4۔ دور دراز منتقلی (Teleportation)

ناممکن کی طبیعیات از میچو کاکو 
--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
4۔ دور دراز منتقلی (Teleportation) - حصّہ اوّل 
--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

یہ کتنی اچنبھے کی بات ہے کہ ہم نے متناقص باتوں کی سچائی کو پا لیا۔ اب ہم آگے بڑھنے کی امید کر سکتے ہیں۔

- نیلز بوہر

میں قوانین طبیعیات کو بدل نہیں سکتا، کپتان !

- اسکوٹی ، چیف انجنیئر اسٹار ٹریک

دور دراز منتقلی یا کسی شخص یا شئے کو فی الفور ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کی ٹیکنالوجی انسانی تہذیب کا راستہ اور اقوام کی منزل تبدیل کر سکتی ہے۔ یہ ناقابل تردید طور پر جنگی اصولوں کو بدل دے گی: افواج اپنے دستوں کو دشمن کو بے خبر رکھتے ہوئے ان کی صفوں کے پیچھے بھیج سکتی ہیں یا صرف دشمن کی قیادت کو دور دراز منتقل کرکے ان کو قید بھی کر سکتی ہیں۔ دور حاضر کے ذرائع نقل و حمل کار سے لے کر پانی کے جہاز تک اور ہوائی جہاز سے لے کر ریل گاڑی تک ، اور بہت ساری صنعتیں جو ان نظاموں کو اپنی خدمات دیتی ہیں سب متروک ہو جائیں گی، ہم ان کو استعمال کرنے کے بجائے اپنے آپ کو دفتر یا کام کرنے کی جگہ پر اور اشیاء کو مارکیٹوں میں آسانی سے منتقل کر دیں گے۔ چھٹیاں گزرنا تو کوئی مسئلہ ہی نہیں ہوگا کیونکہ ہم اپنے آپ کو اپنی منزل پر بغیر کسی ذریعہ کے استعمال کے منتقل کر لیں گے۔ دور دراز منتقلی ہر چیز کو بدل دے گی۔ 

سب سے قدیم دور دراز منتقلی مذہبی کتابوں میں ملتی ہے مثلاً بائبل ، جہاں روحوں کا خاموشی کے ساتھ افراد کو لے جانا بیان کیا گیا ہے۔ یہ عہد نامہ جدید میں سے لی ہوئی سطریں ہیں جس میں لگتا ہے کہ فلپس کی دور دراز منتقلی غزہ سے اشدُود تک کی گئی تھی۔"جب وہ پانی میں سے نِکل کر اُوپر آئے تو خداوند کا رُوح فلپس کو اُٹھا لے گیا اور خوجہ نے اُسے پھر نہ دیکھا کیونکہ وہ خُوشی کرتا ہُوا اپنی راہ چلا گیا۔اور فلپس اشدُود میں آ نِکلا اور قیصریہ میں پہنچنے تک سب شہروں میں خُوشخبری سُناتا گیا۔(ایکٹس ٨ : ٣٦ – ٤٠ )

دور دراز منتقلی ہر جادوگر کی زنبیل کے کرتبوں اور نظر بندی کا حصّہ ہوتا ہے :مثلاً خرگوش کو ٹوپے سے نکالنا ، تاش کے پتوں کو آستیں میں سے نکالنا اور کسی کے کان کے پیچھے سے سکّہ نکالنا وغیرہ۔ دور حاضر کا سب سے جرات مند جادوئی کمال ہاتھی کو حیرت کے مارے تماشائیوں کے سامنے سے غائب کرنا ہے۔ اس کام کے عملی مظاہرہ میں ایک کافی ٹن وزنی بڑے ہاتھی کو ایک پنجرے میں رکھا جاتا ہے ۔ اس کے بعد جادوگر کی جادوئی چھڑی کے گھومنے کے ساتھ ہی ہاتھی تماشائیوں کو حیرت و استعجاب میں ڈالتا ہوا غائب ہو جاتا ہے۔(ظاہر سی بات ہے کہ حقیقت میں ہاتھی کہیں نہیں جاتا۔ یہ کرتب آئینوں کے ذریعہ دکھایا جاتا ہے۔ لمبے پتلے عمودی آئینوں کی پٹیاں پنجرے کے ہر طرف رکھی ہوتی ہیں۔ دروازے کی طرح یہ عمودی پٹیاں مڑتی بھی ہیں۔ جادوئی کرتب کے شروع میں جب یہ عمودی پٹیاں پنجرے کے اطراف میں اس کے پیچھے رکھ دی جاتی ہیں جس کے نتیجے میں آئینہ نظر نہیں آتا اور ہاتھی دکھائی دیتا ہے ، مگر جب آئینوں کو ٤٥ ڈگری زاویے پر تماشائیوں کے سامنے سے موڑا جاتا ہے تو ہاتھی غائب ہو جاتا ہے اور تماشائی پنجرے کے ایک طرف کی منعکس شدہ تصویر دیکھتے ہیں۔

