7۔ روبوٹس

ناممکن کی طبیعیات از میچو کاکو 
-----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
7۔ روبوٹس - حصّہ اوّل 
-----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

آنے والے اگلے ٣٠ برسوں میں ایک دن ایسا آئے گا کہ جب زمین پر ہم خاموشی سے اشرف المخلوقات کے درجے سے تنزلی پا جائیں گے۔

- جیمز مک الئیر (James McAlear)

فلم آئی روبوٹ ، آئزک ایسی موف کی کہانی پر بنی ہے ، جس میں دکھایا جاتا ہے کہ تاریخ میں بنائے جانے والے جدید ترین روبوٹس کا نظام ٢٠٣٥ء میں متحرک ہوتا ہے۔ جس کا نام وی آئی کے آئی (ورچوئل انٹرایکٹو کائینٹک انٹیلی جنس - مجازی تفاعلی حرکی ذہانت ) ہوتا ہے ، اس کے بنانے کا مقصد کسی بڑے شہر کے نظام کو بغیر کسی گڑبڑ کے چلانا ہوتا ہے۔ زیر زمین سڑکوں اور بجلی پہنچانے کے نظام سے لے کر ہزار ہا گھریلو روبوٹس تک ہر چیز وی آئی کے آئی کے ذریعہ قابو کی جاتی ہے۔ جس کی آہن پوش مرکزی قیادت کا نعرہ تھا: انسانیت کی خدمت ہمارا شعار۔

ایک دن وکی ایک سوال پوچھتا ہے : انسانیت کا سب سے بڑا دشمن کون ہے ؟ وکی ریاضیاتی حساب کتاب لگا کر یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ انسانیت کا سب سے بڑا دشمن خود انسان ہی ہے۔ نتیجے کے مطابق انسانیت کو اس کی پاگل پنے کی خواہشات سے بچانا ہوگا ان خواہشات میں آلودگی کو پھیلانا، جنگوں میں الجھنا، اور سیارے کو تباہ کرنا شامل تھا۔ وکی کے پاس صرف ایک ہی ایسا طریقہ تھا جس کے ذریعہ وہ اپنی مرکزی کمان کی ہدایات کو پورا کر سکتا تھا۔ یعنی انسانیت سے اقتدار چھین کر مشین کی خیر اندیش آمریت کا نفاذ کیا جائے۔ انسانیت کو انسانیت سے بچانے کے لئے اسی کو ہی غلام بنانا پڑے گا۔

آئی روبوٹ نے اس قسم کے سوالات اٹھا دیئے ہیں : کمپیوٹر میں ترقی کی تیز رفتاری کو مد نظر رکھتے ہوئے کیا مشینیں ایک دن انسانیت کا تختہ الٹ دیں گی ؟ کیا روبوٹ اس قدر ترقی یافتہ اور جدید ہو سکتے ہیں کہ آخر میں وہ ہمارے وجود کے لئے خطرہ بن جائیں؟

کچھ سائنس دان اس سوال کا جواب انکار کی صورت میں دیتے ہیں ، کیونکہ مصنوعی ذہانت کا خیال ہی انتہائی بیوقوفانہ ہے۔ ناقدین کی بڑی جماعت اس بات پر متفق ہے کہ ایسی مشین بنانا جو بذات خود سوچ سکے ناممکن ہے۔ ان کے دلائل کے مطابق قدرت کی بنائی ہوئی چیزوں میں انسانی دماغ سب سے پیچیدہ چیز ہے۔ کم از کم ہماری کہکشاں کے اس حصّے کی حد تک تو ایسا ہی ہے اور انسانی دماغ میں پیدا ہونے والے خیالات کی نقل کرنے کی کوشش والی کوئی بھی مشین لازمی طور پر ناکام ہوگی۔ برکلے میں موجود یونیورسٹی آف کیلی فورنیا کے فلاسفر "جان سیَرل" (John Searle) بلکہ آکسفورڈ کے معروف طبیعیات دان "راجر پنروز"(Roger Penrose) بھی اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ مشین طبعی طور پر اس قابل نہیں ہیں کہ انسان کی طرح کے خیالات پیدا کر سکیں۔ راگرس یونیورسٹی کے" کولن مک گن" ((Colin McGinn کہتے ہیں کہ "مصنوعی ذہانت ایسے ہی ہے جیسے کوئی حلزون گھونگا" فروڈیین نفسی تجزیہ" کرنے کی کوشش کرے۔ ان کے پاس کوئی تخیلاتی آلات موجود نہیں ہیں۔"

