پرنٹڈ سرکٹ بورڈ کی مرمت


آپ شوقیہ تجربات کرتے ہوں یا الیکٹرونک آلات کی مرمت کا پیشہ ورانہ کام، پرنٹڈ سرکٹ بورڈ کی مرمت سے آپ کا یقینا“ واسطہ پڑتا ہوگا۔ اس مضمون میں آپ کو اسی موضوع کے بارے میں کچھ بتایا جائے گا۔

ضروری سامان


پرنٹڈ سرکٹ بورڈ میں پرزے لگانے یا اس میں سے نکالنے کے لیے اور ٹوٹے ہوئے پرنٹڈ سرکٹ بورڈ کی مرمت کرنے کے لیے کچھ سامان درکار ہوتا ہے۔ سامان کی اس فہرست میں سے اکثر اوزار تو آپ کے پاس پہلے سے موجود ہوں گے اور اگر موجود نہ بھی ہوں تو آسانی سے مہیا کیے جا سکتے ہیں۔ درکار سامان میں
               1 -       تیز دھار اور پتلے بلیڈ والا جیبی چاقو                2 -       سخت بالوں والا ٹوتھ برش
               3 -       نرم تاروں والا چھوٹا برش
               4 -       جھاڑو کا چھوٹا سا تنکا یا ٹوتھ پک (خلال)
               5 -       لکڑی کے دو بلاک (شکل کے مطابق)
               6 -       سکسٹی فورٹی (60-40) بیروزہ بھرا سولڈر
               7 -       تھنر یا الکوحل کی ایک چھوٹی سی بوتل
               8 -       محدب عدسہ
تیز دھار اور پتلے بلیڈ والا جیبی چاقو‘ مڑی ہوئی تاروں کو سیدھا کرنے کے لیے ایک بہترین اوزار ثابت ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ چاقو، پرنٹڈ سرکٹ بورڈ پر موجود تانبے کی پتریاں، ٹرمینل، تار کے سرے وغیرہ کھرچ کر صاف کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس سے ان اشیاء پر ٹانکا لگانے میں آسانی رہتی ہے۔
سخت بالوں والا ٹوتھ برش بھی بہت کام کی چیز ہے۔ اس کی مدد سے اضافی اور فالتو ٹانکہ پگھلا کر صاف کرنے میں بہت آسانی رہتی ہے۔ بعض مقامات پر نرم تاروں والا چھوٹا برش بھی ضرورت پڑ جاتا ہے۔ سخت بالوں والا برش بعض اوقات تاروں کے نازک جوڑ اکھاڑ دیتا ہے ایسی صورت میں نرم بالوں والا برش مفید رہےگا۔
عام جھاڑو کا چھوٹا سا تنکا یا ٹوتھ پک (خلال)، پرنٹڈ سرکٹ بورڈ کے سوراخ میں سے پگھلا ہو ا ٹانکا نکالنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اکثر اوقات ایسا ہوتا ہے کہ سوراخ سے پرزے کی تاریں، ٹانکا پگھلا کر نکالنے کے بعد سوراخ ٹانکے سے بند ہو جاتا ہے یعنی سوراخ کے اوپر ٹانکا جم کر اسے بند کر دیتا ہے۔ بعد میں نیا پرزہ اس جگہ لگاتے وقت کافی دقت ہوتی ہےاور پرزے کی تاریں ایسے سوراخ میں داخل نہیں ہو پاتیں۔ اس دشواری سے بچنے کے لیے پرزہ لگانے سے پہلے سوراخ پر جما ہوا ٹانکہ اتارنا ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے تنکا یا خلال ایک بہترین چیز ثابت ہوگا۔ تنکے یا خلال کے علاوہ کوئی بھی سخت تار‘ پیپر پن‘ سلائی وغیرہ بھی استعمال کی جا سکتی ہے۔ اگر ان میں سے کوئی چیز بھی کارآمد ثابت نہ ہو رہی ہو تو آخری حل کے طور پر ڈرل مشین استعمال کی جا سکتی ہے۔ باریک بٹ لگا کر سوراخ میں نرمی سے دوبارہ سوراخ کر دیں۔ جما ہوا ٹانکہ صاف ہو جائے گا۔
سولڈرنگ ایڈز کے نام سے ایسے اوزار بھی دستیاب ہیں جن کے ایک سرے پر نوک بنی ہوئی ہوتی ہے تاکہ اس سے سوراخوں میں سے سولڈر نکالا جا سکے۔لکڑی کے دستے کے دوسرے سرے پر ایک جھری بنی ہوئی ہوتی ہے۔ اس جھری سے مڑی ہوئی تاریں اور ٹرمینل سیدھا کرنے کا کام لیا جا سکتا ہے۔ سولڈرنگ ایڈ سے کام لینے کے دو طریقے نیچے دی ہوئی شکل میں دکھائے گئے ہیں۔ اس نوعیت کا کام کرتے وقت مناسب ہوگا کہ لکڑی کے دو بلاک شکل کے مطابق پرنٹڈ سرکٹ بورڈ کو سہارا دینے کے لیے استعمال کئے جائیں۔ اس سے اجزائ‘ کنکشن اور نازک پتریوں کی حفاظت ہوگی اور ان کو نقصان پہنچنے کا خطرہ نہیں رہے گا۔
پرنٹڈ سرکٹ بورڈ پر ٹانکا لگانے کے لیے ہمیشہ سکسٹی فورٹی (60-40) بیروزہ بھرا سولڈر استعمال کریں۔ پتلی تار والا سولڈر بہترین ہوتا ہے یہی استعمال کریں۔ اس کا درجہ پگھلاؤ نسبتا“کم ہوتا ہے۔ یعنی یہ جلدی پگھلتا ہے۔
پی سی بی کی مرمت کرتے وقت تھنر یا الکوحل پاس رکھیں۔ ایک چھوٹی یا درمیانے سائز کی بوتل جتنی مقدار کافی ہو گی۔ ٹوٹے ہوئے پرنٹڈ سرکٹ بورڈ کی مرمت کے لیے بعض اوقات اس کے اوپر سے میل کچیل، بیروزہ، حفاظتی تہہ (سلیکون کوٹنگ‘ وارنش وغیرہ) اتارنا ضروری ہو جاتا ہے۔ اس مقصد کے لیے تھنر یا الکوحل ضرورت پڑتا ہے۔
پرنٹڈ سرکٹ بورڈ کی ٹوٹی ہوئی پتریوں اور جوڑوں کی مرمت کے بعد انہیں ضرور جانچ لیں اور یقین کر لیں کہ ان میں مکمل برقی اتصال یعنی کنکشن موجود ہے۔ اس قسم کی پڑتال کے لیے ایک عدد محدب عدسہ بہت کام کی چیز ہے۔ یہ اس وقت بھی آپ کے کام آئے گا جب آپ پرنٹڈ سرکٹ بورڈ پر ٹانکے لگانے کا کام مکمل کر لیں گے۔ آخر میں پرنٹڈ سرکٹ بورڈ کا اچھی طرح اور بغور جائزہ لیں۔ پتریوں کے درمیان گرا ہوا سولڈر خاص طور پر دیکھیں اور اگر کہیں ایسے ذرات ملیں تو انہیں اچھی طرح صاف کریں۔