دور دراز منتقلی اور سائنس فکشن 

سب سے پہلی دور دراز منتقلی جو سائنس فکشن میں ملتی ہے وہ" ایڈورڈ پیج مچل"(Edward Page Mitchell) کی کہانی "بغیر جسم کے آدمی " (The Man Without the Body)میں موجود ہے جو ١٨٧٧ء میں چھپی تھی۔ اس کہانی میں سائنس دان ایک بلی کے جسم کے ایٹموں کو علیحدہ کرکے اس کو ٹیلی گراف وائر کے ذریعہ دور منتقل کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے جب سائنس دان اپنے آپ کو بغیر ذریعے کے منتقل کرنے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے تو عین اس وقت بیٹری ختم ہو جاتی ہے۔ صرف اس کا سر ہی کامیابی کے ساتھ منتقل ہو پاتا ہے۔

"سر آرتھر کونان ڈوئیل"(Sir Arthur Conan Doyle) ، جو اپنے شرلاک ہومز کے ناولوں کی وجہ سے جانے جاتے ہیں ، ان کو دور دراز منتقلی کے تصوّر نے بہت لبھا لیا تھا۔ برسوں تک جاسوسی ناول اور مختصر کہانیاں لکھ کر وہ شرلاک ہومز سلسلے سے اکتا گئے اور آخر کار اپنے اس سراغ رساں کو پروفیسر "موریارٹی"(Moriarty) کے ساتھ آبشار سے نیچے گرا کر موت سے ہمکنار کرا دیا۔ مگر عوام کے شدید اسرار نے ڈوئیل کو شرلاک ہومز کو دوبارہ زندہ کرنے پر مجبور کر دیا۔ شرلاک ہومز کو مارنے میں ناکامی سے دلبرداشتہ ہو کر ڈوئیل نے ایک نیا سلسلہ شروع کیا ، جس میں پروفیسر" چیلنجر"(Challenger) شرلاک ہومز کے ہم رتبہ تھے۔ دونوں حاضر جواب اور گتھیوں کو سلجھانے کے ماہر تھے۔ جہاں مسٹر ہومز پیچیدہ معموں کو حل کرنے کے لئے ٹھنڈے اور منطقی استنباط سے کام لیتے تھے ، وہیں پروفیسر چیلنجر شیطانیت کی تاریک اور مافوق الفطرت دنیا کی مدد لیتے ہیں اور اس س میں دور دراز منتقلی بھی شامل تھی۔

١٩٢٧ء میں ایک ناول "انتشاری مشین"(The Disintegration Machine) میں پروفیسر کا ٹکراؤ ایک ایسے بھلے مانس آدمی سے ہوا جو ایک ایسی مشین کا موجد تھا جو کسی بھی شخص کو علیحدہ کرکے دور درز منتقل کرنے کے بعد دوبارہ سے جوڑ دیتی تھی۔ لیکن اس وقت پروفیسر چیلنجر کے پیروں تلے زمین نکل گئی جب اس کے خالق نے شیخی بگھارتے ہوئے اسے بتایا کہ اگر مشین کسی غلط ہاتھ میں چلی جائے تو پورے کے پورے لاکھوں افراد کے شہر کو صرف ایک بٹن کے دبانے سے ختم کر دے گی۔ پروفیسر چیلنجر نے اس مشین کا استعمال کرتے ہوئے اس کے موجد کو علیحدہ کیا اور اس کو دوبارہ جوڑے بغیر ہی تجربہ گاہ سے باہر نکل آیا۔