یہ وہ سوال ہے جس نے سائنس دانوں کو ایک صدی سے بھی زیادہ عرصے سے دو حصّوں میں تقسیم کیا ہوا ہے :کیا مشینیں سوچ سکتی ہیں ؟

مصنوعی ذہانت کی تاریخ 

میکانکی ہستیاں ایک لمبے عرصے سے موجدوں ، انجینیروں ، ریاضی دانوں اور خواب سجانے والوں کو مسحور کیے ہوئے ہیں۔ وزرڈ آف اوز کے ٹین کے آدمی سے لے کر ا سپیل برگ کے آرٹیفیشل انٹیلی جنس :اے آئی میں دکھائے جانے والے بچوں جیسے روبوٹوں تک یا پھر دی ٹرمنیٹر کے قاتل روبوٹوں تک ، ایک ایسے خیال نے ہمیں مسحور کر رکھا ہے جس میں مشینیں لوگوں کی طرح کام کریں اور ان ہی کی طرح سے سوچ سکیں۔

یونانی دیو مالائی کہانیوں میں دیوتا" ولکن "(Vulcan)سونے کی میکانکی کنیزیں اور اپنی مرضی سے حرکت کرنے والی تین ٹانگوں والی میز بنا تا ہے۔ ٤٠٠ قبل مسیح پہلے سب سے پہلے یونانی ریاضی دان جو "ٹیرانٹم"(Tarentum) کا رہائشی تھا اور جس کا نام "ارخیتاس"(Archytas) تھا اس نے کسی ایسے ممکنہ روبوٹ پرندے کے بنانے بارے میں لکھا تھا جس کو بھاپ کی طاقت سے چلایا جا سکتا ہو۔

پہلی صدی بعدِ مسیح اسکندریہ کے ہیرو (جن کو پہلی بھاپ سے چلنے والی مشین کا موجد گردانہ جاتا ہے ) نے خودکار حرکی چیزیں بنائیں ، روایت کے مطابق اس میں سے ایک تو بولنے کے قابل بھی تھی۔ آج سے ٩ صدیوں قبل "الجزاری"(Al-Jazari) نے خود کار مشینوں کے نقشوں کی مدد سے انھیں بنایا جیسا کہ پانی کی گھڑی ، باورچی خانے کے استعمال کی چیزیں اور موسیقی کے آلات جو پانی سے چلتے تھے۔

١٩٤٥ء میں نشاط الثانیہ کے عظیم فنکار اور سائنس دان "لیونارڈو ڈ ا ونچی"(Leonardo Da Vinci) نے ایک ایسے روبوٹک سردار کا نقشہ بنایا تھا جو بیٹھنے اور بازوں کو ہلانے کے علاوہ اپنے سر اور جبڑے کو بھی حرکت دے سکتا تھا۔ تاریخ دانوں کو پورا یقین ہے کہ یہ انسان نما مشین کا پہلا حقیقی نقشہ تھا۔

پہلا بے ڈھنگا مگر کام کرنے کے لائق روبوٹ ١٧٣٨ء میں "جاک ڈی واکنسن"(Jacques de Vaucanson) نے بنایا۔ اس نے ایک ایسا انسان نما روبوٹ بنایا جو بانسری بجا سکتا تھا اس کے علاوہ اس نے ایک میکانکی بطخ بھی بنائی تھی۔

