الیکٹرونک پروجیکٹس

ATMEL مائیکرو کنٹرولر پروگرامنگ بذریعہ پی سی





تعارف

اس مضمون میں ہم کمپیوٹر (PC) سے ATMEL مائیکروکنٹرولر کو پروگرام کرنے کے لیے ایک آسان پروگرامر کا سرکٹ ڈایا گرام پیش کر رہے ہیں۔ اس پروگرامر کی مدد سے آپ مندرجہ ذیل مائیکروکنٹرولرز پروگرام کر سکتے ہیں۔ یہ سب 8 بٹ کے مائیکروکنٹرولر ہیں اوران میں فلیش میموری موجود ہے۔

     
1) AT89C51 2) AT89C52 3) AT89LV51
4) AT89LV52 5) AT89C1051 6) AT89C2051

نوٹ : یہ تمام فلیش کی بنیاد والے مائیکروکنٹرولرز ہیں۔

زیر نظر پروگرامر فلیش میموری کے حامل تمام مائیکروکنٹرولر فنکشن کی سہولت مہیا کرتا ہے جس میں کوڈریڈ, کوڈرائٹ, چپ ایریز, سگنیچر ریڈ اور لاک بٹ رائٹ فلیش شامل ہیں۔ اگر آپ اس مائیکروکنٹرولر پروگرامر کو AT89C51/C52/LV51/LV52 کنٹرولرز کے لیے استعمال کر رہے ہیں توکوڈ رائٹ, چپ ایریز اورلاک بٹ رائٹ فنکشن 5V0 12V 5V0 یا 12V پر سرانجام دیئے جا سکتے ہیں۔ اس طرح سرکٹ کی ضروریات کے مطابق سپلائی وولٹیج متعین کئے جاسکتے ہیں۔

ایسے مائیکروکنٹرولرز جن کے نمبر کے آخر میں "5" موجود ہے صرف 5V0 پر کام کرنے کے لیے استعمال کئے جاسکتے ہیں۔ جن پر یہ نمبر موجود نہیں ہوتا وہ مائیکروکنٹرولر معیاری 12V پر کام کرنے کے لیے استعمال کئے جاتے ہیں۔

زیر نظر پروگرامر آئی بی ایم پی سی سے منسلک کیا جا سکتا ہے۔ پروگرام کو کمپیوٹر کی پیرلل پورٹ سے منسلک کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ پروگرامر سرکٹ کے لیے درکار پاور, بیرونی پاور سپلائی سے مہیا کی جا سکتی ہے۔

سافٹ وئر

زیر نظر پروگرامر کو سافٹ وئر کنٹرول کرتا ہے۔ یہ سافٹ وئر ہوسٹ کمپیوٹر پر چلتا ہے۔ مائیکروکنٹرولر AT89C51/C52 اور C1051/C2051 کے لیے کنٹرول پروگرام مائیکرو سافٹ C لینگوئج میں لکھا گیا ہے۔ مائیکروکنٹرولر AT89LV51 اور AT89LV52 کے لیے الگ سے کوئی کنٹرول پروگرام موجود نہیں ہے۔ یہ AT89C51/C52 ہی کے پروگرام سے کنٹرول ہوتے ہیں۔ اس مضمون میں جہاں مائیکروکنٹرولر AT89C51/C52 کا حوالہ دیا گیا ہے اسے AT89LV51/LV52 کے لیے بھی سمجھا جائے۔

تمام پروگرامر کنٹرول سافٹ وئرز ڈاس DOS سے چلیں گے۔ پروگرام کانام لکھ کر آخر میں''LPT1'' یا ''LPT2'' (جو پیرلل پورٹ بھی اس مقصد کے لیے استعمال کی جا رہی ہو) لکھیں۔ اگر آپ پیرلل پورٹ واضح نہیں کریں گے تو پروگرام ایرر میسیج دے گا۔ کنٹرول پروگرام مینو سے چلنے والے ہیں اور ان میں مندرجہ فنکشن دستیاب ہیں۔

Chip Erase

مائیکروکنٹرولر کی کوڈ میموری کو صاف کرنے کے لیے۔ اس عمل کے اختتام پر کامیاب عمل یا ناکام عمل کی تصدیق خودکار طور پر نہیں ہوتی۔

Program From File

یہ مخصوص کردہ فائل میں سے پروگرام (بائنری کوڈ) کو پڑھ کرمائیکروکنٹرولر کی میموری میں لکھنے کے لیے ہے۔ پروگرام چلانے کے بعد اس فنکشن کو منتخب کرنے پر پروگرام آپ سے فائل کا نام پوچھے گا۔ فائل کے نام میں آپ پاتھ اور فائل ایکس ٹینشن بھی دے سکتے ہیں۔
فائل صرف وہی قابل قبول ہوگی جس میں بائنری ڈیٹا موجود ہوگا۔ہیکس ڈیٹا فائل قابل قبول نہیں ہوگی۔ اس فائل میں موجود پہلی بائٹ کنٹرولر کی میموری کی پہلی لو کیشن پر پروگرام کی جائے گی۔ ہر اگلی بائٹ میموری کی اگلی لوکیشن پر ترتیب وار انداز میں پروگرام ہوگی۔ یہ عمل اس وقت تک جاری رہے گا جب تک میموری کی آخری لوکیشن نہ آجائے یا پھر فائل میں سے ڈیٹا ختم نہ ہو جائے۔
مائیکروکنٹرولر کی میموری میں کوئی ڈیٹا موجود ہے یا نہیں, پروگرامنگ عمل اس سے قطع نظر جاری رہے گا۔ بلینک چیک خودکار طور پر سرانجام نہیں پاتا اور نہ ہی پروگرامنگ کے بعد میموری کے ڈیٹا کا فائل کے ڈیٹا سے خودکار موازنہ سرانجام پاتا ہے۔
کنٹرول پروگرام میں پروگرامنگ کا بصری اظہار کرنے کا انتظام موجود نہیں ہے۔ البتہ پروگرامنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد کنٹرول مینو دوبارہ نمودار ہو جائے گا۔

Verify Against File

مینو کا یہ فنکشن کوڈ میموری کو فائل کے مندرجات کے مطابق جانچتا ہے اور اس طرح دونوں کا موازنہ کرتا ہے۔ یہ مینو بھی فائل کا نام مانگتا ہے جس میں آپ پاتھ اور فائل ایکس ٹینشن بھی دے سکتے ہیں۔ پروگرامر کو بائنری فائل درکار ہو گی۔ یہاں پر ہیکس ڈیٹا کی حامل فائل کام نہیں کرے گی۔فائل کی پہلی بائٹ کا موازنہ میموری لو کیشن کی پہلی بائٹ سے کیا جائے گا اور اسی ترتیب میں ہر اگلی بائٹ کا موازنہ کیا جائے گا۔ یہ عمل اس وقت تک جاری رہے گاجب تک میموری ختم نہ ہو جائے یا پروگرام کی آخری بائٹ نہ آ جائے۔ اگر کسی لوکیشن کا ڈیٹا فائل کے ڈیٹا سے مطابقت کا حامل نہ ہوا تو اس لوکیشن کا ایڈریس اور بائٹ کے مندرجات اسکرین پر ظاہر ہو جائیں گے۔ اگر دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے تو کچھ بھی نمودار نہیں ہوگا۔

Save to File

مینو کا یہ فنکشن مائیکروکنٹرولر کی میموری میں موجود ڈیٹا کو ایک فائل میں محفوظ کر نے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ پروگرام اس فائل کا نام پوچھے گا جس میں میموری کا ڈیٹا محفوظ کرنا ہے۔ اس میں بائٹس کی تعداد میموری لوکیشن کی تعداد کے مطابق ہوگی۔

Blank Check

یہ فنکشن چیک کرتا ہے کہ مائیکروکنٹرولر کی میموری کی تمام لوکیشن کے مندرجات '1' ہیں یا نہیں۔ چیکنگ کے بعداگر مائیکرو کنٹرولر کی میموری کی ہر لوکیشن میں '1' موجود ہے تو پاس Pass بصورت دیگر فیل Fail کی نشاندہی ہوتی ہے۔ پاس آنے کی صورت میں مائیکرو کنٹرولر بلینک تصور کیا جائے گا جس میں نئی بائنری فائل محفوظ کی جا سکتی ہے۔

Read Signature

سگنیچر بائٹ کے مندرجات پڑھنے اور ڈسپلے (نمودار) کرنے کے لیے یہ فنکشن استعمال کیا جاسکتا ہے۔ سگنیچر بائٹ کی تعداد اور ان کے متوقع مندرجات کا انحصار مائیکروکنٹرولر کی نوعیت پر ہے۔ مزید معلومات کے لیے متعلقہ مائیکروکنٹرولر کی ڈیٹا شیٹ دیکھی جا سکتی ہے۔

Write Lock Bit 1
Write Lock Bit 2
Write Lock Bit 3

یہ فنکشن متعلقہ لاک بٹ کو سیٹ (یعنی لاک) کرتا ہے۔واضح رہے کہ AT89C1051/C2051 میں صرف دو لاک بٹس ہیں جبکہ AT89C51/LV51 اور AT89C52/LV52 میں تین لاک بٹس ہیں۔

Exit

کنٹرولر پروگرامر پروگرام کو بند کرنے کے لیے۔

اس پروگرامر کے لیے سافٹ وئر ATMEL بلیٹن بورڈ سروس BBS سے دستیاب ہے۔ ان کا ایڈریس یہ ہے۔ 408-436-4309

سسٹم پر انحصاریت

مائیکروکنٹرولر AT89C51 اور AT89C52 کے لیے تیار کردہ کنٹرول پروگرام دو اقسام کا ہے۔ سسٹم پر انحصار کرنے والا اور سسٹم سے آزاد۔ سسٹم پر انحصار کرنے سے مراد یہ ہے کہ اس پروگرام کو جس پرسنل کمپیوٹر سسٹم پر چلایا جائے گا یہ اس سسٹم پر انحصار کرتے ہوئے کام کرے گا۔ سسٹم سے آزاد کا مطلب یہ ہے کہ یہ پروگرام جس پرسنل کمپیوٹر سسٹم پر چلایا جائے گا یہ اس سسٹم پر انحصار نہیں کرے گا۔سسٹم پر انحصار کرنے والے پروگرام میں مطلوبہ تاخیری وقفہ جات(ڈیلے)، سافٹ وئر ٹائمنگ لوپ پر منحصر ہوں گے۔ ان کا وقفہ استعمال کردہ کمپیوٹر کی اسپیڈ پر منحصر ہوگا اور اگر کمپیوٹر تیزرفتار رہے تو وقفہ کم ہوگا۔ زیر نظر پروگرامر کے سافٹ وئر کو 80386 سسٹم پر 33MHz رفتار کے ساتھ جانچا گیا تھا۔ دوسرے سسٹم پر چلانے کے لیے سافٹ وئر میں تبدیلی کی ضرورت ہوگی۔ یہ طریقہ کار اپنی سادگی اور آسانی کی بنا پر منتخب کیا گیا تھا۔

سسٹم سے آزادانہ کام کرنے والے سافٹ وئر کے لیے پروگرام ایبل انٹرول ٹائمر درکار ہوگا جسے سسٹم کے ہارڈوئر میں جوڑنا پڑے گا۔ اس صورت میں ٹائم ڈیلے یعنی تاخیری وقفہ سسٹم کی رفتار سے متاثر نہیں ہوگا۔ کنٹرول پروگرام چلانے کے بعد ٹائمر کو اس طرح متعین کیا جائے گا کہ مطلوبہ تاخیری وقفے حاصل ہو سکیں۔ پروگرام بند کرنے سے پہلے ٹائمر کو اپنی اصل حالت پر واپس متعین کرنا ہوگا۔

اس امر کو یقینی بنانے کے لیے کہ ٹائمر کو اصل حالت میں واپس لانے سے پہلے پروگرام بند نہ ہو جائے۔ CTRL-Cاور CTRL-BREAK کیز کو غیر فعال بنایا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جب تک مینو سے Exit کمانڈ کے ذریعے پروگرام کو بند نہ کیا جائے یا سسٹم کی پاور آف کرکے اسے ری بوٹ نہ کیا جائے۔ پروگرام بند نہیں ہوگا۔

ٹائمر کنٹرول بورڈ، 8086 اسمبلی ماڈیول کے طور پر مہیا کیا گیا ہے جسے کمپائل کردہ کنٹرول پروگرام سے جوڑا (Link کیا) جا سکتا ہے۔ٹائمر کی شرح 0.838 مائیکروسیکنڈ ہے تاہم کم سے کم عملی تاخیری وقفہ سسٹم اور سافٹ وئر دونوں مل کر متعین کریں گے۔ ٹائمر کوڈ کے ذریعے یہ یقینی بنایا گیا ہے کہ پیدا ہونے والا تاخیری وقفہ مطلوبہ وقفے سے کم نہ ہو۔ مائیکروکنٹرولر AT89C1051/C2051 کے لیے مہیا کردہ کنٹرول پروگرام سسٹم سے آزادانہ کام کرتا ہے۔

پروگرامر

پروگرامر کے لیے سرکٹ ڈایا گرام شکل نمبر 1 اور شکل نمبر 2 میں دکھایا گیا ہے۔ یہ پروگرامر، کمپیوٹر انٹرفیس اور سوئچ ایبل پاور اسپلائی سرکٹ پر مشتمل ہے۔ سگنل سیکوئنس اور ٹائمنگ جو پروگرامنگ کے لیے درکار ہوتی ہے، سافٹ وئر کنٹرول کے تحت ہوسٹ کمپیوٹر پیدا کرتا ہے۔ مائیکروکنٹرولر AT89C51/C52 کی پروگرامنگ کے لیے 40 پن کی زیروانسرشن فورس ZIF ساکٹ مہیا کی گئی ہے۔ سرکٹ ڈایا گرام میں بائی پاس کپیسیٹر درکار ہوں گے۔ یہ TTL اجزاء کے لیے لگائے جائیں گے تاہم سرکٹ ڈایا گرام میں انہیں نہیں دکھایا گیا۔



شکل نمبر 1

سرکٹ ڈایا گرام کو بڑا دیکھنے کے لئے سرکٹ ڈایا گرام پر کلک کریں



شکل نمبر 2
سرکٹ ڈایا گرام کو بڑا دیکھنے کے لئے سرکٹ ڈایا گرام پر کلک کریں

پروگرامر کے سرکٹ اور مائیکروکنٹرولر کے لیے پاور سپلائی 5V کی متعین (فکسڈ) سپلائی ہے۔ دوسری سپلائی 5Vاور 12V (قابل انتخاب) فراہم کرتی ہے جو پروگرامنگ کے دوران استعمال کی جائے گی۔ ویری ایبل سپلائی کی آؤٹ پٹ پر ٹرانزسٹر کا اضافہ کرکے تیسرے درجے (تھرڈ لیول) کا گراؤنڈ مہیا کیا گیا ہے۔ یہ مائیکروکنٹرولر AT89C1051/C2051 کو پروگرام کرتے وقت استعمال ہوگا۔

ویری ایبل پاور اسپلائی سرکٹ میں استعمال کردہ رزسٹرز کی قدریں متعین کرنے کے لیے وولٹیج ریگولیٹر LM317 کی ڈیٹا شیٹ میں مہیا کی گئی مساواتیں استعمال کی گئی ہیں۔