زیادہ عرصہ نہیں گزرا جب ہالی ووڈ نے دور دراز منتقلی کو دریافت کیا۔١٩٥٨ء میں فلم "مکھی "(The Fly) میں اس بات کا تجزیہ کیا گیا کہ اگر دور دراز منتقلی خطرناک طور پر غلط راہ پر گامزن ہو جائے تو اس کا انجام کیا ہو سکتا ہے۔ فلم میں جب ایک سائنس دان کامیابی کے ساتھ اپنے آپ کو کمرے میں منتقل کرتا ہے تو اس کے جسم کے ایٹم ایک مکھی کے ایٹم سے مل جاتے ہیں جو حادثاتی طور پر دور دراز منتقلی کے خانے میں داخل ہوئی تھی ، اس طرح وہ سائنس دان مضحکہ خیز تقلیبی عفریت میں تبدیل ہو جاتا ہے جو آدھا انسان اور آدھی مکھی ہوتا ہے۔ (اس فلم کا ایک ریمیک جس میں "جیف گولڈبلم" (Jeff Goldblum)نے مرکزی کردار ادا کیا تھا وہ ١٩٨٦ء میں ریلیز ہوئی تھی۔)

دور دراز منتقلی کی مقبولیت پہلی دفع عمومی ثقافت میں اسٹار ٹریک سلسلہ کے ساتھ نمایاں ہونا شروع ہوئی۔ "جین روڈن بیری" (Gene Roddenberry)، جو اسٹار ٹریک کے خالق ہیں ، انہوں نے دور دراز منتقلی اس ڈرامائی سلسلے میں اس لئے متعارف کرائی کیونکہ پیراماؤنٹ ا سٹوڈیو کا بجٹ مہنگے خصوصی اثر پیدا کرنے کی اجازت نہیں دیتا تھا۔ جس میں دور دراز کے سیاروں پرسے اڑتے اور اترتے ہوئے خلائی جہازوں کی نقل کی جاتی۔یہ ایک نسبتاً سستا نسخہ تھا کہ انٹرپرائز کے عملے کو ان کی منزل تک روانہ کر دیا جائے۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سائنس دانوں نے دور دراز منتقلی کے ممکن ہونے پر کئی قسم کا اعتراضات داغ دیئے۔کسی شے کو دور دراز منتقل کرنے کے لئے سب سے پہلے تو کسی بھی جاندار کے جسم میں موجود ایٹموں کی بالکل صحیح جگہ معلوم ہونی چاہئے۔ شاید یہ بات ہائیزن برگ کے" اصول عدم یقینی"(Uncertainty Principle) کی خلاف ورزی ہوگی (اس اصول کے مطابق کسی بھی الیکٹران کی صحیح جگہ اور بالکل ٹھیک سمتی رفتار کو بیک وقت معلوم نہیں کیا جا سکتا۔) "اسٹار ٹریک" کو پیش کرنے والے نے ناقدین کے آگے گھٹنے ٹیکتے ہوئے "ہائیزن برگ کا آلہ تثویب" ترسیلی کمرے میں متعارف کروایا ، اور کمرے میں ایک ترکیب طراز آلے کا اضافہ کر دیا جو کوانٹم طبیعیات کے قوانین کا ازالہ کر دیتا تھا۔ مگر ایسا لگتا ہے کہ ہائیزن برگ کے آلہ تثویب کی ضرورت قبل از وقت تھی۔ اس وقت کے سائنس دان اور ناقدین شاید غلط تھے۔

جاری ہے۔۔۔۔۔