خراب جوڑ / ٹانکے کی تلاش


پرنٹڈ سرکٹ بورڈ پر کمزور جوڑ یا خراب ٹانکے سے جسے عام طور پر ڈرائی سولڈ کہتے ہیں‘ اکثر واسطہ پڑتا ہے۔ اس کی وجوہات میں میل یا چکنی تاریں یا ٹرمینل‘ پگھلے ہوئے ٹانکے میں ہوا کا بلبلہ داخل ہونے سے اتصال کا مکمل نہ ہونا‘ یا سولڈرنگ فلکس کا نہ پگھلنا وغیرہ ہو سکتی ہیں۔ فلکس سے مراد وہ مادہ ہے جو ٹانکا لگانے میں مدد دیتا ہے۔ یہ سولڈر کو پگھلنے میں مدد دیتا ہے یعنی اس کی موجودگی میں ٹانکا جلد پگھلتا ہے۔ آپ کو جو سولڈر بتایا گیا ہے اس میں بیروزہ بھرا ہوتا ہے۔ بیرزہ ہی فلکس کا کام کرتا ہے۔ خراب‘ ناقص اور کمزور ٹانکے کی سب سے عام وجہ فلکس ہے۔ ٹانکے کے نیچے اس کی ایک تہہ پرزے کی ٹانگ پر چڑ ھ جاتی ہے جو حاجز ہوتی ہے۔ اس سے اتصال یعنی جوڑ مکمل نہیں ہو پاتا۔ اگرچہ ایسا ٹانکا دیکھنے میں درست اور بہترین نظر آتا ہے لیکن درحقیقت ایسا نہیں ہوتا۔