پروگرامر کو کمپیوٹر کے ساتھ منسلک کرنے کے لیے 25 تاروں والی ربن کیبل استعمال کی گئی تھی۔ اس کیبل کی لمبائی ممکنہ حد تک کم رکھیں۔ یہ لمبائی تین فٹ سے زیادہ ہرگز نہ رکھیں۔

پیرلل انٹرفیس

اصل پیرلل انٹرفیس جو IBM کی طرف سے مہیا کیا گیا ہے، ڈیٹا کی دو طرفہ منتقلی کے لیے موزوں قرار نہیں دیا گیا تاہم اس انٹرفیس کو جس انداز میں ڈیزائن کیا گیا ہے اس کے باعث ڈیٹا کی دو طرفہ (بائی ڈائریکشنل) منتقلی ممکن ہے۔ اس کے لیے شرط یہ ہے کہ کمپیوٹر میں معیاری پیرلل انٹرفیس موجود ہو۔ واضح رہے کہ معیاری پیرلل انٹرفیس بائی ڈائریکشنل ہوتا ہے۔

اگر زیر نظر پروگرامر مائیکروکنٹرولر کی میموری میں ڈیٹا منتقل کردے لیکن اسے پڑھنے یا ویری فائی کرنے میں کامیاب نہ ہوسکے تو کمپیوٹر کا پیرلل انٹرفیس غیر معیاری نوعیت کا ہوگا یعنی بائی ڈائریکشنل نہیں ہوگا۔ اس صورت میں آپ شکل نمبر 4 اورشکل نمبر 5 میں دیا گیا پیرلل انٹرفیس استعمال کرکے اس نقص کو دور کرسکتے ہیں یہ پیرلل انٹرفیس بائی ڈائریکشنل یا دو طرفہ عمل کے لیے موزوں ہے اور زیر نظر پروگرامر سے مطابقت کا حامل ہے۔

یہ پیرلل انٹرفیس LPT1 کے طور پر ایڈریس 378-37F یا LPT2 کے طور پر ایڈریس 278-27F پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ چونکہ یہ انٹرفیس سرکٹ ہے اور اسے خاص طور پر زیر نظر پروگرامر کے لیے تیارکیا گیا ہے چنانچہ اسے بطور پرنٹر انٹرفیس استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

نوٹ :

تمام آئی سیز کے لیے 0µ1 قدر کا بائی پاس کپیسیٹر ضرور استعمال کریں۔

گھنٹہ گھربرائے ڈیجیٹل کلاک-II

گھنٹہ گھر کا ایک اور سرکٹ ملاحظہ فرمائیں اس میں صرف ایک آئی سی 4011 استعمال کیا گیا ہے جو دو ان پٹ کے چار نینڈ گیٹس پر مشتمل ہے۔ سرکٹ میں آئی سی کے چاروں گیٹ استعمال کرتے ہوئے ایسا بندوبست کیا گیا ہے کہ ہر گھنٹے بعد یہ سرکٹ ایک مناسب سی آواز پیدا کرے۔

اس سرکٹ میں دہائی منٹ کے سیگمنٹ f اور g کی آئوٹ پٹس کو‘ جن پر بالترتیب لاجک صفر اور لاجک ایک لیول ہوگا ‘ نینڈ گیٹ کی دونوں ان پٹس پر فراہم کیا گیا ہے۔ آپ دیکھ رہے ہیں کہ گیٹ N3 کی آئوٹ پٹ کو گیٹ N2 کی ان پٹ سے جوڑا گیا ہے۔ اس طرح کی فیڈ بیک سے جب گیٹ N3 کی آئوٹ پٹ ہائی ہو گی تو گیٹ N2 کی دونوں ان پٹس ہائی ہو جائیں گی جس سے اس کی آئوٹ پٹ لو ہو جائے گی۔





گھنٹہ گھر II کا سرکٹ ڈایا گرام برائے ڈیجیٹل کلاک


ڈایا گرام کے نیچے گھنٹہ گھر II کے لئے پر نٹڈ سرکٹ بورڈ اصل سائز میں دکھایا گیا ہے - سا تھ ہی پر نٹڈ سرکٹ بورڈ پر گھنٹہ گھر II کے اجزا کی ترتیب بھی دکھائی گئی ہے -

جوں ہی مطلوبہ لاجک لیول اس سرکٹ کے گیٹ N1 پر ملے گا‘ یہ سرکٹ روبہ عمل ہو کر ٹرانزسٹر کی بیس کو ہائی کر دے گا ۔ ٹرانزسٹر کے کلکٹر سے ریلے سوئچ منسلک کیا جا سکتا ہے ۔ اس ریلے سوئچ کے کنٹیکٹس کو استعمال کرتے ہوئے کسی بھی الارم‘ میوزیکل الارم یا بذر کو رو بہ عمل کیا جا سکتا ہے۔

دونوں گیٹس کے درمیان کپیسیٹر لگایا گیا ہے جس سے قدرے وقفہ فراہم ہوتا ہے۔ اسی وقفے کے دوران میں گیٹ N3 کی آئوٹ پٹ ہائی رہے گی اور بذر بھی اتنے ہی وقفے تک روبہ عمل رہے گا۔ یہ سرکٹ پہلے سرکٹ کی نسبت کم خرچ اور آسان ہے۔

فہرست اجزاء

( گھنٹہ گھر II)
رزسٹرز    
R1 = 10K کاربن فلم
R2 = 1M0 کاربن فلم
R3 = 10K کاربن فلم
کپیسیٹر    
C1 = 1µ0 الیکٹرولائیٹک
سیمی کنڈکٹر    
N1- N4 = 4011 سی موس آئی سی
TR1 = C828 سلیکان ٹرانزسٹر
D1 = 1N4148 سگنل ڈائیوڈ
متفرق    
LS = 8R اسپیکر
RLY = 12V ریلے سوئچ

ایک کلو میٹر رینج کا ایف ایم ٹرانسمٹر

(امیر سیف اللہ سیف)

ایک کلو میٹر رینج رکھنے والے ایف ایم ٹرانسمٹر کا سرکٹ ڈایا گرام پیش ہے۔ بنیادی طور پر یہ سرکٹ تین حصوں پر مشتمل ہے۔ پہلا حصہ آڈیو پاور ایمپلی فائر اسٹیج پر مشتمل ہے جو ڈائنامک مائیکروفون کی آؤٹ پٹ سےحاصل ہونے والے آڈیو سگنلز کی افزائش یعنی ایمپلی فی کیشن کرتا ہے۔ دوسرا حصہ آر ایف آسی لیٹر اسٹیج پر مشتمل ہے۔ تیسرا اور آخری حصہ آر ایف پاور ایمپلی فائر اسٹیج ہے جو آڈیو سگنلز کو ایک کلو میٹر تک نشر کر سکتا ہے۔

آڈیو ایمپلی فائر اسٹیج تین ٹرانزسٹرز پر مشتمل ہے۔ ڈائنا مک مائیکروفون کی ہائی امپیڈینس آؤٹ پٹ کو میچ کرنے کے لئے ایف ای ٹی استعمال کیا گیا ہے۔ اس کی آؤٹ پٹ کو مزید ایمپلی فائی کرنے کے لئے دو BC107 ٹرانزسٹر استعمال کئے گئے ہیں جن سے 200mW (ملی واٹ) آؤٹ پٹ حاصل ہوتی ہے۔

آر ایف سگنل پیدا کرنے کے لئے آر آیف آسی لیٹر کے طور پر ٹرانزسٹر 2N3708 استعمال کیا گیا ہے۔ آر ایف آسی لیٹر کے طور پر کام کرنے کے ساتھ ساتھ یہ ٹرانزسٹر آڈیو سگنلز کی فریکوئنسی ماڈولیشن کا عمل بھی سرانجام دیتا ہے۔ اس کے بعد ان ماڈولیٹڈ سگنلز کو ایمپلی فائی کرنے کے لیے آر ایف پاور ایمپلی فائر استعمال کیا گیا ہے جو ایرئل کو تقریبا“ 600mW آؤٹ پٹ فراہم کرتا ہے۔



ایک کلو میٹر رینج والے ایف ایم ٹرانسمٹر کا سرکٹ ڈایا گرام

اس سرکٹ میں استعمال ہونے والے انڈکٹرز (کوائلز) کی تفصیل یہ ہے۔

L1 = یہ ائر کور کوائل ہے جس کا ڈایا میٹر 7mm ہو گا۔ استعمال کردہ کاپر لیمی نیٹڈ وائر کا قطر 1mm ہے اور اس کے صرف 6 چکر دئے جائیں گے۔ 1mm قطر کی تار کی جگہ آپ 19SWGنمبرکی تار استعمال کر سکتےہیں۔
L2 = یہ بھی ائر کور کوائل ہے جس کا ڈایا میٹر 7mm ہو گا۔ اسے L1 کے ساتھ ہی لپیٹا جائے گا۔استعمال کردہ کاپر لیمی نیٹڈ وائر کا قطر 1mm ہے اور اس کے صرف 6 چکر دئے جائیں گے۔ 1mm قطر کی تار کی جگہ آپ 19SWGنمبرکی تار استعمال کر سکتے ہیں۔
L3 = یہ ائر کور کوائل ہے جس کا ڈایا میٹر 6mm ہو گا۔ استعمال کردہ کاپر لیمی نیٹڈ وائر کا قطر 0.6mm ہے اور اس کے صرف 8 چکر دئے جائیں گے۔ 0.6mm قطر کی تار کی جگہ آپ 23SWGنمبرکی تار استعمال کر سکتے
RFC = یہ ریڈیو فریکوئنسی چوک ہے جو 0.3mm قطر کی کاپر لیمی نیٹڈ وائر کے تا چکروں پر مشتمل ہوگی۔ اسے 5mm قطر کی کسی پلاسٹک کی نلکی پر لپیٹا جائے گا۔ 0.3mm قطر کی تار کی جگہ آپ 30SWG نمبرکی تار استعمال کر سکتے ہیں۔

ایک کلو میٹر رینج ایف ایم ٹرانسمٹر کے لئے پرنٹڈ سرکٹ بورڈ ڈیزائن


پرنٹڈ سرکٹ بورڈ پر ایک کلو میٹر رینج ایف ایم ٹرانسمٹر کے اجزا کی ترتیب


ایک کلو میٹر رینج ایف ایم ٹرانسمٹر پرنٹڈ سرکٹ بورڈ پر نصب شدہ حالت میں

فہرست اجزاء

ایک کلو میٹر رینج کا ایف ایم ٹرانسمٹر
تمام رزسٹر ¼ واٹ‘ ٪5 شرح انحراف کے حامل ہیں

رزسٹرز          
R1 = 1M0 کاربن فلم R2 = 10K کاربن فلم
R3 = 4K7 کاربن فلم R4 = 150K کاربن فلم
R5 = 22K کاربن فلم R6 = 3K9 کاربن فلم
R7 = 220R کاربن فلم R8 = 75K کاربن فلم
R9 = 10K کاربن فلم R10 = 1K5 کاربن فلم
R11 = 100R کاربن فلم R12 = 100K کاربن فلم
R13 = 56K کاربن فلم R14 = 100R کاربن فلم
کپیسیٹرز    
C1 = 100nF سرامک C2 = 47nF سرامک
C3 = 100nF الیکٹرولائیٹک C4 = 4µ7F الیکٹرولائیٹک
C5 = 100nF سرامک C6 = 33µF الیکٹرولائیٹک
C7 = 33nF سرامک C8 = 5pF سرامک
C9 = 150pF سرامک C10 = 33pF سرامک
VC1 = 0-20pF ٹرمر VC2 = 0-20pF ٹرمر
VC3 = 0-40pF ٹرمر
سیمی کنڈکٹر    
TR1 = 2N5555 ایف ای ٹی
TR2 = BC107 این پی این سلیکان ٹرانزسٹر
TR3 = BC107 این پی این سلیکان ٹرانزسٹر
TR4 = 2N3708 این پی این سلیکان ٹرانزسٹر
TR3 = BC107 این پی این سلیکان ٹرانزسٹر
TR3 = BC109 این پی این سلیکان ٹرانزسٹر
متفرق    
ANT = ایف ایم کوارٹر ویو ایرئل
MIC = ڈاینامک مائیکروفون۔

سالڈ اسٹیٹ لیزر


(امیر سیف اللہ سیف)

لیزر پروجیکٹ کا ذکر ہو تو اکثر قارئین یہ سمجھتے ہیں کہ شاید ہیلئم نیون (He-Ne)گلاس ٹیوب گیس لیزر کی بات ہورہی ہے۔ اکثر کتب و رسائل میں اسی لیزر کے پروجیکٹ شائع ہوتے رہے ہیں ۔ یہ یونٹ لازمی طور پر بڑے‘ نسبتاً مہنگے اور ہائی وولٹیج کی ضرورت کے حامل ہوتے ہیں لیکن یہاں پر ہم آپ کی خدمت میں ایسا لیزر پروجیکٹ پیش کر رہے ہیں جس میں سالڈ اسٹیٹ لیزر ڈائیوڈ استعمال کیا گیا ہے۔یہ پروجیکٹ صرف تدریسی مقاصد اور ان دوستوں کے ذوق کی تکمیل کے لیے پیش کیا جا رہا ہے جو اپنے ہاتھ پروجیکٹ بنانا پسند کرتے ہیں۔

سالڈ اسٹیٹ لیزر نے مذکورہ بالا تمام تصورات کو تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔ اب لیزر پروجیکٹ نہ صرف کم وولٹیج سے چلائے جا سکتے ہیں بلکہ ان کی قیمت بھی کم ہو گئی ہے اور ان کا سائز بھی مختصر ہو گیا ہے۔

اکثر قارئین باخبر ہوں گے کہ لیزر ڈائیوڈز سی ڈی پلیئرز اور لیزر پرنٹرز میں استعمال ہو رہے ہیں- حالیہ چند سالوں میں سالڈ اسٹیٹ لیزرز نے بہت سے لوگوں کو اپنی طرف بہت زیادہ متوجہ کیا ہے۔

اس پروجیکٹ میں پیش کردہ لیزر پوائنٹر کو بنیادی لیزر سورس‘ لیزر لیولنگ گائیڈ، تفریح اور دیگر مقاصد کے لیئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ پروجیکٹ میں استعمال کردہ اجزا اور بذات خود لیزر ڈائیوڈ کو بہت کم جگہ پر نصب کیا جا سکتا ہے جس کی وجہ سے اس پروجیکٹ کو انفرادی ضروریات کے تحت کئی طریقوں سے بکس یا کیس میں نصب کرنا ممکن ہے۔ لیزر ڈائیوڈ کو پاور مہیا کرنے کے لیئے منبع (سورس) کا انتخاب آپ کے بجٹ اور ضرورت کے مطابق ہوگا تاہم پاور سورس کی تبدیلی سے لیزر شعاع کی شدت میں بہت کم فرق پڑے گا۔

