانی سے معلوم کئے جا سکتے ہیں۔ در حقیقیت ٹرانزسٹر کی لیکیج اور گین معلوم کر کے اس کے نقائص کا پتا چلایا جا سکتا ہے اور یہ دونوں آسانی سے معلوم کئے جا سکتے ہیں۔

صرف لیکیج اور گین کو جانچ کر ٹرانزسٹر کی خرابی معلوم کی جا سکتی ہے اور اسی وجہ سے قیمی ٹیسٹرز کی ضرورت نہیں پڑتی۔ ٹرانزسٹر کی صرف پی این پی یا این پی این نوعیت معلوم کریں، لیکیج اور کرنٹ گین جانچیں اور بس۔ اب آپ ٹرانزسٹر کو استعمال کرنے یا پھینک دینے کا تعین آسانی سے کر سکتے ہیں۔

پہلےپہلے ہم لیکیج کرنٹ کو دیکھتے ہیں۔ اگر ہم ٹرانزسٹر کی بیس کو خالی چھوڑ دیں تو باقی دو تاروں سے کوئی کرنٹ نہیں گزرے گی۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں ٹرانزسٹر در حقیقیت دو عدد ڈائیوڈز پر مشتمل ہے چنانچہ ان میں سے ایک کرنٹ کے بہاؤ کو روک دے گا۔

لیکن حقیقت میں یہ بات پوری طرح درست نہیں ہے۔ مذکورہ بالا عمل کے باوجود لیکیج کرنٹ کی خفیف سی مقدار بہنے لگتی ہے۔ اس کی قدر عام طور پر کم اور درمیانی قوت کے ٹرانزسٹرز میں، ایک ملی ایمپیئر کا دسواں حصہ ہوتی ہے۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر بیس کھلی رکھنے کے باوجود لیکیج کرنٹ کی مقدار 1mA سے زائد حاصل ہوتی ہے تو ٹرانزستر خراب ہو گا اور اس کی جگہ نیا ٹرانزسٹر استعمال کرنا ضروری ہوگا۔

لیکیج کرنٹ کی جانچ کرنے کے لئے ٹرانزسٹر کی نوعیت کے مطابق پولیریٹی کا خیال رکھتے ہوئے ایمی ٹراور کلکٹر کے درمیان 6V0 سپلائی مہیا کریں۔ ایک ملی ایمپیئر میٹر کے ذریعے کرنٹ معلوم کریں۔ ملی ایمپیئر میٹر کی قدر 6V0 سپلائی مہیا کریں۔ ایک ملی ایمپیئر میٹر کے ذریعے کرنٹ معلوم کریں۔ ملی ایمپیئر میٹر کی قدر 1mA سے 10mA تک کوئی بھی ہو سکتی ہے۔ میٹر کی حفاظت کے لئے اس کی سیریز میں 2K0 اوہم کا ایک رزسٹر بھی لگا دیں۔ یہ رزسٹر میٹر کی درستگی پر اثر انداز نہیں ہو گا۔ یہ سارا طریقہ سرکٹ ڈایا گرام کے طور پر شکل نمبر 16 میں دکھایا گیا ہے۔

اسی طرح ٹرانزسٹر کا گین معلوم کرنا بھی آسان ہے۔ آپ پہلے جان چکے ہیں کہ ٹرانزسٹر کی بیس پر جو کرنٹ بھی دی جاتی ہے وہ کلکٹر سے افزائش شدہ قدر میں حاصل ہوتی ہے۔ اس افزائش کی شرح ٹرانزسٹر کی بی ٹا یعنی کرنٹ گین کے مطابق ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر ہم ایک ایمپیئر میٹر ٹرانزسٹر کے بیس سرکٹ میں اور دوسرا کلکٹر سرکٹ میں جوڑ دیں تو ہم آسانی سے گین کی مقدار ناپ سکتے ہیں۔

یہ بات بالکل درست ہے لیکن ہم مزید آسانی سے اس کی جانچ کر سکتے ہیں۔ قطعی درست قدر کی معلوم کرنٹ بیس پر مہیا کریں اور صرف کلکٹر سرکٹ میں ایمپیئر میٹر جوڑ دیں۔ اس بھی کرنٹ گین معلوم ہو جائے گا۔ میٹر کرنٹ بتائے گا اور آپ اس کو بی ٹا سے ضرب دے کر بیس کرنٹ کی معلوم قدر سے نسبت معلوم کر لیں۔ کرنٹ گین کی شرح معلوم ہو جائے گی۔ اوپن بیس یا بیس ایمی ٹر شارٹ ہونے سے بھی گین صفر حاصل ہو گا۔ اگر ٹرانزسٹر کا بیٹا گین کی قدر کی نسبت کم حاصل ہو تو اس کا مطلب یہ نہیں ہو گا کہ ٹرانزسٹر خراب ہو گیا ہے۔ اسے اب بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ گین معلوم کرنے کے لئے جانچ کا سرکٹ ڈایا گرام شکل نمبر 17 میں دکھایا گیا ہے۔

اسی طریقے سے پاور ٹرانزسٹرز بھی جانچےجا سکتے ہیں۔ پاور ٹرانزسٹر میں لیکیج کی مقدار کافی زیادہ یعنی بعض اوقات 10mA تک بھی ہو سکتی ہے۔

ٹرانزسٹرز کو جانچے کے لئے ٹرانزسٹر ٹیسٹر بھی مناسب قیمت پر مل جاتے ہیں لیکن اگر آپ خود بھی اپنا ٹرانزسٹر ٹیسٹر بنا کر رکھ لیں تو کافی آسانی رہے گی۔ (ختم شد)

پرنٹڈ سرکٹ بورڈ کی مرمت


آپ شوقیہ تجربات کرتے ہوں یا الیکٹرونک آلات کی مرمت کا پیشہ ورانہ کام، پرنٹڈ سرکٹ بورڈ کی مرمت سے آپ کا یقینا“ واسطہ پڑتا ہوگا۔ اس مضمون میں آپ کو اسی موضوع کے بارے میں کچھ بتایا جائے گا۔

ضروری سامان


پرنٹڈ سرکٹ بورڈ میں پرزے لگانے یا اس میں سے نکالنے کے لیے اور ٹوٹے ہوئے پرنٹڈ سرکٹ بورڈ کی مرمت کرنے کے لیے کچھ سامان درکار ہوتا ہے۔ سامان کی اس فہرست میں سے اکثر اوزار تو آپ کے پاس پہلے سے موجود ہوں گے اور اگر موجود نہ بھی ہوں تو آسانی سے مہیا کیے جا سکتے ہیں۔ درکار سامان میں
1 - تیز دھار اور پتلے بلیڈ والا جیبی چاقو
2 - سخت بالوں والا ٹوتھ برش
3 - نرم تاروں والا چھوٹا برش
4 - جھاڑو کا چھوٹا سا تنکا یا ٹوتھ پک (خلال)
5 - لکڑی کے دو بلاک (شکل کے مطابق)
6 - سکسٹی فورٹی (60-40) بیروزہ بھرا سولڈر
7 - تھنر یا الکوحل کی ایک چھوٹی سی بوتل
8 - محدب عدسہ

تیز دھار اور پتلے بلیڈ والا جیبی چاقو‘ مڑی ہوئی تاروں کو سیدھا کرنے کے لیے ایک بہترین اوزار ثابت ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ چاقو، پرنٹڈ سرکٹ بورڈ پر موجود تانبے کی پتریاں، ٹرمینل، تار کے سرے وغیرہ کھرچ کر صاف کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس سے ان اشیاء پر ٹانکا لگانے میں آسانی رہتی ہے۔
سخت بالوں والا ٹوتھ برش بھی بہت کام کی چیز ہے۔ اس کی مدد سے اضافی اور فالتو ٹانکہ پگھلا کر صاف کرنے میں بہت آسانی رہتی ہے۔ بعض مقامات پر نرم تاروں والا چھوٹا برش بھی ضرورت پڑ جاتا ہے۔ سخت بالوں والا برش بعض اوقات تاروں کے نازک جوڑ اکھاڑ دیتا ہے ایسی صورت میں نرم بالوں والا برش مفید رہےگا۔
عام جھاڑو کا چھوٹا سا تنکا یا ٹوتھ پک (خلال)، پرنٹڈ سرکٹ بورڈ کے سوراخ میں سے پگھلا ہو ا ٹانکا نکالنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اکثر اوقات ایسا ہوتا ہے کہ سوراخ سے پرزے کی تاریں، ٹانکا پگھلا کر نکالنے کے بعد سوراخ ٹانکے سے بند ہو جاتا ہے یعنی سوراخ کے اوپر ٹانکا جم کر اسے بند کر دیتا ہے۔ بعد میں نیا پرزہ اس جگہ لگاتے وقت کافی دقت ہوتی ہےاور پرزے کی تاریں ایسے سوراخ میں داخل نہیں ہو پاتیں۔ اس دشواری سے بچنے کے لیے پرزہ لگانے سے پہلے سوراخ پر جما ہوا ٹانکہ اتارنا ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے تنکا یا خلال ایک بہترین چیز ثابت ہوگا۔ تنکے یا خلال کے علاوہ کوئی بھی سخت تار‘ پیپر پن‘ سلائی وغیرہ بھی استعمال کی جا سکتی ہے۔ اگر ان میں سے کوئی چیز بھی کارآمد ثابت نہ ہو رہی ہو تو آخری حل کے طور پر ڈرل مشین استعمال کی جا سکتی ہے۔ باریک بٹ لگا کر سوراخ میں نرمی سے دوبارہ سوراخ کر دیں۔ جما ہوا ٹانکہ صاف ہو جائے گا۔
سولڈرنگ ایڈز کے نام سے ایسے اوزار بھی دستیاب ہیں جن کے ایک سرے پر نوک بنی ہوئی ہوتی ہے تاکہ اس سے سوراخوں میں سے سولڈر نکالا جا سکے۔لکڑی کے دستے کے دوسرے سرے پر ایک جھری بنی ہوئی ہوتی ہے۔ اس جھری سے مڑی ہوئی تاریں اور ٹرمینل سیدھا کرنے کا کام لیا جا سکتا ہے۔ سولڈرنگ ایڈ سے کام لینے کے دو طریقے نیچے دی ہوئی شکل میں دکھائے گئے ہیں۔ اس نوعیت کا کام کرتے وقت مناسب ہوگا کہ لکڑی کے دو بلاک شکل کے مطابق پرنٹڈ سرکٹ بورڈ کو سہارا دینے کے لیے استعمال کئے جائیں۔ اس سے اجزائ‘ کنکشن اور نازک پتریوں کی حفاظت ہوگی اور ان کو نقصان پہنچنے کا خطرہ نہیں رہے گا۔
پرنٹڈ سرکٹ بورڈ پر ٹانکا لگانے کے لیے ہمیشہ سکسٹی فورٹی (60-40) بیروزہ بھرا سولڈر استعمال کریں۔ پتلی تار والا سولڈر بہترین ہوتا ہے یہی استعمال کریں۔ اس کا درجہ پگھلاؤ نسبتا“کم ہوتا ہے۔ یعنی یہ جلدی پگھلتا ہے۔
پی سی بی کی مرمت کرتے وقت تھنر یا الکوحل پاس رکھیں۔ ایک چھوٹی یا درمیانے سائز کی بوتل جتنی مقدار کافی ہو گی۔ ٹوٹے ہوئے پرنٹڈ سرکٹ بورڈ کی مرمت کے لیے بعض اوقات اس کے اوپر سے میل کچیل، بیروزہ، حفاظتی تہہ (سلیکون کوٹنگ‘ وارنش وغیرہ) اتارنا ضروری ہو جاتا ہے۔ اس مقصد کے لیے تھنر یا الکوحل ضرورت پڑتا ہے۔
پرنٹڈ سرکٹ بورڈ کی ٹوٹی ہوئی پتریوں اور جوڑوں کی مرمت کے بعد انہیں ضرور جانچ لیں اور یقین کر لیں کہ ان میں مکمل برقی اتصال یعنی کنکشن موجود ہے۔ اس قسم کی پڑتال کے لیے ایک عدد محدب عدسہ بہت کام کی چیز ہے۔ یہ اس وقت بھی آپ کے کام آئے گا جب آپ پرنٹڈ سرکٹ بورڈ پر ٹانکے لگانے کا کام مکمل کر لیں گے۔ آخر میں پرنٹڈ سرکٹ بورڈ کا اچھی طرح اور بغور جائزہ لیں۔ پتریوں کے درمیان گرا ہوا سولڈر خاص طور پر دیکھیں اور اگر کہیں ایسے ذرات ملیں تو انہیں اچھی طرح صاف کریں۔