ناقص ٹانکے کی وجہ سے آپ کے پروجیکٹ میں یہ نقص پیدا ہو سکتا ہے کہ کبھی تو وہ کام کرنا شروع کر دے گا اور کبھی بند ہو جائے گا۔ بعض اوقات پی سی بی پر ہلکی سی چوٹ مارنے سے بند یونٹ دوبارہ کام کرنا شروع کر دیتا ہے۔ اس نوعیت کا نقص بہت پریشان کن ہوتا ہے لیکن اس کو ڈھونڈنے کا ایک مناسب طریقہ بھی ہے۔ اگرچہ اس نقص کی تلاش کہ یہ کس مقام پر ہے ایک مشکل اور صبر آزما کام ہے۔ تاہم بعض اوقات نقص کا مقام جلدی مل جاتا ہے۔
جب کام کرتا ہوا سیٹ بند ہو جائے تو پیچ کس کے دستے سے پرنٹڈ سرکٹ بورڈ کے ایک کنارے پر دباؤ ڈالیں۔ اس کے بعد دوسرے کنارے پر یہی عمل دہرائیں۔ اس مقصد کے لیے پرانے ٹوتھ برش کا دستہ بھی کام آسکتا ہے۔ اس کی مدد سے ٹرمینلز‘ ساکٹس اور دوسرے بڑے بڑے پرزوں پر دباؤ ڈالیں۔ بعض اوقات ایک تار کی مدد سے مختلف پرزوں کی ٹانگین شارٹ کرنے سے بھی نقص جلدی مل جاتا ہے۔ اس مقصد کے لیے تانبے کی پتریوں کےکنکشنز کو دوبارہ باریک سروں والی تار سے شارٹ کریں۔ ایسے پرزوں کو شارٹ نہ کریں جن کے مابین کنکشن نہ ہو۔ شارٹ کرنے کا یہ عمل آپ اس کنکشن کی جانچ کے لیے کر رہے ہیں جو پہلے سے جڑا ہوا ہے۔ مثال کے طور پر آپ یہ دیکھیں کہ پی سی بی کا ٹریک (تانبے کی پتری) ایک پرزے کی ایک تار سے دوسرے پرزے کی ایک تار تک جا رہی ہے لیکن آپ کو شک ہے کہ شاید پتری درست کنکشن مہیا نہیں کر رہی تب آپ اس پتری کے سروں کو باریک تار کی مدد سے شارٹ کر کے جانچیں۔



جب آپ کمزور یا برے جوڑ کو تلاش کرلیں یا آپ کو یقین ہو جائے کہ پرنٹڈ سرکٹ بورڈ کے ایک خاص حصے میں ایسا جوڑ یا ٹانکا واقع ہے تو یونٹ کو آف کرکے اس حصے کے سارے ٹانکوں کو دوبارہ گرم کرکے پگھلا لیں۔ اس طرح ٹانکے دوبارہ پگھل کر نئے ٹانکے کی طرح لگ جائیں گے۔ بعض اوقات پہلی کوشش کامیاب ثابت نہیں ہوتی۔ ایسی صورت میں دوبارہ یہی عمل کریں۔
خیال رہے کہ اگر آپ کی پہلی کوشش کامیاب نہ ہو تو اس مشتبہ حصے کے ساتھ ساتھ قریبی حصوں کے تمام ٹانکے بھی دوبارہ لگا دیں۔
اس نوعیت کی خرابی کا اصل مقام تلاش کرنے کے بجائے مشکوک حصے کے تمام ٹانکے دوبارہ لگا کر اکثر اوقات بہت سا وقت بچایا جا سکتا ہے۔ سولڈرنگ آئرن کی بٹ کو صاف کر لیں اور ایک سرے سے ٹانکے دوبارہ لگانے کا عمل سرانجام دیں۔ سارے ٹانکے دوبارہ لگانے کے بعد بھی اگر نقص برقرار رہے تو آپ یقین کر لیں کہ نقص کسی پرزے کے اندر ہے۔