لیزر ڈائیوڈ

سالڈ اسٹیٹ لیزر ڈائیوڈ دیکھنے میں اگرچہ بہت سادہ سا ہے لیکن اسے چلانا نسبتاً پیچیدہ ہے۔آگے چند حفاظتی تدابیر بتائی گئی ہیں جن کو مد نظر رکھ کر آپ ڈائیوڈ کو حادثاتی طور پر تباہ ہونے سے بچا سکیں گے۔ اس پروجیکٹ میں جو لیزر ڈائیوڈ استعمال کیا گیا ہے اس میں مانیٹر فوٹوڈائیوڈ موجود ہے جو پاور سپلائی ریگولیٹر سرکٹ کو فیڈ بیک مہیا کرنے کے لیئے استعمال ہوتا ہے۔ لیزر ڈائیوڈ کے عمل کا انتہائی نازک مرحلہ اس کی فارورڈ کرنٹ ہے۔

استعمال کردہ لیزر ڈائیوڈ کی تھریشولڈ کرنٹ (تاکہ لیزنگ عمل کا آغاز ہو سکے) مثالی طور پر 80mA ہے۔ اس کرنٹ کی زیادہ سے زیادہ مقدار 95mA تک ہے۔100mA سے زائد کرنٹ لیزر ڈائیوڈ کو فوری طور پر تباہ کر دیتی ہے۔ اندر لگا ہوا مانیٹر ڈائیوڈ لیزر کی آؤٹ پٹ لائٹ پاور پر نظر رکھتا ہے۔ اسے زیرنظر سرکٹ میں کرنٹ ریگولیٹر سرکٹ کے ایک حصے کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔

استعمال کردہ لیزر ڈائیوڈ کی آپٹیکل آؤٹ پٹ پاور 5mW مقرر کی گئی ہے جو نسبتاً زیادہ قدر ہے اور اس کے باعث کافی طاقت کی روشنی حاصل کی جا سکتی ہے۔ 50% ڈیوٹی سائکل پر پلس کرنے سے‘ جب کہ پلس وڈتھ زیادہ سے زیادہ 1ms رکھی جائے‘ لیزر ڈائیوڈ سے 6mW تک کی آؤٹ پٹ پاور حاصل کی جا سکتی ہے۔

لیزر ڈائیوڈ کے گرد زیادہ سے زیادہ ریورس وولٹیج کی شرح 2V ہے۔ یہ ڈائیوڈ 10 سے 50 درجے سینٹی گریڈ درجہء حرارت پر کام کر سکتا ہے۔ اس کے آپریٹنگ وولٹیج 2.3V سے 2.7V ہیں اور لیزنگ ویو لینتھ 670nm سے 680nm تک ہے۔ یہ ویو لینتھ سرخ رنگ کے لیزر کی خصوصیات کے طور پر جانی جاتی ہے۔

ریگولیٹر

یہ سرکٹ لیزر ڈائیوڈ کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے اور اس کے عمل کا انحصار لیزر ڈائیوڈ کے عمل پر ہے ۔ چنانچہ لیزر ڈائیوڈ کو اس سرکٹ کا اہم ترین حصہ کہا جا سکتا ہے۔لیزر ٹارچ کا سرکٹ ڈایا گرام شکل نمبر 1میں دکھایا گیا ہے۔ یہ سرکٹ دراصل ریگولیٹر ہی کا سرکٹ ڈایا گرام ہے۔


شکل نمبر 1 : سالڈ اسٹیٹ لیزر کا مکمل سرکٹ ڈایا گرام۔

3mW کا لیزر ڈائیوڈ اپنی آپریٹنگ کرنٹ کو ‘ 5mW کے لیزر ڈائیوڈ کی نسبت مختلف طریقے سے متعین کرتا ہے چنانچہ دونوں کے لئے رزسٹر R3 کی قدر بھی مختلف ہے۔ لیزر اسمبلی میں مانیٹر فوٹو ڈائیوڈ لگا ہوا ہے جو سرکٹ کو کنٹرول کرتا ہے۔ یہ پن 1 اور پن 3 سے منسلک ہے۔ اس فوٹو ڈائیوڈ پر پڑنے والی روشنی کی مقدار ‘ ڈائیوڈ میں سے گزرنے والی ریورس کرنٹ کو متغیر کرتی ہے۔اس کے نتیجے میں یہ ریورس کرنٹ ریگولیٹر کی کرنٹ کو کنٹرول کرتی ے ۔ اس طرح لیزر ڈائیوڈ سے گزرنے والی کرنٹ بھی کنٹرول ہوتی ہے۔

فرض کریں کہ لیزر ڈائیوڈ سے آنے والی روشنی(لیزر شعاع) میں اضافہ ہوتا ہے تو فوٹو ڈائیوڈ میں سے زیادہ ریورس کرنٹ گزرے گی اور ٹرانزسٹر TR1 کی بیس کرنٹ میں اضافہ ہو جائے گا۔ چونکہ TR1 پی این پی نوعیت کا ٹرانزسٹر ہے چنانچہ بڑھتے ہوئے وولٹیج اسے آف کر دیں گے۔ اس حالت میں بیس وولٹیج ‘ ایمیٹر وولٹیج سے قریب تر ہوں گے۔

ٹرانزسٹر TR2 کے بیس وولٹیج ٹرانزسٹر TR1سے ملتے ہیں چنانچہ لیزر ڈائیوڈ سے گزرنے والی کرنٹ اب کم ہو جائے گی۔ لیزر ڈائیوڈ کے عمل اور رزسٹرز VR1, R2 کی مجموعی رزسٹینس سے کرنٹ کا تعین ہوتا ہے۔ پوٹینشو میٹر VR1 کی مدد سے لیزر ڈائیوڈ کی آؤٹ پٹ پاور بھی کنٹرول کی جا سکتی ہے۔

تشکیل

آغاز سے قبل لیزر ڈائیوڈ کو استعمال کرنے کی ہدایات کو اچھی طرح سمجھ لیں۔

لیزر ٹارچ کو پی سی بی پر نصب کیا جائے گا۔ اس پی سی بی کا نمونہ اور پی سی بی پر اجزا کی ترتیب کا خاکہ شکل نمبر 2 میں دکھایا گیا ہے۔


شکل نمبر 2 : سالڈ اسٹیٹ لیزر کے لئے پی سی بی کا نمونہ اور اس پر اجزا کی ترتیب۔

پی سی بی کا سائز کافی مختصر ہے اور چونکہ سرکٹ میں کم اجزا استعمال کئے گئے ہیں چنانچہ آپ اپنی ضرورت کے مطابق کسی بھی سائز میں اپنا پی سی بی خود بھی بنا سکتے ہیں۔ آپ لیزر ٹارچ کو جس نوعیت کے کیس میں بند کرنا چاہتے ہیں‘ اپنا پی سی بی بھی اسی کیس کے سائز کے مطابق بنا سکتے ہیں۔ تاہم دکھایا گیا پی سی بی 1.5 x 0.75 انچ کا ہے جو کسی بھی چھوٹے سے کیس میں آسانی سے نصب کیا جا سکتا ہے۔

پوٹینشو میٹر پی سی بی کے اوپر ہی لگایا جا سکتا ہے۔ اسی طرح پش سوئچ کے پیڈ بھی پی سی بی پر بنے ہوئے ہیں۔ آپ چھوٹے سے سائز کا پش سوئچ استعمال کریں اور اس کو چھوٹی تاروں کی مدد سے پی سی بی کے اوپر ہی جوڑ دیں۔

یہ بے حد ضروری ہے کہ آپ لیزر ڈائیوڈ کو سب سے آخر میں جوڑیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ لیزر ڈائیوڈ، الیکٹرو سٹیٹک ڈسچارج (ESD) سے، بہت آسانی سے خراب ہو سکتا ہے چنانچہ اس سلسلے میں خاصی احتیاط کی ضرورت ہوگی۔ اس ڈائیوڈ کو استعمال کرنے سے قبل اینٹی سٹیٹک احتیاطی تدابیر ضرور اختیار کریں جو اس نوعیت کے اجزا کے بچاؤ کے لئے عام طور پر مستعمل ہیں۔

مثال کے طور پر اپنے آپ کو کسی بڑے دھاتی جسم سے چھو کر ڈسچارج کر لیں۔ اس طرح اگر آپ کے جسم میں کوئی الیکٹرو سٹیٹک چارج موجود ہے تو وہ اس دھاتی جسم میں منتقل ہو جائے گا۔ اسی طرح سولڈرنگ آئرن کو بھی باقاعدہ ارتھ کر لیں اور تب اس سے ٹانکے لگائیں۔ جب لیزر ڈائیوڈ کو آپ پی سی بی پر جوڑ لیں گے تو اس کے بعد بورڈ اور بورڈ پر لگے ہوئے دیگر اجزا اسے سٹیٹک چارج سے تحفظ فراہم کریں گے۔

اجزا کو صفائی اور نفاست سے جوڑیں اور ٹانکے بھی نہایت عمدہ لگائیں۔ یہاں پر بے احتیاطی اور جلد بازی کام بگاڑ دے گی اور بعد میں آپ کو خاصی دشواری ہوگی۔

جانچ پڑتال

سرکٹ کو پاور مہیا کرنے سے قبل یہ یقین کر لیں کہ لیزر ڈائیوڈ سے لگے ہوئے کنکشن درست اور محفوظ ہیں۔ یہ خاص طور پر دیکھیں کہ لیزر ڈائیوڈ کی تاریں آپس میں شارٹ ہونے کے امکانات تو نہیں ہیں۔ بہتر ہوگا کہ اس کی تاروں پر پلاسٹک سلیو Sleeveچڑھا دیں۔

سرکٹ بورڈ کو دو بارہ چیک کریں۔ اضافی تاریں‘ ٹانکے کی فالتو مقدار‘ ڈھیلے کنکشن وغیرہ سب باریک بینی سے جانچیں۔فالتو اور اضافی تاریں کاٹ کر چھوٹی کر لیں۔ تارکا کوئی ٹکڑا وغیرہ پی سی بورڈ پر کہیں پڑا رہ گیا ہے تو اسے ہٹا لیں۔ ٹانکوں کے ارد گرد اور پی سی بی کے ٹریکس کے درمیان اگر ٹانکے کی اضافی اور غیر ضروری مقدار موجود ہے تو اسے احتیاط سے دور کر لیں۔ پی سی بورڈ پر لگی ہوئی تاروں کو مناسب انداز میں ہلا جلا کر دیکھ لیں کہ یہ درست جڑ گئی ہیں اور ٹانکہ لگنے کی جگہ پر ڈھیلی تو نہیں ہیں۔ اگر کوئی ٹانکہ مشکوک یا کمزور معلوم ہو تو اسے دوبارہ لگا لیں۔ تار کے بورڈ پر لگے ہوئے سروں کو اچھی طرح دیکھیں کہ کوئی تار ٹوٹنے والی تو نہیں۔

سب کچھ درست ہو تو سرکٹ کو پاور سپلائی سے جوڑ دیں۔ پہلی مرتبہ لیزر ڈائیوڈ کی روشنی فوکس میں نہیں ہوگی۔ یہاں خاص طور پر خیال رکھیں کہ آپ نے آن حالت میں لیزر ڈائیوڈ کے روشنی خارج کرنے والے سرے کو براہ راست ہرگز نہیں دیکھنا۔ یہ عمل آپ کی بینائی کو خراب کرنے کا باعث ہو سکتا ہے کیونکہ لیزر شعاع بینائی کے لیے مضر ہے- چند میٹر کے فاصلے سے لیزر کی روشنی کسی دیوار پر ڈالیں۔ اس کے بعد لیزر ڈائیوڈ کا لینز متعین (Adjust)کریں۔ اس پر چوڑیاں لگی ہوتی ہے ان کو اندر اور باہر کی طرف گھما کر فوکس متعین کیا جا سکتا ہے۔ لینز کو اس طرح متعین کریں کہ روشنی کا نقطہ 2.3mmقطر کا بنے۔

اگر یہاں تک سب کچھ درست ہے تو اب آپ اپنے پروجیکٹ کو کسی مناسب سے کیس میں بند کر سکتے ہیں۔

لیزر ڈائیوڈ خراب ہو جائے تب بھی یہ لیزر شعاع خارج کر سکتا ہے تاہم اس کی قوت بہت کم ہوگی۔ اگر کبھی آپ محسوس کریں کہ لیزر شعاع کی قوت کم ہو گئی ہے تو لیزر ڈائیوڈ کو تبدیل کر دیں۔

فہرست اجزاء

( سالڈ اسٹیٹ لیزر )

رزسٹرز    
R1 = 1K0 کاربن فلم رزسٹر ¼ واٹ‘ ٪5 شرح انحراف
R2 = 1K0 کاربن فلم رزسٹر ¼ واٹ‘ ٪5 شرح انحراف
R3 = 10R کاربن فلم رزسٹر ¼ واٹ‘ ٪5 شرح انحراف
کپیسیٹر    
C1 = 100µ الیکٹرولائیٹک
سیمی کنڈکٹر    
TR1 = A564 پی این پی سلیکان ٹرانزسٹر
TR2 = C828 این پی این سلیکان ٹرانزسٹر
D1 = 1N4001 ریکٹی فائر ڈائیوڈ
D2 = لیزر ڈائیوڈ
متفرق    
3V = بیٹری سیل
  = لیزر ڈائیوڈ کے لئے کیس‘ لینز وغیرہ۔

لاؤڈ اسپیکر بطور مائیکروفون

(امیر سیف اللہ سیف)


لاؤڈ اسپیکر آؤٹ پٹ آلہ ہے جو برقی سگنلز کو آواز میں تبدیل کرتا ہے۔ لیکن اس سرکٹ میں ہم اسے الٹ طور پر استعمال کریں گے یعنی مائیکروفون کے طور پر۔ اس طرح یہ آلہ آپ کی آواز کو برقی سگنلز میں تبدیل کرنے کا کام کرے گا۔ اکثر سرکٹس میں اس طرح کی ضرورت پیش آ جاتی ہے کہ اسپیکر ہی کو بطور مائیک استعمال کر لیا جائے۔ ایسی صورت میں یہ سرکٹ آپ کے کام آئے گا۔


لاؤڈ اسپیکر بطور مائیکروفون کا سرکٹ ڈایا گرام

آواز کی لہریں جب اسپیکر کی کون سے ٹکراتی ہیں تو اسے مرتعش کر دیتی ہیں جس سے وائس کوائل بھی حرکت کرتی ہے اور اسپیکر کے مقناطیسی میدان کی وجہ سے حفیف سے برقی سگنلز پیدا ہوتے ہیں۔اس سرکٹ کی مدد سے یہ برقی سگنلز کسی قدر ایمپلی فائی کر کے آؤٹ پٹ میں فراہم کر دیئے جاتے ہیں۔


لاؤڈ اسپیکر بطور مائیکروفون کے لیے پرنٹڈ سرکٹ بورڈ کانمونہ سائز 1.85x 1.3 انچ

سرکٹ 6وولٹ سے 12وولٹ تک کسی بھی سپلائی سے کام کر سکتا ہے۔ پہلا ٹرانزسٹر کامن بیس موڈ میں استعمال کیا گیا ہے۔ اس کی خصوصیت یہ ہےکہ یہ اسپیکر کی کم امپیڈینس سے میچ کرتا ہے نیز اس کا وولٹیج گین کافی بلند ہوتا ہے۔ دوسرا ٹرانزسٹر ایمی ٹر فالوور کے طور پر کام کر رہا ہے۔ اس کا وولٹیج گین اکائی سے خفیف سا کم ہے لیکن آؤٹ پٹ امپیڈینس کم ہوتی ہے جس کے باعث اس کی آؤٹ پٹ سے کافی لمبی تار جوڑی جا سکتی ہے۔