خراب جوڑ / ٹانکے کی تلاش


پرنٹڈ سرکٹ بورڈ پر کمزور جوڑ یا خراب ٹانکے سے جسے عام طور پر ڈرائی سولڈ کہتے ہیں‘ اکثر واسطہ پڑتا ہے۔ اس کی وجوہات میں میل یا چکنی تاریں یا ٹرمینل‘ پگھلے ہوئے ٹانکے میں ہوا کا بلبلہ داخل ہونے سے اتصال کا مکمل نہ ہونا‘ یا سولڈرنگ فلکس کا نہ پگھلنا وغیرہ ہو سکتی ہیں۔ فلکس سے مراد وہ مادہ ہے جو ٹانکا لگانے میں مدد دیتا ہے۔ یہ سولڈر کو پگھلنے میں مدد دیتا ہے یعنی اس کی موجودگی میں ٹانکا جلد پگھلتا ہے۔ آپ کو جو سولڈر بتایا گیا ہے اس میں بیروزہ بھرا ہوتا ہے۔ بیرزہ ہی فلکس کا کام کرتا ہے۔ خراب‘ ناقص اور کمزور ٹانکے کی سب سے عام وجہ فلکس ہے۔ ٹانکے کے نیچے اس کی ایک تہہ پرزے کی ٹانگ پر چڑ ھ جاتی ہے جو حاجز ہوتی ہے۔ اس سے اتصال یعنی جوڑ مکمل نہیں ہو پاتا۔ اگرچہ ایسا ٹانکا دیکھنے میں درست اور بہترین نظر آتا ہے لیکن درحقیقت ایسا نہیں ہوتا۔



ناقص ٹانکے کی وجہ سے آپ کے پروجیکٹ میں یہ نقص پیدا ہو سکتا ہے کہ کبھی تو وہ کام کرنا شروع کر دے گا اور کبھی بند ہو جائے گا۔ بعض اوقات پی سی بی پر ہلکی سی چوٹ مارنے سے بند یونٹ دوبارہ کام کرنا شروع کر دیتا ہے۔ اس نوعیت کا نقص بہت پریشان کن ہوتا ہے لیکن اس کو ڈھونڈنے کا ایک مناسب طریقہ بھی ہے۔ اگرچہ اس نقص کی تلاش کہ یہ کس مقام پر ہے ایک مشکل اور صبر آزما کام ہے۔ تاہم بعض اوقات نقص کا مقام جلدی مل جاتا ہے۔
جب کام کرتا ہوا سیٹ بند ہو جائے تو پیچ کس کے دستے سے پرنٹڈ سرکٹ بورڈ کے ایک کنارے پر دباؤ ڈالیں۔ اس کے بعد دوسرے کنارے پر یہی عمل دہرائیں۔ اس مقصد کے لیے پرانے ٹوتھ برش کا دستہ بھی کام آسکتا ہے۔ اس کی مدد سے ٹرمینلز‘ ساکٹس اور دوسرے بڑے بڑے پرزوں پر دباؤ ڈالیں۔ بعض اوقات ایک تار کی مدد سے مختلف پرزوں کی ٹانگین شارٹ کرنے سے بھی نقص جلدی مل جاتا ہے۔ اس مقصد کے لیے تانبے کی پتریوں کےکنکشنز کو دوبارہ باریک سروں والی تار سے شارٹ کریں۔ ایسے پرزوں کو شارٹ نہ کریں جن کے مابین کنکشن نہ ہو۔ شارٹ کرنے کا یہ عمل آپ اس کنکشن کی جانچ کے لیے کر رہے ہیں جو پہلے سے جڑا ہوا ہے۔ مثال کے طور پر آپ یہ دیکھیں کہ پی سی بی کا ٹریک (تانبے کی پتری) ایک پرزے کی ایک تار سے دوسرے پرزے کی ایک تار تک جا رہی ہے لیکن آپ کو شک ہے کہ شاید پتری درست کنکشن مہیا نہیں کر رہی تب آپ اس پتری کے سروں کو باریک تار کی مدد سے شارٹ کر کے جانچیں۔



جب آپ کمزور یا برے جوڑ کو تلاش کرلیں یا آپ کو یقین ہو جائے کہ پرنٹڈ سرکٹ بورڈ کے ایک خاص حصے میں ایسا جوڑ یا ٹانکا واقع ہے تو یونٹ کو آف کرکے اس حصے کے سارے ٹانکوں کو دوبارہ گرم کرکے پگھلا لیں۔ اس طرح ٹانکے دوبارہ پگھل کر نئے ٹانکے کی طرح لگ جائیں گے۔ بعض اوقات پہلی کوشش کامیاب ثابت نہیں ہوتی۔ ایسی صورت میں دوبارہ یہی عمل کریں۔
خیال رہے کہ اگر آپ کی پہلی کوشش کامیاب نہ ہو تو اس مشتبہ حصے کے ساتھ ساتھ قریبی حصوں کے تمام ٹانکے بھی دوبارہ لگا دیں۔
اس نوعیت کی خرابی کا اصل مقام تلاش کرنے کے بجائے مشکوک حصے کے تمام ٹانکے دوبارہ لگا کر اکثر اوقات بہت سا وقت بچایا جا سکتا ہے۔ سولڈرنگ آئرن کی بٹ کو صاف کر لیں اور ایک سرے سے ٹانکے دوبارہ لگانے کا عمل سرانجام دیں۔ سارے ٹانکے دوبارہ لگانے کے بعد بھی اگر نقص برقرار رہے تو آپ یقین کر لیں کہ نقص کسی پرزے کے اندر ہے۔

ٹوٹی ہوئی پتریوں کی تلاش


چونکہ تانبے کی پتریاں بہت مہین ہوتی ہیں چنانچہ پرزے نکالتے یا ڈالتے وقت یا بورڈ کے زیادہ مڑنے یا دوسرے بھاری پرزوں کے دباؤ یا ان کے اپنے وزن کے باعث یا ایسی ہی دیگر وجوہات کی بنا پر یہ آسانی سے ٹوٹ جاتی ہیں۔ دباؤ ختم ہونے کے بعد اگرچہ یہ پتریاں دوبارہ مل جاتی ہیں اور عام نگاہ میں جڑی ہوئی دکھائی دیتی ہیں لیکن در حقیقت وہاں پر سرکٹ کا تسلسل ٹوٹ جاتا ہے۔ سرکٹ کے اندر یہ نقص جو اوپن سرکٹ کہلاتا ہے عام طور پر نظر نہیں آتا۔



پرنٹڈ وائرنگ یعنی تانبے کی پتریوں میں اس نوعیت کا نقص محدب عدسے کی مدد سے تلاش کیا جا سکتا ہے۔ پی سی بی پرمختلف مقامات پر دباؤ ڈال کر محدب عدسے سے پتریوں کو بغور دیکھنے اور باریک بینی سے جائزہ لینے پر ایسا نقص نظر آجاتا ہے۔ اس نقص کو تلاش کرنے کا ایک اور طریقہ یہ ہو سکتا ہے کہ باریک پروب والی ایک تار لے کر مشکوک پتریوں کے دونوں کناروں کو آپس میں شارٹ کرکے دیکھیں۔ اس دوران میں اپنا آلہ آن رکھیں۔ جو پتری ٹوٹی ہوئی ہوگی اس کے کناروں کو شارٹ کرنے سے سیٹ یعنی آپ کا آلہ کام کرنا شروع کر دے گا۔
جب ٹوٹی ہوئی پتری والا یہ نقص نظر آ جائے تو پتری کے دونوں کناروں پر سے وارنش یا کوٹنگ وغیرہ صاف کریں اور وہاں پر ٹانکے کا ایک قطرہ پگھلا کر ڈال دیں۔ سرکٹ مکمل ہو جائے گا۔ ممکن ہو تو اس جگہ کو دوبارہ وارنش یا سلیکان کوٹنگ سے ڈھانپ دیں۔



اوپر دکھائی گئی شکل میں پرنٹڈ وائرنگ (تانبے کی پتریوں) کے نقص کو دور کرنے کے طریقے دکھائے گئے ہیں۔ جیسا کہ پہلے بتایا جا چکا ہے، اگر ٹوٹی ہوئی پتری کے سروں کے درمیان فاصلہ کم ہو تو اسے ٹانکا لگا کر درست کیا جا سکتا ہے۔ ٹوٹے ہوئے مقام پر سے کوٹنگ وغیرہ صاف کر لیں۔ اگر ٹوٹے ہوئے مقام پر میل اور چکنائی یا گردوغبار وغیرہ جما ہوا ہے تو اسے کھرچ کر صاف کریں۔ صفائی کا یہ عمل ٹوٹے ہوئے مقام پر دونوں طرف قریبا“ چوتھائی انچ تک سرانجام دیں۔ سولڈرنگ آئرن کو اس طرح پکڑیں کہ وہ ٹوٹے ہوئے دونوں حصوں کو گرم کرے اس کے بعد فورا ٹانکا یعنی سولڈر لگا دیں۔ یہ عمل نہایت سرعت سے انجام دیں تاکہ ٹوٹے ہوئے مقام پر پتریاں زائد حرارت کے باعث اکھڑ نہ سکیں۔
اگر ٹوٹی ہوئی پتری کے سروں کے درمیان فاصلہ اتنا زیادہ ہو کہ ٹانکا لگا کر جوڑنا ممکن نہ ہو تو ٹوٹے ہوئے کناروں کو تار کے ایک ٹکڑے کی مدد سے آپس میں ملایا جا سکتا ہے۔ ٹوٹے ہوئے کناورں پر سے کوٹنگ، میل اور چکنائی یا گردوغبار وغیرہ کھرچ کر صاف کریں۔ ٹوٹے ہوئے سروں پر سے دونوں طرف قریبا“ 1/10 انچ تک صفائی کر لیں۔ اب نصف انچ لمبی تانبے کی ٹانکا چڑھی تار کو ٹانکا لگا کر ان کناروں پر ٹانکا لگا کر مضبوطی سے دوبارہ جوڑ دیں۔ پہلے تار کو گرم کریں اور اس پر ٹانکے کی ایک تہہ چڑھا دیں۔ اس کے بعد اس کوٹوٹے ہوئے مقام پر رکھ کر سولڈرنگ آئرن سے گرم کریں اور ٹانکا لگا دیں۔
اگر تانبے کی پتری اکھڑ جائے لیکن ٹوٹے نہیں تو اسے ایلفی یا اسی طرح کے کسی دوسرے مادے سے اپنی جگہ پر دوبارہ چپکایا جا سکتا ہے۔ اگر پتری اکھڑ کر ٹوٹ جائے تو مندرجہ بالا طریقے سے مناسب لمبائی کا تار کا ایک ٹکڑا ٹانکے سے جوڑا جا سکتا ہے۔

اجزا کا تبدیل کرنا


پرنٹڈ سرکٹ بورڈ پر اجزاءکو تبدیل کرنے کا طریقہ بیان کرنے سے قبل مناسب ہوگا کہ اجزاءکو ان کی ایک ٹانگ بورڈ سے نکال کر جانچنے کے طریقے کی تفصیل بیان کر دی جائے۔ اکثر اوقات خراب آلات کی مرمت کرتے وقت یا خراب پرزے تلاش کرتے وقت رزسٹر یا کپیسٹرز کی ایک ٹانگ سرکٹ بورڈ سے نکال کر جانچ پٹرتال کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ اگرچہ آج کل ” ان سرکٹ ٹیسٹر“ بھی دستیاب ہیں لیکن اگر یہ آپ کے پاس موجود نہ بھی ہوں تب بھی ملٹی میٹر کی مدد سے ان اجزا کے درست یا خراب ہونے کا کسی حد تک اندازہ لگایا جا سکتا ہے اس مقصد کے لیے جانچ پڑتال کی ذیل میں سیمی کنڈکٹر پرزہ جات کی بنیادی جانچ اور سیمی کنڈکٹرز کی جانچ پڑتال اور تبدیلی دیکھیں۔
مشکوک پرزے کی ایک تار سرکٹ سے باہر نکال کر اس کو اوہم میٹر کی مدد سے جانچا جاتا ہے۔ اس عمل میں اگر دو باتیں یا درکھی جائیں تو کوئی خاص مشکل پیش نہیںآتی۔ پہلی بات یہ ہے کہ اگر آپ نے پرزے کو بورڈ سے نکالتے وقت غیر ضروری زور لگایا تو آپ کو مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ دوسری بات یہ ہے کہ اگر آپ نے بورڈ پر زیادہ حرارت استعمال کی تو بھی آپ کو مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اگر وہ تار جسے باہر نکالنا ہے مڑی ہوئی ہے تو اسے پہلے سیدھا کریں۔ ایسی تاروں کو سیدھا کرنے کے لیے اسے سولڈرنگ آئرن سے گرم کریں اور گرم حالت ہی میں چاقو یا پیچ کس کی مدد سے تار کو سیدھا کر لیں۔ اس کے بعد اس پرزے کو اس طرح پکڑیں کہ جب سیدھی کی ہوئی تار پر ٹانکے کو پگھلایا جائے تو آپ اس کو باہر نکال سکیں۔ اب گرم سولڈرنگ آئرن کو جوڑ پر رکھیں اور جونہی ٹانکا پگھلے سولڈرنگ آئرن کو فورا ہٹالیں اور دوسری طرف پرزے پر مناسب زور لگا کر اس کی تار کو اوپر اٹھائیں۔ لیکن اسے مکمل طور پر باہر نہ نکالیں۔ گرم اور پگھلے ہوئے ٹانکے کے اندر اس تار کو ایک دو مرتبہ اوپر نیچے کرکے اسے ڈھیلا کر لیں۔ اس طرح سوراخ ٹانکے کی وجہ سے تنگ نہیں ہوگا اور بعد میں تار کو دوبارہ سوراخ میں ڈالنے میں آسانی رہے گی۔ اب اسے اوپر اٹھالیں۔ اوہم میٹر سے پرزہ جانچنے کے بعد اگر اسے درست پائیں تو ٹانکے پر دوبارہ سولڈرنگ آئرن رکھ کر اسے پگھلائیں اور پرزے کی تار کو پگھلے ہوئے ٹانکے میں سے گزارلیں اور سولڈرنگ آئرن ہٹا کر ٹانکے کو جمنے دیں۔ اگر مزید ٹانکے کی ضرورت ہو تو جوڑ کر دوبارہ گرم کرکے مزید ٹانکا پگھلا کر لگا دیں۔