ٹوٹی ہوئی پتریوں کی تلاش


چونکہ تانبے کی پتریاں بہت مہین ہوتی ہیں چنانچہ پرزے نکالتے یا ڈالتے وقت یا بورڈ کے زیادہ مڑنے یا دوسرے بھاری پرزوں کے دباؤ یا ان کے اپنے وزن کے باعث یا ایسی ہی دیگر وجوہات کی بنا پر یہ آسانی سے ٹوٹ جاتی ہیں۔ دباؤ ختم ہونے کے بعد اگرچہ یہ پتریاں دوبارہ مل جاتی ہیں اور عام نگاہ میں جڑی ہوئی دکھائی دیتی ہیں لیکن در حقیقت وہاں پر سرکٹ کا تسلسل ٹوٹ جاتا ہے۔ سرکٹ کے اندر یہ نقص جو اوپن سرکٹ کہلاتا ہے عام طور پر نظر نہیں آتا۔



پرنٹڈ وائرنگ یعنی تانبے کی پتریوں میں اس نوعیت کا نقص محدب عدسے کی مدد سے تلاش کیا جا سکتا ہے۔ پی سی بی پرمختلف مقامات پر دباؤ ڈال کر محدب عدسے سے پتریوں کو بغور دیکھنے اور باریک بینی سے جائزہ لینے پر ایسا نقص نظر آجاتا ہے۔ اس نقص کو تلاش کرنے کا ایک اور طریقہ یہ ہو سکتا ہے کہ باریک پروب والی ایک تار لے کر مشکوک پتریوں کے دونوں کناروں کو آپس میں شارٹ کرکے دیکھیں۔ اس دوران میں اپنا آلہ آن رکھیں۔ جو پتری ٹوٹی ہوئی ہوگی اس کے کناروں کو شارٹ کرنے سے سیٹ یعنی آپ کا آلہ کام کرنا شروع کر دے گا۔
جب ٹوٹی ہوئی پتری والا یہ نقص نظر آ جائے تو پتری کے دونوں کناروں پر سے وارنش یا کوٹنگ وغیرہ صاف کریں اور وہاں پر ٹانکے کا ایک قطرہ پگھلا کر ڈال دیں۔ سرکٹ مکمل ہو جائے گا۔ ممکن ہو تو اس جگہ کو دوبارہ وارنش یا سلیکان کوٹنگ سے ڈھانپ دیں۔



اوپر دکھائی گئی شکل میں پرنٹڈ وائرنگ (تانبے کی پتریوں) کے نقص کو دور کرنے کے طریقے دکھائے گئے ہیں۔ جیسا کہ پہلے بتایا جا چکا ہے، اگر ٹوٹی ہوئی پتری کے سروں کے درمیان فاصلہ کم ہو تو اسے ٹانکا لگا کر درست کیا جا سکتا ہے۔ ٹوٹے ہوئے مقام پر سے کوٹنگ وغیرہ صاف کر لیں۔ اگر ٹوٹے ہوئے مقام پر میل اور چکنائی یا گردوغبار وغیرہ جما ہوا ہے تو اسے کھرچ کر صاف کریں۔ صفائی کا یہ عمل ٹوٹے ہوئے مقام پر دونوں طرف قریبا“ چوتھائی انچ تک سرانجام دیں۔ سولڈرنگ آئرن کو اس طرح پکڑیں کہ وہ ٹوٹے ہوئے دونوں حصوں کو گرم کرے اس کے بعد فورا ٹانکا یعنی سولڈر لگا دیں۔ یہ عمل نہایت سرعت سے انجام دیں تاکہ ٹوٹے ہوئے مقام پر پتریاں زائد حرارت کے باعث اکھڑ نہ سکیں۔
اگر ٹوٹی ہوئی پتری کے سروں کے درمیان فاصلہ اتنا زیادہ ہو کہ ٹانکا لگا کر جوڑنا ممکن نہ ہو تو ٹوٹے ہوئے کناروں کو تار کے ایک ٹکڑے کی مدد سے آپس میں ملایا جا سکتا ہے۔ ٹوٹے ہوئے کناورں پر سے کوٹنگ، میل اور چکنائی یا گردوغبار وغیرہ کھرچ کر صاف کریں۔ ٹوٹے ہوئے سروں پر سے دونوں طرف قریبا“ 1/10 انچ تک صفائی کر لیں۔ اب نصف انچ لمبی تانبے کی ٹانکا چڑھی تار کو ٹانکا لگا کر ان کناروں پر ٹانکا لگا کر مضبوطی سے دوبارہ جوڑ دیں۔ پہلے تار کو گرم کریں اور اس پر ٹانکے کی ایک تہہ چڑھا دیں۔ اس کے بعد اس کوٹوٹے ہوئے مقام پر رکھ کر سولڈرنگ آئرن سے گرم کریں اور ٹانکا لگا دیں۔
اگر تانبے کی پتری اکھڑ جائے لیکن ٹوٹے نہیں تو اسے ایلفی یا اسی طرح کے کسی دوسرے مادے سے اپنی جگہ پر دوبارہ چپکایا جا سکتا ہے۔ اگر پتری اکھڑ کر ٹوٹ جائے تو مندرجہ بالا طریقے سے مناسب لمبائی کا تار کا ایک ٹکڑا ٹانکے سے جوڑا جا سکتا ہے۔