پرنٹڈ سرکٹ بورڈ پر لاؤڈ اسپیکر بطور مائیکروفون کے اجزا کی ترتیب

حاصل ہونے والی آواز کا معیار معیاری الیکٹریٹ مائیکروفون کی نسبت بہت عمدہ نہیں ہے تاہم عام استعمال کے لیے قابل قبول ہے۔ ان پٹ میں آپ ایک انچ سے تین انچ قطر کا اسپیکر جوڑ سکتے ہیں۔ یہاں پر 4 اوہم سے 64 اوہم تک کی امپیڈینس کا اسپیکر بخوبی استعمال کیا جا سکتا ہے تاہم زیادہ امپیڈینس کے اسپیکر کے لیے آپ کو 8.2 اوہم رزسٹر کی قدر تبدیل کرنی پڑے گی تاکہ اسپیکر کی اپنی امپیڈینس کو میچ کیا جا سکے۔۔

فہرست اجزاء

( لاؤڈ اسپیکر بطور مائیکروفون )
رزسٹرز    
R1 = 2M2 کاربن فلم ¼ واٹ
R2 = 5K6 کاربن فلم ¼ واٹ
R3 = 8R2 کاربن فلم ¼ واٹ
R4 = 2K2 کاربن فلم ¼ واٹ
کپیسیٹرز    
C1 = 220µ, 25V الیکٹرو لائیٹک
C2 = 220µ, 25V الیکٹرو لائیٹک
C3 = 100µ, 25V الیکٹرولائیٹک
سیمی کنڈکٹرز    
Q1 = BC109C ٹرانزسٹر
Q2 = BC109C ٹرانزسٹر
متفرق    
LS1 = 4-64اوہم لاؤڈ اسپیکر (تفصیل مضمون میں)
SW = آن آف سوئچ
BT1 = 6-12V بیٹری یا پاور سپلائی

مکھیوں سے نجات

(امیر سیف اللہ سیف)

انسان ہوں یا جانور‘ مکھیوں سے دونوں پریشان رہتے ہیں۔ خاص طور پر گھروں میں مکھیاں انتہائی پریشان کن بلکہ مضر صحت ماحول پیدا کر دیتی ہیں۔ ان سے بچائو کے لیے جراثیم کش ادویات بھی ناکافی ثابت ہوتی ہیں۔ مکھیاں ہر جگہ موجود ہیں اور بے شمار مقامات پر نہایت تیزی سے پیدا ہوتی ہیں۔ ہمارے ہاں صفائی کے انتظامات بے حد ناکافی ہیں۔ رہائشی علاقوں میں پانی کے نکاس کا انتظام بھی درست نہیں اور جگہ جگہ کوڑے کرکٹ کے ڈھیر سونے پر سہاگہ ہیں۔ ایسے ماحول میں مکھیاں نہایت آسانی سے پیدا ہوتی ہیں اور ان کی نسل میں اضافے کی رفتار حیران کن ہوتی ہے۔

مکھیوں سے بچائو کے متعدد طریقے موجود تو ہیں لیکن ان طریقوں پرعمل کے نتیجے میں مزید کئی مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔ کیمیائی ادویات کا چھڑکائو وقتی طورپر تو موثر ثابت ہوتاہے لیکن یہ ادویات مکھیوں کی تمام اقسام کے لیے کارگرثابت نہیں ہوتیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ان ادویات کا مسلسل استعمال ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافے کا باعث بنتا ہے۔

اس مضمون میں ہم مکھیوں کو ہلاک کرنے والے ایک الیکٹرونک آلے کی تشکیل پر روشنی ڈالیں گے۔ یہ دراصل ہائی وولٹیج کی ایک جالی پر مشتمل ہے۔مکھیاں جوں ہی اس جالی پر آتی ہیں بلند وولٹیج کا لمحاتی جھٹکا انہیں فوراً ہلاک کر دیتا ہے۔ یہ آلہ بیٹری سے بھی چلتا ہے اور آپ اسے شمسی توانائی (سولرانرجی) سے بھی چلا سکتے ہیں۔ اگر ضرورت محسوس ہو تو اسے آپ ایڈاپٹر کے ذریعے منیز اے سی سپلائی سے بھی پاور مہیا کر سکتے ہیں۔

زیرنظرکنٹرولر یونٹ کو خودکار طور پر بھی آن اور آف کرایا جا سکتا ہے اور ایسا آپ خود بھی اپنی مرضی سے کر سکتے ہیں۔ اس میں ایک فوٹو الیکٹرک سیل لگایا گیا ہے جو رات کے وقت یا گہرے بادلوں کی آمد پر‘ جو عموماً بارش لانے کا باعث بنتے ہیں‘ کنٹرولر کو آف کر دیتا ہے۔

فوٹو ٹرانزسٹر کنٹرولر کو برقی رو کی فراہمی اس وقت تک معطل رکھتا ہے جب تک روشنی کی مقدار ایک خاص حد تک بڑھ نہ جائے‘ کنٹرولر‘ پاور ملنے پر‘ ایک یا دو سیکنڈ کے وقفوں سے ہائی وولٹیج پیدا کر تا ہے تاکہ بیڑی کی زندگی طویل ہو سکے۔ سولر پاور کی خصوصیت کے باعث اس سے کنٹرولر کو چلایا گیا ہے اور بیٹری کو چارج کرایا گیا ہے۔

کنٹر ولر سے پیدا ہونے والے پیک ٹو پیک وولٹیج کی مقدار کم از کم 0 300 وولٹ ہے جو 3mm کے فاصلے کو پھلانگ ( جمپ Jump کر) سکتے ہیں۔ ہائی وولٹیج ڈسچارج کرنٹ کی قدر 8mA ہے جسے انسان کے لیے محفوظ تصور کیا جاتا ہے تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ اس سے دور نہ رہیں۔ا یسی صورت میں آپ کو اچانک لگنے والا جھٹکا بذات خود تو کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا لیکن اچانک جھٹکے کے باعث آپ گر سکتے ہیں یا کسی چیزسے ٹکراکر زخمی ہو سکتے ہیں۔

سرکٹ ڈایا گرام

مکھیوں سے نجات دلانے والے کنٹرولر کا مکمل سرکٹ ڈایا گرام شکل نمبر 1 میں دکھایا گیا ہے۔ یہ سرکٹ‘ سوئچنگ‘ پلسنگ اور ہائی وولٹیج آئوٹ پٹ حصوں پر مشتمل ہے۔ پاور مہیا کرنے کے لیے سرکٹ سے ایک تا 5 واٹ کا سولر پینل اور 12V کی بیٹری (موٹر سائیکل یا مووی کیمرے کی) درکار ہوگی۔ اگر آپ اس یونٹ کو مینز اے سی پاور سے چلانا چاہتے ہیں تو پھر 12V کا ایڈاپٹر یا پاور سپلائی استعمال کر سکتے ہیں۔

ہائی وولٹیج پیدا کرنے کے لیے سرکٹ میں ایک اگنیشن کوائل استعمال کیا گیا ہے جسے ایک جالی یا گرڈ سے منسلک کیا گیا ہے۔ یہ جالی متوازی طور پرلگی ہوئی موٹی تاروں پر مشتمل ہے۔ اس جال پرمکھیاں آ کر بیٹھیں گی اور ہلاک ہو جائیں گی۔


شکل نمبر 1 مکھیوں سے نجات دلانے والے کنٹرولر کا مکمل سرکٹ ڈایا گرام۔

ایل ای ڈی فلیشر آسی لیٹر آئی سی LM3909 کو ملنے والے وولٹیج 6V سے 9V تک محدود رکھے گئے ہیں بلکہ یہ عمل وولٹیج کنٹرولر IC1 کے ذریعے سرانجام دیا گیا ہے۔ آئی سی LM3909 پلسز کا ایک سلسلہ پیدا کرتا ہے جسے ٹرانزسٹر 2N2222A سے ملایا گیا ہے تاکہ سوئچنگ سرکٹ تشکیل دیا جا سکے۔ IC2 سے ٹرانزسٹر کی طرف آنے والی آئوٹ پٹ‘ پلس کرنٹ میں اتنا اضافہ کردیتی ہے کہ اس سے 5V ریلے Ry1 کے کنٹیکٹ بند (کلوز) ہوسکیں۔ یہ عمل ہر ایک سے دو سیکنڈ کے وقفے سے 0.1 سیکنڈ کے لیے (یعنی اتنے وقفے تک ریلے کے کنٹیکٹ کلوز رہتے ہیں) سرانجام دیا جاتا ہے۔ ریلے کے متوازی لگا ہوا ڈائیوڈ D1‘ کو ائل کے سروں پر پیدا ہونے والے ہائی وولٹیج اثرات کو شنٹ کر دیتا ہے تاکہ ٹرانزسٹر خراب نہ ہو۔

فوٹو ٹرانزسٹر Q3 کے ذریعے سرکٹ کو رات کے وقت یا گہرے بادلوں کے وقت آف رکھنے کا بندوبست کیا گیا ہے۔ جوں جوں روشنی کی اوسط مقدار میں کمی واقع ہوتی ہے Q3 کی اندرونی رزسٹینس میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ اس اضافے سے‘ ٹرانزسٹر Q1 کی بیس پر مثبت بائس میں کمی واقع ہوتی ہے حتیٰ کہ ٹرانزسٹر کٹ آف ہو جاتا ہے۔ فوٹو ڈائیوڈ کے کلکٹر پر ایک ایل ای ڈی لگا کر وولٹیج ڈراپ کرنے کا بندوبست کیا گیا ہے۔

سنگل پول سنگل تھرو ریلے سوئچ Ry1 کے ذریعے ٹائمر NE755 آئی سی IC3 کو 12V بیٹری وولٹیج کے پلسز مہیا کئے گئے ہیں۔ ٹائمر آئی سی کو اس سرکٹ میں فری رننگ آڈیو فریکوئنسی پلس جنریٹر کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ اس آئی سی سے پیدا ہونے والے پلسز کو پاور ٹرانزسٹر 2N3055 کے ذریعے ایمپلی فائی کیا گیا ہے۔ پاور ٹرانزسٹر کی آئوٹ پٹ گاڑی کی اگنیشن کوائل T1 کو چلانے کے لیے استعمال کی گئی ہے تاکہ گرڈ (جالی) کے لیے ہائی وولٹیج پیدا کئے جا سکیں۔ T1 کی سیکنڈری پر وولٹیج کی مقدار 12,000 وولٹ پیک ٹو پیک (تقریباً) ہوگی۔


شکل نمبر 2 مکھیوں سے نجات دلانے والے کنٹرولر کا تیار شدہ نمونہ جسے بریڈ بورڈ پر نصب کیا گیا ہے۔

اصل تیارکردہ یونٹ کو 12V کی ری چارج ایبل بیٹری سے پاور مہیا کی گئی تھی۔ یہ موٹر سائیکل میں استعمال ہونے والی لیڈ ایسڈ بیڑی تھی۔ اسے دن کے وقت چارج کرنے کے لیے ایک واٹ کا 12V والا سولر پینل استعمال کیا گیا تھا۔

کنٹرولر کی تشکیل

اصل یونٹ کو بریڈ بورڈ پر نصب کیا گیا تھا۔ بیٹری سولر پینل اور اگنیشن کوائل بریڈ بورڈ سے باہر جوڑے گئے تھے۔ آپ اپنی مرضی سے ان اجزاء کو نصب کرنے کے لیے کوئی بھی مناسب طریقہ استعمال کر سکتے ہیں۔و یروبورڈ پر یا پی سی بی تیار کرکے اس پر تمام اجزاء جوڑے جا سکتے ہیں۔

آپ پروجیکٹ کو نصب کرنے کے لیے جو طریقہ بھی استعمال کریں‘ چند باتوں کا ضرور خیال رکھیں۔ کپیسٹر C6 کو T1 کی پرائمری سے جتنا ممکن ہو اتنا قریب رکھ کر جوڑ دیں۔ سرکٹ کے اجزاء نصب کرنے کے بعد اچھی طرح چیک کریں کہ تمام اجزاء درست لگے ہیں۔ اس کے بعد سرکٹ کو پاور مہیا کریں۔ اگنیشن کوائل کے مرکز پر اسپارک چیک کریں۔

ہائی وولٹیج گرڈ

گرڈ یا جالی کی ساخت کنگھی نما دو اجزاء پر مشتمل ہے۔ شکل نمبر 3 میں ان کی تفصیل کے لیے ایک خاکہ دیا گیا ہے۔ 16 نمبر کی تار سے آپ یہ گرڈ بنا سکتے ہیں۔ اس طرح کی تار کپڑوں کے ہینگر بنانے میں بھی استعمال کی جاتی ہے۔ متبادل طور پر آپ 12 نمبر کی تانبے کی ٹھوس تار بھی استعمال کر سکتے ہیں۔


شکل نمبر 3 مکھیوں سے نجات دلانے والے کنٹرولر کے لیے درکار جالی کی بناوٹ کا خاکہ۔

جالی کے لیے مطلوبہ سائز اور تعداد میں تاریں کاٹ اور موڑ کر ان کو لکڑی یا پلائی وڈ کے ٹکڑے پر نصب کریں۔ تیاری کے بعد آپ یہ پینل عموداً یا ساٹھ درجے کے زاویے پرنصب کر سکتے ہیں۔ ایسے چار پینل تیار کرکے شکل نمبر 4 کے مطابق عموداً اور 60 درجے کے زاویے پر نصب کر دیں۔ ایک کنٹرولر سے آپ ایسی چار گرڈز کو منسلک کر سکتے ہیں۔ تمام پینل متوازی جوڑ کر‘ سرکٹ کی آئوٹ پٹ سے (اگنیشن کوائل T1 کی سیکنڈری سے) جوڑ دیں۔ گرڈ کی تاروں کو سہارنے کے لیے پورسلین کے ٹکڑے استعمال کریں تاکہ یہ لکڑی یا پلائی روڈ کے تختوں سے اوپر رہیں۔ اگر بارش یا نمی کی وجہ سے تختے نم ہو جائیں تو پورسلین کے یہ ٹکڑے شارٹ سرکٹ سے تحفظ مہیا کریں گے۔


شکل نمبر 4 ڈبے کے اوپر چار عدد گرڈز نصب حالت میں دکھائی گئی ہے۔

استعمال

مکھیوں سے نجات حاصل کرنے کے لیے تیار شدہ گرڈ اور سرکٹ کو شکل نمبر 4 کی تصویر کے مطابق کسی موزوں کیس یا ڈبے میں نصب کریں۔ اس ڈبے کا رخ اس طرح رکھیں کہ گرڈز کا منہ شمال او رمشرق کی جانب رہے۔تیار شدہ یونٹ کو ایسے مقام پرنصب کریں جہاں مکھیوں کی بہتات ہو تاہم بچوں سے محفوظ رکھیں۔


