16.اختتامیہ - ناممکنات کا مستقبل

ناممکن کی طبیعیات از میچو کاکو -اختتامیہ
----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
ناممکنات کا مستقبل

-----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
کوئی بھی چیز چاہئے کتنی بڑی اور پاگل پن کی ہو بشرطیکہ کہ وہ طبیعی طور پر ممکن ہو تو لاکھوں کی تعداد میں موجود ٹیکنالوجیکل سوسائٹیوں میں سے کوئی ایک نہ ایک اس کو سنجیدگی سے ضرور لے گی ۔

- فری مین ڈیسن

منزل قسمت سے نہیں پسند سے حاصل کی جاتی ہے۔ چیزوں کا انتظار نہیں کیا جاتا بلکہ ان کو حاصل کیا جاتا ہے ۔

- ولیم جیننگس برائن (William Jennings Brian)

کیا کچھ ایسی سچائیاں موجود ہوں گی جو ہمیشہ ہماری پہنچ سے دور رہیں گی؟ کیا علم کے کچھ ایسے بیش بہا سمندر موجود ہیں جو جدید تہذیب کی بھی پہنچ سے دور ہوں گے۔ ابھی تک ہم نے جتنی ٹیکنالوجی کو بھی دیکھا اور جانچا ہے اس میں سے صرف دو ہی ایسی ملتی ہیں جو جماعت III کی ناممکنات میں جگہ پاتی ہیں یعنی کہ دائمی حرکی مشین اور پیش بینی۔ کیا کچھ اور ٹیکنالوجی بھی ایسی ہیں جن کا حاصل کرنا ممکن نہیں ہے ؟

خالص ریاضی وافر کلیات کی شکل میں بتاتی ہے کہ کچھ چیزیں یقینی طور پر ناممکن ہیں۔ ایک سادی سی مثال ہے کہ کسی بھی زاویے کو صرف پرکار اور فٹے کی مدد سے تین مساوی حصّوں میں قطعہ کرنا ممکن نہیں ہے ۔اس حقیقت کو ١٨٣٧ء میں ثابت کیا جا چکا ہے۔

یہاں تک کہ سادے نظام جیسا کہ علم الحساب میں بھی ناممکنات موجود ہیں۔ جیسا کہ میں نے پہلے بیان کیا تھا کہ یہ بات ناممکن ہے کہ تمام سچے بیانوں کو علم الحساب کے مفروضوں کے اندر رہتے ہوئے ثابت کیا جا سکے۔ علم الحساب نامکمل ہے۔ علم الحساب میں ہمیشہ سے ایسی سچے بیان موجود رہیں گے جن کو صرف ایک بڑے نظام کے تحت ثابت کیا جا سکتا ہے جس میں علم الحساب اس کا ذیلی حصّہ ہو۔

ہرچند کہ ریاضی میں کچھ چیزیں ناممکن ہیں ،لیکن کسی کو طبیعیاتی سائنس میں مطلق طور پر ناممکن کہنا بہت ہی خطرناک گردانہ جاتا ہے ۔ میں آپ کو نوبل انعام یافتہ البرٹ اے مچلسن(Albert A. Michelson) کی تقریر یاد دلاتا چلوں جو انہوں نے ١٨٩٤ء میں یونیورسٹی آف شکاگو کی ریئرسن فزیکل لیب کی یاد میں دی تھی۔ اس تقریر میں انہوں نے برملا اس بات کا اعلان کیا تھا کہ نئی طبیعیات کو دریافت کرنا ممکن نہیں ہے: طبیعیات کی سائنس کے سب سے زیادہ اہم بنیادی قوانین اور حقائق دریافت ہو چکے ہیں اور اب ان کو اتنا مضبوطی کے ساتھ قائم کیا جا چکا ہے کہ اس بات کا امکان کہ نئی دریافتوں کی صورت میں ان کی کوئی اور کبھی بھی جگہ لے سکے انتہائی دور کی کوڑی ہے۔۔۔۔ہماری مستقبل کی دریافتیں عشاریہ کے بعد چھٹے حصّے میں ملیں گی۔"

اس کا تبصرہ سائنسی دنیا کی تاریخ میں اس انقلاب کی شام میں تھا جب کوانٹم کا آفتاب ١٩٠٠ء میں طلوع ہو رہا تھا اور اضافیت کا مہتاب ١٩٠٥ء میں اپنی روشنی سے رات کی تاریکی کو دور کرنے آ رہا تھا۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ وہ چیزیں جو دور جدید کے مروجہ طبیعیات کے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نا ممکن نظر آتی ہیں ممکن ہے کہ کل جب ہمارے جانے پہچانے قوانین طبیعیات بدل جائیں وہ چیزیں ممکنات میں شامل ہو جائیں۔

١٨٢٥ء میں، عظیم فرانسیسی فلاسفر اوگستے کومتے (Auguste Comte)نے کورس ڈی فلوسوفی میں اعلان کر دیا تھا کہ سائنس کے لئے یہ بات نا ممکن ہے کہ وہ اس بات کا تعین کر سکے کہ ستارے کس چیز سے مل کر بنے ہیں۔ یہ اس وقت کے حساب سے ایک محفوظ دعویٰ تھا کیونکہ اس وقت تک ستاروں کی نوعیت کے بارے میں کچھ بھی پتا نہیں تھا۔ وہ اس قدر فاصلے پر تھے کہ ان پر جایا ہی نہیں جا سکتا تھا۔ اس کے باوجود اس کے دعوے کے صرف چند سال کے بعد ہی طبیعیات دانوں نے (طیف بینی کو استعمال کرتے ہوئے ) اس بات کا اعلان کر دیا کہ سورج ہائیڈروجن سے بنا ہے۔ درحقیقت ہم جانتے ہیں کہ ستاروں سے خارج ہونے والی روشنی کے ارب ہا سال پہلے طیفی خطوط کا تجزیہ کرکے یہ ممکن ہے کہ کائنات میں پائے جانے والے زیادہ تر کیمیائی عناصر کا پتا لگا سکیں۔