اجزا کا تبدیل کرنا


پرنٹڈ سرکٹ بورڈ پر اجزاءکو تبدیل کرنے کا طریقہ بیان کرنے سے قبل مناسب ہوگا کہ اجزاءکو ان کی ایک ٹانگ بورڈ سے نکال کر جانچنے کے طریقے کی تفصیل بیان کر دی جائے۔ اکثر اوقات خراب آلات کی مرمت کرتے وقت یا خراب پرزے تلاش کرتے وقت رزسٹر یا کپیسٹرز کی ایک ٹانگ سرکٹ بورڈ سے نکال کر جانچ پٹرتال کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ اگرچہ آج کل ” ان سرکٹ ٹیسٹر“ بھی دستیاب ہیں لیکن اگر یہ آپ کے پاس موجود نہ بھی ہوں تب بھی ملٹی میٹر کی مدد سے ان اجزا کے درست یا خراب ہونے کا کسی حد تک اندازہ لگایا جا سکتا ہے اس مقصد کے لیے جانچ پڑتال کی ذیل میں سیمی کنڈکٹر پرزہ جات کی بنیادی جانچ اور سیمی کنڈکٹرز کی جانچ پڑتال اور تبدیلی دیکھیں۔
مشکوک پرزے کی ایک تار سرکٹ سے باہر نکال کر اس کو اوہم میٹر کی مدد سے جانچا جاتا ہے۔ اس عمل میں اگر دو باتیں یا درکھی جائیں تو کوئی خاص مشکل پیش نہیںآتی۔ پہلی بات یہ ہے کہ اگر آپ نے پرزے کو بورڈ سے نکالتے وقت غیر ضروری زور لگایا تو آپ کو مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ دوسری بات یہ ہے کہ اگر آپ نے بورڈ پر زیادہ حرارت استعمال کی تو بھی آپ کو مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اگر وہ تار جسے باہر نکالنا ہے مڑی ہوئی ہے تو اسے پہلے سیدھا کریں۔ ایسی تاروں کو سیدھا کرنے کے لیے اسے سولڈرنگ آئرن سے گرم کریں اور گرم حالت ہی میں چاقو یا پیچ کس کی مدد سے تار کو سیدھا کر لیں۔ اس کے بعد اس پرزے کو اس طرح پکڑیں کہ جب سیدھی کی ہوئی تار پر ٹانکے کو پگھلایا جائے تو آپ اس کو باہر نکال سکیں۔ اب گرم سولڈرنگ آئرن کو جوڑ پر رکھیں اور جونہی ٹانکا پگھلے سولڈرنگ آئرن کو فورا ہٹالیں اور دوسری طرف پرزے پر مناسب زور لگا کر اس کی تار کو اوپر اٹھائیں۔ لیکن اسے مکمل طور پر باہر نہ نکالیں۔ گرم اور پگھلے ہوئے ٹانکے کے اندر اس تار کو ایک دو مرتبہ اوپر نیچے کرکے اسے ڈھیلا کر لیں۔ اس طرح سوراخ ٹانکے کی وجہ سے تنگ نہیں ہوگا اور بعد میں تار کو دوبارہ سوراخ میں ڈالنے میں آسانی رہے گی۔ اب اسے اوپر اٹھالیں۔ اوہم میٹر سے پرزہ جانچنے کے بعد اگر اسے درست پائیں تو ٹانکے پر دوبارہ سولڈرنگ آئرن رکھ کر اسے پگھلائیں اور پرزے کی تار کو پگھلے ہوئے ٹانکے میں سے گزارلیں اور سولڈرنگ آئرن ہٹا کر ٹانکے کو جمنے دیں۔ اگر مزید ٹانکے کی ضرورت ہو تو جوڑ کر دوبارہ گرم کرکے مزید ٹانکا پگھلا کر لگا دیں۔