شکل نمبر 5 آٹو موبائل اگنیشن کوائل۔

آپ اس کی جگہ آسانی سے دستیاب ہونے والی کوئی بھی اگنیشن کوائل استعمال کر سکتے ہیں۔ گرڈز کو دن میں ایک مرتبہ ضرور چیک کریں۔ اگر ضروری ہو تو گرڈز کی صفائی کریں کیونکہ مری ہوئی مکھیاں گرڈ میں اٹک کر شارٹ سرکٹ کا باعث بن سکتی ہیں۔

احتیاط

کنٹرولر کی گرڈ پر موجود کرنٹ اگرچہ کافی قلیل ہے تاہم وقتی جھٹکا پہنچانے کے لیے وولٹیج کی مقدار کافی بلند ہے۔ ضروری ہے کہ یونٹ پر کام کرنے کے دوران‘ اس کا مقام بدلنے کے دوران یا صفائی وغیرہ کے لیے پاور آف کر دی جائے۔ اس یونٹ کو کسی ایسے مقام پر ہرگز نصب نہ کریں جہاں بچوں کی رسائی آسان ہو۔ اس یونٹ کو نصب کرنے کے بعد اس کے قریب ہائی وولٹیج سے خبردار کرنے والا بورڈ ضرور نصب کریں۔

فہرست اجزاء

(مکھیوں سے نجات حاصل کریں)
رزسٹرز    
R1 = 560R ¼ واٹ‘ ٪5 شرح انحراف کاربن فلم
R2 = 100R ¼ واٹ‘ ٪5 شرح انحراف کاربن فلم
R3 = 120R ¼ واٹ‘ ٪5 شرح انحراف کاربن فلم
R4,5 = 100K ¼ واٹ‘ ٪5 شرح انحراف کاربن فلم
R6,7 = 330R ¼ واٹ‘ ٪5 شرح انحراف کاربن فلم
کپیسیٹر    
C1 = 470µ, الیکٹرولائٹیک 25V
C2 = 0µ004, الیکٹرولائٹیک 25V
C3 = 0µ01, سرامک
C4 = 47µ, الیکٹرولائٹیک 25V
C5 = 0µ33, سرامک
C6 = 0µ007, سرامک 100V
سیمی کنڈکٹرز    
D1 = 1N4002 ریکٹی فائر ڈائیوڈ
IC1 = LM317T وولٹیج ریگولیٹر آئی سی
IC2 = LM3909 ایل ای ڈی فلیشر
IC3 = NE7555 یا NE555 ٹائمر آئی سی
LED1 = سرخ ایل ای ڈی
Q1 = 2N2222A یا متبادل سوئچنگ ٹرانزسٹر
Q2 = 2N3055 پاور ٹرانزسٹر
Q3 = انفراریڈ فوٹو ٹرانزسٹر
متفرق    
B1 = 12V لیڈ ایسڈ بیٹری
RY1 = 5V ریلے SPST
T1 = T یا CD نوعیت کی 12V اگنیشن کوائل

مین اے سی سپلائی وولٹیج انڈیکیٹر


(امیر سیف اللہ سیف)



یہ سرکٹ سی موس آئی سی CD4033 پر مشتمل ہے اور مین اے سی سپلائی وولٹیج کی موجودگی کو معلوم کر سکتا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اس کے لئے ضروری نہیں کہ برقی تار یا آلے سے اس کو برقی طور پر منسلک کیا جائے۔ اس آلے کی مدد سے مین اے سی سپلائی کی موجودگی معلوم کرنے کے لئے تار وغیرہ سے پلاسٹک انسولیشن کو چھیلنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔


اس آلے کی پروب کو تار کے پاس لے آئیں اور یہ اس تار میں مین اے سی سپلائی کی موجودگی کو ظاہر کر دے گا۔اگر مین اے سی سپلائی وولٹیج موجود نہیں ہیں تو یہ آلہ بے ترتیب انداز میں 0 سے 9 تک کا کوئی بھی ہندسہ مستقل طور پر ظاہر کرتا رہے گا۔ اگر مین اے سی سپلائی موجود ہو گی تو برقی میدان (الیکٹرک فیلڈ) اس آلے کی پروب کے راستے اثر انداز ہو گا۔ایسی صورت میں یہ آلہ ترتیب سے 0 تا 9 کے ہندسے ظاہر کرے گا اور اس ترتیب کو دہراتا رہے گا۔ 

چونکہ سرکٹ میں استعمال کردہ آئی سی سی موس نوعیت کا ہے جس کی ان پٹ امپیڈینس بہت بلند ہوتی ہے چنانچہ پروب کے راستے داخل ہونے والے معمولی سے وولٹیج بھی اس کاﺅنٹر آئی سی کو کلاک کرنے کے لئے کافی ہوں گے۔اسی وجہ سے اس پر نمودار ہونے والے ہندسے تیزی سے 0 سے 9 تک جائیں گے اور پھر یہ سلسلہ جاری رہے گا۔اس ترتیب سے نمودار ہونے والے ہندسے مین اے سی سپلائی کی موجودگی کو ظاہر کریں گے۔ جب آپ اس آلے کو اس تار سے، جس میں سے مین سپلائی گزر رہی ہے، دور لے جائیں گے تو مسلسل نمودار ہونے والے ہندسوں کا سلسلہ بند ہو جائے گا۔ اس آلے کو آپ نو وولٹ کی PP3 نوعیت کی بیٹری سے بخوبی چلا سکتے ہیں۔


فہرست اجزاء

( مین اے سی سپلائی وولٹیج انڈیکیٹرر )
رزسٹرز    
R1 = 100K کاربن فلم ¼ واٹ‘ ٪5 شرح انحراف
R2 = 100K کاربن فلم ¼ واٹ‘ ٪5 شرح انحراف
کپیسیٹر    
C1 = 0u1 سرامک
سیمی کنڈکٹرز    
IC1 = 4033 سی موس آئی سی
DS1 = کامن کیتھوڈ سیون سیگمنٹ ڈسپلے
متفرق    
S1 = آن آف سوئچ

میوزیکل گھنٹہ گھر برائے ڈیجیٹل کلاک

(امیر سیف اللہ سیف)

اگر آپ موسیقی کے رسیا ہیں تو یہ سرکٹ آپ کو سب سے زیادہ پر کشش محسوس ہوگا۔ یہ سرکٹ اپنے ڈیجیٹل کلاک کے ساتھ لگا کر آپ ہر گھنٹے بعد سولہ مختلف دھنوں والا الارم سن سکیں گے۔ میوزیکل گھنٹہ گھر کا یہ سرکٹ شکل میں دکھایا گیا ہے۔

میوزیکل گھنٹہ گھر کا سرکٹ پہلے دو سرکٹس کی نسبت مختلف ضروریات کا حامل ہے چنانچہ اس کے لیے مختلف ان پٹ کوڈنگ استعمال کی گئی ہے۔ پورا سرکٹ دو بڑے حصوں پر مشتمل ہے۔ پہلا حصہ کلاک سے آنے والے پلس ڈی ٹیکٹ کر کے‘ مطلوبہ ان پٹ پر رو بہ عمل ہوتا ہے اور اس کے نتیجے میں منسلک دوسرے حصے کو‘ جو دراصل ایک میوزیکل الارم ہے‘ پاور ملتی ہے اور وہ آن ہو کر سولہ مختلف سروں میں موسیقی بجاتا ہے۔

اس سرکٹ کے لئے کلاک چپ کی اکائی گھنٹے کی سیون سیگمنٹ آئوٹ پٹس a, f, e استعمال کی گئی ہیں۔ مختلف گیٹس پر مشتمل ڈی کوڈر سرکٹ کے ذریعے سیون سیگمنٹ آئوٹ پٹس a, f, e سے ملنے والی ان پٹس کی مدد سے ایسی لاجک آئوٹ پٹ حاصل کی گئی ہے جو ہر گھنٹے بعدایک لاجک لیول سے دوسرے لاجک لیول پر آ جاتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر پہلی مرتبہ یہ لاجک لیول ”1 “ مہیا کر رہی ہے تو اگلے گھنٹے کے مکمل ہونے پر یہ لاجک لیول ”0“ مہیا کرے گی۔

یہ عمل اس لئے ضروری ہے کہ اس آئوٹ پٹ سے ہم نے مونو شاٹ آئی سی 74121 کو ان پٹ مہیا کرنی ہے۔ یہ آئی سی تین ان پٹس کا حامل ہے جن میں سے ایک ان پٹ (پن 5 ) کو رزسٹر R7 کے راستے مثبت سپلائی سے مستقل طور پر جوڑ دیا گیا ہے۔ بقیہ دونوں ان پٹس میں سے ایک (پن 3) کو (جسے ہم ان پٹ A کہیں گے) ڈی کوڈر کے گیٹ A2 کی آئوٹ پٹ سے جوڑا گیا ہے۔ اسی آئوٹ پٹ کو انورٹر N4 کے راستے مونو شاٹ آئی سی کی دوسری ان پٹ (پن 4) سے ملایا گیا ہے (جسے ہم ان پٹ B کہیں گے)۔







میوزیکل گھنٹہ گھر کا سرکٹ ڈایا گرام برائے ڈیجیٹل کلاک
ڈایا گرام کے نیچے میوزیکل گھنٹہ گھر کے لئے پر نٹڈ سرکٹ بورڈ اصل سائز میں دکھایا گیا ہے-
سا تھ ہی پر نٹڈ سرکٹ بورڈ پر میوزیکل گھنٹہ گھر کے اجزا کی ترتیب بھی دکھائی گئی ہے -


میوزیکل گھنٹہ گھر کو نصب کرنے کے لئے پر نٹڈ سرکٹ بورڈ استعمال کیا جائے گا۔ ریگولیٹر آئی سی
IC7 کے علاوہ دیگر تمام اجزا پر نٹڈ سرکٹ بورڈ پر نصب کئے جائیں گے۔ یہاں پر میوزیکل گھنٹہ گھر
کے لئے پرنٹڈ سرکٹ بورڈ کا ایک نمونہ دکھایا گیا ہے۔ یہ اصل سائز میں ہے۔ بورڈ کو پہلے کسی دوسرے ٹرانزسٹر
کے لئے ڈیزائن کیا گیا تھا لیکن بعد میں پاور ٹرانزسٹر C1061 کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا گیا جس کی
وجہ سے اس کے لئے بورڈ پر مناسب سوراخ موجود نہیں ہیں لہذا اسے احتیاط سے نصب کریں۔


فرض کریں کہ پہلی مرتبہ آئوٹ پٹ ہائی یعنی لاجک 1 ہوتی ہے۔ مونو شاٹ کی ان پٹ A پر اس حالت میں ہائی لیول ہوگا جبکہ ان پٹ B پر انورٹر کے راستے یہی لاجک الٹ کر لو لیول ہو جائے گا۔ اس سے مونوشاٹ آئی سی ٹرگر کرکے اپنی آئوٹ پٹ کو ہائی کر دے گا۔ دوسری مرتبہ یہ لاجک الٹ جائے گا یعنی آئی سی کی ان پٹ A پر لو لیول اور ان پٹ B پر ہائی لیول ہو جائے گا۔ اس سے مونو شاٹ پھر ٹرگر کرکے اپنی آئوٹ پٹ کو ہائی کر دے گا۔

مونو شاٹ آئی سی کی آئوٹ پٹ کتنی دیر تک ہائی رہتی ہے اس کا تعین آئی سی کی پن 10 اور 11 کے درمیان لگا ہوا کپیسیٹر کرتا ہے۔ یہ کپیسیٹر C4 ہے۔ یہ رزسٹر R8 کے راستے چارج ہوتا ہے۔ چارجنگ وقفہ مندرجہ ذیل فارمولے سے معلوم کیا جا سکتا ہے:

(0.69xR8xC4)

فہرست اجزاء

( میوزیکل گھنٹہ گھر )
رزسٹرز          
R1 = 100K کاربن فلم R2 = 100K کاربن فلم
R3 = 100K کاربن فلم R4 = 1K0 کاربن فلم
R5 = 1K0 کاربن فلم R6 = 1K0 کاربن فلم
R7 = 1K5 کاربن فلم R8 = 68K کاربن فلم
R9 = 1K5 کاربن فلم R10 = 10K کاربن فلم
R11 = 1K0 کاربن فلم R12 = 39K کاربن فلم
R13 = 10K کاربن فلم R14 = 1K5 کاربن فلم
R15 = 5K6 کاربن فلم R16 = 5K6 کاربن فلم
R17 = 3K9 کاربن فلم R18 = 2K2 کاربن فلم
R19 = 10K کاربن فلم R20 = 10K کاربن فلم
کپیسیٹرز      
C1 = 0µ47 الیکٹرولائیٹک C2 = 0u1 سرامک ڈسک
C3 = 100u الیکٹرولائیٹک C4 = 220u الیکٹرولائیٹک
C5 = استعمال نہیں کیا گیا C6 = 4µ7 الیکٹرولائیٹک
C7 = 0µ033 سرامک ڈسک C8 = 25µ الیکٹرولائیٹک
C9 = 0µ1 سرامک ڈسک C10 = 1µ0 الیکٹرولائیٹک
C11 = 0µ22 سرامک ڈسک      
سیمی کنڈکٹرز          
N1-4 = 7404 ٹی ٹی ایل آئی سی A1-2 = 7404 ٹی ٹی ایل آئی سی
IC3 = 74121 ٹی ٹی ایل آئی سی IC4 = 555 ٹائمر آئی سی
IC5 = 7493 ٹی ٹی ایل آئی IC6 = 555 ٹائمر آئی سی
IC7 = 7805 ریگولیٹر آئی سی TR1 = C828 یا BC147 سلیکان ٹرانزسٹر
TR2 = C828 یا BC147 سلیکان ٹرانزسٹر TR3 = C828 یا BC147 سلیکان ٹرانزسٹر
TR4 = C1061 سلیکان ٹرانزسٹر      
متفرق          
LS = 8R اسپیکر      

واکی ٹاکی بنا ئیں

گھر‘ گودام‘ ورکشاپ یا دفتر میں دو طرفہ لاسلکی (وائرلیس) رابطہ قائم کریں

50MHz فریکوئنسی پر کام کرنے والا واکی ٹاکی کا مکمل پروجیکٹ

جس کی آئوٹ پٹ پاور 200mW ہے۔ بنانے میں آسان اور اجزا عام دستیاب ہیں۔

پی سی بی ڈیزائن اور دیگر تفصیلات کے ساتھ


واکی ٹاکی کا مطلب ہے چلتے پھرتے بات کرنا۔ یہ نام ایسے آلے کا ہے جس میں ٹرانسمٹر/رسیور دونوں آلے شامل ہوتے ہیں۔ اسے ٹرانسیور (Transciever) بھی کہتے ہیں۔ واکی ٹاکی دو آدمیوں کے درمیان رابطے کا کام دیتا ہے۔ ایک وقت میں ایک آدمی بات کر رہا ہوتا ہے اور دوسرا آدمی بات سن رہا ہوتا ہے۔ اس مقصد کے لئے واکی ٹاکی میں ایک سوئچ ہوتا ہے جسے پش ٹو ٹاک Push to Talk سوئچ کہتے ہیں۔

