"کیا، کیوں اور کیسے" کی تلاش میں بھٹکتے پاگلوں کی پناہ گاہ

تجسس سائنس فورم پر خوش آمدید

تجسس سائنس فورم پر خوش آمدید! یہ ویب سائٹ اردو زبان میں سائنسی موضوعات پر گفتگو کے لیے وقف ہے۔
کوئی بھی نیا موضوع شروع کرنے کے لیے یا پہلے سے چل رہی کسی گفتگو کا حصہ بننے کے لیے مجلس میں جا کر متعلقہ زمرے کا چکر لگائیں۔
ہمارے کتب خانے میں موجود کتابیں دیکھنے کے لیے کتب خانہ کے ربط پر کلک کریں۔
اردو اور انگریزی میں پائی جانے والی مختلف سائنسی اصطلاحات کے معنی اور تشریح جاننے کے لیے فرہنگ سائنسی اصطلاحات کی طرف تشریف لے جائیں۔

"فوق ارضی سیاروں کی زندگی" از دیمیتر سیسی لوف

تمہید

حیات کا بھید

صرف چند ہی ایسے عظیم سوالات ہیں جو اس سوال  کا مقابلہ کر سکتے ہیں مثلاً حیات کیا ہے اور اس کی شروعات کیسے ہوئی ؟ یہ ہمیشہ سے صرف اکیلی سائنس کے لئے ہی نہیں بلکہ عمومی طور پر بھی  ایک عظیم سوال رہا ہے ۔ اس کے جواب میں ہمیشہ سے کئی  نمونے  ، منظر نامے ،  قیاس آرائیاں  اور مفروضات پیش کئے گئے  جس میں سے افسوس کہ زیادہ تر ناکام ہی ہوئے ۔ انیسویں صدی کا وسطی حصّہ بھی  کچھ زیادہ مختلف نہیں تھا ۔ لیکن شمالی بحر اوقیانوس کی گہرائی میں ٹیلی گراف کے تاروں کے پہلو سے نکلی  ہوئی چکنی کیچڑ  شاید کچھ  تبدیلی کا عندیہ دے سکتی تھی۔

الیکٹرونکس ڈائجسٹ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

یہ صفحات الیکٹرونکس کے لیے وقف کیے گئے ہیں۔ تاہم چند تکنیکی دشواریوں کی بنا پر ان صفحات کو “کتاب“  کی ذیل میں پیش کیا جا رہا ہے۔ اس میں الیکٹرونکس سے متعلق تمام تدریسی مواد شامل ہے۔ مسلسل افادے اور قارئین کی ضروریات کے پیش نظر مندرجات میں ترمیم و اضافے کا سلسلہ جاری رہے گا۔

نا ممکن کی طبیعیات "Physics of Impossible" از میچو کاکو

مجالس:

یہ کتاب مشہور زمانہ نظریاتی طبیعیات دان میچو کاکو کی کتاب"Physics of the Impossible" کا ترجمہ کرنے کی کوشش ہے ۔ کسی بھی کتاب کو ترجمہ کرنے کا یہ میرا پہلا تجربہ ہے لہٰذا اس میں کافی زیادہ غلطیوں کا احتمال ہوگا ۔ ہرچند یہ ایک طویل کتاب ہے لیکن اس میں دلچسپی لینے والے لوگوں کی رائے میری حوصلہ افزائی کرتی رہی تو انشاء الله اس کو جلد مکمل کرکے یہاں پر شایع کرتا رہوں گا ۔

 

پیش لفظ

اگر کوئی خیال شروع میں ہی فضول نہ لگے تو پھر اس سے کوئی امید نہیں رکھی جا سکتی ہے۔

روشنی سے تیز تر - Dr. Michio Kaku

مجالس:

          سٹار وارز (Star Wars) میں میلینئم فالکن صحرائی سیارے Tatooine کو تباہ کر دیتا ہے اور پھر ہمارے ہیروز لیوک سکائی واکر اور ہان سولو کو لے کے سیارے کے گرد چکر لگاتے خوفناک امپیریل جنگی جہازوں کے بیڑے سے ٹکرا جاتا ہے۔ ایمپائر کے جنگی جہاز ہمارے ہیروز کے جہاز پہ لیزر حملہ کرتے ہیں، جو میلینئم فالکن کے ریڈیائی لہروں کے حصار میں شگاف ڈال دیتی ہے۔ میلینئم فالکن کا فوجی حصار ختم ہو جاتا ہے۔ اسی دوران ہان سولو چیخ اٹھتا ہے کہ اب اُن کی واحد امید یہی ہے کہ وہ ہائپر سپیس میں چھلانگ لگا دیں۔ عین آخری لمحات میں، ہائپر ڈرائیو کے انجن میں زندگی کی لہر دوڑتی ہے اور ان کے آس پاس موجود تمام ستاروں کی در انفجاری (implode) مرکز کی طرف بڑھ جانے سے ایک سوراخ نمودار ہوتاہے اور میلینئم فالکن اس سوراخ سے گزر کر ہائپر سپیس میں داخل ہو جاتا ہے، جہاں آزادی اُس کی منتظر ہے۔

          کیا یہ سائنسی کہانی ہے؟ بلاشبہ۔ لیکن کیا اِس کی بنیاد سائنسی حقائق پہ ہے؟ ہو سکتا ہے۔ روشنی سے زیادہ رفتار سے سفر کرنا ہمیشہ سے سائنسی کہانیوں کا مرکز و محور رہا ہے لیکن حال میں طبیعات دانوں نے اس کے ممکنات پہ سنجیدگی سے سوچنا شروع کیا ہے۔

راکٹس کی تاریخ (پہلی قسط)

راکٹس کی دریافت سے پیشتر چشمِ انسانی وسعتِ افلاک سے بے بہرہ تھی۔ انسان زمین کے طول و عرض کو ایک نئی جہت تک پہنچانے اور صدیوں پرانے رازوں سے پرہ اٹھانے میں مصروف تھا مگر اس کرۂ خاکی اور فضائے بے بسیط سے پرے کیا ہے، یہ اُس وقت انسانی عقل سے ماورا بات تھی۔

قصہ یورینس اور نیپچون کی دریافت کا

باتھ، انگلستان کے مغرب میں ایک قصبہ ہے۔ وہاں ایک ماہر موسیقار ویلیم ہرشل (William Herschel) رہا کرتا تھا۔ دن کو وہ آرگن بجاتا اور آرکسٹراز منعقد کرتا۔ اور رات کو وہ فلکیات دان بن جاتا اور اپنی بنائی ہوئی مختلف دوربینوں سے آسمان کا مشاہدہ کرتا۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ریاضی اور فلکیات کی کتابیں بھی پڑھتا رہتا۔ لیکن بنیادی طور پر وہ طبعیت کا ایک جستجوگر تھا۔ اور اپنی دوربین کو پہلے سے معلوم اشیاء کے تعاقب میں لگانے کے بجائے وہ آسمان میں غیر معمولی مظاہر ڈھونڈتا رہتا تھا۔ اسی تلاش میں 1781ء میں اس کا واسطہ یورینس سے پڑا، جسے وہ شروع میں کوئی دمدار یا کسی سحاب (nebula) کا ستارہ

گھریلو بائیو گیس پلانٹ

مجالس:


درمیانے سائز کا گھریلو پلانٹ جس میں باورچی خانے کا کچرا استعمال کیا جا سکتا ہے

(امیر سیف اللہ سیف)

اپنا بایو گیس جنریٹر خود بنائیں

مجالس:

بایو گیس کیا ہے؟

ابن الہیثم


ابن الہیثم
ایک عظیم مسلمان سائنس دان
(امیر سیف اللہ سیف)

صفحات

Subscribe to تجسس سائنس فورم RSS