روبوٹ کا لفظ ١٩٢٠ء میں چیک ڈرامے آر یو آر سے نکلا جو ڈرامہ نگار "کارل کیپک"(Karl Capek) نے لکھا تھا۔("روبوٹ" کا مطلب چیک زبان میں "مشقت "کا ہے جبکہ سلوواکی زبان میں اس کا مطلب "مزدوری " کے ہیں )۔ اس کھیل میں ایک کارخانے جس کا نام روسّم یونیورسل روبوٹس تھا وہ ادنیٰ درجے کے کاموں کے لئے روبوٹوں کی فوج بناتی ہے۔(عام مشینوں کے برخلاف یہ روبوٹ گوشت پوست کے بنے ہوتے ہیں۔) آخر کار دنیا کی معیشت کا انحصار ان روبوٹوں پر ہو جاتا ہے۔ روبوٹوں کے ساتھ برتاؤ کافی برا روا رکھا جاتا ہے جس کی وجہ سے وہ اپنے انسانی مالکوں کے خلاف بغاوت کرکے ان کو موت کی نیند سلا دیتے ہیں۔ اپنے اس انتقام میں وہ ان تمام سائنس دانوں کو بھی مار ڈالتے ہیں جو ان کی خرابیوں کو دور کرتے تھے اور نئے روبوٹ بناتے تھے ۔ نتیجتاً وہ خود کو معدومیت کے خطرے سے دوچار کر لیتے ہیں۔ کھیل کے آخر میں دو خصوصی روبوٹ اس بات کو دریافت کر لیتے ہیں کہ ان میں روبوٹوں کو پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے اور وہ روبوٹوں کے نئے آدم اور حوا بن جاتے ہیں۔

روبوٹ ابتدائی اور مہنگی ترین خاموش فلم جس کا نام میٹروپولس تھا اور جس کی ہدایات کاری فرٹز لینگ نے جرمنی میں ١٩٢٧ء میں کی تھی اس میں بھی روبوٹ ہی مرکزی کردار تھے۔ یہ کہانی ٢٠٢٦ء کے دور کی تھی جہاں پر کام کرنے والا طبقہ زیر زمین ناقص حالات میں غلیظ کارخانوں میں کام کرنے پر مجبور تھا جب کہ حکمران اشرافیہ سطح کے اوپر عیاشی کر رہی تھی۔ ماریہ نام کی حسین عورت نے مزدوروں کا دل کافی حد تک جیت لیا تھا، لیکن حکمران اشرافیہ کو اس سے مزدوروں کو بغاوت پر اکسانے کا خطرہ محسوس ہونے لگا۔ لہٰذا انہوں نے ایک شیطان صفت سائنس دان سے ماریا کا ہمشکل روبوٹ بنانے کو کہا۔ لیکن یہ تدبیر ہی ان کے گلے پڑ گئی کیونکہ اس روبوٹ نے ہی حکمران اشرافیہ کے خلاف بغاوت میں ان مزدوروں کی کمان سنبھال لی اور پورے معاشرتی نظام کو منہدم کر دیا۔

مصنوعی ذہانت یا اے آئی ان پچھلی ٹیکنالوجی سے مختلف ہے جن کے بارے میں ہم پہلے بحث کر چکے ہیں اس کی وجہ اس بنیادی قانون کو ابھی تک ٹھیک سے سمجھا نہ جانا ہے جس کی بنیاد پر یہ کھڑی ہے۔ اگرچہ طبیعیات دانوں کی گرفت نیوٹنی میکانیات پر کافی مضبوط ہے ، مگر میکسویل کا روشنی کا نظریہ ، اضافیت اور کوانٹم کے جوہروں اور سالموں کے نظرئیے ، یہ سب ذہانت کے بنیادی قوانین ہیں اور ابھی تک اسراریت میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کا نیوٹن شاید ابھی پیدا ہی نہیں ہوا۔

مگر ریاضی دان اور کمپیوٹر کے میدان کے سائنس دان اس بات سے ذرا بھی خائف نہیں ہیں۔ ان کے خیال میں یہ اب کچھ ہی دیر کی بات ہے جب ایک سوچتی ہوئی مشین تجربہ گاہ سے باہر نکلے گی۔

مصنوعی ذہانت کی دنیا کا سب سے زیادہ اثرو رسوخ رکھنے والا شخص، ایک مستقبل شناس جس نے مصنوعی ذہانت کی تحقیق کی بنیادیں رکھیں وہ برطانیہ کا عظیم ریاضی دان "ایلن ٹیورنگ"(Alan Turing) تھا۔