بلاک ڈایا گرام

واکی ٹاکی کا بلاک ڈایا گرام دیکھیں۔ سرکٹ کو سادہ اور کم خرچ رکھنے کے لئے واکی ٹاکی میں کچھ اجزا ٹرانسمٹر اور رسیور دونوں میں مشترک طور پر استعمال کیے جاتے ہیں۔ ان اجزا میں ایمپ لی فائر‘ اسپیکر اور ایرئل شامل ہیں۔ ایک سوئچ کے ذریعے یہ اجزا حسب ضرورت، باری باری ٹرانسمٹر اور رسیور سے منسلک کئے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ رسیور کے لئے ٹیونر سرکٹ اور ٹرانسمٹر کے لئے آسی لیٹر سرکٹ جو بالترتیب ٹرانزسٹر 2SC535 اور 2SC482 پر مشتمل ہیں ‘ الگ الگ استعمال کئے جاتے ہیں۔ واکی ٹاکی کے ان حصوں کو بلاک ڈایا گرام میں واضح کیا گیا ہے۔


شکل نمبر 1


سرکٹ ڈایا گرام

سرکٹ کا عمل بہت سادہ ہے اور آپ اسے بلاک ڈایا گرام کی مدد سے نہایت آسانی سے سمجھ سکتے ہیں۔ جب سرکٹ کا سوئچ SW1 حالت B میں ہوتا ہے تو سرکٹ ٹرانسمٹ Transmit حالت میں ہوتا ہے ۔ اس دوران میں سرکٹ کا ایرئل، آسی لیٹر سے(جو ٹرانزسٹر2SC482 پر مشتمل ہے) منسلک ہو جاتا ہے جب کہ اسپیکر ایمپ لی فائر کی ان پٹ سے منسلک ہو کر بطور مائیکروفون کام کرتا ہے۔ جیسا کہ آپ بلاک ڈایا گرام سے دیکھ سکتے ہیں ٹرانزسٹر TR3 تا TR5 بطور ایمپ لی فائر کام کر رہے ہیں۔ ان میں سے TR3,4 بطور پری ایمپ لی فائر کام کرتے ہیں۔ ٹرانسمٹ حالت میں یہ دونوں ٹرانزسٹر ‘ اسپیکر سے آنے والے سگنلز کو ایمپ لی فائی کرتے ہیں اور ان سگنلز کو پاور ایمپ لی فائر (ٹرانزسٹر 2N3053 ) کی ان پٹ پر دے دیتے ہیں۔ یہاں سے یہ سگنلز آسی لیٹر میں چلے جاتے ہیں اور آسی لیٹر کی آئوٹ پٹ کو ماڈولیٹ کرتے ہیں تاکہ آواز کو نشر کیا جا سکے۔آسی لیٹر کرسٹل کنٹرولڈ نوعیت کا ہے چنانچہ اس کی کارکردگی نہایت مستحکم ہے اور سگنل کی فریکوئنسی قائم رہتی ہے‘ اسے بار بار ٹیون نہیں کرنا پڑتا۔


شکل نمبر 2 : واکی ٹاکی کا سرکٹ ڈایا گرام


جب سرکٹ کا سوئچ SW1 حالت A میں ہوتا ہے تو سرکٹ رسیو Receive حالت میں ہوتا ہے ۔ اس دوران میں سرکٹ کا ایرئل، ٹیونر سے (جو ٹرانزسٹر 2SC535پر مشتمل ہے) منسلک ہو جاتا ہے جب کہ اسپیکر ایمپ لی فائر کی آئوٹ پٹ سے منسلک ہو کر بطور اسپیکرکام کرتا ہے۔ اس حالت میں ایرئل سے آنے والے سگنلز ٹیونر میں آتے ہیں جہاں پر ان کو ڈی ٹیکٹ/ڈی ماڈولیٹ کیا جاتا ہے اور پھر انہیں ایمپ لی فائر کی مدد سے بڑھا کر اسپیکر کے ذریعے سن لیا جاتا ہے۔ ٹرانسفارمر T1 اور T2 امپیڈینس میچنگ کے لئے ہیں اور یہ آڈیو ٹرانسفارمر ہیں ۔ ان کی پرائمری اور سیکنڈری وائنڈنگز کی امپیڈینس سرکٹ ڈایا گرام پر واضح کی گئی ہے۔

تشکیل

واکی ٹاکی کا یہ سرکٹ پی سی بی پر تشکیل دیا جائے گا جس کا نمونہ شکل نمبر 3 میں دیا گیا ہے۔ پی سی بی پر اجزا کی ترتیب کا خاکہ شکل نمبر 4 میں دکھایا گیا ہے۔ واضح رہے کہ پی سی بی پر تین عدد جمپر Jumper بھی لگانے ہوں گے۔


شکل نمبر 3 : واکی ٹاکی کے لئے پی سی بی ڈیزائن


اجزا کی تاریں ممکنہ حد تک چھوٹی رکھیں تاکہ سرکٹ میں غیر ضروری انڈکٹینس پیدا نہ ہو۔ یہ کافی بلند فریکوئنسی پر کام کرتا ہے چنانچہ اگر اجزا کی تاریں لمبی رکھیں گے اور ٹانکے وغیرہ صفائی سے نہیں لگائیں گے تو سرکٹ درست عمل نہیں کرے گا۔


شکل نمبر 4 : پی سی بی ڈیزائن پر واکی ٹاکی کے اجزا کی ترتیب


ٹرانزسٹرز کی تاروں کی پہچان کریں اور ان کو ان کے مقرر کردہ مقامات پر نصب کریں۔ الیکٹرو لائیٹک کپیسیٹرز کی پولیریٹی کا خیال رکھتے ہوئے نصب کریں۔


شکل نمبر 5 : واکی ٹاکی کے اسمبلڈ پی سی بی سے وائرنگ کرنے کا طریقہ


ریڈیو فریکوئنسی چوک RFC‘ کوائل L1 اور L2 کے علاوہ بقیہ تمام اجزا آپ کو بازار میں مل جائیں گے البتہ یہ اجزا (انڈکٹرز) آپ کو خود بنانے پڑیں گے۔ ان اجزا کا بنانا بھی بے حد آسان ہے۔ذیل میں ان کی تفصیل پیش ہے۔

کوائل L1:

کسی پرانے ریڈیو سیٹ میں سے ایسا فارمر حاصل کریں جس میں آئرن ڈسٹ کور موجود ہو۔ اس آئرن کور کا قطر 8mm ہونا چاہئے۔ اب فارمر کے اوپر درمیان میں 23SWG کاپر انیملڈ تار کے چار چکر قریب قریب لپیٹ لیں اور ان کو ایلفی یا اسی جیسے کسی دوسرے چپکنے والے مادے کی مدد سے اپنی جگہ پر قائم کر دیں۔ یاد رکھیں کہ کنیکشن کرنے کے لئے تار کا نصف انچ سرا دونوں طرف سے (شروع اور آخر) باہر نکالنا ہے۔ یہ وائنڈنگ خشک ہونے کے بعد اس کے اوپر اسی تار کا صرف ایک چکر لپیٹ کر سیکنڈری وائنڈنگ مکمل کریں۔ حسب سابق نصف انچ سرا دونوں طرف سے کنیکشن کے لئے چھوڑ دیں۔

کوائل L2:

یہ کوائل بھی L1 کی طرح بنائی جائے گی ۔ اسی فارمر پر درمیان میں 25SWG کاپر انیملڈ تار کے پانچ چکر قریب قریب لپیٹ لیں اور ان کو ایلفی یا اسی جیسے کسی دوسرے چپکنے والے مادے کی مدد سے اپنی جگہ پر قائم کر دیں۔ کنیکشن کرنے کے لئے تار کا نصف انچ سرا دونوں طرف سے (شروع اور آخر) باہر نکال لیں۔ یہ وائنڈنگ خشک ہونے کے بعد اس کے اوپر اسی تار کا صرف ایک چکر لپیٹ کر سیکنڈری وائنڈنگ مکمل کریں۔ حسب سابق نصف انچ سرا دونوں طرف سے کنیکشن کے لئے چھوڑ دیں۔

ریڈیو فریکوئنسی چوک RFC

یہ انڈکٹر ¼ واٹ کے کاربن فلم رزسٹر پر لپیٹا جائے گا۔100K قدر کا ایک رزسٹر لے لیں۔ اب 30SWG کاپر اینملڈ تار کا سرا چھیل کر رزسٹر کی ایک تار پر ‘ رزسٹر کی باڈی کے قریب ٹانکا لگا کر جوڑ دیں۔ اب بڑی احتیاط کے ساتھ رزسٹر کی باڈی پر قریب قریب تار کو لپیٹ لیں۔ ایک تہہ مکمل ہونے کے بعد دوسری تہہ لپیٹیں۔ اس طرح تہہ در تہہ 100 چکر مکمل کریں۔ چکر لپیٹنے کا رخ ایک ہی رکھیں۔ اس کے بعد اضافی تار کاٹ لیں اور اس کا سرا چھیل کر رزسٹر کی دوسری طرف والی تار پر ٹانکے سے جوڑ دیں۔ آپ کی ریڈیو فریکوئنسی چوک تیار ہے۔

تشکیل کا کام سارے اجزا کو ٹانکے لگا کر مکمل کریں اور باریک بینی سے سارے اجزا‘ ٹانکوں اور تاروں (جمپرز‘ بورڈ سے باہر کے کنیکشن وغیرہ) کو چیک کریں۔ سب کچھ درست ہو تو سرکٹ سے بیٹری جوڑ دیں۔ اب مرحلہ آتا ہے واکی ٹاکی کو ٹیون کرنے کا۔ صرف پہلی مرتبہ ٹیوننگ کافی ہو گی لیکن ٹیوننگ کے لئے آپ کو ایسے دو یونٹ درکار ہوں گے۔ ان ہی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے دوسرا یونٹ بھی مکمل کریں اور اب ٹیوننگ کی طرف چلیں۔

ٹیوننگ

ٹیوننگ کا عمل سرانجام دینے کے لئے دونوں سیٹ آن کریں۔ ایک سیٹ کا سوئچ ٹرانسمٹ حالت میں اور دوسرے کا سوئچ رسیور حالت میں رکھیں۔

اب جس سیٹ کا سوئچ رسیو حالت میں ہے اس کی کوائل L1 کی کور کو آہستہ آہستہ گھمائیں۔ یاد رہے کہ دوسرے سیٹ کو کسی ٹیپ پلیئر یا ٹی وی کے سامنے رکھیں یا پھر کسی دوست سے کہیں کہ وہ اس کے سامنے مسلسل کوئی لفظ مثلاً ہیلو وغیرہ کہتا رہے۔ رسیو والے سیٹ پر کوائل L1 کی کور کو گھماتے ہوئے آواز وصول کرنے کی کوشش کریں۔ کسی ایک مقام پر آواز آنا شروع ہو جائے گی۔ اگر اس طریقے سے آواز وصول نہ ہو تو پھر ٹرانسمٹ حالت میں رکھے ہوئے سیٹ کی کوائل L2 کو ٹیون کریں۔ اس طرح بار بار کوشش کر کے آپ آواز وصول کر لیں گے۔ ایک سیٹ کی ٹیوننگ مکمل ہو نے کے بعد اب ان کے سوئچ کی حالت بدل دیں یعنی جو رسیو حالت میں ہے اسے ٹرانسمٹ حالت میں لے آئیں اور جو ٹرانسمٹ حالت میں ہے اسے رسیو حالت میں لے آئیں۔ سارا عمل دہرائیں۔

اب آپ کے دونوں سیٹ ٹیون ہو گئے ہیں۔ جب تک بیٹری ایک خاص حد سے نیچے تک ڈسچارج نہیں ہوگی دونوں سیٹ کام کرتے رہیں گے۔ جیسا کہ پہلے بتایا جا چکا ہے سرکٹ میں لگا ہوا آسی لیٹر کرسٹل کنٹرولڈ ہے چنانچہ اس کی نشریاتی فریکوئنسی مستحکم رہے گی۔

فہرست اجزاء

( واکی ٹاکی )

رزسٹرز

تمام رزسٹر ¼ واٹ‘ ٪5 شرح انحراف کے حامل ہیں
  R1 = 22K کاربن فلم   R2 = 4K7 کاربن فلم
  R3 = 470R کاربن فلم   R4 = 22K کاربن فلم
  R5 = 2K2 کاربن فلم   R6 = 33K کاربن فلم
  R7 = 4K7 کاربن فلم   R8 = 1K0 کاربن فلم
  R9 = 470R کاربن فلم   R10 = 1K0 کاربن فلم
  R11 = 33K کاربن فلم   R12 = 4K7 کاربن فلم
  R13 =   استعمال نہیں کیا گیا   R14 = 470R کاربن فلم
  R15 = 12K کاربن فلم   R16 = 15K کاربن فلم
  R17 = 10R کاربن فلم

کپیسیٹرز

  C1 = 30p سرامک یا پولی ایسٹر   C2 = 0µ022 سرامک یا پولی ایسٹر
  C3 = 10p سرامک یا پولی ایسٹر   C4 = 0µ0047 سرامک یا پولی ایسٹر
  C5 = 0µ0022 سرامک یا پولی ایسٹر   C6 = 33p سرامک یا پولی ایسٹر
  C7 = 0µ022 سرامک یا پولی ایسٹر   C8 = 22p سرامک یا پولی ایسٹر
  C9 = 4µ7 الیکٹرولائیٹک   C10 = 47µ الیکٹرولائیٹک
  C11 = 4µ7 الیکٹرولائیٹک   C12 = 33µ الیکٹرولائیٹک
  C13 = 4µ7 الیکٹرولائیٹک   C14 = 33µ الیکٹرولائیٹک
  C15 = 33µ الیکٹرولائیٹک   C16 = 220µ الیکٹرولائیٹک

سیمی کنڈکٹر

  TR1 = 2SC535 این پی این ٹرانزسٹر   TR2 = 2SC482 این پی این ٹرانزسٹر
  TR3 = 2SC460 این پی این ٹرانزسٹر   TR4 = 2SC460 این پی این ٹرانزسٹر
  TR5 = 2N3053 این پی این ٹرانزسٹر   XTAL = 49.860MHz کرسٹل

متفرق

  L1 =   تفصیل مضمون میں   L2 =   تفصیل مضمون میں
  RFC =   تفصیل مضمون میں   T1 =   پرائمری : 8K0 سیکنڈری :2K0
  T2 =   پرائمری 8R سیکنڈری : 500R   LS =   8R0 لائوڈ سپیکر
  B1 =   9V0بیٹری   ANT =   لوپ اسٹک
  SW1 =   8 پول ٹو وے پش سوئچ   SW2 =   آن آف سوئچ

ٹیلی فون ہولڈ آن میوزک


(امیر سیف اللہ سیف)


جیسا کہ سرکٹ ڈایا گرام سے ظاہر ہے، اس سرکٹ میں میلوڈی آئی سی UM66 استعمال کیا گیا ہے۔ایسا UM66 استعمال کریں جس کے نمبر کے آخر میں S نہ لکھا ہو۔ S نمبر والا آئی سی صرف ایک مرتبہ میوزک چلا کر بند ہو جاتا ہے جبکہ ہمارے اس سرکٹ کو غیر معینہ وقفے کے لئے کام کرنا ہے۔