آیئے اب اجزاءکو بدلنے کا طریقہ تفصیل سے بتائیں۔ رزسٹرز‘ کپیسٹرز اورا یسے اجزاءجن کی تاریں مخالف سروں پر ہوتی ہیں آسانی سے تبدیل کئے جا سکتے ہیں۔ یہ یقین ہونے کے بعد کہ یہ پرزہ خراب ہے اس کی تاروں کو پرزے کے جسم کے قریب ترین مقام سے کاٹ لیں۔ کاربن رزسٹر بدلنے کے لیے آپ اسے درمیان سے کاٹ کر توڑ دیں اس طرح آپ کو دوسرا رزسٹر لگانے کے لیے لمبی تاریں مل جائیں گی۔ نیا پرزہ ان تاروں کے ساتھ ٹانکا لگا کر آسانی سے جوڑا جا سکتا ہے۔ یہ عمل دی ہوئی شکل سے واضح ہے۔
خراب پرزے کی کٹی ہوئی تاروں کو چاقو یا بلیڈ سے چھیل کر صاف اور چمکدار بنائیں۔ اس کے بعد دونوں تاروں کو چمٹی کی مدد سے ہک نما بناتے ہوئے موڑ دیں۔ نئے پرزے کی تاریں بھی صاف کریں اور ان مڑی ہوئی تاروں میں ڈال دیں۔ فالتو تار کاٹ کر نئے پرزے کی تار کو بھی موڑ کر سختی سے جوڑ دیں۔ اس کے بعد ٹانکا لگا دیں۔ یہاں بھی یہ خیال رکھیں کہ زائد حرارت نہ پہنچنے پائے۔ اس سے پرانے پرزے کی تار اور پرنٹڈ سرکٹ بورڈ کا باہمی جوڑ کمزور ہو جائے گا۔
نیا پرزہ مذکورہ بالا طریقے سے جوڑنے اور ٹانکا لگانے کے بعد بورڈ کی دوسری سمت میں شارٹ سرکٹ وغیرہ کی جانچ کر لیں۔ کیونکہ بعض اوقات زائد حرارت کے باعث ٹانکا پگھل کر دو پتریوں کو ملا دیتا ہے۔ ایسے نقص کے لیے بغور پڑتال کر یں اور اسے دور کریں۔
اگر آپ پرنٹڈ سرکٹ بورڈ کی پتریوں کو زائد حرارت سے نقصان نہ پہنچائیں تو خراب پرزے کی جگہ نیا درست پرزہ اصل جگہ پر نصب کیا جا سکتا ہے۔ خراب پرزے کی تاروں کو بورڈ کے سوراخ سے باہر نکال لیں۔ اس کے بعد ایک لمحے کے لیے سوراخ پر گرم سولڈرنگ آئرن رکھ کر فالتو سولڈر کو آئرن کی نوک پر لے لیں اس سے سوراخ کھل جائے گا اور نئے پرزے کی تاریں آسانی سے اس میں داخل ہو سکیں گی۔ اس کے بعد نئے پرزے کی تاریں تھوڑی سی موڑ لیں تاکہ بورڈ الٹانے سے پرزہ نیچے نہ گرے‘ زائد تار کو کاٹیں اور سوراخوں میں ڈال کر دوسری طرف سے ٹانکا لگا دیں۔


ٹانکہ لگانے کا درست طریقہ

کچھ اجزاءایسے ہوتے ہیں جن کی تاریں یا پنیں بہت سی ہوتی ہیں۔ان کو بدلنے کے لیے ساری پنوں کو ایک ساتھ گرم کرکے باہر نکالا جاتا ہے۔ اس مقصد کے لیے مخصوص نوعیت کی سولڈرنگ بٹس دستیاب ہیں۔ ایسی بٹس میں سے دواقسام کا استعمال دی گئی شکل میں دکھایا گیا ہے۔