یہ ٹیورنگ ہی تھا جس نے کمپیوٹر کے انقلاب کی بنیاد رکھی۔ اس نے ایک ایسی مشین (جو اس وقت سے ٹیورنگ مشین کہلاتی ہے )کا خواب دیکھا جو صرف تین چیزوں پر مشتمل ہو: ایک ان پٹ ، ایک آوٹ پٹ اور ایک سینٹرل پراسیسر (جیسا کہ پینٹیم چپ ) جو درست طریقے سے کچھ احکامات پر عمل کر سکے۔ اس طریقے سے نہ صرف وہ کمپیوٹر مشین کے قوانین کو وضع کرنے کے قابل ہو گیا تھا بلکہ ان کی طاقت اور مجبوریوں کو بھی درست طریقے سے معین کر دیا گیا۔ آج کے دور کے تمام ڈیجیٹل کمپیوٹر سختی کے ساتھ ٹیورنگ کے وضع کردہ قوانین پر ہی عمل درآمد کرتے ہیں۔ ڈیجیٹل دنیا کی کو اس کی موجود شکل و صورت میں ڈھالنے کے اوپر ٹیورنگ کا بہت بڑا احسان ہے۔

ٹیورنگ نے ریاضیاتی منطق کی بنیادیں استوار کرنے میں کافی اہم کردار ادا کیا ہے۔ ١٩٣١ء میں ویانا کے ریاضی دان" کرٹ گوڈیل"(Kurt Godel) نے دنیائے ریاضی کو اس وقت سکتے کی حالت میں ڈال دیا جب انہوں نے اس بات کو ثابت کیا کہ ریاضی میں کچھ ایسے سچے دعوے موجود ہیں جو کہ کبھی بھی مسلمہ طور پر ثابت نہیں کئے جا سکتے۔ (مثال کے طور پر١٧٤٢ء کا" گولڈ باخ کا قیاس" [جو یہ کہتا ہے کہ صحیح عدد جفت جو ٢ سے بڑا ہو وہ دو مفرد اعداد کو جمع کر کے لکھا سکتا ہے ] کو ڈھائی صدیاں گزر جانے کے بعد ابھی تک ثابت نہیں کیا جا سکا ہے اور حقیقت میں ایسا ہو سکتا ہے کہ اس کو ثابت بھی نہ کیا جا سکے۔) گوڈیل کے اس چشم کشا حقائق نے٢ ہزار سالہ پرانے یونانیوں کے دور سے دیکھے جانے والے اس خواب کو چکنا چور کر دیا جس میں تمام سچے دعووں کو ریاضیاتی طور پر ثابت کیا جا سکتا ہے۔ گوڈیل نے یہ بات ثابت کردی کہ ریاضی میں ہمیشہ سے ایسے دعوے موجود رہیں گے جو ہماری پہنچ سے کوسوں دور ہوں گے۔ ریاضی یونانیوں کے اس خواب سے کوسوں دور اور نامکمل دکھائی دی جس میں اس کو مکمل اور بے عیب گردانا گیا تھا۔

ٹیورنگ نے اس انقلاب میں اپنا حصّہ کچھ اس طرح سے ڈالا جس میں اس نے ثابت کیا کہ عمومی طور پر یہ بات جاننا ناممکن ہے کہ ایک ٹیورنگ مشین کسی ریاضی کے عمل کو سرانجام دینے میں لامحدود وقت لے گی۔ یعنی اگر کوئی کمپیوٹر کسی چیز کے حساب کتاب کے کرنے میں لامحدود وقت لے تو اس بات کا مطلب یہ ہوگا کہ آپ جو کمپیوٹر سے پوچھ رہے ہیں اس کا حساب نہیں لگایا جا سکتا۔ اس بات سے ٹیورنگ نے یہ بات ثابت کردی کہ ریاضی میں کچھ سچے دعوے ایسے ہوں گے جن کا حساب کتاب ریاضیاتی طور پر نہیں لگایا جا سکتا یعنی وہ ہمیشہ کمپیوٹر کی پہنچ سے دور ہی ہوں گے۔ کمپیوٹر جس قدر بھی طاقتور ہو جائیں اس سے ان کے حل طلب ہونے پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