اس سرکٹ کو نصب کرنے کے لئے یہاں پر تین مختلف سائز کے پی سی بورڈ نمونے دیئے جا رہے ہیں تاکہ جگہ اور مقام کی مناسبت سے آپ اس سرکٹ کو نصب کرنے کے لئے مناسب پی سی بی منتخب کر سکیں۔




سرکٹ ڈایا گرام میں آن آف سوئچ بھی دکھایا گیا ہے۔ یہاں پر دیئے گئے بڑے سائز کے پی سی بی پر تو یہ سوئچ لگایا گیا ہے لیکن چھوٹے سائز کے پی سی بی پر یہ آن آف سوئچ نہیں لگایا گیا۔ اگر آپ نے یہ سرکٹ کسی ایسے مقام پر لگانا ہے جہاں جگہ کم ہو، مثال کے طور پر ٹیلی فون سیٹ کے اندر،تو پھر وہاں اس پی سی بی کے اوپر ہی یہ آن آف سوئچ لگانے کی ضرورت نہیں۔ اگر یہ سوئچ لگانا لازمی ہو تو ٹیلی فون سیٹ کی باڈی میں کسی مناسب مقام پر جگہ بنا کر وہاں آن آف سوئچ لگا لیں اور تار کے دو عددٹکڑوں سے اسے پی سی بی پر جوڑ دیں ۔اس سرکٹ کوپی سی پر نصب کر کے آپ نے ٹیلی فون سیٹ کے اندر لگانا ہے۔ ایسی صورت میں اگر یہ سوئچ پی سی بی کے اوپر ہی لگایا گیا تو اسے آن آف کرنا ممکن نہیں ہوگا۔

آئی سی UM66 میں چار مختلف میوزک موجود ہیں جن کی تفصیل یہ ہے۔

UM66-1 = Chrismas Melodies
UM66-2 = Birthday Melodies
UM66-3 = Wedding March
UM66-4 = Elvis Love Me Tender

فہرست اجزاء

( ٹیلی فون ہولڈ آن میوزک )
رزسٹرز    
R1 = 4K7 کاربن فلم
R2 = 150K کاربن فلم
VR1 = 10K پری سیٹ پوٹینشو میٹر
کپیسیٹرز    
C1 = 4µ7 الیکٹرولائیٹک
C2 = 4µ7 الیکٹرولائیٹک
سیمی کنڈکٹر    
IC1 = UM66 میلوڈی آئی سی(تفصیل مضمون میں)
Q1,2 = C828 سلیکان ٹرانزسٹر
D1-4 = 1N4001 ریکٹی فائر ڈائیوڈ
متفرق    
SW1 = آن آف سلائیڈ سوئچ(ڈبل پول سنگل تھرو)

پاور بوسٹر

(امیر سیف اللہ سیف)

اکثر اوقات ریلے‘سٹیپرموٹر یا ایسے ہی کسی بڑے لوڈ کو چلانے کے لیے ڈیجیٹل سگنل درکار ہوتا ہے۔ اس مقصد کے لیے متعلقہ آلے کی آؤٹ پٹ کرنٹ اور آؤٹ پٹ وولٹیج میں اضافہ کرنا لازمی ہوتا ہے۔چند لاجک جزاءکانسٹینٹ وولٹیج اوپن کلکٹر آئوٹ پٹس کے حامل ہیں تاہم یہ بھی 15V یا 30V تک محدود ہیں۔

ایک آسان ترکیب استعمال کرکے 7406 یا 7407 لاجک ٹی ٹی ایل آئی سی کی آئو ٹ پٹ بھی اوپن کلکٹر آئوٹ پٹ کے طور پر استعمال کی جا سکتی ہے۔ اس کا طریقہ شکل میں دکھایاگیا ہے۔ یہ اجزاءآپ شکل کے مطابق جوڑ کر بہت کم جگہ میں نصب کر سکتے ہیں۔ چونکہ اس اضافی سرکٹ کی آئوٹ پٹ سے حاصل ہونے والا سگنل انورٹ حالت میں ہوگا چنانچہ 7407 کی نان انورٹنگ نوعیت استعمال کرنی ہوگی تاکہ انورٹڈ آئوٹ پٹ حاصل ہو۔

ٹرانزسٹر کا انتخاب مطلوبہ آئوٹ پٹ کے اعتبار سے کریں۔ ٹرانزسٹر BC546 استعمال کرنے کی صورت میں آئوٹ پٹ 65V پر 200mA تک ہوگی۔




پاور بوسٹر کا سرکٹ ڈایا گرام اور اجزا کو جوڑنے کا طریقہ

گھریلو حفاظتی نظام

نادیدہ لہروں کی مدد سے حفاظتی نظام تشکیل دینے کا عمل نیا نہیں ہے۔ نہایت قیمتی سازوسامان کی حفاظت کا بڑے پیمانے پر انتظام ایسی نادیدہ لہروں کی مدد کیا جاتا ہے۔ جب ان نادیدہ شعاعوں یا لہروں کے تسلسل میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو کوئی سائرن، الارم یا دوسرے آلات رو بہ عمل ہو جاتے ہیں۔

یہاں پر ایک ایسے ہی کم لاگت کے حفاظتی نظام کا بندوبست کرنے کے لئے سرکٹ ڈایا گرام اور دیگر تفصیلات مہیا کی گئی ہیں۔ یہ نظام چوروں اور بلا اجازت آپ کے گھر تک رسائی حاصل کرنے والوں سے آپ کو فورا” آگاہ کرے گا۔ آج کل بازار میں چین کی بنی ہوئی لیزر ٹارچ کافی کم قیمت پر عام دستیاب ہے۔ اس نظام میں اسی ٹارچ کو استعمال کیا گیا ہے۔ آپ چاہیں تو لیزر ڈائیوڈ کی مدد سے آپ اپنی ٹارچ بھی بنا سکتے ہیں۔ اس کا سرکٹ ڈایا گرام اور طریقہ کار بھی مہیا کیا گیا ہے۔

جیسا کہ شکل میں دکھائے گئے بلاک ڈایا گرام سے واضح ہے۔ گھر کی بیرونی دیواروں کے کونوں پر سادہ آئینے اس طرح نصب کئے گئے ہیں کہ جب لیزر شعاع ان سے ٹکرا کر منعکس ہو گی تو ان شعاعوں کا ایک جال سا بن جائے گا۔ جب بھی ان شعاعوں میں سے کسی بھی ایک شعاع کے راستے میں کوئی بھی رکاوٹ آ کر، چاہے وہ ایک لمحے ہی کے لئے کیوں نہ ہو، اسے آگے جانے سے روک دے گی تو سرکٹ فورا“ رو بہ عمل ہو کر سائرن، الارم یا کسی بھی دوسرے حفاظتی آلے کو آن کر دے گا۔

لیزر شعاع آئنوں سے منعکس ہوتی ہوئی بالاخرایک ایل ڈی آر سے ٹکراتی ہے جو رسیور سرکٹ میں لگا ہوا ہے۔ اس ایل ڈی آر کو مناسب لمبائی (چار انچ مناسب رہے گی) کے ایک پائپ کے سرے پر نصب کرنا ضروری ہے تاکہ ایل ڈی آر دوسری روشنیوں سے متاثر نہ ہو۔



شکل نمبر 1 گھریلو حفاظتی نظام کی تنصیب کے لئے رہنما خاکہ


شکل نمبر 2 لیزر بیم (تیار شدہ) کے لئے رسیور سرکٹ ڈایا گرام


شکل نمبر 3 لیزر بیم خود بنانے کے لئے سرکٹ ڈایا گرام


شکل نمبر 4 لیزر بیم سرکٹ کی تشکیل کے لئے پی سی بی کا نمونہ


شکل نمبر 5 لیزر بیم سرکٹ کے پی سی بی پر اجزا کی ترتیب


شکل نمبر 6 لیزر بیم سرکٹ کا نصب شدہ خاکہ


شکل نمبر 7 رسیور سرکٹ کی تشکیل کے لئے پی سی بی کا نمونہ


شکل نمبر 8 رسیور سرکٹ کے پی سی بی پر اجزا کی ترتیب


شکل نمبر 9 رسیور سرکٹ کا نصب شدہ خاکہ

اس حفاظتی نظام کا رسیور سرکٹ چند عام دستیاب پرزہ جات پر مشتمل ہے۔ ان میں دو عدد اسٹیپ ڈاؤن ٹرانسفارمرز، ریکٹی فائر ڈائیوڈز، فلٹر کپیسیٹرز، دو عدد ریلے سوئچز، ایک پی این پی ٹرانزسٹر اور ایک ایل ڈی آر پر مشتمل ہے۔ جب ایل ڈی آر پر لیزر بیم منعکس ہوتی ہوئی آتی ہے اور جب تک موجود رہتی ہے، ٹرانزسٹر روبہ عمل حالت میں رہتا ہے اور اس سے منسلک ریلے سوئچ بھی آن حالت میں رہتا ہے۔ جوں ہی لیزر بیم کے سامنے کوئی رکاوٹ پیدا ہوتی ہے، ایل ڈی آر کی رزسٹینس میں اضافہ ہو جاتا ہے اور ٹرانزسٹر آف حالت میں آ جاتا ہے۔ ٹرانزسٹر آف ہونے سے ریلے سوئچ بھی آف ہو جاتا ہے اور اس کا نارملی کلوزڈ کنکشن، کامن کنکشن سے مل کر دوسرے ٹرانسفارمر کو مین اے سی سپلائی سے منسلک کر دیتا ہے۔ جوں ہی اس ٹرانسفارمر کو مین اے سی سپلائی ملتی ہے اس سے منسلک ریلے سوئچ آن ہو کر کسی سائرن، الارم یا دوسرے آلے کو آن کر دیتا ہے۔

نوٹ :لیزر بیم سرکٹ خود بنانے کے لئے مکمل پروجیکٹ “سالڈ اسٹیٹ لیزر“ پڑھیں۔

12 وولٹ ٹیوب لائٹ انورٹر

(امیر سیف اللہ سیف)

اس ٹیوب لائٹ انورٹر میں کوئی بھی مخصوص پرزہ جات استعمال نہیں کئے گئے۔ عام طور پر ایسے سرکٹس میں استعمال ہونے والے ٹرانسفارمر خاص طور پر بنانے پڑتے ہیں لیکن اس میں آپ عام دستیاب پاور سپلائی ٹرانسفارمر جو 12 وولٹ سیکنڈری کا ہو، استعمال کر سکتے ہیں۔ ٹیوب لائٹ کو روشن کرنے کے لئے کوئی بھی 12 وولٹ کا ایسا ٹرانسفارمر جس کی کرنٹ ریٹنگ 350mA ہو، کافی رہے گا۔اس سرکٹ میں یہ ٹرانسفارمر الٹا استعمال ہوگا یعنی 220V سیکنڈری کو ایک کپیسیٹر کے راستے ٹیوب لائٹ سے جوڑا جائے گا جبکہ 12Vپرائمری کو میٹل آکسائیڈ سیمی کنڈکٹر فیلڈ ایفیکٹ ٹرانزسٹر MOSFET کی آؤٹ پٹ سے جوڑا جائے گا۔ٹرانزسٹر Q1 کو لازماً ہیٹ سنک پر نصب کریں۔ آؤٹ پٹ میں خاصے وولٹیج ہوں گے لہذا آن حالت میں سرکٹ پر کام کرتے وقت محتاط رہیں۔



12 وولٹ ٹیوب لائٹ انورٹر کا سرکٹ ڈایا گرام


12 وولٹ ٹیوب لائٹ انورٹرکے لئے پرنٹڈ سرکٹ بورڈ                       12 وولٹ ٹیوب لائٹ انورٹرنصب شدہ   


پرنٹڈ سرکٹ بورڈ پر 12 وولٹ ٹیوب لائٹ انورٹرکے اجزا کی ترتیب

فہرست اجزاء

( 12وولٹ ٹیوب لائٹ انورٹر)

رزسٹرز    
R1 = 1K0 رزسٹر ¼ واٹ
R2 = 2K7 رزسٹر ¼ واٹ
کپیسیٹرز    
C1 = 100µF، 25V الیکٹرو لائیٹک
C2,3 = 0µ01F، 25Vسرامک ڈسک
C4 = 0µ01F، 1KV سرامک ڈسک
سیمی کنڈکٹرز    
Q1 = IRF510 موس ایف ای ٹی
IC1 = 555 ٹائمر آئی سی
متفرق    
T1 = 12V، ٹرانسفارمر 350mA (تفصیل مضمون میں)
  = 210V مین سپلائی اے سی کیبل پلگ کے ساتھ

8051 مائیکرو کنٹرولر ٹرینر





8051 مائیکرو کنٹرولر ٹرینر کا سرکٹ ڈایا گرام




8051 مائیکرو کنٹرولر ٹرینر کے لئے پرنٹڈ سرکٹ بورڈ کا نمونہ
( اصل سائز 159mm x 108mm)۔




8051 مائیکرو کنٹرولر ٹرینر کے پرنٹڈ سرکٹ بور پر اجزا کی ترتیب




8051 مائیکرو کنٹرولر ٹرینر نصب شدہ حالت میں۔

دو ٹون الارم

(امیر سیف اللہ سیف)

ڈیجیٹل کلاک کے ساتھ عام طور پر ڈی سی بذر بطور الارم استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کی آواز نہ صرف کم ہوتی ہے بلکہ کانوں کو اچھی بھی نہیں لگتی۔ آیئے آپ کو ایک ایسا الارم بنانے کا طریقہ بتائیں جو نہ صرف دو ٹون میں آواز دے گا بلکہ اس کی آواز بھی خاصی بلند ہوگی اور مزے کی بات یہ ہے کہ اس کی آواز کانوں کو بری بھی نہیں لگے گی۔

دوٹون الارم کا سرکٹ ڈایا گرام شکل نمبر 1 میں دکھایا گیا ہے۔ اس سرکٹ میں ٹائمر آئی سی 555 کو ایسٹیبل ملٹی وائبریٹر کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ اس ایسٹیبل ملٹی وائبریٹر کی فریکوئنسی 800Hz رکھی گئی ہے۔ ٹائمر آئی سی کی کنٹرول ان پٹ (پن 5) پر کلاک آئی سی کی پن 39 سے 1Hz آئوٹ پٹ فراہم کی گئی ہے۔ اس طرح ٹائمر کی فریکوئنسی ہر سیکنڈ بعد تبدیل ہوتی ہے اور اس کی آؤٹ پٹ سے دو ٹون کی آواز نکلتی ہے۔





شکل نمبر 1 : ٹائمر آئی سی 555 پر مشتمل دو ٹون الارم سرکٹ ڈایا گرام برائے ڈیجیٹل کلاک
ڈایا گرام کے نیچے دو ٹون الارم کے لئے پر نٹڈ سرکٹ بورڈ اصل سائز میں دکھایا گیا ہے - سا تھ ہی پر نٹڈ سرکٹ بورڈ پر دو ٹون الارم کے اجزا کی ترتیب بھی دکھائی گئی ہے -

