15۔ پیش بینی

ناممکن کی طبیعیات از میچو کاکو - حصّہ سوم
----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
15۔ پیش بینی - پہلا حصّہ

-----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
تناقض ایک سچائی ہے جو توجہ حاصل کرنے کے لئے سر کے بل کھڑی ہے۔

- نیکولس فلیٹا (Nicholas Falletta)

کیا پیش بینی یا وقوف ماقبل کا وجود ہو سکتا ہے؟ یہ قدیمی تصوّر ہر مذہب میں موجود ہے جس کی تاریخ رومیوں اور یونانیوں کے ہاتف سے لے کر پرانے عہد نامے کے انبیاؤں تک جاتی ہے۔ مگر ان قصّوں میں پیش بینی کا تحفہ ایک طرح سے سزا بھی ہوتی تھی۔ یونانی دیو مالائی قصّوں میں ایک ٹرائے کے بادشاہ کی بیٹی کیسنڈرا (Cassandra) ہوتی ہے۔ اپنی خوبصورتی کی وجہ سے وہ سورج دیوتا اپالو کی توجہ حاصل کر لیتی ہے۔ اس کا دل جیتنے کے لئے اپالو اس کو مستقبل کو دیکھنے کی صلاحیت عطا کرتا ہے۔ تاہم کیسنڈرا اپالو کو حقارت سے ٹھکرا دیتی ہے۔ غیض و غضب سے بھرا ہوا اپالو اپنے دیئے ہوئے تحفہ کو اس طرح سے بدل دیتا ہے کہ کسینڈرا مستقبل کو تو دیکھ سکتی ہے لیکن اس کی پیش بینی پر کوئی یقین نہیں کرتا ہے۔ جب کسینڈرا اپنے لوگوں کو آنے والی قریبی تباہی سے آگاہ کرتی ہے تو اس کی کوئی نہیں سنتا ۔ اس نے کاٹھ کے گھوڑے کی فریب کے بارے میں ، ایگا میمنون (Agamemnon) اور یہاں تک کہ اپنی موت کے بارے میں بھی پہلے ہی سے بتا دیا تھا۔ تاہم اس کو سنجیدہ لینے کے بجائے ٹرائے کے لوگ اس کو پاگل سمجھ کر قید کر دیتے ہیں۔

نوسٹراڈیمس کی سولویں صدی کی پیش گوئیاں ہوں یا حال میں ہی ایڈگر کائیسے(Edgar Cayce) کے دعوے کہ وہ وقت کے پردے کو اٹھا سکتا ہے ہر کوئی پیش بینی کرنے میں لگا ہوا ہے ۔ اگرچہ بہت سارے دعوے دار ایسے موجود ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ ان کی پیش گوئیاں درست ثابت ہوں گی (مثال کے طور پر جنگ عظیم دوم کی پیشن گوئی ، جان ایف کینیڈی کا قتل ، اور اشتراکیت کا زوال )، غیر واضح ، تمثیلی انداز میں ان غیب دانوں نے اپنے شعرکچھ اس طرح سے لکھے ہیں کہ اس سے مختلف قسم کی متناقض توجہات حاصل کی جا سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر نوسٹراڈیمس کی رباعیاں عمومی طور کی ہیں کہ اس سے کوئی بھی اپنا من چاہا مطلب مطلب نکال سکتا ہے (اور لوگوں نے یہی کیا ۔)۔ ایک رباعی ملاحظہ کیجئے :

زمین کو ہلا دینے والی آگ دنیا کے قلب سے نکل کر دھاڑے گی :
نئے شہر کے قریب زمین لرزے گی
دو عالی منش ایک لاحاصل جنگ میں الجھ جائیں گے
بہار کی حسینہ چھوٹا نیا سرخ دریا بہائے گی۔

کچھ لوگوں کا دعویٰ ہے کہ یہ رباعی اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ نوسٹراڈیمس نے پہلے سے ہی نیویارک شہر کے جڑواں ٹاوروں کو ١١ ستمبر ٢٠٠١ء میں جلتے ہوئے دیکھ لیا تھا۔ اس کے باوجود صدیوں سے دوسرے واقعات کو بھی اسی رباعی سے منسوب کیا جاتا رہا ہے۔ بیان کردہ چیزیں اتنی مبہم ہیں کہ ان کی کئی تشریحات کی جا سکتی ہیں۔