آیئے اب اجزاءکو بدلنے کا طریقہ تفصیل سے بتائیں۔ رزسٹرز‘ کپیسٹرز اورا یسے اجزاءجن کی تاریں مخالف سروں پر ہوتی ہیں آسانی سے تبدیل کئے جا سکتے ہیں۔ یہ یقین ہونے کے بعد کہ یہ پرزہ خراب ہے اس کی تاروں کو پرزے کے جسم کے قریب ترین مقام سے کاٹ لیں۔ کاربن رزسٹر بدلنے کے لیے آپ اسے درمیان سے کاٹ کر توڑ دیں اس طرح آپ کو دوسرا رزسٹر لگانے کے لیے لمبی تاریں مل جائیں گی۔ نیا پرزہ ان تاروں کے ساتھ ٹانکا لگا کر آسانی سے جوڑا جا سکتا ہے۔ یہ عمل دی ہوئی شکل سے واضح ہے۔
خراب پرزے کی کٹی ہوئی تاروں کو چاقو یا بلیڈ سے چھیل کر صاف اور چمکدار بنائیں۔ اس کے بعد دونوں تاروں کو چمٹی کی مدد سے ہک نما بناتے ہوئے موڑ دیں۔ نئے پرزے کی تاریں بھی صاف کریں اور ان مڑی ہوئی تاروں میں ڈال دیں۔ فالتو تار کاٹ کر نئے پرزے کی تار کو بھی موڑ کر سختی سے جوڑ دیں۔ اس کے بعد ٹانکا لگا دیں۔ یہاں بھی یہ خیال رکھیں کہ زائد حرارت نہ پہنچنے پائے۔ اس سے پرانے پرزے کی تار اور پرنٹڈ سرکٹ بورڈ کا باہمی جوڑ کمزور ہو جائے گا۔
نیا پرزہ مذکورہ بالا طریقے سے جوڑنے اور ٹانکا لگانے کے بعد بورڈ کی دوسری سمت میں شارٹ سرکٹ وغیرہ کی جانچ کر لیں۔ کیونکہ بعض اوقات زائد حرارت کے باعث ٹانکا پگھل کر دو پتریوں کو ملا دیتا ہے۔ ایسے نقص کے لیے بغور پڑتال کر یں اور اسے دور کریں۔
اگر آپ پرنٹڈ سرکٹ بورڈ کی پتریوں کو زائد حرارت سے نقصان نہ پہنچائیں تو خراب پرزے کی جگہ نیا درست پرزہ اصل جگہ پر نصب کیا جا سکتا ہے۔ خراب پرزے کی تاروں کو بورڈ کے سوراخ سے باہر نکال لیں۔ اس کے بعد ایک لمحے کے لیے سوراخ پر گرم سولڈرنگ آئرن رکھ کر فالتو سولڈر کو آئرن کی نوک پر لے لیں اس سے سوراخ کھل جائے گا اور نئے پرزے کی تاریں آسانی سے اس میں داخل ہو سکیں گی۔ اس کے بعد نئے پرزے کی تاریں تھوڑی سی موڑ لیں تاکہ بورڈ الٹانے سے پرزہ نیچے نہ گرے‘ زائد تار کو کاٹیں اور سوراخوں میں ڈال کر دوسری طرف سے ٹانکا لگا دیں۔


ٹانکہ لگانے کا درست طریقہ

کچھ اجزاءایسے ہوتے ہیں جن کی تاریں یا پنیں بہت سی ہوتی ہیں۔ان کو بدلنے کے لیے ساری پنوں کو ایک ساتھ گرم کرکے باہر نکالا جاتا ہے۔ اس مقصد کے لیے مخصوص نوعیت کی سولڈرنگ بٹس دستیاب ہیں۔ ایسی بٹس میں سے دواقسام کا استعمال دی گئی شکل میں دکھایا گیا ہے۔



بعض پروجیکٹس میں خاص طور پر آڈیو پروجیکٹس میں بعض اوقات والیوم کنٹرول یا ٹون کنٹرول وغیرہ بورڈ کے اوپر نصف کرنے ہوتے ہیں۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ ٹون کنٹرول یا والیوم کنٹرول خراب ہوجائیں۔ ایسی صورت میں ان کو بدلنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ ان کو بدلنے کے لیے ان کے ہر ٹرمینل کو کاٹ دیں۔ اس کے بعد انفرادی ٹرمینلز کو سولڈرنگ آئرن اور چمٹی کی مدد سے ہٹالیں۔ ان سوراخوں میں اب نئے پرزے کے ٹرمینل ڈال کر ان کو ٹانکا لگادیں۔ یہ سارا عمل شکل میں دکھایا گیا ہے۔



ٹوٹے ہوئے بورڈ کی مرمت


بعض اوقات نیچے گرنے سے‘ زیادہ دباؤ پڑنے سے یا بہت پرانا ہونے کی وجہ سے پرنٹڈ سرکٹ بورڈ ٹوٹ جاتا ہے یا چٹخ جاتا ہے۔ اس سے تانبے کی پتریاں بھی ٹوٹ جاتی ہیں۔ ایسے بورڈ کی مرمت آسان ہوتی ہے بشرطیکہ یہ دو ٹکڑوں میں تقسیم نہ ہوا ہو۔ ٹوٹے ہوئے مقامات پر پتریوں میں سوارخ کرکے ان میں اسٹیپلز نما تاریں ڈال کر دوسری طرف سے موڑ دیں اور تار کو ٹانکا لگا دیں۔ سوراخ ٹوٹی ہوئی جگہ سے چوتھائی انچ فاصلے پر دونوں طرف کریں۔ سوراخ کرنے کے بعد تانبے کی پتریوں کو چاقو یا بلیڈ سے کھرچ کر صاف بھی کر لیں تاکہ ٹانکا لگانے میں آسانی رہے۔ ٹانکا لگانے کے بعد اور یہ جانچنے کے بعد کہ کنکشن درست ہو گیا ہے، ٹوٹے ہوئے پی سی بی پر اضافی مضبوطی کے لیئے ایلفی وغیرہ لگا دیں۔ شکل میں اس نوعیت کی مرمت کا کام واضح کیا گیا ہے۔



سوراخ کرنے اور پتری صاف کرنے کے بعد تقریبا ایک انچ لمبی سخت تار کا ٹکڑا لیں۔ اسے ’یو‘ شکل میں موڑ لیں۔ موڑنے کے لیے دونوں سوراخوں کی درمیانی جگہ کا خیال رکھیں۔ اس کو ان سوراخوں میں ڈال کر دوسری طرف سے بھی موڑ دیں۔ اس تار کو پرزوں والی طرف سے ڈالیں اور ٹانکوں والی طرف سے موڑیں۔ موڑنے کے بعد اس کو ٹانکا لگادیں۔ اگر پی سی بی میں کریک لمبا ہو تو مناسب فاصلوں پر یہی اسٹیپلز ایک سے زائد تعداد میں لگائیں۔
اگر پی سی بی کا کوئی کنارا ٹو ٹ کر الگ ہو گیا ہے تو اس سے چند کنیکشن متاثر ہوں گے۔ اس قسم کے نقص کی مرمت میں اسٹیپلز لگانے کے علاوہ کسی چپکنے والے مادے کی مدد بھی درکار ہوگی۔ پہلے اسٹیپلز کے لیے سوراخ کر لیں اس کے بعد تانبے کی پتریوں کو کھرچ کر صاف کریں اور اس کے بعد کسی اپوکسی سیمنٹ یا ایلفی وغیرہ جیسے چپکنے والے مادے کی مدد سے ٹوٹے ہوئے ٹکڑے کو چپکا دیں۔ اسے اچھی طرح اور مضبوطی سے چپکنے دیں۔ اس کے بعد سوراخوں میں تار ڈال کر اسٹیپلز کے طور پر موڑ لیں اور ٹانکا لگا کر کام مکمل کر لیں۔

چند لاجک آئی سیز کا تعارف

گیٹس Gates

Quad 2-input NAND gates کواڈ دو ان پٹ نینڈ گیٹ 7400
Quad 2-input NOR gates کواڈ دو ان پٹ نار گیٹس 7402
Hex inverters ہیکس انورٹر 7404
Quad 2-input AND gates کواڈ دو ان پٹ اینڈ گیٹ 7408
Triple 3-input NAND gates ٹرپل دو ان پٹ نینڈ گیٹس 7410
Triple 3-input AND gates ٹرپل دو ان پٹ اینڈ گیٹس 7411
Dual NAND Schmitt triggers ڈوئل نینڈ شمٹ ٹرگرز 7413
Hex Schmitt trigger inverters ہیکس شمٹ ٹرگر انورٹرز 7414
Dual 4-input NAND gates ڈوئل چار ان پٹ نینڈ گیٹس 7420
Dual 4-input NOR gates ڈوئل چار ان پٹ نار گیٹس 7425
Triple 3-input NOR gates ٹرپل تین ان پٹ نار گیٹس 7427
8-input NAND gate آٹھ ان پٹ نینڈ گیٹ 7430
Quad 2-input OR gates کواڈ دو ان پٹ آر گیٹس 7432
Quad 2-input Exclusive-OR gates کواڈ دو ان پٹ ایکسکلوزو آر گیٹس 7486

اوپن کلکٹر اور ٹرائی اسٹیٹ بس ڈرائیورز Open Collector and Tri-State Bus Drivers

Quad 2-input NAND gates (Open collector) کواڈ دو ان پٹ نینڈ گیٹس (اوپن کلکٹر) 7403
Hex inverters (Open collector) ہیکس انورٹر (اوپن کلکٹر) 7406
Hex buffers (Open collector) ہیکس بفرز (اوپن کلکٹر) 7407
Quad 3-state bus drivers, LO enable کواڈ تین حالت بس ڈرائیورز این ایبل LO 74125
Quad 3-state bus drivers, HI enable کواڈ تین حالت بس ڈرائیورز این ایبل HI 74126

فلپ فلاپس Flip-Flops

Dual D-type edge triggered flip-flops ڈوئل ڈی ٹائپ ایج ٹرگرڈ فلپ فلاپس 7474
Dual J-K master-slave flip-flops ڈوئل جے کے ماسٹر سلیو فلپ فلاپس 7476

لیچز Latches

Quad bistable latches کواڈ بائی اسٹیبل لیچز 7475
Octal bistable latches آکٹل بائی اسٹیبل لیچز 74100
Presettable decade counter/register (Signetics 8280) پری سیٹ ایبل ڈیکیڈ کاؤنٹر/رجسٹر سگنیٹکس 8280 74176
Presettable 4-bit binary counter/register (Signetics 8281) پری سیٹ ایبل چار بٹ بائنری کاؤنٹر/رجسٹر سگنیٹکس 8281 74177

کاؤنٹرز Counters

Decade ripple counter ڈیکیڈ رپل کاؤنٹر 7490
Divide by 12 ripple counter ڈیوائیڈ بائی 12 رپل کاؤنٹر 7492
4-bit binary ripple counter چار بٹ بائنری رپل کاؤنٹر 7493
Synchronous decade counter سنکرونس ڈیکیڈ کاؤنٹر 74160
Synchronous 4-bit binary counter سنکرونس چار بٹ بائنری کاؤنٹر 74161
Presettable decade counter/register (Signetics 8280) پری سیٹ ایبل ڈیکیڈ/رجسٹر (سگنیٹکس8280) 74176
Presettable 4-bit binary counter/register (Signetics 8281) پری سیٹ ایبل چار بٹ بائنری کاؤنٹر/رجس ٹر (سگنیٹکس8281) 74177
Synchronous Up/Down decade counter سنکرونس اپ /ڈاؤن کاؤنٹر 74192
Synchronous Up/Down 4-bit binary counter سنکرونس اپ/ڈاؤن چار بٹ بائنری کاؤنٹر 74193
8-bit binary counter with output registers آٹھ بٹ بائنری کاؤنٹر معہ آؤٹ پٹ رجسٹرز 74LS590
8-bit binary counter with input registers آتھ بٹ بائری کاؤنٹر معہ ان پٹ رجسٹرز 74LS593

شفٹ رجسٹرز Shift Registers

4-bit shift register (parallel in, parallel out) چار بٹ شفٹ رجسٹر(پیرلل ان پیرلل آؤٹ) 7495
8-bit shift register (serial in, parallel out) آٹھ بٹ شفٹ رجسٹر(سیریل ان سیریل آؤٹ) 74164
8-bit shift register (parallel in, serial out) آٹھ بٹ شفٹ رجسٹر(پیرلل ان سیریل آؤٹ) 74165
4-bit bi-directional universal shift register چار بٹ بائی ڈائریکشنل یونیورسل شفٹ رجسٹر 74194
4-bit parallel in-out shift register چار بٹ پیرلل ان آؤٹ شفٹ رجسٹر 74195
8-bit bi-directional universal shift register آٹھ بٹ بائی ڈائریکشنل یونیورسل شفٹ رجسٹر 74198