فہرست اجزاء

( دو ٹون الارم )
رزسٹرز    
R1 = 68K کاربن فلم
R2 = 56K کاربن فلم
R3 = 10K کاربن فلم
R4 = 10K کاربن فلم
R5 = 33R کاربن فلم
R6 = 100K کاربن فلم
کپیسیٹرز    
C1 = 0µ01 سرامک
C2 = 100µ الیکٹرولائیٹک
C3 = 100n سرامک
C4 = 100µ الیکٹرولائیٹک
سیمی کنڈکٹر    
IC1 = 555 ٹائمر آئی سی
متفرق    
LS = 8W اسپیکر

ساؤنڈ لیول میٹر

(امیر سیف اللہ سیف)

اگرچہ آئی سی NE604 بنیادی طور پر ہائی فریکوئنسی اطلاقات کےلئے تجویز کردہ ہے تاہم اسے دوسری ضروریات کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے جیسا کہ زیر نظر سرکٹ میں اسے آڈیو اطلاقات (ساؤنڈ لیول میٹر کے طور پر ) کیلئے استعمال کیا گیا ہے۔

سرکٹ میں آئی سی کا سگنل اسٹرینتھ انڈیکیٹر کام میں لایا گیا ہے جو اندرونی لاگ رتھمک کنورٹر کی بنیاد پر کام کرتا ہے۔ اس کی وجہ سے ہم ہموار (لینئر) ڈیسی بل اسکیل حاصل کر سکتے ہیں چنانچہ سرکٹ میں دکھائے گئے موونگ کوائل میٹر کی جگہ ڈیجیٹل آلہ بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

سرکٹ کے لیے سگنل کی فراہمی کا ممکنہ ذریعہ الیکٹریٹ (کنڈنسر) مائیکروفون تصور کیا گیا ہے جو ارد گرد کی آوازوں کو برقی اشاروں (الیکٹریکل سگنلز) میں تبدیل کرتا ہے۔ اس نوعیت کے مائیکروفون میں عام طور پر ایک بفر اسٹیج موجود ہوتی ہے چنانچہ رزسٹرز R7، R8 اور کپیسیٹر C13 کے ذریعے اس بفر اسٹیج کے لئے پاور سپلائی وولٹیج مہیا کئے گئے ہیں۔

الیکٹریٹ (کنڈنسر) مائیک کے ذریعے آئی سی NE604 کی پن 16 پر ان پٹ مہیا کی گئی ہے۔ ان پٹ موصول ہونے پر NE604 پن 5 پر، جو کہ سگنل اسٹرینگتھ (اسٹرینتھ) کی آؤٹ پٹ ہے، 0 تا 50 مائیکرو ایمپئرµ A آؤٹ پٹ کرنٹ مہیا کرتا ہے۔ یہ آؤٹ پٹ کرنٹ، رزسٹر R2+R3 کے آرپار 0 تا 5V کا پوٹینشل ڈفرینس پیدا کرتی ہے۔ ان پٹ اور آؤٹ پٹ سگنل کی حدود 70dB کی صوتی حدود کے برابر یا متبادل ہیں۔ درجہ حرارت میں تبدیلی کی وجہ سے ہونے والے اثرات کا مداوا کرنے کے لئے 100 kΩ کی مطلوبہ رزسٹینس حاصل کرنےکے لئے دو رزسٹرز R2 اور R3 نیز ڈائیوڈ D1 استعمال کئے گئے ہیں۔

آؤٹ پٹ وولٹیج میں باقی رہنے والی کسی بھی نوعیت کی کوئی ناہمواری ختم کرنے کے لئےR4 رزسٹر اور کپیسیٹرزC9، C10 کو استعمال کیا گیا ہے۔ یہ اجزا آؤٹ پٹ کو آئی سی IC2 سے بفر (Buffer) کرنے سے قبل استعمال کئے گئے ہیں۔ ساؤنڈ لیول کو ظاہر کرنے کے لئے استعمال کردہ آلہ (یہاں پر موونگ کوائل میٹر) آئی سی کی آؤٹ پٹ پن 6 سے براستہ سیریز رزسٹرزR6+P1 مسلک کیا گیا ہے۔ اس پری سیٹ پوٹینشو میٹر (P1) کو اس طرح متعین (ایڈ جسٹ) کرنا ہے کہ 4V0 کے آؤٹ پٹ وولٹیج پر میٹر فل اسکیل ڈیفیلکشن (FSD) ظاہر کرے۔

اس ساؤنڈ لیول میٹر کی درجہ بندی (کیلی بریشن Calibration) کے لئے تدبیری طریقہ استعمال کرنا پڑے گا۔ دوسری صورت میں آپ کو پہلے سے درجہ بند آلے کی ضرورت پڑے گی۔ اگر آپ اپنے لاؤڈ اسپیکر کی کارکردگی سے بخوبی آگاہ ہیں اور جانتے ہیں کہ ایک میٹر فاصلے پر ایک واٹ آؤٹ پٹ کی صورت میں یہ کتنے ڈیسی بیل مہیا کرتا ہے تو آپ اس کو بطور حوالہ استعمال کر سکتے ہیں۔ اس کے بعد میٹر کے ڈائل یا اسکیل کو اسی کے مطابق دوسری اندازا“ مقداروں کے لئے نشان زدہ کیا جا سکتا ہے۔ اس ساؤنڈ لیول میٹر کی درجہ بندی چاہے کسی بھی طریقے سے کی جائے، ہمیشہ اس سے حاصل ہونے والی قدر کو صرف ظاہری مقدار کا اندازہ کرنے کے لئے استعمال کیا جائے۔ اس سے حاصل ہونے والی قدر درست ترین یا قطعی قدر نہیں ہوگی۔


آئی سی NE604N کے پن کنکشن اور اندرونی وائرنگ ڈایا گرام


ساؤنڈ لیول میٹر کا سرکٹ ڈایا گرام۔



ساؤنڈ لیول میٹر کیلئے پی سی بی کا نمونہ اور اجزاءکی پی سی بی پر ترتیب کا خاکہ۔


ساؤنڈ لیول میٹر کی کارکردگی کا گراف۔

گھنٹہ گھربرائے ڈیجیٹل کلاک -I

(امیر سیف اللہ سیف)

اس مفید پروجیکٹ کو بنا کر آپ اپنے ڈیجیٹل کلاک سے ہر گھنٹے بعد ایک بیپ Beep کی آواز میں گھنٹہ گزرنے کا اعلان سن سکتے ہیں۔

اس سرکٹ کے کام کرنے کی بنیاد یہ حقیقت ہے کہ جب ڈیجیٹل کلاک پر ایک گھنٹہ مکمل ہو جاتا ہے تو اس کے اکائی اور دہائی منٹ ظاہر کرنے والے ڈسپلے پر دو صفر 00 نمودار ہو جاتے ہیں۔ ایسا صرف ایک گھنٹے میں ایک ہی مرتبہ ہوتا ہے۔ اس صورت میں اکائی اور دہائی منٹ ڈسپلے آؤٹ پٹ سیگمنٹ f پر لاجک لیول 0 اور سیگمنٹٹ g پر لاجک لیول 1 ہوتا ہے۔ یہ حقیقت ذیل میں دی گئی جدول سے واضح ہے۔

جدول : اکائی منٹ ڈسپلے آؤٹ پٹ

                                                    ڈسپلے سیگمنٹ                            
ڈجٹ a b c d e f g
0 0 0 0 0 0 0 1
1 1 0 0 1 1 1 1
2 0 0 1 0 0 1 0
3 0 0 0 0 1 1 0
4 1 0 0 1 1 0 0
5 0 1 0 0 1 0 0
6 0 1 0 0 0 0 0
7 0 0 0 1 1 1 1
8 0 0 0 0 0 0 0
9 0 0 0 0 1 0 0

نوٹ: یہ جدول کامن اینوڈ نوعیت کے ڈسپلے کے لئے ہے۔
کامن کیتھوڈ نوعیت کے ڈسپلے کے لئے لاجک 0 کی جگہ لاجک 1
پڑھا جائے اور اسی طرح لاجک 1 کی جگہ لاجک 0 پڑھا جائے۔

جدول سے یہ بھی واضح ہے کہ ڈسپلے آؤٹ پٹ سیگمنٹ f اور g پر لاجک لیول کی یہ صورت بقیہ کسی ہندسے کے ڈسپلے ہونے سے پیدا نہیں ہوتی۔اسی لاجک کیفیت کو استعمال کرتے ہوئے ہم ایسا سرکٹ تشکیل دے سکتے ہیں جو عین اسی وقت روبہ عمل ہو اور اس وقت تک رو بہ عمل رہے جب تک یہ کیفیت برقرار رہے۔ شکل میں ایسا ہی ایک سرکٹ دکھایا گیا ہے۔





گھنٹہ گھر I کا سرکٹ ڈایا گرام برائے ڈیجیٹل کلاک
ڈایا گرام کے نیچے گھنٹہ گھر I کے لئے پر نٹڈ سرکٹ بورڈ اصل سائز میں دکھایا گیا ہے - سا تھ ہی پر نٹڈ سرکٹ بورڈ پر گھنٹہ گھر I کے اجزا کی ترتیب بھی دکھائی گئی ہے -

اس سرکٹ میں سی موس آئی سی 4011 اور 4012 استعمال کئے گئے ہیں۔ سرکٹ ڈایا گرام میں دکھائے گئے گیٹ N1 اور N2 آئی سی 4011 کے اور گیٹ N3 اور N4 آئی سی 4012 کے ہیں۔ گیٹ N1 اور N2 دو ان پٹ نینڈ گیٹ ہیں جن کی دونوں ان پٹس کو باہم جوڑ دیا گیا ہے۔ ان دونوں ان پٹس سے کلاک آئی سی کی اکائی منٹ اور دہائی منٹ کی سیگمنٹ f آؤٹ پٹس جوڑی جائیں گی۔ باقی کنیکشن سرکٹ ڈایا گرام میں واضح کئے گئے ہیں جن کو سمجھنا آپ کے لئے مشکل نہیں ہوگا۔

سرکٹ کا عمل اس طرح ہے کہ جب کلاک ڈسپلے پر منٹ کے ہندسے (اکائی اور دہائی) 00 ہوں گے تو دونوں ڈجٹس کے f سیگمنٹ لاجک 0 پر جبکہ ان کے g سیگمنٹ لاجک 1 پر ہوں گے۔ یہ کیفیت بقیہ کسی بھی وقت نمودار نہیں ہوتی چنانچہ اس کیفیت کے نمودار ہونے پر گیٹ N3 کی آؤٹ پٹ لو ہو جائے گی۔ اس گیٹ کی آؤٹ پٹ لو ہونے پر گیٹ N4 کی آؤٹ پٹ ہائی ہو جائے گی اور بذر بجنا شروع ہو جائے گا۔

آپ دیکھ رہے ہیں کہ گیٹ N4 کی آؤٹ پٹ اور بذر کے درمیان ایک کپیسیٹر لگا یا گیا ہے۔ اس کپیسیٹر کا کام یہ ہے کہ بذر کو مسلسل بجنے سے روکا جائے۔ آپ یہاں پر 10µF سے 100µF تک کی قدر کا کپیسیٹر استعمال کر سکتے ہیں۔ کپیسیٹر کی قدر زیادہ ہوگی تو بذر زیادہ دیر تک آواز دے گا اور اگر کپیسیٹر کی قدر کم ہوگی تو بذر سے آنے والی آواز بھی کم وقفے کے لئے سنائی دے گی۔

فہرست اجزاء

( گھنٹہ گھر I )
رزسٹرز    
  = استعمال نہیں کیا گیا
کپیسیٹرز    
C1 = 10-100u الیکٹرولائیٹک (تفصیل مضمون میں دیکھیں)
C2 = 10n سرامک یا پولی ایسٹر
C4 = 100u الیکٹرولائیٹک
سیمی کنڈکٹرز    
N1, N2 = 4011 سی موس آئی سی
N3, N4 = 4012 سی موس آئی سی
D1 = 1N4148 سگنل ڈائیوڈ
BZ = 6V پیزو سرامک بذر

ہر دس منٹ بعد بجنے والا الارم



اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ آپ کا ڈیجیٹل کلاک ہر دس منٹ بعد ایک آواز کے ذریعے وقت کی نشاندہی کر ے تو یہ سرکٹ آپ کی اس خواہش کو پورا کرے گا۔ سرکٹ بہت آسان ہے اور اس میں بھی سی موس آئی سی 4011 استعمال کیا گیا ہے۔ ہر دس منٹ بعد بجنے والے الارم کا سرکٹ شکل میں دکھایا گیا ہے۔

جدول : دہائی منٹ ڈسپلے ؤٹ پٹ

ڈسپلے سیگمنٹ

ڈجٹ abcdefg
00000001
11001111
20010010
30000110
41001100
50100100

نوٹ: یہ جدول کامن اینوڈ نوعیت کے ڈسپلے کے لئے ہے۔
کامن کیتھوڈ نوعیت کے ڈسپلے کے لئے لاجک 0 کی جگہ لاجک 1
پڑھا جائے اور اسی طرح لاجک 1 کی جگہ لاجک 0 پڑھا جائے۔





ہر دس منٹ بعد بجنے والے الارم کا سرکٹ ڈایا گرام
ڈایا گرام کے نیچے ہر دس منٹ بعد بجنے والے الارم کے لئے پر نٹڈ سرکٹ بورڈ اصل سائز میں دکھایا گیا ہے-
سا تھ ہی پر نٹڈ سرکٹ بورڈ پر ہر دس منٹ بعد بجنے والے الارم کے اجزا کی ترتیب بھی دکھائی گئی ہے-

اس سرکٹ کی ان پٹ بھی دہائی منٹ کے سیگمنٹ f اور g سے لی گئی ہے۔ ان پٹ پر مختلف لاجک لیول جدول میں دکھائے گئے ہیں۔ یہ جدول کامن اینوڈ نوعیت کے ڈسپلے کے لئے ہے۔ کامن کیتھوڈ نوعیت کے ڈسپلے کے لئے لاجک 0 کی جگہ لاجک 1 پڑھا جائے اور اسی طرح لاجک 1 کی جگہ لاجک 0 پڑھا جائے۔ آئی سی کے گیٹس کو مختلف ترتیب میں جوڑ کر ہر دس گھنٹے بعد ایک ٹک کی آواز حاصل کی گئی ہے۔ اس سرکٹ میں آئی سی کے صرف تین گیٹ استعمال کئے گئے ہیں۔ تیسرے گیٹ کی آﺅٹ پٹ ایک کپیسیٹر کے راستے پیزو سرامک بذر کو فراہم کی گئی ہے۔ اس کپیسیٹر کی قدر کم رکھنے سے ٹک کی آواز آئے گی لیکن اگر آپ اس کی قدر زیادہ رکھیں گے تو بذر زیادہ وقفے کے لئے آواز دے گا۔

فہرست اجزاء

( ہر دس منٹ بعد بجنے والا الارم )
کپیسیٹر    
C1 = 10µ الیکٹرولائیٹک
سیمی کنڈکٹر    
N1-3 = 4011 سی موس آئی سی
N3, N4 = 4012 سی موس آئی سی
متفرق    
BZ = 6V پیزو سرامک بذر