پیش بینی تمثیل نگاروں کا پسندیدہ کھیل کا میدان بنا رہا ہے جنہوں نے آنے والے وقتوں میں سلطنتوں کے زوال کے بارے میں اس کے ذریعہ لکھنے کی کوشش کی ہے۔ شیکسپیئر کی میک بیتھ میں پیش بینی کھیل کا مرکزی خیال تھا اور میک بیتھ کی آرزو بھی تھی ، اس کھیل میں اس کا سامنا تین چڑیلوں سے ہوتا ہے جو اس کا عروج اسکاٹ لینڈ کے حکمران کی حیثیت سے دیکھ رہی ہوتی ہیں۔ چڑیلوں کی پیش گوئی کے ساتھ ہی اس کی لوگوں کے قتال کی خواہش اور حوصلہ بڑھ جاتا ہے ۔اور یہ پیش بینی اس کو ایک خونی اور مہیب مہم اپنے دشمنوں کو ختم کرنے کے لئے شروع کرنے کی تحریک دیتی ہے ۔ اس تحریک کے نتیجے میں وہ اپنے دشمن میکڈوف (Macduff)کی معصوم بیوی اور بچے کو بھی قتل کر دیتا ہے۔

تخت و تاج پر قبضہ کرنے کے لئے گھناؤنی حرکتیں کرنے کے بعد میک بیتھ کو چڑیلوں کے ذریعہ پتا لگتا کہ اس کو کسی جنگ میں شکست نہیں دی جا سکتی اور نہ ہی اس پر کوئی فاتح غالب آ سکتا ہے۔ وہ صرف اس وقت ہی شکست کھا سکتا ہے جب عظیم برنام جنگل کے لوگ اس کے خلاف بلندی (ڈنسیننی پہاڑی )پر آئیں گے۔ اور کوئی بھی عورت ایسے بچے کو جنم دے گیجو میک بیتھ کو نقصان پہنچا سکے ۔ تاہم قدرت کو تو کچھ اور ہی منظور تھا عظیم برنام کے جنگل میں میکڈوف کے فوجی اپنے آپ کو پودوں کی ٹہنیوں میں چھپائے ہوئے تھے ، اور خفیہ طور پر میک بیتھ کی طرف پیش قدمی کر رہے ہوتے ہیں ۔اور میکڈوف خود رحم مادر کو چیر کر پیدا ہوا تھا۔

اگرچہ ماضی کی پیش گوئیوں سے کئی الگ طرح کے معنی لئے جا سکتے ہیں ، لہٰذا ان کو جانچنا ممکن نہیں ہوتا ہے ، پیش گوئیوں کی ایک قسم ایسی ہے جس کا آسانی سے تجزیہ کیا جا سکتا ہے مثلاً زمین کی تباہی کے بارے میں درست تاریخ کا اندازہ لگانا ۔ جب سے انجیل کے آخری باب "الہام "نے یوم قیامت کی تفصیلات بیان کی ہیں ، جس میں افراتفری اور تباہی ، دجال کی آمد کے ساتھ ہی شروع ہو جائے گی اور دوسری اور آخری بار یسوع مسیح تشریف لائیں گے ، تب سے بنیاد پرستوں نے کافی کوشش کی ہے کہ یوم حشر کی درست تاریخ کی پیش گوئی کر سکیں۔

ایک اور شہرہ آفاق قیامت کی پیشن گوئی نجومیوں نے کی تھی ، اس پیش گوئی میں انہوں نے کہا کہ ایک عظیم سیلاب دنیا کا خاتمہ ٢٠ فروری ١٥٢٤ کو کر دے گا۔ ان کی اس پیشن گوئی میں تمام سیاروں کا فلک میں جمع ہونا تھا یعنی کہ عطارد ، زہرہ ، مریخ ، مشتری اور زحل۔ اس پیش گوئی نے پورے یورپ میں بڑے پیمانے پر افراتفری پھیلا دی ۔ انگلستان میں ٢٠ ہزار لوگوں نے اپنے گھروں کو کسمپرسی کی حالت میں چھوڑ دیا تھا۔ ایک قلعہ جس میں خوراک اور پانی کا دو مہینے کا ذخیرہ جمع کیا گیا تھا وہ سینٹ بارتھولومیو گرجا گھر(Saint Bartholomew Church) کے قریب بنایا گیا۔ پورے جرمنی اور فرانس میں لوگوں نے تندہی سے بڑی کشتیاں بنانی شروع کر دیں تاکہ سیلاب کے آنے پر اس میں بیٹھ جائیں۔ کاؤنٹ وون اگلہیم (Count Von Iggleheim) نے تو یہاں تک کیا کہ اس یادگار لمحے کے لئے ایک تین منزلہ کشتی تیار کر لی تھی۔ لیکن آخر کار جب وہ تاریخ آئی تو صرف معمولی سی بارش ہی برسی۔ ہجوم کا مزاج خوف سے یکدم غصّے میں بدل گیا۔ ان لوگوں نے جنہوں نے اپنی تمام جمع پونجی بیچ ڈالی تھی اور اپنی زندگانیوں کو الٹ پلٹ کر دیا تھا انتہائی ناامید ہو گئے تھے۔ غصّے سے بپھرا ہوا ہجوم دیوانہ ہو گیا۔ کاؤنٹ کو سنگسار کرکے موت سے ہمکنار کر دیا گیا اور سینکڑوں لوگ اس بھگدڑ میں مارے گئے۔