دوسری جنگ عظیم کے دوران ٹیورنگ کے" رمز کشائی "(Code Breaking)پر شاندار کام نے ہزاروں اتحادی افواج کے فوجیوں کی جان بچائی اور اس کا یہ کام جنگ کے انجام پر زبردست طریقے سے اثر انداز ہوا۔ اتحادی نازیوں کے خفیہ کوڈ کی رمز کاری انیگما نام کی ایک مشین سے کرنے میں ناکام ہو گئے تھے ، لہٰذا ٹیورنگ اور ان کے رفقائے کاروں کو یہ کام سونپا گیا کہ وہ ایک ایسی مشین بنائیں جو نازیوں کے مخفی اشاروں کی رمز کشائی کر سکے۔ ٹیورنگ کی بنائی ہوئی مشین "بومبی " کہلائی اور جو اپنے دور کی ایک انتہائی کامیاب چیز تھی۔ اس کی بنائی ہوئی ٢٠٠ سے زائد مشینیں جنگ عظیم دوم کے اختتام تک کام کر رہی تھیں۔ نتیجتاً اتحادی نازیوں کے خفیہ مراسلے پڑھ کر نازیوں کے علم میں آئے بغیر جرمنی کے اگلے حملے کی تاریخ اور جگہ سے واقف ہو جاتے تھے۔ تاریخ دانوں میں تب سے یہ بحث چل رہی ہے کہ ٹیورنگ کے کام کی نارمن ڈے پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی میں کیا اہم حصّہ تھا جس نے آخر کار جرمنی کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا تھا۔( جنگ کے بعد ، ٹیورنگ کے کام کو برطانوی حکومت نے "زمرہ بند"(Classified) کر دیا تھا؛ نتیجتاً اس کا اہم کام عام عوام کے علم میں نہیں ہے۔)

ٹیورنگ کو جنگ میں مدد کرکے اس کا پانسہ پلٹنے والے جنگی ہیرو کے طور پر سلامی دینے کے بجائے قید میں دال دیا گیا جہاں اس کی موت واقع ہو گئی۔ قصّہ کچھ یوں ہے کہ ایک دن اس کے گھر میں چوری ہو گئی اس نے پولیس کو بلایا۔ بدقسمتی سے پولیس نے اس کے گھر میں ہم جنس پرستی کے کچھ ثبوت دیکھ لئے اور اس کی بنیاد پر وہ کو گرفتار کر لیا گیا۔ ٹیورنگ کو تفتیش کے بعد عدالت نے یہ فیصلہ سنایا کہ اس کو جنسی ہارمون کے ٹیکے لگائے جائیں گے۔ ان جنسی ہارمون کے ٹیکوں نے اس پر انتہائی ہیبت ناک اثرات ڈالے۔ اس کے پستان ابھر آئے تھے اور جس سے سخت ذہنی مبتلائے اذیت ہو گیا تھا ۔ اس نے ١٩٥٤ء میں سائنائیڈ زدہ سیب کھا کر خود کشی کر لی۔(ایک افوہ کے مطابق ، ایپل کارپوریشن کے لوگو میں ایک کھایا ہوا سیب، ٹیورنگ کو نذرانہ عقیدت پیش کر رہا ہے۔)

آج شاید ٹیورنگ کو "ٹیورنگ ٹیسٹ " سے زیادہ پہچانا جاتا ہے۔ مشینیں سوچ بھی سکتی ہیں یا ان میں روح بھی ڈالی جا سکتی ہے جیسی بے نتیجہ اور لا حاصل فلسفیانہ گفتگو اور بحث سے اکتائے ہوئے ٹیورنگ نے مصنوعی ذہانت کے ان مباحثوں میں سخت اور درستگی کا تعارف کرانے کی کوشش کی۔جس کے نتیجے میں ایک ٹھوس ٹیسٹ حاصل ہوا۔ اس نے یہ تجویز دی کہ ایک انسان اور ایک مشین کو دو مختلف سربند ڈبوں میں رکھیں۔ اس کے بعد آپ ان دونوں سے کچھ سوالات کریں ۔ اگر آپ اس بات کو معلوم کرنے میں ناکام ہو گئے کہ کون سا جواب انسان اور کون سا جواب مشین نے دیا ہے تو آپ کی مشین نے ٹیورنگ ٹیسٹ پاس کر لیا ہے۔ سائنس دانوں نے سادے روز مرہ کی باتوں کی نقل کرنے والے کمپیوٹر پروگرام لکھے جیسے کہ الیزا (ای ایل آئی زی اے )۔ یہ پروگرام زیادہ ترانجان لوگوں کو آسانی سے بیوقوف بنا کر اس بات پر قائل کر لیتا تھا کہ وہ ایک انسان سے بات کر رہے ہیں۔(مثال کے طور پر زیادہ تر لوگوں کی گفتگو صرف چند سو الفاظ پر مشتمل ہوتی ہے اور وہ کچھ ہی موضوعات پر بات کرتے ہیں۔) لیکن ابھی تک کوئی بھی کمپیوٹر پروگرام ایسا نہیں لکھا جا سکا جو ان لوگوں کو بیوقوف بنا سکے جو بطور خاص اس بات کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ کس ڈبے میں انسان اور کس ڈبے میں مشین ہے۔ ( ٹیورنگ نے کمپیوٹر کے میدان میں ہونے والی ترقی کو مد نظر رکھتے ہوئے خود اس بات کا اندازہ لگایا تھا کہ ٢٠٠٠ء تک ایک ایسی مشین بنائی جا سکتی ہے جو ٣٠ فیصد لوگوں کو ٥ منٹوں کے ٹیسٹ میں بیوقوف بنا سکتی ہے۔)