بعض پروجیکٹس میں خاص طور پر آڈیو پروجیکٹس میں بعض اوقات والیوم کنٹرول یا ٹون کنٹرول وغیرہ بورڈ کے اوپر نصف کرنے ہوتے ہیں۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ ٹون کنٹرول یا والیوم کنٹرول خراب ہوجائیں۔ ایسی صورت میں ان کو بدلنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ ان کو بدلنے کے لیے ان کے ہر ٹرمینل کو کاٹ دیں۔ اس کے بعد انفرادی ٹرمینلز کو سولڈرنگ آئرن اور چمٹی کی مدد سے ہٹالیں۔ ان سوراخوں میں اب نئے پرزے کے ٹرمینل ڈال کر ان کو ٹانکا لگادیں۔ یہ سارا عمل شکل میں دکھایا گیا ہے۔



ٹوٹے ہوئے بورڈ کی مرمت


بعض اوقات نیچے گرنے سے‘ زیادہ دباؤ پڑنے سے یا بہت پرانا ہونے کی وجہ سے پرنٹڈ سرکٹ بورڈ ٹوٹ جاتا ہے یا چٹخ جاتا ہے۔ اس سے تانبے کی پتریاں بھی ٹوٹ جاتی ہیں۔ ایسے بورڈ کی مرمت آسان ہوتی ہے بشرطیکہ یہ دو ٹکڑوں میں تقسیم نہ ہوا ہو۔ ٹوٹے ہوئے مقامات پر پتریوں میں سوارخ کرکے ان میں اسٹیپلز نما تاریں ڈال کر دوسری طرف سے موڑ دیں اور تار کو ٹانکا لگا دیں۔ سوراخ ٹوٹی ہوئی جگہ سے چوتھائی انچ فاصلے پر دونوں طرف کریں۔ سوراخ کرنے کے بعد تانبے کی پتریوں کو چاقو یا بلیڈ سے کھرچ کر صاف بھی کر لیں تاکہ ٹانکا لگانے میں آسانی رہے۔ ٹانکا لگانے کے بعد اور یہ جانچنے کے بعد کہ کنکشن درست ہو گیا ہے، ٹوٹے ہوئے پی سی بی پر اضافی مضبوطی کے لیئے ایلفی وغیرہ لگا دیں۔ شکل میں اس نوعیت کی مرمت کا کام واضح کیا گیا ہے۔



سوراخ کرنے اور پتری صاف کرنے کے بعد تقریبا ایک انچ لمبی سخت تار کا ٹکڑا لیں۔ اسے ’یو‘ شکل میں موڑ لیں۔ موڑنے کے لیے دونوں سوراخوں کی درمیانی جگہ کا خیال رکھیں۔ اس کو ان سوراخوں میں ڈال کر دوسری طرف سے بھی موڑ دیں۔ اس تار کو پرزوں والی طرف سے ڈالیں اور ٹانکوں والی طرف سے موڑیں۔ موڑنے کے بعد اس کو ٹانکا لگادیں۔ اگر پی سی بی میں کریک لمبا ہو تو مناسب فاصلوں پر یہی اسٹیپلز ایک سے زائد تعداد میں لگائیں۔
اگر پی سی بی کا کوئی کنارا ٹو ٹ کر الگ ہو گیا ہے تو اس سے چند کنیکشن متاثر ہوں گے۔ اس قسم کے نقص کی مرمت میں اسٹیپلز لگانے کے علاوہ کسی چپکنے والے مادے کی مدد بھی درکار ہوگی۔ پہلے اسٹیپلز کے لیے سوراخ کر لیں اس کے بعد تانبے کی پتریوں کو کھرچ کر صاف کریں اور اس کے بعد کسی اپوکسی سیمنٹ یا ایلفی وغیرہ جیسے چپکنے والے مادے کی مدد سے ٹوٹے ہوئے ٹکڑے کو چپکا دیں۔ اسے اچھی طرح اور مضبوطی سے چپکنے دیں۔ اس کے بعد سوراخوں میں تار ڈال کر اسٹیپلز کے طور پر موڑ لیں اور ٹانکا لگا کر کام مکمل کر لیں۔