صرف عیسائی ہی نہیں ہیں جو پیش گوئیوں کے جھانسے میں آتے ہیں۔ ١٦٤٨ میں سباتائی زیوی ،سمیرنا کے امیر یہودی کا بیٹا تھا جس نے مسیحیت کا دعویٰ کر دیا تھا اور یہ پیش گوئی کی تھی کہ دنیا ١٦٦٦ میں ختم ہو جائے گی۔ خوش باش ، کرشماتی شخصیت ، اور دیو مالائی کہانیوں کبالہ پر زبردست عبور کے ساتھ اس نے تیزی سے اپنی گرد خوفناک جانباز وفادار مریدوں کا ٹولہ جمع کر لیا تھا جنہوں نے پورے یورپ میں خبر کو عوام الناس میں پھیلا دیا تھا۔ ١٦٦٦ کی بہار میں دور دراز میں رہنے والے یہودی جس میں فرانس، ہالینڈ ، جرمنی اور ہنگری کے رہائشی شامل تھے انہوں نے اپنا بستر بوریا سمیٹ کر اپنے مسیحا کی پکار کے منتظر ہوئے۔ مگر اس سال کے آخر میں زیوی کو قسطنطنیہ کے وزیر اعظم نے پابند سلاسل کر دیا تھا۔ ممکنہ پھانسی کو دیکھتے ہوئے اس نے ڈرامائی طور پر اپنے یہودی کپڑے اتار کر ترک عمامہ باندھ لیا اور اسلام قبول کر لیا۔ نتیجتاً دسیوں ہزاروں مریدوں نے اس کے طلسم کو توڑ کر اس دھرم سے علیحدگی اختیار کر لی۔ 

غائب دانوں کی پیش گوئیوں کی گونج آج بھی سنائی دیتی ہے اور دسیوں لاکھ دنیا کے باسیوں کی زندگی پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ ولیم ملر نے ریاست ہائے متحدہ امریکا میں اس بات کا اعلان کیا کہ ٣ اپریل ، ١٨٤٣ کو روز قیامت برپا ہونے والا ہے۔ جیسے ہی پیش گوئی ریاست ہائے متحدہ امریکا میں پہنچی ، اتفاق سے رات کو آسمان پر ١٨٣٣ میں ایک شاندار شہابیوں کی بارش شروع ہو گئی ، جو اس قسم کی بارش میں سب سے بڑی تھی ۔ اس واقعے نے ملر کی پیشن گوئی کو مزید تقویت دی۔

دسیوں ہزار جوشیلے مرید جو ملی رائٹس کہلاتے تھے روز قیامت کا انتظار کرنے لگے ۔ جب ١٨٤٣ آیا اور بغیر کسی قیامت برپا کیے گزر گیا ، تو ملی رائٹس کی تحریک کئی بڑے حصّوں میں بٹ گئی ۔ملی رائٹس کے زبردست جمگھٹے کی وجہ سے اس میں سے بنا ہوا ہر جتھے کا مذہب پر کافی گہرا اثر ہوا اور آج بھی ہے۔ ملی رائٹس کے ایک بڑے جتھے کی تحریک نے ١٨٦٣ میں جمع ہو کر اپنا نام سیون ڈے ایڈونٹسٹ چرچ رکھا جس کے آج لگ بھگ ایک کروڑ چالیس لاکھ مسیحی ارکان ہیں۔ ان کے مذہب کا مرکزی خیال مسیح کا فوری طور پر دوبارہ ظاہر ہونا ہے۔

جاری ہے۔۔۔۔۔