3۔ فیزرس اور غارت گر ستارے (Phasers and Death Stars)

-----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
3۔ فیزرس اور غارت گر ستارے (Phasers and Death Stars) - پہلا حصّہ 
-----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
ریڈیو کا مستقبل تاریک ہے۔ ہوا سے بھاری اڑنے والی مشینیں بنانا ممکن نہیں ہیں۔ ایکس ریز ایک ڈھکوسلہ ثابت ہوگی۔

- طبیعات دان لارڈ کیلون(Physicist Lord Kelvin) ، ١٨٩٩ء

ایٹم بم کبھی نہیں پھٹے گا۔ یہ بات میں ایک آتش گیر ماہر کی حیثیت سے کہہ رہا ہوں۔

- ایڈمرل ولیم لیہے (Admiral William Leahy) 

١ ،٢ ، ٣ ، ٤ فائر !

"اسٹار وارز" میں دکھایا جانے والا غارت گر ستارہ (ڈیتھ اسٹار) ایک جسیم ہتھیار ہوتا ہے ، جس کا حجم چاند جتنا ہوتا ہے۔ فلم میں وہ شہزادی "لیا" (Lea) کے مستقر ایک بےبس سیارے، "ایلڈی ران "(Alderaan) کی طرف نشانہ باندھ کر فائر کرتا ہے نتیجتاً وہ سیارہ جل کر راکھ ہو جاتا ہے۔ سیارے کے جلنے سے ایک عظیم دھماکہ رونما ہوتا ہے جو ستارے کا ملبہ پورے نظام شمسی میں دھکیل دیتا ہے ۔ ایک ارب روحوں کی تکلیف دہ چیخوں سے" فورس " میں کھلبلی مچ جاتی ہے اور اس بربریت کی داستان کی بازگشت پوری کہکشاں میں سنائی دیتی ہے۔

کیا "اسٹار وارز" میں دکھایا جانے والا ہتھیار حقیقت حال میں بنانا ممکن ہے؟ کیا ایسا ہتھیار لیزر کے گولے برسا کر پورے سیارے کو تحلیل کر سکتا ہے؟ ان مشہور زمانہ "روشنی کی تلواروں"(Light Sabers) کے بارے میں کیا خیال ہے جو "لیوک ا سکائی والکر"(Luke Skywalker) اور ڈارتھ ویڈر (Darth Vader)نے بنائی تھی۔ یہ تلواریں جو روشنی کی کرنوں سے بننے کے باوجود مضبوط اسٹیل کو کاٹ کر رکھ دیتی تھیں۔ کیا اسٹار ٹریک میں دکھائی جانے والی فیزرس جیسی شعاعی گن مستقبل کی نسل انسانی کے قانون نافذ کرنے والے افسران اور فوجیوں کے لئے ایک کارآمد ہتھیار کے طور پر استعمال ہو سکے گی؟

اسٹار وارز کی فلمیں دیکھنے والے لاکھوں لوگ اس فلم میں دکھائے گئے اصلی خصوصی اثرات کی چمک دمک سے متاثر ہوتے ہیں ، مگر ناقدین کے آگے اسٹار وارز والوں کی بولتی بند ہو جاتی ہے، جو ان میں عیب جوئی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس میں دکھائی جانے والی چیزیں بطور تفریح تو ٹھیک ہے لیکن ان کا حقیقت کی دنیا سے کوسوں دور کا بھی تعلق نہیں ہے۔ ناقدین کے خیال میں چاند کے حجم جتنا، سیاروں کو ختم کرنے والا شعاعی ہتھیار انتہائی خیالی اور بے ڈھنگا ہے۔ اسی طرح سے ٹھوس روشنی کی کرنوں والی تلوار دور دراز کی کہکشاؤں میں بھی اتنی ہی انوکھی چیز ہوگی جتنی کہ ہماری حقیقی دنیا میں یہ ہیں۔ "جارج لوکاس"(George Locas) ، جو خصوصی اثرات کے ماہر ہیں ، اس کام کو کرتے ہوئے شاید بہت زیادہ بہک گئے ہیں اور انہوں نے تخیل کی سرحدوں کو پار کرنے کی کوشش کی ہے۔

اگرچہ اس بات کا یقین کرنا مشکل ہے ، لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ ایسی کوئی طبیعی حد موجود نہیں ہے جو خالص توانائی کو روشنی کی کرن میں ٹھونسنے سے روکے۔ طبیعیات کا کوئی ایسا قانون موجود نہیں ہے جو غارت گر ستارے یا پھر روشنی کی ٹھوس تلوار بنانے سے روک سکے۔ درحقیقت سیارے کو تباہ کرنے والی گیما شعاعیں کائنات میں موجود ہیں۔ کائنات کے دور دراز گوشوں میں ہوتے ہوئے گیما اشعاع کے عظیم انفجار خلائے بسیط میں وہ دھماکے پیدا کرتے ہیں جن کا نمبر بگ بینگ کے بعد آتا ہے۔ کوئی بھی بدقسمت سیارہ جو گیما شعاعوں کی لپیٹ میں آ جائے اس کا بھننا یا ٹکڑوں میں بٹنا لازمی ہے۔