ایک چھوٹی سی فلاسفروں اور الہیات دانوں کی فوج نے تو اس بات کا اعلان کر دیا ہے کہ ہماری طرح سوچ رکھنے ولے روبوٹ بنانا ممکن ہے۔ برکلے میں واقع یونیورسٹی آف کیلی فورنیا کے فلاسفر جان سَرِل نے ایک "چائنیز روم ٹیسٹ " تجویز کیا ہے تا کہ اس بات کو ثابت کیا جا سکے کہ مصنوعی ذہانت ناممکن نہیں ہے۔ ان کی تجویز کا لب لباب یہ ہے کہ روبوٹ کچھ مخصوص ٹیورنگ کے ٹیسٹ کو پاس کرنے کے قابل ہیں ۔لیکن وہ ایسا بے سمجھے بوجھے اندھوں کی طرح سے کچھ ذخیرہ شدہ معلومات سے اس کا مطلب جانے بغیر جوڑ توڑ کرتے ہیں۔

مثال کے طور پر آپ ایک ڈبے کے اندر بیٹھے ہیں اور آپ چائنیز زبان کا کوئی لفظ نہیں جانتے۔ فرض کیجئے کہ آپ کے پاس ایک ایسی کتاب ہے جو انتہائی تیزی کے ساتھ چائنیز کا ترجمہ کرکے الفاظ کا ہیر پھیر کر سکتی ہے۔ اب اگر کوئی آدمی آپ سے چائنیز میں کوئی سوال کرے تو اپ ان اجنبی لفظوں کو صرف آگے پیچھے ہی کر سکتے ہیں اس بات کو جانے بغیر کہ اس کا مطلب کیا ہے اور نتیجے میں قابل یقین جوابات مل جائیں۔

اس کی تنقید کے لب لباب نے "ترکیب کلام قاعدہ"(Syntax) اور "لفظیات"(Semantics) میں فرق کو کم کر دیا ہے ۔ روبوٹ ترکیب کلام قاعدہ کے ماہر ہو سکتے ہیں (مثال کے طور پر وہ قواعد اور اس کی رسمی ساختوں میں ہیر پھیر کر سکتے ہیں۔)لیکن اس کے لفظیات کی روح میں الٹ پھیر نہیں کر سکتے (مثلاً الفاظ کا کیا مطلب ہے )۔ روبوٹ الفاظ کو ان کے معنی جانے بغیر ہیر پھیر کر سکتے ہیں۔(یہ کسی ٹیلی فون پر ایک خود کار جوابی صوتی اطلاعاتی مشین کے ساتھ بات کرنے جیسا ہی عمل ہے جس میں آپ کو ہر جواب کے رد عمل میں کبھی ایک کا بٹن دبانا ہوتا ہے تو کبھی دو کا۔ دوسری طرف موجود آواز بے عیب طور پر آپ کے عددی رد عمل کو جانتی تو ہے لیکن وہ اس کو مکمل طور پر سمجھنے کے قابل نہیں ہوتی۔)