این کوڈرز اور ڈیکوڈرز Encoders and Decoders

Binary-to-BCD converter بائنری ٹو بی سی ڈی کنورٹر 74185
BCD-to-decimal decoder بی سی ڈی ٹو ڈیسی مل ڈیکوڈر 7442
BCD-to-7-segment decoder/driver بی سی ڈی ٹو سیون سیگمنٹ ڈیکوڈر/ڈرائیور 7447
3-line to 8-line Decoder/Demultiplexer تین لائن ٹو آٹھ لائن ڈیکوڈر/ڈی ملٹی پلیکسر 74138
Dual 2-line to 4-line Decoder/Demultiplexer ڈوئل دو لائن ٹو چار لائن ڈی کوڈر/ڈی ملٹی پلیکسر 74139
8-line to 3-line Priority Encoder آٹھ لائن ٹو تین لائن پیراریٹی این کوڈر 74148
4-line to 16-line Decoder/Demultiplexer چار لائن ٹو سولہ لائن ڈی کوڈر/ڈی ملٹی پلیکسر 74154
Dual 1-line to 4-line Decoder/Demultiplexer ڈوئل ایل لائن ٹو چار لائن ڈی کوڈر/ملٹی پلیکسر 74155
BCD-to-binary converter بی سی ڈی ٹو بائنری کنورٹر 74184

ملٹی پلیکسرز Multiplexers

16-line to 1-line data selector/multiplexer سولہ لائن ٹو ایک لائن ڈیٹا سیلیکٹر/ملٹی پلیکسر 74150
8-line to 1-line data selector/multiplexer آٹھ لائن ٹو ایک لائن ڈیٹا سیلیکٹر/ملٹی پلیکسر 74151
Dual 4-line to 1-line data selector/multiplexer ڈوئل چار لائن ٹو ایک لائن ڈیٹا سیلیکٹر/ملٹی پلیکسر 74153
Quad 2-line to 1-line data selector/multiplexer کواڈ چار لائن ٹو ایک لائن ڈیٹا سیلیکٹر/ملٹی پلیکسر 74157

مونو اسٹیبل Monostables

Monostable Multivibrator مونو اسٹیبل ملٹی وائبریٹر 74121
Dual retriggerable Monostable Multivibrators ڈوئل ری ٹرگر ایبل مونو اسٹیبل ملٹی وائبریٹر 74123

متفرق لاجک Miscellaneous Logic

4-bit binary full adder چار بٹ بائنری فل ایڈر 7483
4-bit magnitude comparator چار بٹ میگن چیوڈ کمپیریٹر 7485
Synchronous 6-bit Binary Rate Multiplier سنکرونس چھ بٹ بائنری ریٹ ملٹی پلائر 7497
Synchronous decade Decimal Rate Multiplier سنکرونس ڈیکیڈ ڈیسی مل ریٹ ملٹی پلائر 74167
4-bit Arithmetic Logic Unit and Function Generator چار بٹ ارتھمیٹک لاجک یونٹ اور فنکشن جنریٹر 74181

میموری Memories

64-bit Static Random Access Memory (16 words x 4 bits) 64 بٹ اسٹیٹک رینڈم ایکسیس میموری(16 الفاظx4 بٹ) 7489
2K x 8 Static Random Access Memory (SRAM) 2Kx8 اسٹیٹک رینڈم ایکسیس میموری (اسٹیٹک ریم) 6116
8K x 8 Static Random Access Memory 8Kx8 اسٹیٹک رینڈم ایکسیس میموری 6264
32K x 8 High Speed CMOS Static RAM 32K x 8ہائی اسپیڈ سی موس اسٹیٹک رینڈم ایکسیس میموری HM62256B
32K x 8 High Speed CMOS Static RAM 32K x 8ہائی اسپیڈ سی موس اسٹیٹک رینڈم ایکسیس میموری CY7C199

ایمپلی فائرز Amplifiers

Operational Amplifier آپریشنل ایمپلی فائر 741
Quad operational amplifiers, single 5V supply کواڈ آپریشنل ایمپلی فائر (ایک 5V سپلائی) 324
Quad “Norton” operational amplifier, single 5V supply کواڈ نارٹن آپریشنل ایمپلی فائر (ایک 5V سپلائی) 3900
Low Noise JFET -input operational amplifier لو نائز جےایف ای ٹی ان پٹ آپریشنل ایمپلی فائر TL071
Dual Low Noise JFET-input operational amplifier ڈوئل لو نائز جےایف ای ٹی ان پٹ آپریشنل ایمپلی فائر TL072
Quad Low Noise JFET -input operational amplifier کواڈ لو نائز جےایف ای ٹی ان پٹ آپریشنل ایمپلی فائر TL074

کمپیریٹرز Comparators

Comparator کمپیریٹر LM311
Quad comparator کواڈ کمپیریٹر LM339

متفرق Miscellaneous

LinCMOS Oscillator/monolithic timer Lin سی موس آسی لیٹر/مونو لیتھک ٹائمر TLC555
8-bit Digital-to-Analog Converter (DAC) آٹھ بٹ ڈیجیٹل ٹو اینا لاگ کنورٹر AD558
8-bit Analog-to-Digital Converter (ADC) آٹھ بٹ اینا لاگ ٹو ڈیجیٹل کنورٹر AD7574
CMOS Programmable Peripheral Interface (PPI) سی موس پروگرام ایبل پیری فیرل انٹرفیس 82C55A
Microcomputer (MCU) مائکرو کمپیوٹر MC68HC811E2FN

گراؤنڈ، سگنل گراؤنڈ اور ارتھ کے مابین فرق



گراؤنڈ سگنل گراؤنڈ ارتھ گراؤنڈ

اگرچہ یہ تینوں نشانات (سمبلز) ایسے کنکشن کی نمائندگی کرتے ہیں جو ایک ہی مقام پر واقع ہو اور وہ مقام صفر وولٹیج کا حامل ہو۔ تاہم ان تینوں کا مقصد مختلف ہوتا ہے۔

گراؤنڈ یا چیسس گراؤنڈ اس ڈبے یا فریم کو کہتے ہیں جس میں کوئی سرکٹ تیار کیا جاتا ہے۔ مثالی طور یہ ایک ایسا گراؤنڈ ہوتا ہے جو استعمال کنندہ اور اس کے اندر موجود سرکٹ کے درمیان ایک رکاوٹ کا کام کرتا ہے تاکہ برقی صدمے سے حفاظت مہیا کرے یا بیرونی برقی مداخلت(انٹرفیرینس) یا تابکاری (کسی بھی نوعیت کی برقی لہریں) سے حفاظت فراہم کرے۔چند ہائی کرنٹ اطلاقات میں یہ گراؤنڈ ایسے موصل (کنڈکٹر) کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے جس میں سے کرنٹ گزر رہا ہو۔ مثال کے طور پر گاڑی میں جہاں برقی کنکشن کرنے کے لئے موٹی موٹی متعدد تاریں بیٹری سے گاڑی کے مختلف آلات تک استعمال کی جاتی ہیں۔بیٹری کے دو ٹرمینل، مثبت اور منفی ہوتے ہیں۔ مثبت ٹرمینل سے تاریں جوڑی جاتی ہیں جبکہ منفی ٹرمینل کو گاڑی کی دھاتی باڈی سے منسلک کر دیا جاتا ہے جو تاروں کی جگہ استعمال ہوتی ہے۔ یوں منفی کنکشن مشترک ہو جاتا ہے جسے گراؤنڈیا چیسس گراؤنڈ کہا جاتا ہے۔

سگنل گراؤنڈ ایسا حوالہ جاتی مقام ہوتا ہے جہاں پر سگنل کی پیمائش کی جاتی ہو۔ جب کرنٹ کسی سرکٹ سے گزرتی ہے تو سرکٹ کے مختلف مقامات پر مختلف قدر کا وولٹیج ڈراپ واقع ہوتا ہے۔ کچھ گراؤنڈ مقامات دوسروں کی نسبت قدرے مختلف ہوتے ہیں۔ کسی ایک سرکٹ میں متعدد سگنل گراؤنڈز موجود ہو سکتے ہیں۔ فرض کریں کہ ایک ایمپلی فائر کا وولٹیج گین 100 ہے اور یہ بہت خفیف سگنل کو ایمپلی فائی کر رہا ہے۔اگر سگنل کی گراؤنڈ کو محض 0V01 حد تک بڑھایا جائے تو آؤٹ پٹ سگنل 1V0 تک غلط ہو جائے گا۔ مثالی طور پر سگنل گراؤنڈ ایسا کنکشن ہو گا جو سرکٹ کے اسی درجے (Stage)سے منسلک ہو جس میں سگنل کو منسلک کیاگیا تھا۔

ارتھ یا ارتھ گراؤنڈ نظریاتی طور پر برقی اعتبار سے صفر ہوتا ہے۔ یہ انتہائی موصل زمین کا پوٹینشل ہوتا ہے لیکن یہ جگہ اور مقام کے اعتبار سے تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ چٹانی پہاڑوں پر خشک موسم میں بہت کمزور ارتھ ہوتا ہے جبکہ مرطوب موسم میں یہ اتنا کمزور نہیں ہوتا۔ عام طور پر زمین سے ارتھ کنکشن مین اے سی سپلائی لائن کے ساتھ کیا جاتا ہے جہاں زمین کے اندر ایک دھاتی سلاخ چند فٹ تک دبا دی جاتی ہے اور اسے تاروں کی مدد سے مین اے سی سپلائی لائن تک لایا جاتا ہے۔ اسی طرح ریڈیائی مواصلات میں بھی ائریل یا اینٹینا کے مقابلہ میں یہی ارتھ گراؤنڈبطور صفر حوالہ (زیرو ریفرینس) استعمال کیا جاتا ہے۔

الیکٹرونک آلات میں استعمال کردہ پرزہ جات کو سرکٹ ڈایاگرام کے مطابق باہم جوڑنے کے لئے زیادہ تر پرنٹڈ سرکٹ بورڈ استعمال کئے جاتے ہیں۔ ان میں بھی پاور سپلائی کے منفی ٹرمینل (جسے عام طور پر صفر پوٹینشل ٹرمینل کہا جاتا ہے) کو مشترک رکھا جاتا ہے اور اسی کو گراؤنڈ سمجھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ کچھ سرکٹس میں ایسی برقی سپلائی استعمال کی جاتی ہے جس میں مثبت، صفر اور منفی تینوں کنکشن ہوتے ہیں۔ ایسی صورت میں بھی عموما" صفر پوٹینشل والا ٹرمینل مشترک یا گراؤنڈ رکھا جاتا ہے۔ پرنٹڈ سرکٹ بورڈ یا پی سی بی پر ایک یا ایک سے زائد گراؤنڈز کنکشن بھی استعمال کئے جاتے ہیں۔ چیسس گراؤنڈ یا ارتھ نوعیت کے کنکشن عام طور پر پی سی بی میں نہیں پائے جاتے تاہم بعض صورتوں میں ایک یا ایک سے زائد پی سی بی بڑے چیسس کے حصوں کے طور پر شامل ہو سکتے ہیں جہاں کوئی ایک مشترک ارتھ کنکشن موجود ہوسکتا ہے۔ لیکن ایسا انتہائی مخصوص حالات میں ہوتا ہے۔ پی سی بی پر ایک یا ایک سے زائد گراؤنڈ سطحیں ( لیئرزLayers)موجود ہو سکتی ہیں لیکن یہ یا تو سگنل گراؤنڈز ہوں گی یا برقی قوت کی ترسیلی گراؤنڈز ہوں گی۔

جانچ پڑتال - ٹیسٹنگ

جب آپ کوئی الیکٹرونک سرکٹ نصب (اسمبل) کرتے ہیں تو آپ کی فطری خواہش ہوتی ہے کہ پاور سپلائی منسلک کرتے ہی وہ مطلوبہ عمل سرانجام دینے لگے۔ لیکن عملی طور پر ایسا بہت کم ہوتا ہے۔ الیکٹرونکس کا کام کرنے والے بہت تجربہ کار حضرات بھی اکثر اوقات پہلی مرتبہ سرکٹ سے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ اس کا باعث عام طور پر کوئی نہ کوئی ایسی غلطی ہوتی ہے جو کام کے دوران میں واقع ہو جاتی ہے۔ جب آپ اس غلطی کو تلاش کر لیتے ہیں تو سرکٹ کام کرنا شروع کر دیتا ہے۔ سرکٹ میں رہ جانے والی ایسی غلطی یا غلطیوں کی تلاش کا کام  الیکٹرونک سرکٹس کی جانچ پڑتال (ٹیسٹنگ) کہلاتا ہے۔ اس عنوان کے تحت آپ کو مختلف اجزا کی جانچ پڑتال کے طریقے بتائے جائیں گے۔

