14۔ دائمی حرکی مشین

ناممکن کی طبیعیات از میچو کاکو - حصّہ سوم
----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
14۔ دائمی حرکی مشین (پہلا حصّہ)

-----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
نظریوں کی قبولیت کے چار مراحل ہوتے ہیں :

i. یہ بالکل بیکار ہے ، فضول ؛
ii. یہ دلچسپ ہے ، مگر ٹھیک نہیں ہے؛
iii. یہ سچ ہے ، مگر اہم نہیں ہے؛
iv. میں ہمیشہ سے یہی کہتا ہوں۔

- (جے بی ایس ہیلڈ ن ، ١٩٦٥ء )

آئزک ایسی موف کے کلاسک ناول "دی گاڈ دیم سیلو ز" میں ایک گمنام کیمیا دان حادثاتی طور پر ٢٠٧٠ء میں اپنے وقت کی سب سے عظیم ایجاد کر بیٹھتا ہے، وہ ایک ایسا الیکٹران پمپ ایجاد کر لیتا ہے جو لامحدود توانائی مفت میں پیدا کرتا ہے ۔ اس ایجاد کا اثر فوری اور بہت ہی گہرا ہوتا ہے ۔ اس کیمیا دان کو ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا ہے اور اس کو تاریخ کا عظیم سائنس دان گردانا جاتا ہے کیونکہ اس نے تہذیب کی توانائی کی پیاس کو بجھایا تھا۔ "وہ پوری دنیا کا سانتا کلاز اور الہ دین کا چراغ تھا۔ "ایسی موف نے لکھا۔ اس کی بنائی ہوئی کمپنی جلد ہی دنیا کی امیر ترین کمپنیوں میں سے ایک بن جاتی ہے جو تیل، گیس ، کوئلے اور نیوکلیائی صنعتوں کے کاروبار کو ٹھپ کر کے رکھ دیتی ہے ۔

دنیا اس مفت کی توانائی کے نشے میں ڈوب جاتی ہے اور تہذیب اس نئی ملنے والی طاقت کے نشے سے سرشار ہو جاتی ہے۔ ہر کوئی اس کارنامے کی خوشی منانے میں مصروف ہو جاتا ہے ۔ صرف ایک اکیلا طبیعیات دان ہی اس بات سے پریشان رہتا ہے ۔"یہ مفت کی توانائی کہاں سے آ رہی ہے؟" وہ اپنے آپ سے پوچھتا ہے ۔ آخر میں وہ یہ راز جان ہی جاتا ہے ۔ مفت کی توانائی ایک ہولناک قیمت کے بدلے میں مل رہی ہوتی ہے ۔ یہ توانائی خلاء میں ایک سوراخ میں سے آ رہی ہوتی ہے جو ایک متوازی کائنات سے جڑا ہوا ہوتا ہے ، اور پھر اچانک ہی توانائی کا سیلاب ہماری کائنات میں ایک زنجیری عمل شروع کر دیتا ہے ۔ نتیجے میں ستارے اور کہکشائیں تباہ ہو جاتی ہیں اور سورج ایک سپرنووا میں بدل جاتا ہے اور یوں وہ زمین کے ساتھ ہی تباہ ہو جاتا ہے ۔

جب سے تاریخ لکھی گئی ہے ، موجدوں، سائنس دانوں کے مقدس جام جبکہ عطائیوں اور دھوکے بازوں کے افسانوں میں" جاودانی حرکی مشین "کا ذکر ملتا ہے۔ جو ایک ایسا آلہ ہوتا ہے جو توانائی کو ضائع کئے بغیر ہمیشہ چلتا رہتا ہے۔ اس کا ایک بہتر ورژن ایک ایسا آلہ بھی ہوتا ہے جو اس توانائی سے زیادہ توانائی پیدا کرتا ہے جو وہ استعمال کرتا ہے ، جیسا کہ الیکٹران پمپ تھا ، جو مفت کی لامحدود توانائی پیدا کرتا تھا۔

آنے والے وقتوں میں جب ہماری صنعتی دنیا سے بتدریج سستا تیل ختم ہو جائے گا تو صاف توانائی کے وافر ذرائع کو ڈھونڈھنے پر کافی دباؤ ہوگا۔ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ، گرتی ہوئی پیداوار ، بڑھتی ہوئی آلودگی ، ماحولیاتی تبدیلیاں سب کے سب قابل تجدید توانائی کی کھوج میں دلچسپی کو بڑھا رہی ہیں۔ آج چند موجد اس لہر پر سوار ہو کر لامحدود مفت کی توانائی کی امید دلا رہے ہیں اور اپنی ان ایجادوں کو سینکڑوں لاکھوں کی تعداد میں بیچنے کے لئے پر تول رہے ہیں۔ وقتاً فوقتاً مختلف موجد سامنے آتے رہتے ہیں جو سنسنی خیز دعوے کر کے ذرائع ابلاغ میں اکثر اگلے ایڈیسن کہلاتے ہیں۔

دائمی حرکی مشین کی شہرت چار دانگ پھیلی ہوئی ہے۔ دی سمسنز کی ایک قسط جس کا عنوان "دی پی ٹی اے ڈس بینڈ " تھا ، اس میں لیزا استادوں کی ہڑتال کے دوران اپنی ایک دائمی حرکی مشین بناتی ہے۔ اس وجہ سے ہومر سختی سے اس بات کا اعلان کرتا ہے ،" لیزا یہاں آؤ۔۔۔اس گھر میں ہم حر حر کیات کے قوانین کو مانتے ہیں !"