شعاعی ہتھیار تاریخ کے آئینے میں 

شعاعی ہتھیار بنانے کا خواب کوئی نیا نہیں ہے بلکہ اس کی جڑیں قدیم دیو مالائی کہانیوں اور داستانوں میں موجود ہیں۔ یونانی دیوتا" زیوس"(Zeus) انسانوں پر بجلی کی کڑک سے اپنا قہر ڈھالنے کے لئے بدنام تھا۔" نورس"(Norse) دیوتا "تھور"(Thor) کے پاس ایک جادوئی ہتھوڑا "میالنیر" (Mjolnir)تھا ، جو بجلی کی کڑکیں پھینک سکتا تھا ، جبکہ ہندوؤں کا دیوتا "اندرا"(Indra) اپنے جادوئی نیزے سے توانائی کی کرنیں پھینکنے کے لئے مشہور تھا۔

شعاعوں کے استعمال کا نظریہ بطور عملی ہتھیار شاید عظیم یونانی ریاضی دان "ارشمیدس"(Archimedes) کے کام سے شروع ، ارشمیدس شاید عہد عتیق کا سب سے عظیم سائنس دان تھا ، جس نے ادھورا علم الاحصاء دو ہزار برس قبل نیوٹن اور "لئبنیز "(Leibniz)سے پہلے دریافت کیا تھا۔ ایک افسانوی جنگ جو رومی جنرل" مارسیلس"(Marcellus) کی فوجوں کے خلاف دوسری پیو نک جنگ(رو میوں ا ور کار تھیجوں کے دو میان ہونے والی تین جنگوں کو پیونک جنگیں کہتے ہیں )٢١٤ قبل مسیح میں ہوئی، ارشمیدس نے ریاست "سیراکیوز "(Syracuse) کے دفاع میں مدد کی اور یہ کہا جاتا ہے کہ اس نے کافی بڑے شمسی عاکس بنائے جو سورج کی شعاعوں کو دشمنوں کے جہاز پر مرتکز کرتے تھے نتیجتاً ان میں آگ لگ جاتی تھی۔(سائنس دانوں کے درمیان یہ بحث اب بھی جاری ہے کہ آیا ایسا کام کرنے والا شعاعی ہتھیار عملی طور پر بنا نا ممکن ہے۔ سائنس دانوں کی کئی ٹیموں نے اس کی نقل کرنے کی کوشش کی جس کے نتیجے مختلف نکلے۔)

شعاعی بندوق کا سائنس فکشن میں نظر آنا ١٨٨٩ء میں ایچ جی ویلز کے کلاسک ناول "وار آف دا وورلڈز" سے شروع ہوا ، جس میں مریخ کی خلائی مخلوق پورے کے پورے شہروں کو تپائی میں نصب ہتھیاروں سے نکلتی ہوئی حرارتی شعاعوں سے تباہ کر دیتی ہے۔ دوسرے جنگ عظیم کے دوران نازی ہمیشہ سے نئی اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعہ دنیا کو فتح کرنے کے دیوانے رہے ہیں ، انہوں نے کئی قسم کی شعاعی بندوقوں کے تجربے کیے۔ اس میں شامل ایک صوتی آلہ ایسا تھا جو مکافی آئینوں پر مشتمل تھا اور شدید آواز کی شعاعوں کو مرتکز کر سکتا تھا۔ مرتکز روشنی کی شعاعوں سے بنائے گئے ہتھیار عوام کے تصوّر میں جیمز بانڈ کی فلم" گولڈ فنگر" سے آنے شروع ہوئے، جو ہالی ووڈ کی وہ پہلی فلم تھی جس میں لیزر دکھائی گئی تھی۔(فلم میں دکھایا گیا ہے کہ افسانوی برطانوی جاسوس دھاتی میز پر بندھا ہو ا ہے اور زبردست طاقت والی لیزر کی کرنیں آہستہ آہستہ بتدریج میز کو پگھلاتی ہوئی اس کی ٹانگوں کی طرف بڑھتی ہوئی اس کو دو حصّوں میں تقسیم کرنے کی دھمکی دے رہی ہوتی ہے۔)

طبیعیات دانوں نے ویلز کے ناول میں متعارف ہوئی شعاعی بندوق کا مذاق اڑنا شروع کر دیا تھا کیونکہ ان کے خیال میں وہ طبیعیات کے مروجہ قوانین کی خلاف ورزی کر رہی تھی۔ میکسویل کی مساوات کے مطابق ، جس روشنی کو ہم اپنے آس پاس دیکھتے ہیں وہ تیزی سے پھیلتی ہے اور بے ربط ہوتی ہے۔(یعنی یہ گڈمڈ موجوں والی مختلف تعدد ارتعاش اور مرحلوں والی ہوتی ہیں) ایک زمانے میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ مربوط ، مرتکز اور ایک جیسی روشنی کی کرنیں ، جس طرح سے لیزر میں موجود ہوتی ہیں ، بنانی نا ممکن ہوتی ہے۔

جاری ہے ۔۔۔۔۔