سیمی کنڈکٹر پرزہ جات کی بنیادی جانچ پڑتال کا طریقہ


کسی بھی خراب الیکٹرونک آلے کی مرمت کرنے کے لئے بنیادی اصول ایک جیسے ہی ہوتے ہیں۔ تمام الیکٹرونک آلات، سرکٹس اور پروجیکٹس میں استعمال ہونے والے پرزہ جات وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اپنی مکمل استعداد کھو دیتے ہیں۔ بعض پرزہ جات کی قدریں تبدیل ہو جاتی ہیں، بعض مکمل طور پر کام چھوڑ دیتے ہیں اور بعض پرزہ جات مکمل کارکردگی سے کام نہیں کر پاتے۔ وولٹیج، کرنٹ، درجہ حرارت، نمی اور کچھ دیگر موسمی و ماحولیاتی تبدیلیاں الیکٹرونک پرزہ جات کو خراب کرنے کا باعث بنتی ہیں۔ خراب پرزہ جات کی تلاش اور نشاندہی کے بعد ان کو نئے سے تبدیل کر کے آلات کی خرابی کو دور کیا جا سکتا ہے۔

جانچ پڑتال اور ٹیسٹنگ بہت زیادہ مشکل کام نہیں۔ ثابت قدمی، سکون اور آہستہ روی ایسے اصول ہیں جن کی مدد سے آپ کسی بھی خراب آلے، سرکٹ یا پروجیکٹ کی مرمت آسانی سے کر سکتے ہیں۔ جوں جوں مرمت کے کام میں آپ کا تجربہ بڑھتا ہے، کام کرنا آسان ہوتا چلا جاتا ہے۔ تجربے میں اضافہ ہو جائے تو آپ کو بہت جلدی اندازہ ہو جاتا ہے کہ نقص کا سبب کیا ہے اور کون سا پرزہ اس کا باعث ہے۔

یہاں پر چند بنیادی اصول اور طریقے بیان کئے جائیں گے جس کی مدد سے آپ الیکٹرونک آلات، اپنے تیارکردہ سرکٹس اور پروجیکٹس کی جانچ پڑتال کر کے ان میں پیدا ہونے والی خرابیاں آسانی سے دور کر سکیں گے۔

تعارف

اس مضمون میں ڈائیوڈز، بائی پولر ٹرانزسٹرز، سلیکان کنٹرولڈ ریکٹی فائرز اور میٹل آکسائیڈ سیمی کنڈکٹر فیلڈ ایفیکٹ ٹرانزسٹرزکو جانچنے یعنی ان کی ٹیسٹنگ کا طریقہ کار پیش کیا گیا ہے۔ ڈائیوڈز میں سگنل، ریکٹی فائر اور زینر نوعیت کے اجزا شامل ہیں جبکہ بائی پولر ٹرانزسٹز میں این پی این، پی این پی، سمال سگنل اور پاور ٹرانزسٹرزشامل ہیں۔

جانچ پڑتال کا طریقہ کار صرف مکمل خراب اجزا کی نشاندہی تک محدود رکھا گیا ہے یعنی پرزہ جات کے صرف شارٹ یا اوپن ہونے کا پتہ چلایا جائے گا۔ اکثر طریقہ ہائے کار میں محض خراب سلیکان ٹرانزسٹر کی نشاندہی کی گئی ہے جبکہ گین، فریکوئنسی ریسپانس اور دیگر خصوصیات معلوم کرنے کا طریقہ اس مضمون میں بیان نہیں کیا گیا۔تاہم نامعلوم ڈائیوڈز اور بائی پولر ٹرانزسٹرز کی تاروں کی پہچان اور بریک ڈائون وولٹیج کی شرح معلوم کرنے کے طریقوں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

یہاں پر دیئے گئے طریقے اگرچہ جرمینئم نوعیت کے پرزہ جات کے لئے بھی اپنائے جا سکتے ہیں تاہم ان میں اپنی خصوصیات تبدیل کرنے کا رجحان زیادہ ہوتا ہے جس کے باعث مکمل خراب ہونے سے قبل ہی یہ اپنے خراب ہونے کا اعلان کر دیتے ہیں۔

اس مضمون میں بیان کردہ طریقوں میں سے کسی ایک میں بھی مین سپلائی لائن سے براہ راست کنکشن درکار نہیں ہوگا اس کے باوجودپاور سپلائی مقاصدکے لئے آپ کو مین سپلائی ایڈاپٹر وغیرہ استعمال کرنے کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔ چنانچہ ہائی وولیٹج اور مین سپلائی سے چلنے والے آلات کے ضمن میں متعین کردہ بنیادی احتیاطی تدابیر اور حفاظتی اقدامات سے بخوبی واقفیت ہونا ضروری ہے۔

مین سپلائی لائن سے چلنے والے کسی بھی آلے کو کھولتے وقت یا اس پر کام کرتے وقت یہ تسلی کر لیں کہ اس کو مین سپلائی لائن سے الگ کر لیا گیا ہے اور یہ کہ اس کی تار مین سپلائی ساکٹ سے نکال لی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ تسلی بھی کر لیں کہ مین سپلائی سے چلنے والے آلات کے پاور سپلائی سیکشن میں موجود الیکٹرولائٹک کپیسیٹرز کو آپ نے بحفاظت ڈسچارج کر دیا ہے۔

یار رکھیں کہ بے احتیاطی اور لا پرواہی نہ صرف آپ کے قیمتی آلات کو تباہ کرنے کا باعث بنے گی بلکہ آپ کو ذاتی نقصان بھی پہنچا سکتی ہے ۔

وولٹیج اوہم میٹر یا ڈیجیٹل ملٹی میٹر

ڈائیوڈز اور ٹرانزسٹرز جیسے نان لینئر پرزہ جات کی جانچ کے دورا ن اینا لاگ اور ڈیجیٹل میٹرز کا عمل ایک دوسرے سے بالکل متضاد ہوتا ہے۔اس بات کو مکمل طور پر سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ آپ زیر نظر مضمون کو مکمل اور بغور پڑھیں۔

احتیاط:

اینالاگ VOM کو جب کم سے کم اوہم رینج پر استعمال کیاجاتا ہے تو یہ چھوٹے سیمی کنڈکٹر پرزہ جات میں کافی زیادہ کرنٹ گزارنے کا باعث بنتا ہے جس کے نتیجے میں یہ پرزہ جات آسانی سے خراب ہو سکتے ہیں۔ ایسی صورت سے بچنے کے لئے جانچ پڑتال کے دوران میں یا توVOM کی اگلی زیادہ اوہم رینج استعمال کریں یا پھر ڈیجیٹل ملٹی میٹر (DMM) استعمال کریں۔موخر الذکر میٹر زیر جانچ پرزہ جات میں سے زیادہ مقدار میں کرنٹ نہیں گزرنے دیتا۔ یہاں پر ایک اور مسئلہ درپیش ہوتا ہے وہ یہ کہ زیادہ پاور کے سیمی کنڈکٹر پرزے یا ایسے پرزے جن کے اندر رزسٹر لگے ہوئے ہوتے ہیں ، کم کرنٹ گزرنے کے باعث غلط ریڈنگ فراہم کرنے کا باعث بنتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کرنٹ اتنی کم ہوتی ہے کہ پاور سیمی کنڈکٹرز کے جنکشن کو مناسب طور پر بائس نہیں کرتی۔ یہاں پھر اینالاگ میٹر کی ضرورت پڑتی ہے۔

ملٹی میٹر سے ڈائیوڈ جنکشن کی جانچ

ایک عام سگنل ڈائیوڈ یا ریکٹی فائر کو جانچنے کے لئے اینالاگ VOM کی کم اوہم رینج استعمال کریں۔ فارورڈ سمت میں درست ڈائیوڈ کم رزسٹینس ظاہر کرے گا جو عام طور پر سکیل کے دو تہائی حصے کے قریب یعنی چند سو اوہم تک ہوگی۔ ریورس سمت میں یہ رزسٹینس بہت زیادہ یعنی تقریباً لامتناہی Infinite حد کے آس پاس ہو گی۔ دونوں سمتوں میں(یعنی فاروڈ اور ریورس )صفر اوہم ریڈنگ اوپن ڈائیوڈ کو ظاہر کرے گی۔ درست جرمینئم ڈائیوڈ، درست سلیکان ڈائیوڈ کے مقابلے میں نسبتاً کم رزسٹینس ظاہر کرے گا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے جنکشن میں کم وولٹیج ڈراپ واقع ہوتا ہے۔

اچھے ڈیجیٹل ملٹی میٹر میں عام طور پر ڈائیوڈ ٹیسٹ کے لئے بندوبست موجود ہوتا ہے۔ اس حالت میں زیر جانچ درست سلیکان ڈائیوڈ فاروڈ سمت میں تقریباً 0.5Vسے 0.8Vکے درمیان ریڈنگ ظاہر کرے گا۔ریورس سمت میں یہ کوئی ریڈنگ ظاہر نہیں کرے گا یعنی اوپن ظاہر کرے گا۔جرمینئم ڈائیوڈ میں فاروڈ سمت میں تقریباً 0.2Vسے 0.4Vکے درمیان یا اس کے قریب کی ریڈنگ ظاہر ہوگی۔

ڈیجیٹل ملٹی میٹر کی کوئی بھی رزسٹینس رینج استعمال کرتے ہوئے کسی سیمی کنڈکٹر کو چانچا جائے تو یہ عام طور پر اوپن نظر آئے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ڈیجیٹل ملٹی میٹر سے حاصل ہونے والی کرنٹ اور/یا وولٹیج کی مقدار اتنی نہیں کہ وہ سیمی کنڈکٹر کے جنکشن کے فارورڈ ڈراپ حد کو عبور کر سکے۔یہاں پر یہ بھی مد نظر رکھیں کہ خراب ڈائیوڈ ڈیجیٹل ملٹی میٹر پر رزسٹینس ظاہر کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔ ایسا خاص طور پر بلند اوہم رینج میں زیادہ متوقع ہوگا چنانچہ اس نوعیت کی کوئی بھی ریڈنگ خراب پرزے کی نشاندہی کرے گی۔ تاہم یہ کوئی قطعی اور فیصلہ کن ریڈنگ نہیں ہوگی کیونکہ اس کے برعکس بھی ہو سکتا ہے یعنی وہ پرزہ ٹھیک بھی ہو سکتا ہے۔ چنانچہ حتمی نتیجے پر پہنچنے کے لئے دوسرے طریقوں سے بھی تصدیق کر لیں۔

واضح رہے کہ اینالاگ ملٹی میٹر یا VOM پر پروبس کی پولیریٹی کلر کوڈ میں ہوتی ہے۔ عام خیال یہ ہے کہ سرخ پروب مثبت اور سیاہ پروب منفی ہوتی ہے۔ وولٹیج یا کرنٹ کی پیمائش کے لئے یہ خیال درست ہے اور سرخ پروب کو مثبت سپلائی لائن سے جبکہ سیاہ کو منفی یا گرائونڈ سپلائی لائن سے جوڑا جاتا ہے۔ تاہم اندرونی طور پر سرخ تار یا پروب، سیاہ کی نسبت زیادہ منفی ہوتی ہے۔یہ حقیقت خاص طور پر رزسٹینس کی پیمائش کرتے وقت یعنی اوہم رینج میں ہمیشہ مد نظر رکھنی چاہیئے کہ سرخ تار اندرونی بیٹری (یا سیل) کے منفی سرے سے جبکہ سیاہ تار بیٹری کے مثبت سرے سے منسلک ہوتی ہے۔ ڈیجیٹل ملٹی میٹرز میں ایسا نہیں ہوتا بلکہ سرخ تار مثبت اور سیاہ تار منفی ہی ہوتی ہے۔ اس امر کا یقین کرنے کے لئے ہم ایک معلوم درست ڈائیوڈ کو بطور حوالہ استعمال کرسکتے ہیں۔ اسی طرح مناسب یہ ہوگا کہ اپنے انفرادی ملٹی میٹر سے درست سلیکان اور جرمینئم ڈائیوڈز کی ریڈنگز لے کر ان کو کہیں لکھ لیں تاکہ بعد میں نامعلوم پرزہ جات کی جانچ کے دوران ان کو بطور حوالہ استعمال کیا جا سکے۔

ٹرانزسٹر جانچنے کا طریقہ

جیساکہ ڈائیوڈ جنکشن کے حوالے سے اوپر بتایا جا چکا ہے، اکثر ڈیجیٹل ملٹی میٹر ٹرانزسٹر کے جنکشن کی 6 ممکنہ مختلف ریڈنگز کو لامتناہی رزسٹینس کے طور پر ظاہر کریں گے کیونکہ ان کے موثر رزسٹینس ٹیسٹ وولٹیج ، ڈائیوڈ جنکشن ڈراپ کے مقابلے میں کم ہوتے ہیں۔ اگر غلطی سے اس پیمائش کے دوران آپ نے اپنی جلد کو پروبس سے چھو دیا تو آپ کو 200K سے 2M اوہم کے لگ بھگ رزسٹینس نظر آئے گی۔ ڈیجیٹل ملٹی میٹر کی مدد سے ٹرانزسٹر کو جانچنے کا سب سے عمدہ طریقہ یہ ہے کہ آپ اس کا ”ڈائیوڈ ٹیسٹ“ فنکشن استعمال کریں۔ذیل میں اینا لاگ جانچ طریقے کے بعد ہم اس پر مزید گفتگو کریں گے۔ٹرانزسٹر کو چانچنے سے پہلے مندرجہ ذیل نکات کو ہمیشہ مدنظر رکھیں:

  1. جانچ کے دونوں طریقوں میں سے کسی بھی طریقے کے دوران اگر آپ کو شارٹ سرکٹ (یعنی 0 اوہم یا 0V ڈراپ) نظر آئے یا ٹرانزسٹر جانچنے کے دوران کوئی بھی ریڈنگ حاصل نہ ہو تو ٹرانزسٹر لازمی خراب ہوگا اور اسے نئے سے تبدیل کرنے کے علاوہ کوئی دوسری صورت نہیں ہوگی۔

  2. ذیل میں کی گئی تمام بحث سرکٹ سے باہر نکلے ہوئے ٹرانزسٹر سے متعلق ہے۔ یعنی جانچ کے طریقے صرف اس ٹرانزسٹر کے لئے کارآمد ثابت ہوں گے جسے سرکٹ سے باہر نکال کر جانچا جائے۔

  3. مندرجہ ذیل طریقے دو قسم کے ٹرانزسٹرز پر لاگو نہیں ہوں گے۔ ایک ایسے ٹرانزسٹرز کے لئے جن میں اندرونی ڈائیوڈ زلگے ہوتے ہیں۔ (یہ ڈیمپر ڈائیوڈز کہلاتے ہیں اور کلکٹرایمی ٹر کے درمیان ریورس حالت میں لگائے جاتے ہیں)۔ دوسرا ایسے ٹرانزسٹر جن میں اندرونی رزسٹرز لگے ہوتے ہیں۔ (یہ بیس اور ایمی ٹر کے درمیان ہوتے ہیں جن کی قدر 50 اوہم کے لگ بھگ ہوتی ہے)۔

  4. مخصوص ٹرانزسٹرز کے ان اندرونی اجزا کے باعث آپ کو غلط یا گمراہ کن ریڈنگز مل سکتی ہیں۔اس نوعیت کے ٹرانزسٹرز کی بہترین مثال ہاریزینٹل آئوٹ پٹ ٹرانزسٹرز ہیں۔ اگر آپ ایسے ٹرانزسٹرز جانچ رہے ہیں تو اس سے قبل اسی قسم کے درست ٹرانزسٹرز کی مختلف ریڈنگز نوٹ کر کے رکھ لیں اور ان کا موازنہ زیر جانچ ٹرانزسٹرز سے حاصل ہونے والی ریڈنگز سے کریں۔ دوسری صورت میں اس مخصوص ٹرانزسٹر کی ڈیٹا شیٹ یا سپے سی فیکیشن Specification شیٹ استعمال کی جا سکتی ہے۔ بیس کلکٹر، کلکٹرایمیٹراور ایمیٹر بیس وولٹیج اور کرنٹ کی ریڈنگز ڈیٹا شیٹ سے مل سکتی ہیں۔

  5. اسی طرح اگر جانچ کے دوران اگر کوئی ٹرانزسٹر ایسی ریڈنگز دے رہا ہے جو آپ کو عجیب معلوم ہو رہی ہیں تو سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ ان ریڈنگز کا موازانہ اسی نوعیت کے درست ٹرانزسٹرز سے حاصل ہونے والی ریڈنگز سے یا پھر اس ٹرانزسٹر کی ڈیٹا شیٹ یا سپے سی فیکیشن شیٹ سے کریں۔

  6. کسی نامعلوم پرزے کی جانچ کرتے وقت سب سے بہتر یہ ہوگا کہ آپ اس کی تاروں کی وولٹیج پولیریٹی (یعنی مثبت، منفی) کی پہچان کر کے ان پر نشان لگا دیں۔ یہ عمل میٹر کی رزسٹینس رینج یا ڈائیوڈ ٹیسٹ موڈ میں سرانجام دیا جا سکتا ہے۔اگر ضروری ہو تو اپنے ڈیجیٹل ملٹی میٹر یا وولٹیج اوہم میٹر کی مدد سے درست ڈائیوڈ چیک کر کے ان کی تاریں پہچان لیں اور حاصل ہونے والی وولٹیج یا رزسٹینس قدریں لکھ لیں۔ سلیکان ڈائیوڈز میں 1N4007 ریکٹیفائر یا 1N4148سگنل ڈائیوڈ استعمال کیا جا سکتا ہے جبکہ جرمینئم ڈائیوڈ 1N34 وغیرہ مناسب رہے گا۔اس طرح آپ کو فارورڈ بائسڈ جنکشن کی ریڈنگ کا پہلے سے ایک اندازہ ہو جائے گا۔

  7. واضح رہے کہ اگرچہ ٹرانزسٹر کو شارٹ، اوپن یا لیکیج کے لئے جانچا جا سکتا ہے تاہم یہاں پر ہم یوں تصور کریں گے جیسے ٹرانزسٹر ڈائیوڈز کے ایک جوڑے پر مشتمل ہے جنہیں باہم جوڑ دیا گیا ہے۔وضاحت کے لئے دی گئی شکل کو غور سے دیکھیں۔


  8. صاف ظاہر ہے کہ اسی طریقے کو استعمال کرتے ہوئے عام ڈائیوڈز بھی جانچے جا سکتے ہیں تاہم ایل ای ڈی اور زینر ڈائیوڈز مکمل طور پر اس طریقے سے نہیں جانچے جا سکتے۔ایل ای ڈی کا فارورڈ ڈراپ بہت زیادہ ہوتا ہے جو عام میٹرز کی رینج میں نہیں آتا۔ اسی طرح زینر ڈائیوڈز میں ریورس بریک ڈائون زینر وولٹیج بہت زیادہ ہوتا ہے جو عام میٹر نہیں دکھا سکتے۔ مزید وضاحت ان پرزہ جات کو جانچنے کے طریقے میں کی جائے گی۔

اینا لاگ وولٹ اوہم میٹر سے جانچ

جیساکہ ڈائیوڈ جنکشن کے حوالے سے اوپر بتایا جا چکا ہے، اکثر ڈیجیٹل ملٹی میٹر ٹرانزسٹر کے جنکشن کی 6 ممکنہ مختلف ریڈنگز کو لامتناہی رزسٹینس کے طور پر ظاہر کریں گے کیونکہ ان کے موثر رزسٹینس ٹیسٹ وولٹیج ، ڈائیوڈ جنکشن ڈراپ کے مقابلے میں کم ہوتے ہیں۔ اگر غلطی سے اس پیمائش کے دوران آپ نے اپنی جلد کو پروبس سے چھو دیا تو آپ کو ذیل میں جو طریقہ پیش کیا جا رہا ہے اس میں ہم تار A اور تار B کے ذریعے پیمائش لینے کی بات کریں گے۔ واضح رہے کہ این پی این ٹرانزسٹر کے لئے تار A سیاہ اور تار B سرخ ہوگی جبکہ پی این پی کے لئے یہ ترتیب الٹ جائے گی یعنی تار A سرخ اور تار B سیاہ ہوگی۔یہاں پر اس بات کی وضاحت کر دی جائے کہ یہ معیاری پولیریٹی رزسٹینس کے حوالے سے ہے۔ کئی ملٹی میٹرز میں اس کے برعکس پولیریٹی طریقہ بھی اپنایا جاتا ہے۔ چنانچہ اگر کہیں مطلوبہ نتائج نہ ملیں تو تاریں الٹا کر دوبارہ ریڈنگ لیں۔

اپنے ملٹی میٹر کی تار A کو ٹرانزسٹر کی بیس سے اور تار B کو ایمیٹر سے جوڑیں۔ یہاں پر آپ کو خاصی کم رزسٹینس حاصل ہوگی۔ آپ کے میٹر کے سکیل پر یہ 100 اوہم سے لے کر چند K اوہم تک کے درمیان ہوگی۔یہاں پر قطعی رزسٹینس قدر اہم نہیں ہے کیونکہ یہ اسی ریڈنگ سے مماثلت رکھتی ہے جو آپ پہلے درست عمدہ ڈائیوڈ ٹیسٹ میں لے چکے ہیں۔تمام سلیکان پرزہ جات ملتی جلتی ریڈنگ دیں گے اور تمام جرمینیئم پرزہ جات بھی ملتی جلتی لیکن سلیکان کی نسبت کم ریڈنگ دیں گے۔

اب تار B کو کلکٹر سے ملا دیں۔ آپ کو لگ بھگ وہی ریڈنگ ملے گی۔ بقیہ تمام چار ممکنہ ریڈنگ لیں۔ اب آپ کو لا محدودرزسٹینس (اوپن سرکٹ) ملے گی۔ اگر ان میں سے کوئی ایک ریڈنگ بھی غلط ہو ئی تو آپ کا ٹرانزسڑ خراب ہوگا اسے نئے ٹرانزسٹر سے تبدیل کر دیں۔تمام چھ میں سے صرف دو حالتوں میں کم رزسٹینس حاصل ہوگی لیکن یہ بھی 0 کے برابر یا اس کے قریب (شارٹ سرکٹ) ہرگز نہیں ہونی چاہیئے۔

جیسا کہ پہلے بھی ذکر کیا جا چکا ہے کچھ خاص نوعیت کے ٹرانزسٹرز میں ڈائیوڈ یا رزسٹر ان کے اندر ہی بنا دیئے جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں حاصل ہونے والی ریڈنگز مختلف اور پریشان کن ہو سکتی ہیں۔

ڈیجیٹل ملٹی میٹر سے جانچ

جیساکہ ڈائیوڈ جنکشن کے حوالے سے اوپر بتایا جا چکا ہے، اکثر ڈیجیٹل ملٹی میٹر ٹرانزسٹر کے جنکشن کی 6 ممکنہ مختلف ریڈنگز کو لامتناہی رزسٹینس کے طور پر ظاہر کریں گے کیونکہ ان کے موثر رزسٹینس ٹیسٹ وولٹیج ، ڈائیوڈ جنکشن ڈراپ کے مقابلے میں کم ہوتے ہیں۔ اگر غلطی سے اس پیمائش کے دوران آپ نے اپنی جلد کو پروبس سے چھو دیا تو آپ کو ذیل میں جو طریقہ پیش کیا جا رہا ہے اس میں ہم تارڈیجیٹل ملٹی میٹر کو ڈائیوڈ ٹیسٹ پر سیٹ کریں۔میٹر کی سرخ تار کو ٹرانزسٹر کی بیس سے اور سیاہ تار کو ایمیٹر سے جوڑیں۔عمدہ این پی این ٹرانزسٹر 0.45V سے 0.9V کے درمیان جنکشن ڈراپ وولٹیج ظاہر کرے گا۔عمدہ پی این پی ٹرانزسٹر اوپن سرکٹ جیسی کیفیت ظاہر کرے گا۔ سرخ تار کو بیس پر رکھتے ہوئے سیاہ تار کو ایمیٹر سے ہٹا کر کلکٹر پر لائیں۔ اس حالت میں بھی ریڈنگ گزشتہ ٹیسٹ کی طرح ہی حاصل ہوگی۔ میٹر کی تاروں کو الٹ دیں اور سارے عمل کو دہرائیں۔ اس مرتبہ سیاہ تار کو ٹرانزسٹر کی بیس سے اور سرخ تار کو ایمیٹر سے جوڑیں۔ عمدہ پی این پی ٹرانزسٹر 0.45V سے 0.9Vکے درمیان جنکشن ڈراپ وولٹیج ظاہر کرے گاجبکہ عمدہ این پی این ٹرانزسٹر اوپن سرکٹ جیسی کیفیت ظاہر کرے گا۔ سیاہ تار کو بیس پر رکھتے ہوئے سرخ تار کو ایمیٹر سے ہٹا کر کلکٹر پر لائیں۔ اس حالت میں بھی ریڈنگ گزشتہ ٹیسٹ کی طرح ہی حاصل ہوگی۔ اس کے بعد میٹر کی ایک تار کو کلکٹر پر اور دوسری کو ایمیٹر پر رکھیں۔ میٹر اوپن سرکٹ جیسی کیفیت ظاہر کرے گا۔ میٹر کی تاروں کو الٹ دیں۔ اب بھی اوپن سرکٹ جیسی کیفیت ظاہرہوگی۔

یہ ٹیسٹ این پی این اور پی این پی دونوں نوعیت کے ٹرانزسٹرز کے لئے ایک جیسا ہی ہوگا۔ جیسا کہ پہلے بھی ذکر کیا جا چکا ہے کچھ خاص نوعیت کے ٹرانزسٹرز میں ڈائیوڈ یا رزسٹر ان کے اندر ہی بنا دیئے جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں حاصل ہونے والی ریڈنگز گمراہ کن ہو سکتی ہیں۔