ایک کمپیوٹر کے کھیل دی سمز ، زینو ساگا قسط Iاور II اور الٹیما IV: دی فالس پروفیٹ ،میں اور نکلوڈین کے پروگرام "انویڈر زم "، میں دائمی حرکی مشینوں نے نمایاں کردار ادا کیا ہے۔

لیکن اگر توانائی اتنی قیمتی ہے ، تو پھر اس بات کی کیا امید ہے کہ کوئی دائمی حرکی مشین بنائی جا سکے ؟کیا ایسا آلہ بنانا واقعی ناممکن ہے ،یا ان کے بنانے میں ہمیں طبیعیات کے قوانین پر نظر ثانی کرنا پڑے گی ؟

توانائی تاریخ کے آئینے میں 

توانائی کسی بھی تہذیب کی بقاء کے لئے انتہائی ضروری ہوتی ہے۔ دراصل انسانی تاریخ کو توانائی کے آئینے میں دیکھا جا سکتا ہے۔٩٩۔٩ فیصد انسانی وجود، قدیمی سماج خانہ بدوش تھے ، انتہائی کسمپرسی کی زندگی بسر کرتے ہوئے خوراک کے لئے شکار کرتے تھے۔ ان کی زندگی وحشیانہ اور مختصر تھی۔ ہمارے پاس جو توانائی اس وقت موجود تھی وہ ایک ہارس پاور کے بیسواں حصّہ تھی یعنی کہ ہمارے پٹھوں کی طاقت۔ ہمارے آباؤ اجداد کی ہڈیوں کے تجزیہ سے زبردست ٹوٹ پھوٹ کے واضح ثبوت ملے ہیں ، جو روز مرہ زندگی میں جدوجہد کے نتیجے میں واقع ہوئے تھے۔ اوسط عمر ٢٠ سال سے بھی کم تھی۔

مگر آخری برفانی دور کے خاتمے کے بعد جو دس ہزار سال قبل پہلے ختم ہوا تھا ، ہم نے زراعت اور پالتو جانوروں کے طریقوں کو دریافت کر لیا تھا ، خاص طور پر گھوڑے کو ، جس کے نتیجے میں بتدریج ہماری توانائی ایک ہارس پاور سے دو ہارس پاور تک بڑھ گئی۔ اس سے انسانی تاریخ میں پہلی مرتبہ انقلاب آنے کی شروعات ہوئی۔ گھوڑے اور بیل سے ایک آدمی کے پاس اتنی توانائی آ جاتی تھی کہ وہ پورے میدان میں حل چلا سکے ، دس میل کا سفر ایک دن میں کر سکے اور سینکڑا ہا پونڈ وزنی چٹانوں یا غلے کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جا سکے۔ انسانیت کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ان کے پاس زائد توانائی تھی جس کے نتیجے میں ہمارے شہروں کی بنیاد پڑی۔ زائد توانائی کا مطلب تھا کہ سماج فنکاروں ، ماہرین تعمیرات اور کاتب نویسوں کو پالنے کے قابل ہو گیا تھا جس کے نتیجے میں قدیمی سماج پھلے پھولے۔ جلد ہی عظیم سلطنتیں اور اہرام جنگلوں سے نمودار ہونے لگے۔ اوسط زندگی ٣٠ سال تک کی ہو گئی۔

اس کے بعد ٣٠٠ برس پہلے انسانی تاریخ میں دوسرا عظیم انقلاب برپا ہوا۔ مشین اور بھاپ کی آمد کے ساتھ ہی ایک انسان کے پاس توانائی کی مقدار دسیوں ہارس پاور تک ہو گئی۔ بھاپ کے انجن کی توانائی کو قابو میں لا کر لوگ اب پورے کے پورے براعظموں کو چند دنوں میں پار کرنے لگے۔ مشینیں اب پورے کے پورے میدانوں میں ہل چلا سکتی تھیں ، سینکڑوں لوگوں کو ہزاروں میل کی دوری تک لے جا سکتی تھیں اور ہم اس قابل ہو سکے کہ بلند و بالا عمارتوں والے شہروں کو بنا سکیں۔ انیسویں صدی تک ایک امریکی کی اوسط عمر لگ بھگ ٥٠ برس کے پہنچ گئی تھی ۔

آج ہم انسانی تاریخ کے تیسرے عظیم انقلاب یعنی کہ اطلاعاتی انقلاب کے دوراہے پر موجود ہیں۔ بڑھتی ہوئی آبادی ، بجلی اور طاقت کی حرص نے ہماری توانائی کی ضرورت کو آسمان سے باتیں کرنے والا بنا دیا ہے اور ہماری اضافی توانائی بہت ہی قلیل مقدار میں رہ گئی ہے۔ اب کسی بھی فرد کے لئے موجود توانائی کو ہزار ہا ہارس پاور میں ناپا جاتا ہے۔ ہم ایک کار جو ہزار ہا ہارس پاور کی ہوتی ہے اس کو یوں ہی ایک عام سے انداز میں لیتے ہیں۔ اس بات میں کوئی حیرت نہیں ہونی چاہئے کہ توانائی کی اس بڑھتی ہوئی طلب نے توانائی کے عظیم ذرائع میں دلچسپی کو یکدم بڑھا دیا ہے اور ان ذرائع میں دائمی حرکی مشین بھی شامل ہے۔

جاری ہے۔۔۔۔۔