کومتے نے سائنس کی دنیا کو دوسری ناممکنات کی فہرست دے کر بھی للکارا تھا :

  • اس کا دعویٰ تھا کہ اشیاء کی اصل ساخت ہمارے علم سے ہمیشہ ماوراء ہی رہے گی۔ بالفاظ دیگر مادّے کی اصل نوعیت کو جاننا ممکن ہی نہ ہوگا۔
  • وہ سمجھتا تھا کہ ریاضی کو کبھی بھی حیاتیات اور کیمیا کو بیان کرنے کے لئے استعمال نہیں کیا جا سکے گا۔
  • اس کا خیال تھا کہ فلکی اجسام کا مطالعہ انسانی زندگی پر کوئی اثر نہیں ڈالے گا۔

انیسویں صدی میں ایسی ناممکنات کو پیش کرنا سمجھ میں آتا ہے کیونکہ سائنس کے بارے میں کا علم بہت ہی سطحی قسم کا تھا۔ مادّے اور حیات کے بارے میں وہ کچھ زیادہ نہیں جانتے تھے۔ تاہم آج ہمارے پاس جوہر ی نظریہ ہے جس نے مادّے کی ساخت کی تفتیش کے لئے بالکل ایک نیا جہاں ہی کھول دیا ہے۔ ہم ڈی این اے اور کوانٹم کے نظریہ کے بارے میں جانتے ہیں جس نے حیات اور کیمیا کے کئی گوشوں سے پردہ اٹھایا ہے۔ ہم خلاء میں شہابیوں کے اثر کے بارے میں بھی جان گئے ہیں جس نے نہ صرف زمین پر زندگی گزرنے کے طریقے کو بدل دیا ہے بلکہ اس کے اپنے وجود کو بھی شکل دینے میں مدد کی ہے۔

فلکیات دان جان بیرو درج کرتے ہیں ،"مورخ اب بھی اس بارے میں بحث کرتے ہیں کہ کومتے کا نقطۂ نظر ہی فرانس میں سائنس کے زوال کا ایک سبب بنا تھا۔"

ریاضی دان ڈیوڈ ہلبرٹ (David Hilbert) کومتے کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں "میرے خیال کے مطابق کومتے کو غیر حل شدہ مسئلہ نہ ملنے کی اصل وجہ یہ ہے حقیقت میں کوئی بھی لاینحل مسئلہ ہے ہی نہیں۔"

مگر آج سائنس دان نئے نا ممکنات کی فہرست بنا کر بیٹھ گئے ہیں : ہم کبھی بھی یہ بات نہیں جان پائیں گے کہ بگ بینگ سے پہلے کیا تھا (یا یہ دھماکہ ہوا ہی کیوں تھا ) اور ہم کبھی بھی ہر شئے کا نظریہ حاصل نہیں کر پائیں گے۔

طبیعیات دان جان وہیلر پہلے ناممکن پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں :"دو سو برس پہلے آپ کسی سے بھی یہ بات پوچھ سکتے تھے کہ "کیا ہم کبھی یہ بات سمجھ سکیں گے کہ حیات کیسے وجود میں آئی تھی ؟" اور وہ آپ کو شاید یہ جواب دیتا ،" بعید از قیاس !ناممکن !" میں بھی اس سوال کے لئے ایسا محسوس کرتا ہوں "کیا ہم کبھی یہ سمجھ سکیں گے کہ کائنات کیسے وجود میں آئی؟" ماہر فلکیات جان بیرو مزید اضافہ کرتے ہیں ، روشنی جس رفتار سے سفر کرتی ہے وہ محدود ہے لہٰذا ہمارا کائنات کی ساخت کے بارے میں علم بھی محدود ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ یہ محدود ہے یا لامحدود ، اس کی شروعات بھی ہوئی تھی یا اس کا خاتمہ بھی ہوگا یا نہیں ، معلوم نہیں کہ طبیعیات کی ساخت ہر جگہ ایک جیسی ہے یا نہیں ، اور کیا کائنات صاف ہے یا گندی ہے ،۔۔۔۔تمام عظیم سوالات جو کائنات کی نوعیت کے بارے میں ہیں - اس کی پیدائش سے لے کر اس کے انجام تک - ناقابل جواب ہیں۔"

بیرو بالکل صحیح تھا کہ ہم کبھی بھی قطعیت کے ساتھ کائنات کی شان و شوکت کی اصل نوعیت کو نہیں جان پائیں گے۔ مگر یہ بات ممکن ہے کہ ہم بتدریج ان ازلی سوالات کے جواب کافی نزدیک تک حاصل کر لیں۔ بجائے قطعیت کو اپنے علم کی سرحدوں کا تابع کریں ان ناممکنات کو اپنے لئے ایک چیلنج کے طور پر قبول کرنا اگلی آنے والی سائنس دانوں کی نسل کے لئے زیادہ بہتر ہوگا۔ یہ حدود کیک کی پرتوں جیسی ہیں جن کو بس کاٹنا ہے۔

جاری ہے۔۔۔۔۔