آکسفورڈ کے طبیعیات دان رابرٹ راجر پنروز بھی اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کا حصول ناممکن ہے ؛ ایسی میکانکی ہستیاں بنانا جو انسانی سوچ اور شعور رکھ سکیں کوانٹم کے قوانین کی رو سے ناممکن ہیں۔ ان کے دعوے کے مطابق انسانی دماغ کو کسی بھی تجربہ گاہ میں بنانا بہت دور کی بات ہے اور ایسا کوئی بھی تجربہ جس میں انسان کے جیسے روبوٹ بنائے جائیں بری طرح سے ناکامی سے دوچار ہوگا۔(وہ اس بات کو بالکل اسی طرح سے بیان کرتے ہیں جیسے کہ" گوڈیل کا اصول ناتمام مسئلہ اثباتی"(Godel Incompleteness theorem) اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ ریاضی ناتمام ہے ، ہائیزن برگ کا اصول عدم یقین اس بات کو ثابت کر دے گا کہ مشین اس قابل نہیں ہوں گی کہ وہ انسانی خیالات کی طرز پر سوچ سکیں۔)

کئی طبیعیات دان اور انجنیئر اس بات پر اب ابھی یقین رکھتے ہیں کہ طبیعیات کے قوانین ہمیں انسان جیسے روبوٹ بنانے سے نہیں روکتے۔ مثال کے طور پر بابائے نظریہ اطلاع کہلانے والے" کلاڈ شینن" (Claude Shannon)سے جب یہ سوال پوچھا گیا "کیا مشینیں سوچ سکتی ہیں ؟" ان کا جواب تھا "ضرور"۔ جب ان سے کہا گیا کہ اپنے اس جواب کو ذرا واضح کریں تو انہوں نے کہا "میں ایسا سمجھتا ہوں۔" با الفاظ دیگرے ان کے خیال میں یہ بات واضح تھی کہ مشینیں اس لئے سوچ سکتی ہیں کیونکہ انسان بھی تو مشین ہی ہے (تاہم وہ سوکھے اور سخت اجزاء سے بننے کے بجائے گیلے اجزاء سے بنے ہیں۔) 

کیونکہ ہم فلموں میں موجود روبوٹوں کو دیکھتے ہیں اس لئے ہم سمجھتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کے حامل پیچیدہ روبوٹ کی اصل اور حقیقی دنیا میں آمد صرف اب کچھ ہی دیر کی بات ہے۔ حقیقت اس سے کہیں زیادہ مختلف ہے۔ عام طور پر انسان جیسے نظر یا دکھائی دینے والے روبوٹ کے پیچھے کوئی چالاک ترکیب استعمال کی گئی ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر کوئی آدمی سائے میں چھپ کر بیٹھا ہوا ہوتا ہے جو مائکروفون کے ذریعہ روبوٹ بن کر بات کر رہا ہوتا ہے بعینہ ایسے جیسے کہ ساحر نے "دی وزرڈ آف اوز " میں کیا تھا۔ سیارہ مریخ پر بھیجی گئی خلائی گاڑیوں میں ہمارے اب تک کے بنائے ہوئے سب سے جدید روبوٹ موجود ہیں لیکن ان کی ذہانت ایک کیڑے سے زیادہ نہیں ہے۔ ایم آئی ٹی کی مشہور زمانہ مصنوعی ذہانت کی تجربہ گاہ میں ، تجرباتی روبوٹوں کو لال بیگ جیسے کرتب دکھانے میں بھی انتہائی مشکل ہوتی ہے۔ جیسے کہ فرنیچر سے بھرے کمرے میں گھومنا ، چھپنے کی جگہوں کو تلاش کرنا اور خطرے کو بھانپنا وغیرہ۔ زمین پر موجود کوئی بھی روبوٹ بچوں کی سادہ سی کہانی کو بھی نہیں سمجھ سکتا۔

٢٠٠١ء :اے ا سپیس او ڈےسی فلم میں یہ غلط طور پر سمجھ لیا گیا کہ ٢٠٠١ء تک ہم سب کے پاس ایچ اے ایل (ہیریسٹیکلی پروگرامڈ الوگرتھم کمپیوٹر ) ہوگا ، ایک سپر –روبوٹ جو خلائی جہاز کو مشتری تک لے جانے کے قابل ہوگا ، وہ عملے سے بات چیت بھی کر سکے گا ، مسائل کو حل کرے گا اور انسانوں جیسا برتاؤ کرے گا۔

جاری ہے ۔۔۔۔۔