پاور ٹرانزسٹر کی جانچ

ایسے پاور ٹرانزسٹر جن میں ڈیمپر ڈائیوڈ موجود نہیں ہوتا عام سگنل ٹرانزسٹرز کی طرح جانچے جاتے ہیں۔ یعنی ان میں بھی وہی دہرے ڈائیوڈ کی طرح جانچ کا عمل کیا جاتا ہے اور ایک طرف وہ بیس ایمیٹر اور بیس کلکٹر میں ہائی رزسٹینس ظاہر کرتے ہیں۔ اگر ان میں ڈیمپر ڈائیوڈ لگا ہوا ہو تو وہ کلکٹر ایمیٹر کے درمیان لگا ہوتا ہے اور عمومی حالت میں بیک بائسڈ ہوتا ہے۔ چنانچہ کلکٹر ایمیٹر کے درمیان ایک طرف لو رزسٹینس ریڈنگ ملے گی جبکہ بیس کلکٹر پر الٹی سمت (ریورس ڈائریکشن) میں ڈبل ڈائیوڈ ڈراپ ملے گا۔اسی طرح جن پاور ٹرانزسٹرز میں ڈیمپر کے طور پر کم قدر کا (تقریباً 50 اوہم) رزسٹر، بیس ایمیٹر کے درمیان لگایا جاتا ہے۔ اس نوعیت کے پاور ٹرانزسٹرز میں ڈیجیٹل ملٹی میٹر کی ڈائیوڈ ٹیسٹ رینج میں صفر وولٹ کے قریب جنکشن ڈراپ ظاہر ہوگا تاہم یہ ریڈنگ خراب ٹرانزسٹر کی نشاندہی نہیں۔ مزید یقین کرنے کے لئے رزسٹینس رینج پر جانچ کریں۔

ڈارلنگٹن ٹرانزسٹر کی جانچ

ڈارلنگٹن ٹرانزسٹرز خاص نوعیت کی بناوٹ پر مشتمل ٹرانزسٹرز ہوتے ہیں جن میں عام طور پر دو ٹرانزسٹر ایک ہی چپ پر یا کم از کم ایک ہی پیکیج میں جوڑے جاتے ہیں۔ بعض صورتوں میں دو سے زائد ٹرانزسٹرز بھی ایک ہی پیکیج میں بنائے جاتے ہیں۔

بہت سی صورتوں میں ڈارلنگٹن ٹرانزسٹر، سنگل ٹرانزسٹر کی طرح رد عمل ظاہر کرتے ہیں جبکہ :

  • ان میں لگے انفرادی ٹرانزسٹرزکا، جن پر یہ مشتمل ہوتا ہے، کرنٹ گین(Hfe) ایک دوسرے کے حاصل ضرب کے برابر ہوتا ہے۔ اور
  • ان میں لگے انفرادی ٹرانزسٹرزکا، جن پر یہ مشتمل ہوتا ہے،بیس ایمیٹر وولٹیج ڈراپ، ایک دوسرے میں جمع ہوتا ہے۔

ڈارلنگٹن ٹرانزسٹر ایسی ضروریات کے لئے استعمال ہوتے ہیں جہاں ڈرائیو محدود ہو اور گین کافی زیادہ، مثالی طور پر 1,000 تک درکار ہو۔ ایسی اطلاقات میں فریکوئنسی ریسپانس بہت عمدہ نہیں ہوتا۔

ڈارلنگٹن ٹرانزسٹر کو VOM یا DMM پر چیک کرنے کا طریقہ بنیادی طور پر وہی ہے جو ایک عام بائی پولر ٹرانزسٹر کے ضمن میں بیان کیا جا چکا ہے۔ فرق یہ ہے کہ بیس ایمیٹر جنکشن پر فارورڈ ریڈنگ عام ٹرانزسٹر کی نسبت زیادہ ہوگی لیکن یہ اوپن ظاہر نہیں کرے گا۔ DMM کی ڈائیوڈ رینج پر 1.2 سے 1.4V ریڈنگ ملے گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جنکشن کا ایک جوڑا سلسلے وار جڑا ہوا ہے۔ واضح رہے کہ کچھ DMM کے لئے 1.2V حد کافی زیادہ ہوتی ہے چنانچہ ایسے DMM عمدہ ڈارلنگٹن کو اوپن ظاہر کریں گے۔ یہ یقین کر لیں کہ آپ کے DMM پر اوپن سرکٹ ریڈنگ 1.4V سے زیادہ ہے یا پھر معلوم عمدہ ڈارلنگٹن کی ریڈنگ لے کر اس سے زیر جانچ ڈارلنگٹن کی ریڈنگ کا موازنہ کر لیں۔

ڈیجیٹل ٹرانزسٹرز کی جانچ

کبھی کبھار آپ کا واسطہ ایسے ٹرانزسٹرز سے بھی پڑے گا جن کے اندر بیس ایمیٹر کے درمیان بائس رزسٹر نیٹ ورک لگا ہوا ہوتا ہے تاکہ ایسے ٹرانزسٹرز کو براہ راست ڈیجیٹل (مثلاً ٹی ٹی ایل ) سورس سے چلایا جا سکے۔یہ ایسے آلات میں استعمال کے لئے بنائے جاتے ہیں جہاں جگہ کم ہو یا پھر اس لئے بنائے جاتے ہیں کہ عام مارکیٹ میں ان کا متبادل آسانی سے دستیاب نہ ہوسکے۔

ایسے ٹرانزسٹرز میں رزسٹر R1 کا اضافہ جانچ کا عمل مشکل بنا دیتا ہے اور سوائے شارٹ سرکٹ کے کوئی دوسرا ٹیسٹ آسانی سے سرانجام نہیں دیا جا سکتا۔VOM کی مدد سے جانچتے ہوئے آپ بیس ایمیٹر اور بیس کلکٹر جنکشن میں ، فارورڈ اور ریورس سمت میں ریڈنگ کا فرق پائیں گے۔ تاہم DMM کے ذریعے ممکنہ طور پر تمام حالتوں میں اوپن سرکٹ ظاہر ہوگا۔

یونی جنکشن / پروگرام ایبل یونی جنکشن ٹرانزسٹرز

یونی جنکشن ٹرانزسٹرز (UJTs) اور پروگرام ایبل یونی جنکشن ٹرانزسٹرز (PUTs)ملتی جلتی اطلاقات کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں۔ یہ دونوں اقسام منفی رزسٹینس خصوصیات ظاہر کرتی ہیں اور ان کو لو یا میڈیم فریکوئنسی فری رننگ ریلیکسیشن آسیلیٹرز اور دیگر ٹرگر نوعیت کے سرکٹس میں استعمال کیا جاتا ہے۔

یونی جنکشن ٹرانزسٹر کے ٹرگر وولٹیج مندرجہ ذیل فارمولے سے حاصل ہوتے ہیں

Vt = n * Vbb + 0.6 
اس فارمولے میں مختلف مقداریں اس طرح ہیں

  • : انٹر ان سک سٹینڈ آف وولٹیج ( Intrinsic Standoff Voltage)جو مثالی طور پر 0.6V ہوتے ہیں۔
  • Vt : کرٹیکل ٹرگر وولٹیج (Critical Trigger Voltage)

اگر ایمیٹر E ،کرٹیکل ٹرگر وولٹیج کی نسبت زیادہ مثبت ہو جائے تو یونی جنکشن ٹرانزسٹر ، ایمیٹر سے بیس 1 (B1) کے درمیان بہت زیادہ (Heavy) کنڈکشن میں چلا جاتا ہے۔ یہ اس وقت تک کنڈکشن حالت میں رہتا ہے جب تک ایمیٹر کرنٹ ایک خاص حد سے کم تک ڈراپ نہ ہو جائے۔ یہ خاص حد ویلی کرنٹ (Valley Current) کہلاتی ہے۔یونی جنکشن ٹرانزسٹر کا یہ عمل کسی حد تک تھائرسٹر کے عمل سے مشابہت رکھتا ہے۔واضح رہے کہ کرٹیکل ٹرگر وولٹیج مندرجہ ذیل مساوات سے حاصل ہوتے ہیں:

Vt = n * Vbb + 0.6V.

اس مساوات میں n یونی جنکشن ٹرانزسٹر کے حقیقی سٹینڈ آف وولٹیج ہیں جو مثالی طور پر 0.6V کے برابر ہوتے ہیں۔

پروگرام ایبل یونی جنکشن ٹرانزسٹرز (PUTs) کا عمل تھائرسٹر کے عمل سے اور زیادہ نزدیکی اور مشابہت کا حامل ہے۔پروگرام ایبل یونی جنکشن ٹرانزسٹرز میں ٹرگرنگ کا عمل اس وقت واقع ہوتا ہے جب اس کا G ٹرمینل اس کے A ٹرمینل کی نسبت زیادہ مثبت ہو جاتا ہے۔ (زیادہ امکانی طور پر ڈائیوڈ کے وولٹیج ڈراپ 0.6V کے اضافے سے یعنی یہ وولٹیج ڈراپ بھی اس میں شامل کر کے) ۔ اس طرح پروگرام ایبل یونی جنکشن ٹرانزسٹرز کے تھریشولڈ (Threshold)وولٹیج کو ایک وولٹیج ڈیوائیڈر کی مدد سے متعین کیا جا سکتا ہے جو پروگرام ایبل یونی جنکشن ٹرانزسٹرز کے اینوڈکو وولٹیج فراہم کر رہا ہو۔ اس طرح G سے K ٹرمینلز کے درمیان کرنٹ کا بہائو جاری ہو جاتا ہے۔ واضح رہے کہ اگرچہ پروگرام ایبل یونی جنکشن ٹرانزسٹرز کے ٹرمینلزکو تھائرسٹر (سلیکان کنٹرولڈ ریکٹی فائر) کی طرح کا نام دیا گیا ہے تاہم اس کا رد عمل قدرے مختلف ہوتا ہے۔

ابتدائی جانچ کے لئے یونی جنکشن ٹرانزسٹرز کے B1 اور B2 یا پروگرام ایبل یونی جنکشن ٹرانزسٹرز کے A اور K ٹرمینلز کے مابین اوہم میٹر کی مدد سے رزسٹینس ناپیں۔ دونوں سمتوں میں رزسٹینس ایک جیسی ہونی چاہئے جو مثالی طور پر چند کلو اوہم کے برابر ہو گی۔شارٹ سرکٹ کی کیفیت یا دونوں سمتوں میں رزسٹینس میں واضح فرق خراب پرزے کی نشاندہی کرے گا۔

اگر مذکورہ بالا ابتدائی جانچ میں اول الذکر (دونوں سمتوں میں تقریباً برابر رزسٹینس) نتیجہ حاصل ہوتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ پرزہ یقینی طور پر درست ہے۔ اس جانچ سے صرف یہ یقین دہانی ہو جائے گی کہ پرزہ مکمل خراب یا جلا ہوا نہیں ہے۔زیادہ جامع اور بہتر جانچ کے لئے ہمیں ایک سرکٹ کی ضرورت پڑے گی۔ اس سرکٹ کی آئوٹ پٹ سے آسیلو اسکوپ یا آڈیو ایمپلی فائر جوڑنا پڑے گا.

سیمی کنڈکٹرز کی جانچ پڑتال اور تبدیلی

کسی بھی خراب الیکٹرونک آلے کی مرمت کرنے کے لئے بنیادی اصول ایک جیسے ہی ہوتے ہیں۔ تمام الیکٹرونک آلات، سرکٹس اور پروجیکٹس میں استعمال ہونے والے پرزہ جات وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اپنی مکمل استعداد کھو دیتے ہیں۔ بعض پرزہ جات کی قدریں تبدیل ہو جاتی ہیں، بعض مکمل طور پر کام چھوڑ دیتے ہیں اور بعض پرزہ جات مکمل کارکردگی سے کام نہیں کر پاتے۔ وولٹیج، کرنٹ، درجہ حرارت، نمی اور کچھ دیگر موسمی و ماحولیاتی تبدیلیاں الیکٹرونک پرزہ جات کو خراب کرنے کا باعث بنتی ہیں۔ خراب پرزہ جات کی تلاش اور نشاندہی کے بعد ان کو نئے سے تبدیل کر کے آلات کی خرابی کو دور کیا جا سکتا ہے۔

جانچ پڑتال اور ٹیسٹنگ بہت زیادہ مشکل کام نہیں۔ ثابت قدمی، سکون اور آہستہ روی ایسے اصول ہیں جن کی مدد سے آپ کسی بھی خراب آلے، سرکٹ یا پروجیکٹ کی مرمت آسانی سے کر سکتے ہیں۔ جوں جوں مرمت کے کام میں آپ کا تجربہ بڑھتا ہے، کام کرنا آسان ہوتا چلا جاتا ہے۔ تجربے میں اضافہ ہو جائے تو آپ کو بہت جلدی اندازہ ہو جاتا ہے کہ نقص کا سبب کیا ہے اور کون سا پرزہ اس کا باعث ہے۔

یہاں پر چند بنیادی اصول اور طریقے بیان کئے جائیں گے جس کی مدد سے آپ الیکٹرونک آلات، اپنے تیارکردہ سرکٹس اور پروجیکٹس کی جانچ پڑتال کر کے ان میں پیدا ہونے والی خرابیاں آسانی سے دور کر سکیں گے۔

سیمی کنڈکٹرز میں ٹرانزسٹرز‘ ڈائیوڈز اور آئی سیز شامل ہیں۔ ہم یہ جائزہ لیں گے کہ یہ اجزا کیا کام کرتے ہیں ‘ ان کو کیسے جانچا جائے اور یہ کہ اگر ان میں سے کوئی جزو خراب ہو جائے تو اسے کیسے تبدیل کیا جائے۔ سب سے پہلے ہم ٹرانزسٹرز کو دیکھتے ہیں۔

ٹرانزسٹرز:

ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ٹرانزسٹر کیا کام کرتا ہے۔ ٹرانزسٹر ایمپ لی فیکیشن‘ سوئچنگ اور دوسرے کام کر سکتا ہے۔ یہ ایک بہت چھوٹا سا پرزہ ہے لیکن اس کا کام بہت بڑا ہے۔ اگر آپ والو سے آگاہ ہیں تو آپ نے اس کا سائز اور حجم دیکھا ہوگا۔ سائز کے علاوہ والو کو کام کرنے کے لئے خاص درجہء حرارت تک گرم کرنے اور خاصے وولٹیج فراہم کرنے کی ضرورت پڑتی تھی۔ اتنے بڑے والو کا کام یہ ننھا سا ٹرانزسٹر بخوبی سرانجام دے سکتا ہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ اسے کام کرنے کے لئے نہ تو گرم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ ہے بہت زیادہ وولٹیج/کرنٹ کی۔

ٹرانزسٹر سیمی کنڈکٹر دھات مثلاً جرمینئم اور سلیکان سے بنائے جاتے ہیں۔ موجودہ دور میں سلیکان ہی کو استعمال کیا جاتا ہے ۔ جرمینئم کا استعمال اب نہ ہونے کے برابر ہے۔ سلیکان کی بہت باریک اور چھوٹی سی پتری پر دو تاریں اطراف کے رخ جوڑ دی جاتی ہیں اور ایک تار بذات ِخود سلیکان کی پتری کے دوسری طرف جوڑی جاتی ہے۔ اس طرح ٹرانزسٹر کی تین تاریں یعنی تین کنکشن ہوتے ہیں۔
ٹرانزسٹر بہت کم وولٹیج اور کرنٹ پر کام کرتے ہیں۔ آپ ٹرانزسٹر کو ایک بیٹری سیل (یعنی 1.5V) سے بھی چلا سکتے ہیں۔
ٹرانزسٹر کیسے کام کرتا ہے اور اس میں کرنٹ کا بہاؤ کس نوعیت کا ہوتا ہے‘ یہ ہمارے اس موضوع سے باہر ہے اس کے لیے آپ بنیادی الیکٹرونکس کے تدریسی اسباق دیکھیں۔ یہاں پر آپ کو یہ بتایا جائے گا کہ خراب ٹرانزسٹر کون سا ہے اور اسے نئے ٹرانزسٹر سے کیسے تبدیل کرنا ہے۔

جنکشن ٹرانزسڑ:

مرمت کے کام کے دوران آپ کا زیادہ واسطہ جس ٹرانزسٹر سے پڑے گااسے جنکشن ٹرانزسٹر کہتے ہیں۔ جدید الیکٹرونک آلات میں فیلڈ ایفیکٹ ٹرانزسٹر بھی استعمال کیئے جاتے ہیں۔ ان کے بارے میں ہم بعد میں ذکر کریں گے۔
جنکشن ٹرانزسٹر کی تین تاریں ہوتی ہیں۔ ان تاروں کو بیس(Base)‘ ایمی ٹر(Emitter) اور کلکٹر(Collector) کہتے ہیں۔سرکٹ ڈایا گرام میں ٹرانزسٹر کی تاریں پہچاننے کے لئے تین حروف استعمال کئے جاتے ہیں۔ ان میں بیس کے لئے (B)‘ ایمی ٹر کے لئے(E) اور کلکٹر کے لئے (C) کے حروف استعمال کئے جاتے ہیں۔ بعض اوقات انگریزی کے چھوٹے حروف یعنی c, e, b بھی استعمال کئے جاتے ہیں۔

ٹرانزسٹر کے نشانات:

ٹرانزسٹر کو سرکٹ ڈایا گرام میں اس کے مخصوص نشانات سے پہچانا جاتا ہے۔ شکل میں ٹرانزسٹر کے نشانات دکھائے گئے ہیں۔ نشانات کے ساتھ ہی ان کی مختصر وضاحت موجود ہے۔ جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں بیس کا نشان اسے جوڑنے والی تار کے ساتھ ہمیشہ زاویہ قائمہ پر ہوتا ہے۔ ایمی ٹر کی تار بیس سے جڑی ہوتی ہے لیکن ترچھی ہوتی ہے اور اس کے سرے پر تیر جیسا نشان ہوتا ہے۔ اسی طرح کلکٹر کی تار بھی ترچھی لیکن ایمی ٹر کی نسبت مخالف زاویہ پر ہوتی ہے۔

پی این پی اور این پی این :

جنکشن ٹرانزسٹر کی دو اقسام ہیں۔ ایک کو این پی این اور دوسری کو پی این پی کہا جاتا ہے۔ ٹرانزسٹر کے نشان میں ایمی ٹر کی تار پر بنا ہوا تیر کا نشان اگر بیس کی طرف اشارہ کر رہا ہو تو یہ پی این پی نوعیت کے ٹرانزسٹر کو ظاہر کرے گا لیکن اگر تیر کا رخ بیس کی مخالف سمت میں (یعنی باہر کی طرف) ہو تو یہ این پی این ٹرانزسٹر کو ظاہر کرتا ہے۔
این پی این ٹرانزسٹر کے ایمی ٹر کو ظاہر کرنے والا تیر کا نشان بیس کی مخالف سمت میں ہوتا ہے۔ اس ٹرانزسٹر کے ایمی ٹر کو منفی سپلائی اور کلکٹر کو مثبت سپلائی دی جاتی ہے۔ پی این پی ٹرانزسٹر کے ایمی ٹر کو مثبت سپلائی اور کلکٹر کو منفی سپلائی دی جاتی ہے۔جب آپ ٹرانزسٹر ٹیسٹر استعمال کریں گے تو اس وقت آپ کو یہ جاننے کی ضرورت ہوگی کہ ٹرانزسٹر این پی این نوعیت کا ہے یا کہ پی این پی نوعیت کا۔
ٹرانزسٹر کی تاروں میں سے کون سی بیس ہے‘ کون سی ایمی ٹرا ور کون سی کلکٹر‘ اس کی پہچان کے لئے ٹرانزسڑ سے باہر آنے والی تاروں کی مخصوص ترتیب رکھی جاتی ہے۔ اس مقصد کے لئے ٹرانزسٹر کا جسم (باڈی) اور تاروں کی ترتیب ‘دونوں کی مدد لی جاتی ہے۔ شکل میں مختلف ٹرانزسٹرز کے پیکج اور ان کی تاروں کی پہچان کے خاکے بھی دیئے گئے ہیں۔
تاروں کی پہچان کرنا لازمی ہوتا ہے کیوں کہ بعض اوقات ایک نمبر کا ٹرانزسٹر دستیاب نہیں ہوتا اور اس کا متبادل (یعنی قریبی خصوصیات رکھنے والا دوسرے نمبر کا ) استعمال کرنا پڑتا ہے۔ اگر تاروں کی پہچان نہ ہو تو ٹرانزسٹر غلط جڑ جائے گا۔ اس طرح نہ صرف ٹرانزسٹر خراب ہو جائے گا بلکہ سرکٹ بھی کام نہیں کرے گا۔

ٹرانزسٹر ڈیٹا :

ٹرانزسٹر بے شمار نمبروں میں دستیاب ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یورپی ‘ امریکی اور جاپانی ٹرانزسٹر بھی دستیاب ہیں۔ ان کے متبادل بھی مل جاتے ہیں چنانچہ بہتر ہو گا کہ آپ ایک اچھی قسم کا ٹرانزسٹر ڈیٹا خرید لیں۔ اس میں ٹرانزسٹر کی تاروں کی پہچان کے خاکے اور ان کی خصوصیات درج ہوتی ہیں۔

پاور ٹرانزسٹر:

چھوٹے ٹرانزسٹر ایسے الیکٹرونک آلات میں استعمال کیے جاتے ہیں جن میں کم کرنٹ اور کم وولٹیج کی ضروریات موجود ہوں۔ کئی الیکٹرونک آلات ایسے ہوتے ہیں جہاں خاصی مقدار میں کرنٹ کام کرتی ہے۔ ایسے حصوں میں عام چھوٹے ٹرانزسٹر کام نہیں دیتے۔ بڑی کرنٹ پر کام کرنے والے ٹرانزسٹر بڑے اور دھاتی جسم والے ہوتے ہیں۔ ان کو پاور ٹرانزسٹر کہتے ہیں۔ پاور ٹرانزسٹر کا دھاتی جسم‘ کلکٹر تار کے طور پر کام کرتا ہے اسی وجہ سے عام طور پر اس ٹرانزسٹر کی صرف دو تاریں ہوتی ہیں۔ لیکن ایسے پاور ٹرانزسٹر بھی کثیر تعداد میں ہیں جو پلاسٹک باڈی میں ہوتے ہیں اور ان کی تین تاریں ہوتی ہیں۔
پاور ٹرانزسٹر غیر دھاتی جسم والے یعنی پلاسٹک باڈی کے بھی ہوتے ہیں لیکن یہ عام ٹرانزسٹرز سے بڑے ہوتے ہیں۔ ان کی پشت پر ایک موٹی دھاتی پتری لگی ہوتی ہے جس میں ایک سوراخ ہوتا ہے۔ پاور ٹرانزسٹر کسی بھی شکل کا ہو‘ اس میں سے کافی حرارت خارج ہوتی ہے۔ اسی حرارت کو موءثر انداز میں منتشر کرنے کے لئے اور ٹرانزسٹر کو اس حرارت سے محفوظ رکھنے کے لئے دھاتی جسم یا دھاتی پتری استعمال کی جاتی ہے۔ ٹرانزسٹر کو جب سرکٹ بورڈ پر جوڑا جاتا ہے توا س کے دھاتی حصے کو سکریو/ بولٹ کی مدد سے دھاتی چیسس یا ہیٹ سنک سے جوڑ دیا جاتا ہے تاکہ ٹرانزسٹر سے اضافی حرارت اس چیسس یا ہیٹ سنک میں منتقل ہو جائے اور ٹرانزسٹر محفوظ رہے۔

ٹرانزسٹر کی مختلف شکلیں۔

ٹرانزسٹر کی جانچ:

ٹرانزسٹر کو جانچنے کے لئے ٹرانزسٹر ٹیسٹر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ کئی اقسام کے ٹرانزسٹر ٹیسٹر دستیاب ہیں ۔ ٹرانزسٹر ٹیسٹر کے ساتھ ہی اسے استعمال کرنے اور ٹرانزسٹر کو جانچنے کی مکمل درجہ بہ درجہ ہدایات پر مشتمل کتابچہ دستیاب ہوتا ہے۔ اس کی مدد سے آپ ٹرانزسٹر کی جانچ کر سکتے ہیں۔
ٹرانزسٹر ٹیسٹر آپ کو بتاتا ہے کہ ٹرانزسٹر کا کرنٹ گین (جسے عام طور پر بیٹا (Beta) بھی کہا جاتا ہے) کتنا ہے ۔ یہ لیکیج کی مقدار بھی بتاتا ہے۔
اگر آپ ٹرانزسٹر ٹیسٹر نہ خریدنا چاہیں تو متبادل طور پر آپ اوہم میٹر کی مدد سے بھی ٹرانزسٹر کی جانچ کر کے یہ تعین کر سکتے ہیں کہ ٹرانزسٹر درست ہے یا خراب۔ جس ٹرانزسٹر کو جانچنا ہو اسے بورڈ سے اتار لیں۔
پاور ٹرانزسٹر کو جانچنے کے لئے اوہم میٹر کو x1 پر متعین کریں اور شکل کے مطابق ریڈنگ لیں۔ اس کی تفصیل اس طرح ہے۔ میٹر کی دونوں تاروں کو ایک مرتبہ ٹرانزسٹر کی بیس اور ایمی تاروں سے جوڑ کر ریڈنگ لیں اور دوسری مرتبہ تاریں تبدیل کر کے یہی ریڈنگ لیں۔ ایک مرتبہ یہ ریڈنگ بے انتہا مزاحمت(رزسٹینس) کو ظاہر کرے گی (یعنی میٹر کی سوئی زیادہ مزاحمت والے کنارے کی طرف جائے گی) اور دوسری مرتبہ انتہائی کم مزاحمت کو۔ کم مزاحمت 2 اوہم یا اس سے قریب ہوگی بشرطیکہ پاور ٹرانزسٹر درست ہے۔

این پی این ٹرانزسٹر کی جانچ

اوہم میٹر کو X100 رینج پر رکھیں۔ بیس پر اوہم میٹر کی منفی تار لگائیں اور کلکٹر ایمی ٹر پر باری باری مثبت تار لگا کر ریڈنگ لیں۔ ذیل میں دی گئی جدول کی مدد سے ٹرانزسٹر کی خرابی کی نوعیت کا اندازہ کریں۔ یہ فارورڈ جنکشن ٹیسٹ کہلاتا ہے۔

میٹر کی تاریں کہاں ہیں اوہم میٹر کی ریڈنگ نتیجہ
بیس اور کلکٹر کے درمیان
بیس اورایمی ٹر کے درمیان
کم رزسٹینس ٹرانزسٹر درست ہے۔
بیس اور کلکٹر کے درمیان
بیس اورایمی ٹر کے درمیان
صفر رزسٹینس ٹرانزسٹر خراب (شارٹ) ہے۔
بیس ا